مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

یزید کے دور میں

حضرت معاویہؓ کے عہد میں سیاست کو دین پر بالا رکھنے اور سیاسی اغراض کے لیے شریعت کی حدیں توڑ ڈالنے کی جو ابتدا ہوئی تھی، ان کے اپنے نامزد کردہ جانشین یزید کے عہد میں وہ بدترین نتائج تک پہنچ گئی۔ اس کے زمانے میں تین ایسے واقعات ہوئے جنھوں نے پوری دنیائے اسلام کو لرزہ بر اندام کر دیا۔

پہلا واقعہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔ بلاشبہ وہ اہل عراق کی دعوت پر یزید کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے تشریف لے جا رہے تھے اور یزید کی حکومت انہیں برسر بغاوت سمجھتی تھی۔ ہم اس سوال سے تھوڑی دیر کے لیے قطع نظر کیے لیتے ہیں کہ اصول اسلام کے لحاظ سے حضرت حسینؓ کا یہ خروج جائز تھا یا نہیں۔ [اس کے متعلق میں اپنا نقطہ نظر اپنے رسالہ ”شہادت حسین“ میں واضح کر چکا ہوں۔ نیز آگے اس کتاب کے باب ہشتم میں بھی اس مسئلے کی وضاحت ملے گی۔]اگر چہ ان کی زندگی میں اور ان کے بعد صحابہ و تابعین میں سے کسی ایک شخص کا بھی یہ قول ہمیں نہیں ملتا کہ ان کا خروج ناجائز تھا اور وہ ایک فعل حرام کا ارتکاب کرنے جا رہے تھے۔ صحابہ میں سے جس نے بھی ان کو نکلنے سے روکا تھا وہ اس بنا پر تھا کہ تدبیر کے لحاظ سے یہ اقدام نامناسب ہے۔ تاہم اس معاملے میں یزید کی حکومت کا نقطہ نظر ہی صحیح مان لیا جائے تب بھی یہ تو امر واقعہ ہے کہ وہ کوئی فوج لے کر نہیں جا رہے تھے، بلکہ ان کے ساتھ ان کے بال بچے تھے، اور صرف ۳۲ سوار اور ۴۰ پیادے۔ اسے کوئی شخص بھی فوجی چڑھائی نہیں کہہ سکتا۔ ان کے مقابلے میں عمر بن سعد بن ابی وقاص کے تحت جو فوج کوفہ سے بھیجی گئی تھی اس کی تعداد ۴ ہزار تھی۔ کوئی ضرورت نہ تھی کہ اتنی بڑی فوج اس چھوٹی سی جمعیت سے جنگ ہی کرتی اور وہ اسے قتل کر ڈالتی۔ وہ اسے محصور کر کے با آسانی گرفتار کر سکتی تھی۔ پھر حضرت حسینؓ نے آخر وقت میں جو کچھ کہا تھا وہ یہ تھا کہ یا تو مجھے واپس جانے دو، یا کسی سرحد کی طرف نکل جانے دو، یا مجھ کو یزید کے پاس لے چلو۔ لیکن ان میں سے کوئی بات بھی نہ مانی گئی اور اصرار کیا گیا کہ آپ کو عبید اللہ بن زیاد (کوفہ کے گورنر) ہی کے پاس چلنا ہوگا۔ حضرت حسینؓ اپنے آپ کو ابن زیاد کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہ تھے، کیونکہ مسلم بن عقیل کے ساتھ جو کچھ وہ کر چکا تھا وہ انہیں معلوم تھا۔ آخر کار ان سے جنگ کی گئی۔ جب ان کے سارے ساتھی شہید ہو چکے تھے اور وہ میدان جنگ میں تنہا رہ گئے تھے، اس وقت بھی ان پر حملہ کرنا ہی ضروری سمجھا گیا، اور جب وہ زخمی ہو کر گر پڑے تھے اس وقت ان کو ذبح کیا گیا۔ پھر ان کے جسم پر جو کچھ تھا وہ لوٹا گیا، حتی کہ ان کی لاش پر سے کپڑے تک اتار لیے گئے، اس پر گھوڑے دوڑا کر اسے روندا گیا۔ اس کے بعد ان کی قیام گاہ کو لوٹا گیا اور خواتین کے جسم پر سے چادریں تک اتار لی گئیں۔ ان کے بعد ان سمیت تمام شہدائے کربلا کے سر کاٹ کر کوفہ لے جائے گئے، اور ابن زیاد نے نہ صرف بر سر عام ان کی نمائش کی بلکہ جامع مسجد میں منبر پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ <<الحمد لله الذى اظهر الحق واهله ونصر امير المومنين يزيد وحزبه وقتل الكذاب ابن الكذاب الحسين بن على وشيعته>>۔ پھر یہ سارے سر یزید کے پاس دمشق بھیجے گئے اور اس نے بھرے دربار میں ان کی نمائش کی۔ [اس پوری داستان کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الطبری، ج ۴، ص ۳۰۹ تا ۳۵۶۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۸۲ تا ۲۹۹۔ اور البدایہ، ج ۸، ص ۱۷۰ تا ۲۰۴۔]

فرض کیجیے کہ حضرت حسینؓ یزید کے نقطۂ نظر کے مطابق برسر بغاوت ہی تھے، تب بھی کیا اسلام میں حکومت کے خلاف خروج کرنے والوں کے لیے کوئی قانون نہ تھا؟ فقہ کی تمام مبسوط کتابوں میں یہ قانون لکھا ہوا موجود ہے۔ مثال کے طور پر صرف ہدایہ اور اس کی شرح فتح القدیر، باب البغاۃ میں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ ساری کارروائی جو میدانِ کربلا سے لے کر کوفے اور دمشق کے درباروں تک کی گئی اس کا ایک ایک جز قطعاً حرام اور سخت ظلم تھا۔ دمشق کے دربار میں جو کچھ یزید نے کیا اور کہا اس کے متعلق روایات مختلف ہیں۔ لیکن ان سب روایتوں کو چھوڑ کر ہم یہی روایت صحیح مان لیتے ہیں کہ وہ حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے سر دیکھ کر آب دیدہ ہو گیا اور اس نے کہا کہ ”میں حسینؓ کے قتل کے بغیر بھی تم لوگوں کی طاعت سے راضی تھا، اللہ کی لعنت ہو ابن زیاد پر، خدا کی قسم! اگر میں وہاں ہوتا تو حسینؓ کو معاف کر دیتا“۔ اور یہ کہ ”خدا کی قسم اے حسین! میں تمھارے مقابلے میں ہوتا تو تمھیں قتل نہ کرتا۔“ [الطبری، ج ۴، ص ۳۵۲۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۹۸-۲۹۹۔] پھر بھی یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ اس ظلم عظیم پر اس نے اپنے سر پھرے گورنر کو کیا سزا دی؟ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس نے ابن زیاد کو نہ کوئی سزا دی، نہ اسے معزول کیا، نہ اسے ملامت ہی کا کوئی خط لکھا۔ [البدایہ والنہایہ، ج۸، ص ۳۰۳] اسلام تو خیر بدر جہا بلند چیز ہے، یزید میں اگر انسانی شرافت کی بھی کوئی رمق ہوتی تو وہ سوچتا کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پورے خاندان پر کیا احسان کیا تھا، اور اس کی حکومت نے ان کے نواسے کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

اس کے بعد دوسرا سخت المناک واقعہ جنگ حرہ کا تھا جو ۶۳ھ کے آخر اور خود یزید کی زندگی کے آخری ایام میں پیش آیا۔ اس واقعے کی مختصر روداد یہ ہے کہ اہل مدینہ نے یزید کو فاسق و فاجر اور ظالم قرار دے کر اس کے خلاف بغاوت کر دی، اس کے عامل کو شہر سے نکال دیا اور عبداللہ بن حنظلہ کو اپنا سربراہ بنا لیا۔ یزید کو یہ اطلاع پہنچی تو اس نے مسلم بن عقبہ المری کو (جسے سلف صالحین مسرف بن عقبہ کہتے ہیں) ۱۲ ہزار فوج دے کر مدینہ پر چڑھائی کے لیے بھیج دیا، اور اسے حکم دیا کہ تین دن تک اہل شہر کو اطاعت قبول کرنے کی دعوت دیتے رہنا، پھر اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرنا، اور جب فتح پا لو تو تین دن کے لیے مدینہ کو فوج پر مباح کر دینا۔ اس ہدایت پر یہ فوج گئی۔ جنگ ہوئی، مدینہ فتح ہوا، اور اس کے بعد یزید کے حکم کے مطابق تین دن کے لیے فوج کو اجازت دے دی گئی کہ شہر میں جو کچھ چاہے کرے۔ ان تین دنوں میں شہر کے اندر ہر طرف لوٹ مار کی گئی، شہر کے باشندوں کا قتل عام کیا گیا جس میں امام زہری کی روایت کے مطابق، سات سو معززین اور دس ہزار کے قریب عوام مارے گئے، اور غضب یہ ہے کہ وحشی فوجیوں نے گھروں میں گھس گھس کر بے دریغ عورتوں کی عصمت دری کی۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ <<حتى قيل انه حبلت الف امراة في تلك الايام من غير زوج،>> (کہا جاتا ہے کہ ان دنوں میں ایک ہزار عورتیں زنا سے حاملہ ہوئیں) [اس واقعے کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو، الطبری ، ج ۴، ص ۳۷۲ تا ۳۷۹۔ ابن الاثیر، ج ۲، ص ۳۱۰ تا ۳۱۳- البدایہ والنہایہ، ج ۸، ص ۲۱۹ تا ۲۲۱]

بالفرض اہل مدینہ کی بغاوت ناجائز بھی تھی، مگر کیا کسی باغی مسلمان آبادی، بلکہ غیر مسلم باغیوں اور حربی کافروں کے ساتھ بھی اسلامی قانون کی رو سے یہ سلوک جائز تھا؟ اور یہاں تو معاملہ کسی اور شہر کا نہیں، خاص مدینۃ الرسول کا تھا، جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات بخاری، مسلم، نسائی اور مسند احمد میں متعدد صحابہ سے منقول ہوئے ہیں کہ <<لا يريد احد المدينة بسوء الا اذابه الله في النار ذوب الرصاص (او نحوه)>> (مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اسے جہنم کی آگ میں سیسے کی طرح پگھلا دے گا) اور <<من اخاف اهل المدينة ظلما اخافه الله وعليه لعنة الله والملائكة والناس اجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا>> (جو شخص اہل مدینہ کو ظلم سے خوف زدہ کرے گا، اس پر اللہ اور ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے روز اللہ اس سے کوئی چیز اس گناہ کے فدیہ میں قبول نہ فرمائے گا)۔

حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ اُنھی احادیث کی بنیاد پر علماء کے ایک گروہ نے یزید پر لعنت کو جائز رکھا ہے، اور ایک قول ان کی تائید میں امام احمد بن حنبل کا بھی ہے، مگر ایک دوسرا گروہ صرف اس لیے اس سے منع کرتا ہے کہ کہیں اس طرح اُس کے والد یا صحابہ میں سے کسی اور پر لعنت کرنے کا دروازہ نہ کھل جائے۔ [البدایہ، ج ۸، ص ۲۲۳۔ امام احمد بن حنبل کے جس قول کا حوالہ یہاں ابن کثیر نے دیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مرتبہ امام احمد کے صاحب زادے عبداللہ نے ان سے پوچھا: ”یزید پر لعنت کرنے کا کیا حکم ہے؟“ انھوں نے جواب دیا: ”کیسے اس شخص پر لعنت نہ کروں جس پر خدا نے لعنت کی ہے۔“ اور اس کے ثبوت میں انھوں نے یہ آیت پڑھی: <<فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ>> (محمد، آیت ۲۲-۲۳) ”پھر تم سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم فرماں روا ہو گئے تو زمین میں فساد برپا کرو گے اور قطع رحمی کرو گے؟ ایسے ہی لوگ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔“ یہ آیت پڑھ کر امام نے فرمایا: ”اس سے بڑا فساد اور اس سے بڑی قطع رحمی اور کیا ہو گی جس کا ارتکاب یزید نے کیا۔“ امام احمد کے اس قول کو محمد بن عبدالرسول البرزنجی نے الا شاعہ فی اشراط الساعہ میں اور ابن حجر الہیتمی نے الصواعق المحرقہ میں نقل کیا ہے۔ مگر علامہ سفارینی اور امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ زیادہ معتبر روایات کی رو سے امام احمد یزید پر لعنت کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ علمائے اہل السنۃ میں سے جو لوگ جواز لعنت کے قائل ہیں ان میں ابن جوزی، قاضی ابو یعلی ، علامہ تفتازانی اور علامہ جلال الدین سیوطی نمایاں ہیں، اور عدم جواز کے قائلین میں نمایاں ترین بزرگ امام غزالی اور امام ابن تیمیہ ہیں۔ میرا اپنا میلان اس طرف ہے کہ صفات ملعونہ کے حاملین پر جامع طریقے سے تو لعنت کی جا سکتی ہے ( مثلاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ) ، مگر کسی شخص خاص پر متعین طریقے سے لعنت کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ زندہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بعد میں تو بہ کی توفیق عطا فرما دے، اور اگر مر چکا ہو تو ہم نہیں جانتے کہ اس کا خاتمہ کس چیز پر ہوا ہے۔ اس لیے ہمیں ایسے لوگوں کے غلط کاموں کو غلط کہنے پر اکتفا کرنا چاہیے اور لعنت سے پر ہیز ہی کرنا اولی ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ بھی نہیں ہیں کہ اب یزید کی تعریف کی جائے اور اسے رضی اللہ عنہ لکھا جائے ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی مجلس میں ایک مرتبہ ایک شخص نے یزید کا ذکر کرتے ہوئے امیر المومنین یزید کے الفاظ استعمال کیے تو سخت ناراض ہو کر انھوں نے فرمایا: ” تو یزید کو امیر المومنین کہتا ہے؟“ اور اسے ہیں کوڑے لگوائے ۔ (تہذیب التہذیب، ج۱۱، ص ۳۶)] نے الصواعق المحرقہ میں نقل کیا ہے۔ مگر علامہ سفارینی اور امام ابن تیمیہؒ کہتے ہیں کہ زیادہ معتبر روایات کی رو سے امام احمد یزید پر لعنت کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ علمائے اہل السنہ میں سے جو لوگ جواز لعنت کے قائل ہیں ان میں ابن جوزی، قاضی ابو یعلیٰ، علامہ تفتازانی اور علامہ جلال الدین سیوطی نمایاں ہیں، اور عدم جواز کے قائلین میں نمایاں ترین بزرگ امام غزالی اور امام ابن تیمیہ ہیں۔ میرا اپنا میلان اس طرف ہے کہ صفات ملعونہ کے حاملین پر جامع طریقے سے تو لعنت کی جا سکتی ہے (مثلاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ ظالموں پر خدا کی لعنت)، مگر کسی شخص خاص پر متعین طریقے سے لعنت کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ زندہ ہو تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے بعد میں توبہ کی توفیق عطا فرما دے، اور اگر مر چکا ہو تو ہم نہیں جانتے کہ اس کا خاتمہ کس چیز پر ہوا ہے۔ اس لیے ہمیں ایسے لوگوں کے غلط کاموں کو غلط کہنے پر اکتفا کرنا چاہیے اور لعنت سے پرہیز ہی کرنا اولیٰ ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ بھی نہیں ہیں کہ اب یزید کی تعریف کی جائے اور اسے رضی اللہ عنہ لکھا جائے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی مجلس میں ایک مرتبہ ایک شخص نے یزید کا ذکر کرتے ہوئے ”امیر المومنین یزید“ کے الفاظ استعمال کیے تو سخت ناراض ہو کر انھوں نے فرمایا: ”تُو یزید کو امیر المومنین کہتا ہے؟“ اور اسے بیس کوڑے لگوائے۔ (تہذیب التہذیب، ج ۱۱، ص ۳۶۱)] حضرت حسن بصری کو ایک مرتبہ یہ طعنہ دیا گیا کہ آپ جو بنی امیہ کے خلاف خروج کی کسی تحریک میں شامل نہیں ہوئے تو کیا آپ اہل شام (یعنی بنی امیہ) سے راضی ہیں؟ جواب میں انھوں نے فرمایا: ”میں اور اہل شام سے راضی ہوں؟ خدا ان کا ناس کرے، کیا یہ وہی نہیں ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کو حلال کر لیا اور تین دن تک اس کے باشندوں کا قتل عام کرتے پھرے، اپنے خبطی اور قبطی سپاہیوں کو اس میں سب کچھ کر گزرنے کی چھوٹ دے دی اور وہ شریعت دین دار خواتین پر حملے کرتے رہے اور کسی حرمت کی ہتک کرنے سے نہ رکے۔ پھر بیت اللہ پر چڑھ دوڑے، اس پر سنگ باری کی اور اس کو آگ لگائی۔ ان پر خدا کی لعنت ہو اور وہ برا انجام دیکھیں۔“ [ابن الاثیر، ج۴، ص۱۷۰]

تیسرا واقعہ وہی ہے جس کا حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے آخر میں ذکر کیا ہے۔ مدینہ سے فارغ ہونے کے بعد وہی فوج جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں یہ اودھم مچایا تھا، حضرت ابن زبیرؓ سے لڑنے کے لیے کعبہ پر حملہ آور ہوئی اور اس نے منجنیقیں لگا کر خانہ کعبہ پر سنگ باری کی جس سے کعبہ کی ایک دیوار شکستہ ہو گئی۔ اگرچہ روایات یہ بھی ہیں کہ انھوں نے کعبہ پر آگ بھی برسائی تھی۔ لیکن آگ لگنے کے کچھ دوسرے وجوہ بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ البتہ سنگ باری کا واقعہ متفق علیہ ہے۔ [الطبری، ج ۴، ص ۳۸۳۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۳۱۶۔ البدایہ، ج۸، ص ۲۲۵۔ تہذیب التہذیب، ج ۱۱ص ۳۶۱]

ان واقعات نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ یہ حکمراں اپنے اقتدار اور اس کے بقا و تحفظ کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے، اور اس کے لیے انھیں کسی حد کو پھاند جانے اور بڑی سے بڑی حرمت کو تو ڑ ڈالنے میں بھی باک نہ تھا۔