خلافت و ملوکیت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔
کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔
کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔
تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
- خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
- تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
- فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
- مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟
تیسرا مرحلہ
حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد مدینے میں سراسیمگی پھیل گئی، کیونکہ امت یکایک بے سربراہ رہ گئی تھی۔ باہر سے آنے والے شورشی اور مدینہ کے مہاجرین و انصار اور تابعین، دونوں اس پریشانی میں مبتلا ہو گئے کہ سرحد روم سے یمن تک اور افغانستان سے شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی یہ امت اور مملکت چند روز بھی بے سر کیسے رہ سکتی ہے۔ لا محالہ جلدی سے جلدی ایک خلیفہ کا انتخاب ہونا چاہیے تھا، اور یہ انتخاب بھی لازماً مدینے ہی میں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہی مرکز اسلام تھا، اور یہیں وہ اہل حل و عقد موجود تھے جن کی بیعت سے اس وقت تک خلافت منعقد ہوتی رہی تھی۔ اس معاملے میں نہ تاخیر کی جا سکتی تھی، اور نہ مدینہ سے باہر دور دراز کے دیار و امصار کی طرف رجوع کرنے کا کوئی موقع تھا۔ ایک خطرناک صورت حال پیدا ہو چکی تھی۔ فوری ضرورت تھی کہ کسی موزوں ترین شخصیت کو سربراہ بنایا جائے تاکہ امت اس پر جمع ہو سکے اور وہ مملکت کو انتشار سے بچا سکے۔
اس وقت ان چھ اصحاب میں سے چار موجود تھے جن کو حضرت عمرؓ نے اپنی وفات کے وقت امت کے مقدم ترین اصحاب قرار دیا تھا۔ ایک، حضرت علیؓ ۔ دوسرے، حضرت طلحہؓ ۔ تیسرے، حضرت زبیرؓ ۔ چوتھے، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ۔ ان میں سے حضرت علیؓ ہر لحاظ سے پہلے نمبر پر تھے۔ شوریٰ کے موقع پر حضرت عبد الرحمنؓ بن عوف کے بعد دوسرے شخص جن کو امت کا زیادہ سے زیادہ اعتماد حاصل ہے، حضرت علیؓ ہی ہیں۔ [البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۱۴۶] اس لیے یہ بالکل فطری امر تھا کہ لوگ خلافت کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتے۔ صرف مدینے ہی میں نہیں، پوری دنیائے اسلام میں دوسرا کوئی شخص ایسا نہ تھا جس کی طرف اس غرض کے لیے مسلمانوں کی نگاہیں اٹھتیں۔ حتیٰ کہ اگر آج کے رائج طریقوں کے مطابق بھی کوئی انتخاب کرایا جاتا تو لازماً عظیم اکثریت کے ووٹ انہی کو حاصل ہوتے۔ [امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت علیؓ سے بڑھ کر کوئی شخص خلافت کے لیے احق نہ تھا، طبقات ابن سعد، ج ۸، ص۱۳۰۔] چنانچہ تمام معتبر روایتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور دوسرے اہل مدینہ ان کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ ”یہ نظام کسی امیر کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، لوگوں کے لیے ایک امام کا وجود ناگزیر ہے، اور آج آپ کے سوا ہم کوئی ایسا شخص نہیں پاتے جو اس منصب کے لیے آپ سے زیادہ مستحق ہو، نہ سابق خدمات کے اعتبار سے، اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرب کے اعتبار سے۔“ انھوں نے انکار کیا، اور لوگ اصرار کرتے رہے۔ آخرکار انھوں نے کہا: ”میری بیعت گھر بیٹھے خفیہ طریقے سے نہیں ہو سکتی، عام مسلمانوں کی رضا کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔“ پھر مسجد نبویؐ میں اجتماع عام ہوا اور تمام مہاجرین و انصار نے ان کے ہاتھ
پر بیعت کی۔ صحابہؓ میں سے ۱۲ یا ۲۰ ایسے بزرگ تھے جنھوں نے بیعت نہیں کی۔[ الطبری، جلد ۳، ص ۴۵۰- ۴۵۲۔ البدایہ والنہایہ، جلد ۷، ص ۲۲۵-۲۲۶۔ ابن عبدالبر کا بیان ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر ۸ سو ایسے اصحاب حضرت علیؓ کے ساتھ تھے جو بیعت الرضوان کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (الاستیعاب، ج ۲، ص ۴۲۳)]
اس رُوداد سے اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ حضرت علیؓ کی خلافت قطعی طور پر ٹھیک ٹھیک اُنھی اصولوں کے مطابق منعقد ہوئی تھی جن پر خلافت راشدہ کا انعقاد ہو سکتا تھا۔ وہ زبردستی اقتدار پر قابض نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے خلافت حاصل کرنے کے لیے برائے نام بھی کوئی کوشش نہیں کی۔ لوگوں نے خود آزادانہ مشاورت سے ان کو خلیفہ منتخب کیا۔ صحابہ کی عظیم اکثریت نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اور بعد میں شام کے سوا تمام بلاد اسلامیہ نے ان کو خلیفہ تسلیم کیا۔ اب اگر حضرت سعد بن عبادہ کے بیعت نہ کرنے سے حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی خلافت مشتبہ نہیں ہوتی تو ۱۲ یا ۲۰ صحابہؓ کے بیعت نہ کرنے سے حضرت علیؓ کی خلافت کیسے مشتبہ قرار پا سکتی ہے۔ علاوہ بریں ان چند اصحاب کا بیعت نہ کرنا تو محض ایک منفی فعل تھا جس سے خلافت کے معاملے کی آئینی پوزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیا مقابلے میں کوئی دوسرا خلیفہ تھا جس کے ہاتھ پر انھوں نے جوابی بیعت کی ہو؟ یا ان کا کہنا یہ تھا کہ اب امت اور مملکت کو بے خلیفہ رہنا چاہیے؟ یا یہ کہ کچھ مدت تک خلافت کا منصب خالی رہنا چاہیے؟ اگر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تھی، تو محض ان کے بیعت نہ کرنے کے یہ معنی کیسے ہو سکتے ہیں کہ اکثریت اور عظیم اکثریت نے جس کے ہاتھ پر بیعت کی تھی وہ جائز طور پر فی الواقع خلیفہ نہیں بنا۔
اس طرح امت کو یہ موقع مل گیا تھا کہ خلافتِ راشدہ کے نظام میں جو خطر ناک رخنہ حضرت عثمانؓ کی شہادت سے پیدا ہوا تھا وہ بھر جاتا اور حضرت علیؓ پھر سے اس کو سنبھال لیتے۔ لیکن تین چیزیں ایسی تھیں جنھوں نے اس رخنے کو نہ بھرنے دیا، بلکہ اسے اور زیادہ بڑھا کر ملوکیت کی طرف امت کو دھکیلنے میں ایک مرحلہ اور طے کرا دیا۔
ایک، حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانے میں ان لوگوں کی شرکت جو حضرت عثمانؓ کے خلاف شورش برپا کرنے کے لیے باہر سے آئے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنھوں نے بالفعل جرم قتل کا ارتکاب کیا تھا اور وہ بھی جو قتل کے مرتکب اور اس میں اعانت کے مرتکب ہوئے تھے۔ اور ویسے مجموعی طور پر اس فساد کی ذمہ داری اُن سب پر عائد ہوتی تھی۔ خلافت کے کام میں ان کی شرکت ایک بہت بڑے فتنے کی موجب بن گئی۔ لیکن جو شخص بھی ان حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے گا جو اس وقت مدینہ میں درپیش تھے، وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس وقت ان لوگوں کو انتخاب خلیفہ کے کام میں شریک ہونے سے کسی طرح باز نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ پھر بھی ان کی شرکت کے باوجود جو فیصلہ ہوا وہ بجائے خود ایک صحیح فیصلہ تھا اور اگر امت کے تمام با اثر اصحاب اتفاق رائے کے ساتھ حضرت علیؓ کے ہاتھ مضبوط کر دیتے تو یقیناً قاتلین عثمانؓ کیفر کردار کو پہنچا دیے جاتے اور فتنے کی یہ صورت جو بد قسمتی سے رونما ہو گئی تھی، بآسانی ختم ہو جاتی۔
دوسرے، بعض اکابر صحابہ کا حضرت علیؓ کی بیعت سے الگ رہنا۔۔۔۔۔۔ یہ طرزِ عمل اگرچہ ان بزرگوں نے انتہائی نیک نیتی کے ساتھ محض فتنے سے بچنے کی خاطر اختیار فرمایا تھا، لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ جس فتنے سے وہ بچنا چاہتے تھے اس سے بدر جہا زیادہ بڑے فتنے میں ان کا یہ فعل الٹا مددگار بن گیا۔ وہ بہر حال امت کے نہایت با اثر لوگ تھے۔ ان میں سے ہر ایک ایسا تھا جس پر ہزاروں مسلمانوں کو اعتماد تھا۔ ان کی علیحدگی نے ذہنوں میں شک ڈال دیے اور خلافت راشدہ کے نظام کو از سر نو بحال کرنے کے لیے جس دل جمعی کے ساتھ امت کو حضرت علیؓ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تھا، جس کے بغیر وہ اس کام کو انجام نہ دے سکتے تھے، وہ بدقسمتی سے حاصل نہ ہو سکی۔
تیسرے، حضرت عثمانؓ کے خون کا مطالبہ، جسے لے کر دو طرف سے دو فریق اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک طرف حضرت عائشہؓ اور حضرات طلحہؓ و زبیرؓ، اور دوسری طرف حضرت معاویہؓ -- ان دونوں فریقوں کے مرتبہ و مقام اور جلالت قدر کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے بھی یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ دونوں کی پوزیشن آئینی حیثیت سے کسی طرح درست نہیں مانی جا سکتی۔ ظاہر ہے کہ یہ جاہلیت کے دور کا قبائلی نظام تو نہ تھا کہ کسی مقتول کے خون کا مطالبہ لے کر جو چاہے اور جس طرح چاہے اٹھ کھڑا ہو اور جو طریقہ چاہے اسے پورا کرانے کے لیے استعمال کر لے۔ یہ ایک باقاعدہ حکومت تھی جس میں ہر دعویٰ کے لیے ایک ضابطہ اور قانون موجود تھا۔ خون کا مطالبہ لے کر اٹھنے کا حق مقتول کے وارثوں کو تھا جو زندہ تھے اور وہیں موجود تھے۔ حکومت اگر مجرموں کو پکڑنے اور ان پر مقدمہ چلانے میں واقعی دانستہ ہی تساہل کر رہی تھی تو بلاشبہ دوسرے لوگ اس سے انصاف کا مطالبہ کر سکتے تھے۔ لیکن کسی حکومت سے انصاف کے مطالبے کا یہ کون سا طریقہ ہے، اور شریعت میں کہاں اس کی نشان دہی کی جا سکتی ہے کہ آپ سرے سے اس حکومت کو جائز حکومت ہی اس وقت تک نہ مانیں جب تک وہ آپ کے اس مطالبے کے مطابق عمل درآمد نہ کر دے۔ حضرت علیؓ اگر جائز خلیفہ تھے ہی نہیں تو پھر ان سے اس مطالبے کے آخر معنی کیا تھے کہ وہ مجرموں کو پکڑیں اور سزا دیں؟ کیا وہ کوئی قبائلی سردار تھے جو کسی قانونی اختیار کے بغیر جسے چاہیں پکڑ لیں اور سزا دے ڈالیں؟
اس سے بھی زیادہ غیر آئینی طریق کار یہ تھا کہ پہلے فریق نے بجائے اس کے کہ
وہ مدینے جا کر اپنا مطالبہ پیش کرتا، جہاں خلیفہ اور مجرمین اور مقتول کے ورثاء سب موجود تھے اور عدالتی کارروائی کی جا سکتی تھی، بصرے کا رخ کیا اور فوج جمع کر کے خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کی کوشش کی جس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ ایک خون کے بجائے دس ہزار مزید خون ہوں، اور مملکت کا نظام الگ درہم برہم ہو جائے۔ شریعت الٰہی تو درکنار، دنیا کے کسی آئین و قانون کی رو سے بھی اسے ایک جائز کارروائی نہیں مانا جا سکتا۔
اس سے بدر جہا زیادہ غیر آئینی طرزِ عمل دوسرے فریق، یعنی حضرت معاویہؓ کا تھا جو معاویہ بن ابی سفیان کی حیثیت سے نہیں بلکہ شام کے گورنر کی حیثیت سے خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لیے اٹھے، مرکزی حکومت کی اطاعت سے انکار کیا، گورنری کی طاقت اپنے اس مقصد کے لیے استعمال کی، اور مطالبہ بھی یہ نہیں کیا کہ حضرت علیؓ قاتلین عثمانؓ پر مقدمہ چلا کر انھیں سزا دیں، بلکہ یہ کیا کہ وہ قاتلین عثمانؓ کو ان کے حوالے کر دیں تاکہ وہ خود انھیں قتل کریں۔ [الطبری، جلد ۴، ص ۴-۳۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۴۸۔ البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۲۵۷-۲۵۸۔] یہ سب کچھ دورِ اسلام کی نظامی حکومت کے بجائے زمانہ قبلِ اسلام کی قبائلی بد نظمی سے اشبہ ہے۔ خونِ عثمانؓ کے مطالبے کا حق اول تو حضرت معاویہؓ کے بجائے حضرت عثمانؓ کے شرعی وارثوں کو پہنچتا تھا۔ تاہم اگر رشتہ داری کی بنا پر حضرت معاویہؓ اس مطالبے کے مجاز ہو بھی سکتے تھے تو اپنی ذاتی حیثیت میں، نہ کہ شام کے گورنر کی حیثیت میں۔ حضرت عثمانؓ کا رشتہ جو کچھ بھی تھا، معاویہ بن ابی سفیان سے تھا۔ شام کی گورنری ان کی رشتہ دار نہ تھی۔ اپنی ذاتی حیثیت میں وہ خلیفہ کے پاس مستغیث بن کر جا سکتے تھے اور مجرمین کو گرفتار کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر سکتے تھے۔ گورنر کی حیثیت سے انھیں کوئی حق نہ تھا کہ جس خلیفہ کے ہاتھ پر باقاعدہ آئینی طریقے سے بیعت ہو چکی تھی، جس کی خلافت کو ان کے زیرِ انتظام صوبے کے سوا باقی پوری مملکت تسلیم کر چکی تھی، [یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ جنگِ صفین کے بعد تک پورا جزیرۃ العرب، اور شام کے مشرق اور مغرب میں دونوں طرف اسلامی سلطنت کا ہر صوبہ حضرت علیؓ کی بیعت پر قائم تھا اور صرف شام حضرت معاویہؓ کے زیر اثر ہونے کی بنا پر ان کی اطاعت سے منحرف تھا۔ اس لیے صحیح آئینی پوزیشن یہ نہ تھی کہ دنیائے اسلام میں کوئی طوائف الملوکی برپا تھی جس میں کوئی کسی کی اطاعت کا پابند نہ تھا،
بلکہ یہ تھی کہ مملکت میں ایک جائز، قانونی، مرکزی حکومت موجود تھی جس کی اطاعت تمام دوسرے صوبے کر رہے تھے اور صرف ایک صوبہ باغی تھا۔ (الطبری، ج ۳، ص۴۶۲-۴۶۳۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۳۷-۱۴۱۔ البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۲۲۹-۲۵۱)]
اس کی اطاعت سے انکار دیتے، اور اپنے زیر انتظام علاقے کی فوجی طاقت کو مرکزی حکومت کے مقابلے میں استعمال کرتے، اور بحیثیت جاہلیت قدیمہ کے طریقے پر یہ مطالبہ کرتے کہ قتل کے ملزموں کو عدالتی کارروائی کے بجائے مدعی قصاص کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ خود اُن سے بدلہ لے۔
اس مسئلے میں صحیح شرعی پوزیشن قاضی ابوبکر ابن العربی نے احکام القرآن میں اس طرح بیان کی ہے:
” (حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد) لوگوں کو بلا امام چھوڑ دینا ممکن نہ تھا، چنانچہ امامت اُن باقی ماندہ صحابہؓ کے سامنے پیش کی گئی جن کا ذکر حضرت عمرؓ نے شوریٰ میں کیا تھا۔ مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور حضرت علیؓ نے جو اس کے سب سے زیادہ حق دار اور اہل تھے، اسے قبول کر لیا تاکہ امت کو خوں ریزی اور آپس کی پھوٹ سے بچایا جا سکے جس سے دین و ملت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ جانے کا خطرہ تھا۔ پھر جب ان سے بیعت کر لی گئی تو شام کے لوگوں نے ان کی بیعت قبول کرنے کے لیے یہ شرط لگائی کہ پہلے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو گرفتار کر کے ان سے قصاص لیا جائے۔ حضرت علیؓ نے ان سے کہا: پہلے بیعت میں داخل ہو جاؤ، پھر حق کا مطالبہ کرو اور وہ تمھیں مل جائے گا۔ مگر انھوں نے کہا آپ بیعت کے مستحق ہی نہیں ہیں جب کہ ہم قاتلین عثمانؓ کو صحیح و سالم آپ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ اس معاملے میں حضرت علیؓ کی رائے زیادہ صحیح تھی اور ان کا قول زیادہ درست تھا۔ کیونکہ اگر وہ اس وقت قاتلین عثمانؓ سے بدلہ لینے کی کوشش کرتے تو قبائل اُن کی حمایت پر اُٹھ کھڑے ہوتے اور لڑائی کا ایک تیسرا محاذ کھل جاتا۔ اس لیے وہ انتظار کر رہے تھے کہ حکومت مضبوط ہو جائے اور تمام مملکت میں ان کی بیعت منعقد ہو لے، اس کے بعد باقاعدہ عدالت میں اولیائے مقتول کی طرف سے دعویٰ پیش ہو اور حق کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے۔ علمائے امت کے درمیان اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ امام کے لیے قصاص کو موخر کرنا ایسی حالت میں جائز ہے جب کہ اس سے فتنہ بھڑک اٹھنے اور تفرقہ برپا ہونے کا خطرہ ہو۔“
’’ایسا ہی معاملہ حضرات طلحہؓ و زبیرؓ کا بھی تھا۔ ان دونوں حضرات نے نہ تو حضرت علیؓ کو خلافت سے بے دخل کیا تھا، نہ وہ ان کے دین پر معترض تھے، البتہ ان کا خیال یہ تھا کہ سب سے پہلے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے ابتدا کی جائے۔ مگر حضرت علیؓ اپنی رائے پر قائم رہے اور انہی کی رائے صحیح تھی۔‘‘
آگے چل کر قاضی صاحب آیت: <<فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ>> (الحجرات :۹) کی تفسیر پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’حضرت علیؓ نے ان حالات میں اسی آیت کے مطابق عمل کیا تھا۔ انھوں نے ان باغیوں کے خلاف جنگ کی جو امام پر اپنی رائے مسلط کرنا چاہتے تھے اور ایسا مطالبہ کر رہے تھے جس کا انھیں حق نہ تھا۔ ان کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ حضرت علیؓ کی بات مان لیتے اور اپنا مطالبہ قصاص عدالت میں پیش کر کے قاتلین پر مقدمہ ثابت کرتے۔ اگر ان لوگوں نے یہ طریق کار اختیار کیا ہوتا اور پھر حضرت علیؓ مجرموں سے بدلہ نہ لیتے تو انھیں کش مکش کرنے کی بھی ضرورت نہ ہوتی، عامہ مسلمین خود ہی حضرت علیؓ کو معزول کر دیتے۔‘‘ [احکام القرآن، ج۴، ص ۱۷۰۷-۱۷۰۶، طبع مصر، ۱۹۵۸ء۔]