خلافت و ملوکیت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔
کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔
کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔
تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
- خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
- تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
- فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
- مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟
چوتھا مرحلہ
یہ تین رخنے تھے جن کے ساتھ حضرت علیؓ نے خلافت راشدہ کی زمام کار اپنے ہاتھ میں لے کر کام شروع کیا۔ ابھی انھوں نے کام شروع کیا ہی تھا اور شورش برپا کرنے والے دو ہزار آدمیوں کی جمعیت مدینے میں موجود تھی کہ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما چند دوسرے اصحاب کے ساتھ ان سے ملے اور کہا کہ ہم نے اقامت حدود کی شرط پر آپ سے بیعت کی ہے، اب آپ اُن لوگوں سے قصاص لیجیے جو حضرت عثمانؓ کے قتل میں شریک تھے۔ حضرت علیؓ نے جواب دیا: ’’بھائیو! جو کچھ آپ جانتے ہیں اس سے میں بھی ناواقف نہیں ہوں، مگر میں اُن لوگوں کو کیسے پکڑوں جو اس وقت ہم پر قابو یافتہ ہیں نہ کہ ہم اُن پر۔ کیا آپ حضرات اس کام کی کوئی گنجائش کہیں دیکھ رہے ہیں جسے آپ کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ سب نے کہا: ’’نہیں‘‘۔ اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! میں بھی وہی خیال رکھتا ہوں جو آپ کا ہے۔ ذرا حالات سکون پر آنے دیجیے تاکہ لوگوں کے حواس برجا ہو جائیں، خیالات کی پراگندگی دُور ہو اور حقوق وصول کرنا ممکن ہو جائے۔‘‘ [الطبری، ج ۳، ص ۴۵۸۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۰۰۔ البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۲۲۷-۲۲۸۔]
اس کے بعد یہ دونوں بزرگ حضرت علیؓ سے اجازت لے کر مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور وہاں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مل کر ان کی رائے یہ قرار پائی کہ خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لیے بصرہ و کوفہ سے، جہاں حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے بکثرت حامی موجود تھے، فوجی مدد حاصل کی جائے۔ چنانچہ یہ قافلہ مکہ سے بصرے کی طرف روانہ ہو گیا۔ بنی امیہ میں سے سعید بن العاص اور مروان بن الحکم بھی ان کے ساتھ نکلے۔ مر الظہران (موجودہ وادی فاطمہ) پہنچ کر سعید بن العاص نے اپنے گروہ کے لوگوں سے کہا کہ ’’اگر تم قاتلین عثمانؓ کا بدلہ لینا چاہتے ہو تو ان لوگوں کو قتل کر دو جو تمھارے ساتھ اس لشکر میں موجود ہیں‘‘ (اُن کا اشارہ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ وغیرہ بزرگوں کی طرف تھا، کیونکہ بنی امیہ کا عام خیال یہ تھا کہ قاتلین عثمانؓ صرف وہی نہیں ہیں جنھوں نے اُن کو قتل کیا، یا جو اُن کے خلاف شورش برپا کرنے کے لیے باہر سے آئے، بلکہ وہ سب لوگ بھی ان کے قاتلین میں شامل ہیں جنھوں نے وقتاً فوقتاً حضرت عثمانؓ کی پالیسی پر اعتراضات کیے تھے، یا جو شورش کے وقت مدینہ میں موجود تھے مگر قتل عثمانؓ کو روکنے کے لیے نہ لڑے)۔ مروان نے کہا: ’’نہیں، ہم ان کو (یعنی طلحہ و زبیر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو) ایک دوسرے سے لڑائیں گے۔ دونوں میں سے جس کو بھی شکست ہوگی وہ تو یوں ختم ہو جائے گا اور جو فتح یاب ہوگا وہ اتنا کمزور ہو جائے گا کہ ہم بآسانی اس سے نمٹ لیں گے۔‘‘[ طبقات ابن سعد، ج ۵، ص ۳۴-۳۵۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص ۱۵۵۔] اس طرح ان عناصر کو لیے ہوئے یہ قافلہ بصرے پہنچا اور اس نے عراق سے اپنے ہزار ہا حامیوں کی ایک فوج اکٹھی کر لی۔
دوسری طرف حضرت علیؓ، جو حضرت معاویہؓ کو تابع فرمان بنانے کے لیے شام کی طرف جانے کی تیاری کر رہے تھے، بصرے کے اس اجتماع کی اطلاعات سن کر پہلے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مجبور ہو گئے۔ لیکن بکثرت صحابہؓ اور ان کے زیر اثر لوگ جو مسلمانوں کی خانہ جنگی کو فطری طور پر ایک فتنہ سمجھتے رہے تھے، اس مہم میں ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ [لبدایہ، ج ۷، ص۲۳۳] اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی قاتلین عثمانؓ، جن سے پیچھا چھڑانے کے لیے حضرت علیؓ موقع کا انتظار کر رہے تھے، اس تھوڑی سی فوج میں جو حضرت علیؓ نے فراہم کی تھی، ان کے ساتھ شامل رہے۔ یہ چیز اُن کے لیے بدنامی کی موجب بھی ہوئی اور فتنے کی موجب بھی۔
بصرے کے باہر جب ام المؤمنین حضرت عائشہؓ اور امیر المؤمنین حضرت علیؓ کی فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں، اُس وقت درد مند لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس بات کے لیے کوشاں ہوئی کہ اہل ایمان کے ان دونوں گروہوں کو متصادم نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ ان کے درمیان مصالحت کی بات چیت قریب قریب طے ہو چکی تھی۔ مگر ایک طرف حضرت علیؓ کی فوج میں وہ قاتلین عثمانؓ موجود تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ اگر ان کے درمیان مصالحت ہو گئی تو پھر ہماری خیر نہیں، اور دوسری طرف ام المؤمنینؓ کی فوج میں وہ لوگ موجود تھے جو دونوں کو لڑا کر کمزور کر دینا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے بے قاعدہ طریقے سے جنگ برپا کر دی اور وہ جنگ جمل برپا ہو کر رہی جسے دونوں طرف کے اہل خیر روکنا چاہتے تھے۔ [لبدایہ، ج ۷، ص ۲۳۷-۲۳۹]
جنگ جمل کے آغاز میں حضرت علیؓ نے حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کو پیغام بھیجا کہ میں آپ دونوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ دونوں حضرات تشریف لے آئے اور حضرت علیؓ نے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات یاد دلا کر جنگ سے باز رہنے کی تلقین کی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ حضرت زبیرؓ میدان جنگ سے ہٹ کر الگ چلے گئے اور حضرت طلحہؓ آگے کی صفوں سے ہٹ کر پیچھے کی صفوں میں جا کھڑے ہوئے۔ [الطبری، ج ۳، ص ۴۱۵۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۲۳-۱۲۲۔ البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۲۴۰-۲۴۱۔۲۴۷ الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۰۷۔ ابن خلدون، تكملہ جلد دوم، ص ۱۶۲۔ ] لیکن ایک ظالم عمرو بن جرموز نے حضرت زبیرؓ کو قتل کر دیا، اور مشہور روایات کے مطابق حضرت طلحہؓ کو مروان بن الحکم نے قتل کر دیا۔ [طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۲۲۳۔ ج ۵، ص ۳۸۔ ابن حجر، تہذیب التہذیب، ج ۵، ص ۲۰۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۲۴۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۰۷-۲۰۸۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ ”ثقات میں اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت طلحہؓ کا قاتل مروان ہی ہے، حالانکہ وہ ان کی فوج میں شامل تھا۔“ البدایہ میں علامہ ابن کثیر نے بھی مشہور روایت اسی کو مانا ہے، ج ۷، ص ۲۴۷۔]
بہر حال یہ جنگ برپا ہو کر رہی اور اس میں دونوں طرف کے دس ہزار آدمی شہید ہوئے۔ یہ تاریخ اسلام کی دوسری عظیم ترین بد قسمتی ہے جو شہادت عثمانؓ کے بعد رونما ہوئی، اور اس نے امت کو ملوکیت کی طرف ایک قدم اور دھکیل دیا۔ حضرت علیؓ کے مقابلے میں جو فوج لڑی تھی وہ زیادہ تر بصرہ و کوفہ ہی سے فراہم ہوئی تھی۔ جب حضرت علیؓ کے ہاتھوں اس کے پانچ ہزار آدمی شہید اور ہزاروں آدمی مجروح ہو گئے تو یہ امید کیسے کی جا سکتی تھی کہ اب عراق کے لوگ اس یک جہتی کے ساتھ ان کی حمایت کریں گے جس یک جہتی کے ساتھ شام کے لوگ حضرت معاویہؓ کی حمایت کر رہے تھے۔ جنگ صفین اور اس کے بعد کے مراحل میں حضرت معاویہؓ کے کیمپ کا اتحاد اور حضرت علیؓ کے کیمپ کا تفرقہ بنیادی طور پر اسی جنگ جمل کا نتیجہ تھا۔ حقیقت میں حضرت علیؓ اور حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے تصادم کا یہی نتیجہ تھا جس کے رونما ہونے کی توقع مروان بن الحکم رکھتا تھا، اسی لیے وہ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے ساتھ لگ کر بصرے گیا تھا، اور افسوس کہ اس کی یہ توقع سو فی صدی پوری ہوگئی۔
حضرت علیؓ نے اس جنگ کے سلسلے میں جو طرز عمل اختیار کیا وہ ایک خلیفہ راشد اور ایک بادشاہ کے فرق کو پوری طرح نمایاں کر دیتا ہے۔ انھوں نے اپنی فوج میں پہلے ہی یہ اعلان کر دیا کہ کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرنا، کسی زخمی پر حملہ نہ کرنا، اور فتح یاب ہو کر مخالفین کے گھروں میں نہ گھسنا۔ فتح کے بعد انھوں نے دونوں طرف کے شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی اور انھیں یکساں احترام کے ساتھ دفن کرایا۔ تمام مال جو لشکر مخالف سے ملا تھا اسے مال غنیمت قرار دینے سے قطعی انکار کر دیا اور بصرے کی جامع مسجد میں اس کو جمع کر کے اعلان فرما دیا کہ جو اپنا مال پہچان لے وہ لے جائے۔ لوگوں نے خبر اڑائی کہ علیؓ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ بصرہ کے کے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں ، حضرت علیؓ نے فوراً اس کی تردید کی اور فرمایا: ”مجھے جیسے آدمی سے یہ اندیشہ نہ ہونا چاہیے۔ یہ سلوک تو کافروں کے ساتھ کرنے کا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا جا سکتا۔“ بصرے میں داخل ہوئے تو ہر گھر سے عورتوں نے گالیوں اور کوسنوں کی بوچھاڑ کر دی۔ حضرت علیؓ نے اپنی فوج میں اعلان کیا کہ ”خبردار! کسی کی بے پردگی نہ کرنا، کسی گھر میں نہ گھسنا، کسی عورت سے تعرض نہ کرنا، خواہ وہ تمھیں اور تمھارے امراء اور صلحاء کو گالیاں ہی کیوں نہ دیں۔ ہم کو تو ان پر دست درازی کرنے سے اس وقت بھی روکا گیا تھا جب یہ مشرک تھیں۔ اب ہم ان پر ہاتھ کیسے ڈال سکتے ہیں جب کہ یہ مسلمان ہیں۔ [الطبری ، ج ۳، ص ۵۰۶ - ۵۱۰ - ۵۴۲ - ۵۴۴ - ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۲۲ - ۱۳۱ - ۱۳۲ - البدایہ ج ۷، ص ۲۴۴ - ۲۴۵۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص ۱۶۴ - ۱۶۵ -] حضرت عائشہؓ کے ساتھ، جو شکست خوردہ فریق کی اصل قائد تھیں، انتہائی احترام کا برتاؤ کیا اور پوری حفاظت کے ساتھ انھیں مدینہ بھیج دیا۔ [البدایہ، ج ۷، ص ۲۴۵-۲۴۶ - الطبری، ج ۳، ص ۵۴۷ ۔] حضرت زبیرؓ کا قاتل انعام پانے کی امید لیے ہوئے آیا، مگر آپ نے اس کو جہنم کی بشارت دی اور اس کے ہاتھ میں حضرت زبیرؓ کی تلوار دیکھ کر فرمایا: ”کتنی ہی مرتبہ اس تلوار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی ہے۔“[البدایہ، ج ۷، ص ، ۲۴۹ - ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۲۵ ۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص۱۶۲] حضرت طلحہؓ کے صاحب زادے سے ملنے آئے تو بڑی محبت کے ساتھ ان کو اپنے پاس بٹھایا، ان کی جائداد ان کو واپس کی اور فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ آخرت میں تمہارے والدین اور میرے درمیان وہی معاملہ پیش آئے گا جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ <<وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ>> [طبقات ابن سعد، ج ۳، ص۲۲۴.۲۲۵](ہم ان کے دلوں کی کدورت نکال دیں گے اور وہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔)