مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

آخری مرحلہ

حضرت معاویہؓ کے ہاتھ میں اختیارات کا آنا خلافت سے ملوکیت کی طرف اسلامی ریاست کے انتقال کا عبوری مرحلہ تھا۔ بصیرت رکھنے والے لوگ اسی مرحلے میں یہ سمجھ گئے تھے کہ اب ہمیں بادشاہی سے سابقہ درپیش ہے۔ چنانچہ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص جب حضرت معاویہؓ کی بیعت ہو جانے کے بعد ان سے ملے تو <<السلام علیک ایھا الملک>> کہہ کر خطاب کیا۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: ”اگر آپ امیر المومنین کہتے تو کیا حرج تھا؟“ انھوں نے جواب دیا: ”خدا کی قسم! جس طرح آپ کو یہ حکومت ملی ہے اس طریقے سے اگر یہ مجھے مل رہی ہوتی تو میں اس کا لینا ہرگز پسند نہ کرتا۔“ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۴۰۵۔ حضرت سعدؓ کا نقطۂ نظر اس معاملے میں جو کچھ تھا اس پر بہترین روشنی اس واقعے سے پڑتی ہے کہ زمانۂ فتنہ میں ایک دفعہ ان کے بھتیجے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص نے ان سے کہا کہ اگر آپ اس وقت خلافت کے لیے کھڑے ہو جائیں تو ایک لاکھ تلواریں آپ کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ”ان ایک لاکھ تلواروں میں سے میں صرف ایک تلوار ایسی چاہتا ہوں جو کافر پر تو چلے مگر کسی مسلمان پر نہ چلے۔“ (البدایہ، ج ۸، ص ۷۲)] حضرت معاویہؓ خود بھی اس حقیقت کو سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے خود کہا تھا کہ <<انا اول الملوک>> ”میں مسلمانوں میں پہلا بادشاہ ہوں۔“ [الاستیعاب، ج ۱، ص ۳۵۴۔ البدایہ والنہایہ، ج ۸، ص ۱۳۵۔] بلکہ حافظ ابن کثیر کے بقول سنت بھی یہی ہے کہ ان کو خلیفہ کے بجائے بادشاہ کہا جائے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی تھی کہ ”میرے بعد خلافت ۳۰ سال رہے گی، پھر بادشاہی ہو گی“، اور یہ مدت ربیع الاول ۴۱ھ میں ختم ہو گئی جب کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ حضرت معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہوئے۔[ البدایہ، ج ۸، ص ۱۶۔]

اب خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے بحال ہونے کی آخری صورت صرف یہ باقی رہ گئی تھی کہ حضرت معاویہؓ یا تو اپنے بعد اس منصب پر کسی شخص کے تقرر کا معاملہ مسلمانوں کے باہمی مشورے پر چھوڑ دیتے، یا اگر قطع نزاع کے لیے اپنی زندگی ہی میں جانشینی کا معاملہ طے کر جانا ضروری سمجھتے تو مسلمانوں کے اہل علم و اہل خیر کو جمع کر کے انہیں آزادی کے ساتھ یہ فیصلہ کرنے دیتے کہ ولی عہدی کے لیے امت میں موزوں تر آدمی کون ہے۔ لیکن اپنے بیٹے یزید کی ولی عہدی کے لیے خوف و طمع کے ذرائع سے بیعت لے کر انھوں نے اس امکان کا بھی خاتمہ کر دیا۔

اس تجویز کی ابتدا حضرت مغیرہؓ بن شعبہ کی طرف سے ہوئی۔ حضرت معاویہؓ انھیں کوفے کی گورنری سے معزول کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انھیں اس کی خبر مل گئی۔ فوراً کوفے سے دمشق پہنچے اور یزید سے مل کر کہا کہ ”صحابہؓ کے اکابر اور قریش کے بڑے لوگ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ امیر المومنین تمھارے لیے بیعت لے لینے میں تامل کیوں کر رہے ہیں۔“ یزید نے اس بات کا ذکر اپنے والد ماجد سے کیا۔ انھوں نے حضرت مغیرہؓ کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا بات ہے جو تم نے یزید سے کہی۔ حضرت مغیرہؓ نے جواب دیا: ”امیر المومنین! آپ دیکھ چکے ہیں کہ قتل عثمانؓ کے بعد کیسے کیسے اختلافات اور خون خرابے ہوئے۔ اب بہتر یہ ہے کہ آپ یزید کو اپنی زندگی ہی میں ولی عہد مقرر کر کے بیعت لے لیں تاکہ اگر آپ کو کچھ ہو جائے تو اختلاف برپا نہ ہو۔“ حضرت معاویہؓ نے پوچھا: ”اس کام کو پورا کرا دینے کی ذمہ داری کون لے گا؟“ انھوں نے کہا: ”اہل کوفہ کو میں سنبھال لوں گا اور اہل بصرہ کو زیاد۔ اس کے بعد پھر اور کوئی مخالفت کرنے والا نہیں ہے۔“ یہ بات کر کے حضرت مغیرہ کوفہ آئے اور دس آدمیوں کو تیس ہزار درہم دے کر اس بات پر راضی کیا کہ ایک وفد کی صورت میں حضرت معاویہؓ کے پاس جائیں اور یزید کی ولی عہدی کے لیے ان سے کہیں۔ یہ وفد حضرت مغیرہؓ کے بیٹے موسیٰ بن مغیرہ کی سر کردگی میں دمشق گیا اور اس نے اپنا کام پورا کر دیا۔ بعد میں حضرت معاویہؓ نے موسیٰ کو الگ بلا کر پوچھا: ”تمہارے باپ نے ان لوگوں سے کتنے میں ان کا دین خریدا ہے؟“ انھوں نے کہا ”۳۰ ہزار درہم میں۔“ حضرت معاویہؓ نے کہا: ”تب تو ان کا دین ان کی نگاہ میں بہت ہلکا ہے۔“ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۴۹، البدایہ، ج ۸، ص ۷۹، اور ابن خلدون، جلد ۳، ص ۱۵-۱۶ میں بھی اس واقعے کے بعض حصوں کا ذکر ہے۔]

پھر حضرت معاویہؓ نے بصرے کے گورنر زیاد کو لکھا کہ اس معاملے میں تمھاری کیا رائے ہے۔ اس نے عبید بن کعب النمِیری کو بلا کر کہا: امیر المومنین نے مجھے اس معاملے میں لکھا ہے اور میرے نزدیک یزید میں یہ یہ کمزوریاں ہیں، لہٰذا تم ان کے پاس جا کر کہو کہ آپ اس معاملے میں جلدی نہ کریں۔ عبید نے کہا: آپ حضرت معاویہؓ کی رائے خراب کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ میں جا کر یزید سے کہتا ہوں کہ امیر المومنین نے اس معاملے میں امیر زیاد کا مشورہ طلب کیا ہے، اور ان کا خیال یہ ہے کہ لوگ اس تجویز کی مخالفت کریں گے، کیونکہ تمھارے بعض طور طریقے لوگوں کو ناپسند ہیں۔ اس لیے امیر زیاد تم کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ تم ان چیزوں کی اصلاح کر لو تاکہ یہ معاملہ ٹھیک بن جائے۔ زیاد نے اس رائے کو پسند کیا اور عبید نے دمشق جا کر ایک طرف یزید کو اصلاح اطوار کا مشورہ دیا اور دوسری طرف حضرت معاویہؓ سے کہا کہ آپ اس معاملے میں جلدی نہ کریں۔[ الطبری، ج ۴، ص ۲۲۴-۲۲۵۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۴۴۹-۴۵۰۔ البدایہ، ج ۸، ص ۷۹۔] مورخین کا بیان ہے کہ اس کے بعد یزید نے اپنے بہت سے ان اعمال کی اصلاح کر لی جو قابل اعتراض تھے۔ مگر اس روداد سے دو باتیں بالکل واضح ہیں: ایک یہ کہ یزید کی ولی عہدی کے لیے ابتدائی تحریک کسی صحیح جذبے کی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی، بلکہ ایک بزرگ نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے دوسرے بزرگ کے ذاتی مفاد سے اپیل کر کے اس تجویز کو جنم دیا، اور دونوں صاحبوں نے اس بات سے قطع نظر کر لیا کہ وہ اس طرح امت محمدیہ کو کس راہ پر ڈال رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یزید بجائے خود اس مرتبے کا آدمی نہ تھا کہ حضرت معاویہ کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے قطع نظر کرتے ہوئے کوئی شخص یہ رائے قائم کرتا کہ حضرت معاویہ کے بعد امت کی سربراہی کے لیے وہ موزوں ترین آدمی ہے۔

زیاد کی وفات (۵۳ھ) کے بعد حضرت معاویہ نے یزید کو ولی عہد بنانے کا فیصلہ کر لیا اور بااثر لوگوں کی رائے ہموار کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس سلسلے میں انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو ایک لاکھ درہم بھیجے اور یزید کی بیعت کے لیے راضی کرنا چاہا۔ انھوں نے کہا: ”اچھا یہ روپیہ اس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے۔ پھر تو میرا دین میرے لیے بڑا ہی سستا ہو گیا۔“ یہ کہہ کر انھوں نے روپیہ لینے سے انکار کر دیا۔ [بن الاثیر، ج ۳، ص ۲۵۰ - البدایہ، ج۸، ص ۸۹]

پھر حضرت معاویہ نے مدینے کے گورنر مروان بن الحکم کو لکھا کہ میں اب بوڑھا ہو گیا ہوں، چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی ہی میں کسی کو جانشین مقرر کر دوں۔ لوگوں سے پوچھو کہ جانشین مقرر کرنے کے معاملے میں وہ کیا کہتے ہیں۔ مروان نے اہل مدینہ کے سامنے یہ بات پیش کی۔ لوگوں نے کہا: ایسا کرنا عین مناسب ہے۔ اس کے بعد حضرت معاویہ نے مروان کو پھر لکھا کہ میں نے جانشینی کے لیے یزید کو منتخب کیا ہے۔ مروان نے پھر یہ معاملہ اہل مدینہ کے سامنے رکھ دیا اور مسجد نبوی میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ”امیر المومنین نے تمھارے لیے مناسب آدمی تلاش کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے اور اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو جانشین بنایا ہے۔ یہ بہت اچھی رائے ہے جو اللہ نے ان کو سمجھائی۔ اگر وہ اس کو جانشین مقرر کر رہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ابوبکرؓ وعمرؓ نے بھی جانشین مقرر کیے تھے۔“ اس پر حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ اٹھے اور انھوں نے کہا: ”جھوٹ بولتے ہو تم اے مروان، اور جھوٹ کہا معاویہؓ نے۔ تم نے ہرگز امت محمدیہ کی بھلائی نہیں سوچی ہے۔ تم اسے قیصریت بنانا چاہتے ہو کہ جب ایک قیصر مرے تو اس کی جگہ اس کا بیٹا آ گیا۔ یہ سنت ابوبکرؓ وعمرؓ نہیں ہے۔ انھوں نے اپنی اولاد میں سے کسی کو جانشین نہیں بنایا تھا۔“ مروان نے کہا: ”پکڑو اس شخص کو، یہی ہے وہ جس کے متعلق قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: <<وَالَّذِيْ قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَآ>> (الاحقاف : ۱۷)“ حضرت عبدالرحمن نے بھاگ کر حضرت عائشہؓ کے حجرے میں پناہ لی۔ حضرت عائشہؓ چیخ اٹھیں کہ ”جھوٹ کہا مروان نے۔ ہمارے خاندان کے کسی فرد کے معاملے میں یہ آیت نہیں آئی ہے، بلکہ ایک اور شخص کے معاملے میں آئی ہے، جس کا نام میں چاہوں تو بتا سکتی ہوں۔ البتہ مروان کے باپ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی تھی جب کہ مروان ابھی اس کی صلب میں تھا۔“ اس مجلس میں حضرت عبدالرحمن کی طرح حضرت حسین بن علیؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے بھی یزید کی ولی عہدی ماننے سے انکار کر دیا۔ [اس واقعے کا مختصر ذکر بخاری، تفسیر سورۃ احقاف میں ہے۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کی تفصیلات نسائی، اسماعیلی، ابن المنذر، ابو یعلیٰ اور ابن ابی حاتم سے نقل کی ہیں۔ اور حافظ ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں ابن ابی حاتم اور نسائی کے حوالے سے اس کی بعض تفصیلات کو نقل کیا ہے۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو: الاستیعاب، ج ۲، ص ۳۹۳۔ البدایہ، ج ۸، ص ۸۹۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۵۰۔ ابن الاثیر نے لکھا ہے کہ ”بعض روایات کی رو سے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ کا انتقال ۵۳ھ میں ہو چکا تھا اس لیے اگر یہ صحیح ہے تو وہ اس موقع پر موجود نہیں ہو سکتے تھے۔“ لیکن حدیث کی معتبر روایتیں اس کے خلاف ہیں، اور البدایہ میں حافظ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن کا انتقال ۵۸ھ میں ہوا ہے۔]

اسی زمانے میں حضرت معاویہؓ نے مختلف علاقوں سے وفود بھی طلب کیے اور یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا۔ جواب میں لوگ خوشامدانہ تقریریں کرتے رہے، مگر حضرت احنف بن قیس خاموش رہے۔ حضرت معاویہؓ نے کہا: ”ابو بحر! تم کیا کہتے ہو؟“ انھوں نے کہا: ”ہم سچ کہیں تو آپ کا ڈر ہے، جھوٹ بولیں تو خدا کا ڈر ہے۔ امیر المؤمنین! آپ یزید کے شب و روز، خلوت و جلوت، آمد و رفت، ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔ اگر آپ اس کو اللہ اور اس امت کے لیے واقعی پسندیدہ جانتے ہیں تو اس کے بارے میں کسی سے مشورہ نہ لیجیے۔ اور اگر آپ کے علم میں وہ اس سے مختلف ہے تو آخرت کو جاتے ہوئے دنیا اس کے حوالے کر کے نہ جائیے۔ رہے ہم، تو ہمارا کام تو بس یہ ہے کہ جو حکم ملے اس پر <<سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا>> کہہ دیں۔“ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۲۵۰ - ۲۵۱۔ البدایہ، ج ۸، ص ۸۰۔]

عراق، شام اور دوسرے علاقوں سے بیعت لینے کے بعد حضرت معاویہؓ خود حجاز تشریف لے گئے، کیونکہ وہاں کا معاملہ سب سے اہم تھا اور دنیائے اسلام کی وہ بااثر شخصیتیں جن سے مزاحمت کا اندیشہ تھا وہیں رہتی تھیں۔ مدینے کے باہر حضرت حسینؓ، حضرت ابن زبیرؓ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ ان سے ملے۔ حضرت معاویہؓ نے ان سے ایسا درشت برتاؤ کیا کہ وہ شہر چھوڑ کر مکے چلے گئے۔ اس طرح مدینے کا معاملہ آسان ہو گیا۔ پھر انھوں نے مکے کا رخ کیا اور ان چاروں اصحاب کو خود شہر کے باہر بلا کر ان سے ملے۔ اس مرتبہ ان کا برتاؤ اس کے برعکس تھا جو مدینے کے باہر اُن سے کیا تھا۔ ان پر بڑی مہربانیاں کیں۔ اُنھیں اپنے ساتھ لیے ہوئے شہر میں داخل ہوئے۔ پھر تخلیہ میں بلا کر انھیں یزید کی بیعت پر راضی کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے جواب میں کہا: ”آپ تین کاموں میں سے ایک کام کیجیے: یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح کسی کو جانشین نہ بنائیے، لوگ خود اسی طرح کسی کو اپنا خلیفہ بنا لیں گے جس طرح اُنھوں نے حضرت ابوبکرؓ کو بنایا تھا۔ یا پھر وہ طریقہ اختیار کیجیے جو حضرت ابوبکرؓ نے کیا کہ اپنی جانشینی کے لیے حضرت عمرؓ جیسے شخص کو مقرر کیا جن سے ان کا کوئی دور پرے کا رشتہ بھی نہ تھا۔ یا پھر وہ طریقہ اختیار کیجیے جو حضرت عمرؓ نے کیا کہ چھ آدمیوں کی شوریٰ تجویز کی اور اس میں ان کی اولاد میں سے کوئی شامل نہ تھا۔“ حضرت معاویہؓ نے باقی حضرات سے پوچھا: ”آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”ہم بھی وہی کہتے ہیں جو ابن زبیر نے کہا ہے۔“ اس پر حضرت معاویہؓ نے کہا: ”اب تک میں تم لوگوں سے درگزر کرتا رہا ہوں۔ اب میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر تم میں سے کسی نے میری بات کے جواب میں ایک لفظ بھی کہا تو دوسری بات اس کی زبان سے نکلنے کی نوبت نہ آئے گی، تلوار اس کے سر پر پہلے پڑ چکی ہوگی۔“ پھر اپنے باڈی گارڈ کے افسر کو بلا کر حکم دیا کہ ”ان میں سے ہر ایک پر ایک ایک آدمی مقرر کر دو اور اسے تاکید کر دو کہ ان میں سے جو بھی میری بات کی تردید یا تائید میں زبان کھولے، اس کا سر قلم کر دے۔“ اس کے بعد وہ انھیں لیے ہوئے مسجد میں آئے اور اعلان کیا کہ ”یہ مسلمانوں کے سردار اور بہترین لوگ، جن کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کیا جاتا، یزید کی ولی عہدی پر راضی ہیں اور انھوں نے بیعت کر لی ہے۔ لہٰذا تم لوگ بھی بیعت کر لو۔“ اب لوگوں کی طرف سے انکار کا کوئی سوال ہی باقی نہ تھا۔ اہل مکہ نے بھی بیعت کر لی۔ [ابن الاثیر، ج ۳، ص۲۵۲]

اس طرح خلافت راشدہ کے نظام کا آخری اور قطعی طور پر خاتمہ ہو گیا۔ خلافت کی جگہ شاہی خانوادوں (dynasties) نے لے لی اور مسلمانوں کو اس کے بعد سے آج تک پھر اپنی مرضی کی خلافت نصیب نہ ہوسکی۔ حضرت معاویہؓ کے محامد و مناقب اپنی جگہ پر ہیں۔ ان کا شرف صحابیت بھی واجب الاحترام ہے۔ ان کی یہ خدمت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ انھوں نے پھر سے دنیائے اسلام کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور دنیا میں اسلام کے غلبے کا دائرہ پہلے سے زیادہ وسیع کر دیا۔ ان پر جو شخص لعن طعن کرتا ہے وہ بلاشبہ زیادتی کرتا ہے۔ لیکن ان کے غلط کام کو تو غلط کہنا ہی ہوگا۔ اسے صحیح کہنے کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم اپنے صحیح و غلط کے معیار کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔