مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

حضرت معاویہؓ کے عہد میں

یہ پالیسی حضرت معاویہؓ کے عہد ہی سے شروع ہو گئی تھی۔

امام زہری کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چاروں خلفائے راشدین کے عہد میں سنت یہ تھی کہ نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے، نہ مسلمان کافر کا۔ حضرت معاویہؓ نے اپنے زمانہ حکومت میں مسلمان کو کافر کا وارث قرار دیا اور کافر کو مسلمان کا وارث قرار نہ دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اس بدعت کو موقوف کیا۔ مگر ہشام بن عبد الملک نے اپنے خاندان کی روایت کو پھر بحال کر دیا۔ [البدایہ والنہایہ، ج۸، ص ۱۳۹ - ج ۹، ص ۲۳۲]

حافظ ابن کثیر کہتے ہیں کہ دیت کے معاملے میں حضرت معاویہؓ نے سنت کو بدل دیا۔ سنت یہ تھی کہ معاہد کی دیت مسلمان کے برابر ہو گی، مگر حضرت معاویہؓ نے اس کو نصف کر دیا اور باقی نصف خود لینی شروع کر دی۔ [البدایہ والنہایہ، ج ۸، ص ۱۳۹ ۔ ابن کثیر کے الفاظ یہ ہیں: وكان معاوية أول من قصرها الى النصف واخذ النصف لنفسه ]

ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہؓ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود، اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر، خطبوں میں برسرِ منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے، حتیٰ کہ مسجد نبوی میں منبر رسول پر عین روضئہ نبوی کے سامنے حضورؐ کے محبوب ترین عزیز کو گالیاں دی جاتی تھیں اور حضرت علیؓ کی اولاد اور ان کے قریب ترین رشتہ دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے۔ [الطبری، جلد ۴، ص ۱۸۸ - ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۳۴ - ج ۴، ص ۱۵۴ - البدایہ، ج۸ ص ۲۵۹ ۔ ج ۹، ص ۸۰] کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا، شریعت تو درکنار، انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا اور خاص طور پر جمعے کے خطبے کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین و اخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤنا فعل تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے آکر اپنے خاندان کی دوسری غلط روایات کی طرح اس روایت کو بھی بدلا اور خطبہ جمعہ میں سب علی کی جگہ یہ آیت پڑھنی شروع کر دی:

<<إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۖ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ>> (النحل : ۹۰)

مال غنیمت کی تقسیم کے معاملے میں بھی حضرت معاویہؓ نے کتاب اللہ وسنت رسول اللہ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی ۔ کتاب وسنت کی رو سے پورے مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں داخل ہونا چاہیے اور باقی چار حصے اس فوج میں تقسیم کیے جانے چاہیں جو لڑائی میں شریک ہوئی ہو۔ لیکن حضرت معاویہؓ نے حکم دیا کہ مال غنیمت میں سے چاندی سونا ان کے لیے الگ نکال لیا جائے، پھر باقی مال شرعی قاعدے کے مطابق تقسیم کیا جائے۔[ طبقات ابن سعد، ج ۷، ص ۲۸-۲۹۔ الطبری، ج ۴، ص ۱۸۷۔ الاستیعاب، ج ۱، ص ۱۱۸۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۳۳۔ البدایہ والنہایہ، ج ۸، ص ۲۹۔]

زیاد بن سمیہ کا استلحاق بھی حضرت معاویہؓ کے ان افعال میں سے ہے جن میں انھوں نے سیاسی اغراض کے لیے شریعت کے ایک مسلم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی۔ زیاد طائف کی ایک لونڈی سمیہ نامی کے پیٹ پیدا ہوا تھا۔ لوگوں کا بیان یہ تھا کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت معاویہؓ کے والد جناب ابوسفیانؓ نے اس لونڈی سے زنا کا ارتکاب کیا تھا اور اسی سے وہ حاملہ ہوئی۔ حضرت ابوسفیانؓ نے خود بھی ایک مرتبہ اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ زیاد اُنھی کے نطفے سے ہے۔ جوان ہو کر یہ شخص اعلیٰ درجے کا مدبر، منتظم، فوجی لیڈر اور غیر معمولی قابلیتوں کا مالک ثابت ہوا۔ حضرت علیؓ کے زمانہ خلافت میں وہ آپ کا زبردست حامی تھا اور اس نے بڑی اہم خدمات انجام دی تھیں۔ اُن کے بعد حضرت معاویہؓ نے اس کو اپنا حامی و مددگار بنانے کے لیے اپنے والد ماجد کی زنا کاری پر شہادتیں لیں اور اس کا ثبوت بہم پہنچایا کہ زیاد اُنھی کا ولد الحرام ہے۔ پھر اسی بنیاد پر اسے اپنا بھائی اور اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا۔ یہ فعل اخلاقی حیثیت سے جیسا کچھ مکروہ ہے وہ تو ظاہر ہی ہے، مگر قانونی حیثیت سے بھی یہ ایک صریح ناجائز فعل تھا، کیونکہ شریعت میں کوئی نسب زنا سے ثابت نہیں ہوتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف حکم موجود ہے کہ ”بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر وہ پیدا ہو، اور زانی کے لیے کنکر پتھر ہیں۔“ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ نے اسی وجہ سے اس کو اپنا بھائی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس سے پردہ فرمایا۔ [الاستیعاب، ج ۱، ص ۱۹۶۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۲۰ - ۲۲۱۔ البدایہ والنہایہ، ج ۸، ص ۲۸۔ ابن خلدون، ج ۳، ص ۷-۸۔]

حضرت معاویہؓ نے اپنے گورنروں کو قانون سے بالاتر قرار دیا اور ان کی زیادتیوں پر شرعی احکام کے مطابق کارروائی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا گورنر عبداللہ بن عمرو بن غیلان ایک مرتبہ بصرے میں منبر پر خطبہ دے رہا تھا۔ ایک شخص نے دورانِ خطبہ میں اس کو کنکر مار دیا۔ اس پر عبداللہ نے اس شخص کو گرفتار کرایا اور اس کا ہاتھ کٹوا دیا۔ حالانکہ شرعی قانون کی رو سے یہ ایسا جرم نہ تھا جس پر کسی کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ حضرت معاویہؓ کے پاس استغاثہ کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں ہاتھ کی دیت تو بیت المال سے ادا کر دوں گا، مگر میرے عمال سے قصاص لینے کی کوئی سبیل نہیں۔ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۴۸۔ البدایہ، ج ۸، ص ۷۱۔ ]زیاد کو جب حضرت معاویہؓ نے بصرے کے ساتھ کوفے کا بھی گورنر مقرر کیا اور وہ پہلی مرتبہ خطبہ دینے کے لیے کوفے کی جامع مسجد کے منبر پر کھڑا ہوا تو کچھ لوگوں نے اس پر کنکر پھینکے۔ اس نے فوراً مسجد کے دروازے بند کرا دیے اور کنکر پھینکنے والے تمام لوگوں کو (جن کی تعداد ۳۰ سے ۸۰ تک بیان کی جاتی ہے) گرفتار کرا کے اسی وقت ان کے ہاتھ کٹوا دیے۔ [الطبری، ج ۴، ص ۱۷۵۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۲۸۔] کوئی مقدمہ ان پر نہ چلایا گیا۔ کسی عدالت میں وہ نہ پیش کیے گئے۔ کوئی باقاعدہ قانونی شہادت ان کے خلاف پیش نہ ہوئی۔ گورنر نے محض اپنے انتظامی حکم سے اتنے لوگوں کو قطع ید کی سزا دے ڈالی جس کے لیے قطعاً کوئی شرعی جواز نہ تھا۔ مگر دربارِ خلافت سے اس کا بھی کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔ اس سے بڑھ کر ظالمانہ افعال بسر بن ابی ارطاة نے کیے جسے حضرت معاویہؓ نے پہلے حجاز و یمن کو حضرت علیؓ کے قبضے سے نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور پھر ہمدان پر قبضہ کرنے کے لیے مامور کیا تھا۔ اس شخص نے یمن میں حضرت علیؓ کے گورنر عبید اللہ بن عباسؓ کے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو پکڑ کر قتل کر دیا۔ ان بچوں کی ماں اس صدمے سے دیوانی ہوگئی۔ بنی کنانہ کی ایک عورت جو یہ ظلم دیکھ رہی تھی، چیخ اٹھی کہ ”مردوں کو تو تم نے قتل کر دیا، اب ان بچوں کو کس لیے قتل کر رہے ہو؟ بچے تو جاہلیت میں بھی نہیں مارے جاتے تھے، اے ابن ابی ارطاۃ! جو حکومت بچوں اور بوڑھوں کے قتل اور بے رحمی و برادر کشی کے بغیر قائم نہ ہو سکتی ہو اس سے بری کوئی حکومت نہیں۔“ [الاستیعاب، ج ۱، ص ۶۵۔ الطبری ج ۴، ص ۱۰۷۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۹۳۔ البدایہ، ج ۸، ص ۹۰۔] اس کے بعد اسی ظالم شخص کو حضرت معاویہؓ نے ہمدان پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا جو اس وقت حضرت علیؓ کے قبضے میں تھا۔ وہاں اس نے دوسری زیادتیوں کے ساتھ ایک ظلم عظیم یہ کیا کہ جنگ میں جو مسلمان عورتیں پکڑی گئی تھیں، اُنھیں لونڈیاں بنا لیا۔ [الاستیعاب، ج ۱، ص ۶۵۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی آپس کی جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتیں لونڈیاں بنائی گئیں۔] حالانکہ شریعت میں اس کا قطعاً کوئی جواز نہیں۔ یہ ساری کارروائیاں گویا اس بات کا عملاً اعلان تھیں کہ اب گورنروں اور سپہ سالاروں کو ظلم کی کھلی چھوٹ ہے اور سیاسی معاملات میں شریعت کی کسی حد کے وہ پابند نہیں ہیں۔

سرکاٹ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنے اور انتقام کے جوش میں لاشوں کی بے حرمتی کرنے کا وحشیانہ طریقہ بھی، جو جاہلیت میں رائج تھا اور جسے اسلام نے مٹا دیا تھا، اسی دور میں مسلمانوں کے اندر شروع ہوا۔

سب سے پہلا سر جو زمانۂ اسلام میں کاٹ کر لے جایا گیا وہ عمارؓ بن یاسر کا سر

تھا۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند میں صحیح سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے اور ابن سعد نے بھی طبقات میں اسے نقل کیا ہے کہ جنگِ صفین میں حضرت عمارؓ کا سر کاٹ کر حضرت معاویہؓ کے پاس لایا گیا اور دو آدمی اس پر جھگڑ رہے تھے، ہر ایک کہتا تھا کہ عمار کو میں نے قتل کیا ہے۔ [مسند احمد، احادیث نمبر ۶۵۳۸ -۶۹۲۹ ، دارالمعارف مصر، ۱۹۵۲ء ۔ طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۲۵۳۔]

اس کے بعد دوسرا سر عمرو بن الحمق کا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیوں میں سے تھے، مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں اُنھوں نے بھی حصہ لیا تھا۔ زیاد کی ولایت عراق کے زمانے میں ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے۔ وہاں ایک سانپ نے ان کو کاٹ لیا اور وہ مر گئے۔ تعاقب کرنے والے ان کی مردہ لاش کا سر کاٹ کر زیاد کے پاس گئے۔ اس نے حضرت معاویہؓ کے پاس دمشق بھیج دیا۔ وہاں اسے بر سر عام گشت کرایا گیا اور پھر لے جا کر ان کی بیوی کی گود میں ڈال دیا گیا۔ [طبقات ابن سعد، ج۶، ص ۲۵۔ الاستیعاب، ج ۲، ص ۴۴۰۔ البدایہ، ج ۸، ص ۴۸۔ تہذیب التہذیب ج ۸، ص ۲۴۔]

ایسا ہی وحشیانہ سلوک مصر میں محمد بن ابی بکر کے ساتھ کیا گیا جو وہاں حضرت علیؓ کے گورنر تھے۔ حضرت معاویہؓ کا جب مصر پر قبضہ ہوا تو انھیں گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا اور پھر ان کی لاش ایک مردہ گدھے کی کھال میں رکھ کر جلائی گئی۔ [الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۳۵۔ الطبری، ج ۴، ص ۷۹۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۸۰۔ ابن خلدون تکملہ جلد دوم، ص ۱۸۲۔]

اس کے بعد تو یہ ایک مستقل طریقہ ہی بن گیا کہ جن لوگوں کو سیاسی انتقام کی بنا پر قتل کیا جائے ان کے مرنے کے بعد ان کی لاشوں کو بھی معاف نہ کیا جائے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر کاٹ کر کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے دمشق لے جایا گیا، اور ان کی لاش پر گھوڑے دوڑا کر اسے روندا گیا۔ [الطبری، ج ۴، ص ۳۵۰-۳۵۱-۳۵۶-۳۴۹۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۹۶ تا ۲۹۸۔ البدایہ ج ۸، ص ۱۸۹-۱۹۰-۱۹۱-۱۹۲۔]

حضرت نعمان بن بشیر، جو یزید کے زمانے تک بنی امیہ کے حامی رہے تھے، مروان کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا ساتھ دینے کی وجہ سے قتل کیے گئے اور ان کا سر لے جا کر ان کی بیوی کی گود میں ڈالا گیا۔ [طبقات ابن سعد، ج۶، ص ۵۳۔ البدایہ، ج۸، ص ۲۴۵۔]

حضرت مصعب بن زبیر کا سر کوفہ اور مصر میں پھرایا گیا، پھر دمشق لے جا کر اسے منظر عام پر لٹکا دیا گیا۔ اس کے بعد شام کے شہروں میں اسے پھرانے کا ارادہ تھا، مگر خود عبدالملک بن مروان کی بیوی عاتکہ بنت یزید بن معاویہ نے اس پر سخت احتجاج کیا۔ اس نے کہا: ”جو کچھ تم نے اب تک کیا ہے کیا اس سے بھی تمھارا دل ٹھنڈا نہ ہوا؟ اب اس کی نمائش کیوں کرتے پھر رہے ہو؟“ پھر اس سر کو اتروا کر غسل دلوایا اور دفن کرا دیا۔ [ابن الاثیر، ج۴، ص ۱۴۔ ابن خلدون، ج۳، ص ۳۵۔]

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ اور ان کے رفقاء عبداللہ بن صفوان اور عمارہ بن حزم کے ساتھ اس سے بھی زیادہ سخت وحشت و جاہلیت برتی گئی۔ ان کے سر کاٹ کر مکہ سے مدینہ، اور مدینہ سے دمشق لے جائے گئے، جگہ جگہ ان کی نمائش کی گئی، اور مکہ میں ان کی لاشیں کئی روز تک سولی پر لٹکتی رہیں، یہاں تک کہ وہ سڑ گئیں۔ [الاستیعاب، ج۱، ص ۳۵۴۔ ۳۵۳۔ الطبری، ج۵، ص ۳۳۔ ۳۴۔ البدایہ، ج۸، ص ۳۳۲۔ ابن خلدون، ج۳، ص ۳۹۔]

قطع نظر اس سے کہ جن لوگوں کے مرنے کے بعد یہ سلوک ان کی لاشوں کے ساتھ کیا گیا وہ کس پائے کے لوگ تھے، سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے کسی کافر کے ساتھ بھی یہ برتاؤ کرنا جائز رکھا ہے؟