مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

پانچواں مرحلہ

حضرت عثمانؓ کی شہادت (۱۸ / ذی الحجہ ۳۵ھ) کے بعد حضرت نعمان بن بشیر ان کا خون سے بھرا ہوا قمیص، اور ان کی اہلیہ محترمہ حضرت نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں، حضرت معاویہؓ کے پاس دمشق لے گئے اور انھوں نے یہ چیزیں منظر عام پر لٹکا دیں تاکہ اہلِ شام کے جذبات بھڑک اٹھیں۔ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۹۸ - البدایہ، ج ۷ ، ص ۲۲۷۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم ص ۱۶۹] یہ اس بات کی کھلی علامت تھی کہ حضرت معاویہؓ خونِ عثمانؓ کا بدلہ قانون کے راستے سے نہیں بلکہ غیر قانونی طریقے سے لینا چاہتے ہیں، ورنہ ظاہر ہے کہ شہادتِ عثمانؓ کی خبر ہی لوگوں میں غم و غصہ پیدا کرنے کے لیے کافی تھی، اس قمیص اور ان انگلیوں کا مظاہرہ کر کے عوام میں اشتعال پیدا کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔

اِدھر حضرت علیؓ نے منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد جو کام سب سے پہلے کیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ محرم ۳۶ھ میں حضرت معاویہؓ کو شام سے معزول کر کے حضرت سہل بن حنیف کو ان کی جگہ مقرر کر دیا۔ مگر ابھی یہ نئے گورنر تبوک تک ہی پہنچے تھے کہ شام کے سواروں کا ایک دستہ ان سے آ کر ملا اور اس نے کہا: ”اگر آپ حضرت عثمانؓ کی طرف سے آئے ہیں تو اہلاً و سہلاً، اور اگر کسی اور کی طرف سے آئے ہیں تو واپس تشریف لے جائیے۔“ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۰۳۔ البدایہ، ج ۷، ص ۲۲۸ ۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم ، ص ۱۵۲ ] یہ اس بات کا صاف نوٹس تھا کہ شام کا صوبہ نئے خلیفہ کی اطاعت کے لیے تیار نہیں۔ حضرت علیؓ نے ایک اور صاحب کو اپنے ایک خط کے ساتھ حضرت معاویہؓ کے پاس بھیجا، مگر انھوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور صفر ۳۶ھ میں اپنی طرف سے ایک لفافہ اپنے ایک پیغامبر کے ہاتھ ان کے پاس بھیج دیا۔ حضرت علیؓ نے لفافہ کھولا تو اس میں کوئی خط نہ تھا۔ حضرت علیؓ نے پوچھا: ”یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: ”میرے پیچھے دمشق میں ۶۰ ہزار آدمی خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لیے بے تاب ہیں۔“ حضرت علیؓ نے پوچھا: ”کس سے بدلہ لینا چاہتے ہیں؟“ اس نے کہا: ”آپ کی رگِ گردن سے۔“ [الطری ، جلد ۳، ص ۴۶۴۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۰۴ - البدایہ، ج ۷ ،ص ۲۲۹ ۔ ابن خلدون، تکملۂ جلد ۲ ، ص ۱۵۲ - ۱۵۳]اس کے صاف معنی یہ تھے کہ شام کا گورنر صرف اطاعت ہی سے منحرف نہیں ہے بلکہ اپنے صوبے کی پوری فوجی طاقت مرکزی حکومت سے لڑنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس کے پیش نظر قاتلینِ عثمانؓ سے نہیں بلکہ خلیفۂ وقت سے خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینا ہے۔

یہ سب کچھ اس چیز کا نتیجہ تھا کہ حضرت معاویہؓ مسلسل ۱۶-۱۷ سال ایک صوبے، اور وہ بھی جنگی نقطۂ نظر سے انتہائی اہم صوبے کی گورنری پر رکھے گئے۔ اسی وجہ سے سر شام خلافت اسلامیہ کے ایک صوبے کی بہ نسبت ان کی ریاست زیادہ بن گیا تھا۔ مورخین نے حضرت علیؓ کے حضرت معاویہؓ کو معزول کرنے کا واقعہ کچھ ایسے انداز سے بیان کیا ہے جس سے پڑھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ تدبر سے بالکل ہی کورے تھے، مغیرہؓ بن شعبہ نے ان کو عقل کی بات بتائی تھی کہ معاویہؓ کو نہ چھیڑیں، مگر انھوں نے اپنی نادانی سے یہ رائے نہ مانی اور حضرت معاویہؓ کو خواہ مخواہ بھڑکا کر مصیبت مول لے لی۔ حالانکہ واقعات کا جو نقشہ خود انہی مورخین کی لکھی ہوئی تاریخوں سے ہمارے سامنے آتا ہے اسے دیکھ کر کوئی سیاسی بصیرت رکھنے والا آدمی یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت علیؓ اگر حضرت معاویہؓ کی معزولی کا حکم صادر کرنے میں تاخیر کرتے تو یہ بہت بڑی غلطی ہوتی۔ ان کے اس اقدام سے ابتدا ہی میں یہ بات کھل گئی کہ حضرت معاویہؓ کس مقام پر کھڑے ہیں۔ زیادہ دیر تک ان کے موقف پر پردہ پڑا رہتا تو یہ دھوکے کا پردہ ہوتا جو زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

حضرت علیؓ نے اس کے بعد شام پر چڑھائی کی تیاری شروع کر دی۔ اُس وقت ان کے لیے شام کو اطاعت پر مجبور کر دینا کچھ بھی مشکل نہ تھا، کیونکہ جزیرۃ العرب، عراق اور مصر ان کے تابع فرمان تھے، تنہا شام کا صوبہ ان کے مقابلے پر زیادہ دیر نہ ٹھہر سکتا تھا۔ علاوہ بریں دنیائے اسلام کی عام رائے بھی اس کو ہرگز پسند نہ کرتی کہ ایک صوبے کا گورنر خلیفہ کے مقابلے میں تلوار لے کر کھڑا ہو جائے۔ بلکہ اس صورت میں خود شام کے لوگوں کے لیے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ وہ سب متحد ہو کر خلیفہ کے مقابلے میں حضرت معاویہؓ کا ساتھ دیتے۔ لیکن عین وقت پر ام المومنین حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہؓ و زبیرؓ رضی اللہ عنہم کے اُس اقدام نے جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں، حالات کا نقشہ یکسر بدل دیا اور حضرت علیؓ کو شام کی طرف بڑھنے کے بجائے ربیع الثانی ۳۶ھ میں بصرے کا رخ کرنا پڑا۔ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۱۳۔]

جنگ جمل (جمادی الاخریٰ ۳۶ھ) سے فارغ ہو کر حضرت علیؓ نے پھر شام کے معاملے کی طرف توجہ کی اور حضرت جریر بن عبداللہ البجلی کو حضرت معاویہؓ کے پاس ایک خط دے کر بھیجا جس میں اُن کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ امت جس خلافت پر جمع ہو چکی ہے اس کی اطاعت قبول کر لیں اور جماعت سے الگ ہو کر تفرقہ نہ ڈالیں۔ مگر حضرت معاویہؓ نے ایک مدت تک حضرت جریر کو ہاں یا ناں کا کوئی جواب نہ دیا اور انھیں برابر ٹالتے رہے۔ پھر حضرت عمروؓ بن العاص کے مشورے سے انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت علیؓ کو خونِ عثمانؓ کا ذمہ دار قرار دے کر ان سے جنگ کی جائے۔ دونوں حضرات کو یقین تھا کہ جنگِ جمل کے بعد اب حضرت علیؓ کی فوج پوری طرح متحد ہو کر ان کے جھنڈے تلے نہ لڑ سکے گی اور نہ عراق اس دل جمعی کے ساتھ ان کی حمایت کر سکے گا جو اہل شام میں حضرت معاویہؓ کے لیے پائی جاتی تھی۔ [الطبری، ج ۳، ص ۵۶۱۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۴۱-۱۴۲۔ البدایہ، ج ۷، ص ۲۵۳]

اس دوران میں جبکہ حضرت معاویہؓ ٹال مٹول کر رہے تھے، حضرت جریر بن عبداللہ نے دمشق میں شام کے بااثر لوگوں سے ملاقاتیں کر کے ان کو یقین دلایا کہ خونِ عثمان کی ذمہ داری سے حضرت علیؓ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حضرت معاویہؓ کو اس سے تشویش لاحق ہوئی اور انھوں نے ایک صاحب کو اس کام پر مامور کیا کہ کچھ گواہ ایسے تیار کریں جو اہل شام کے سامنے یہ شہادت دے دیں کہ حضرت علیؓ ہی حضرت عثمانؓ کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ چنانچہ وہ صاحب پانچ گواہ تیار کر کے لے آئے اور انھوں نے لوگوں کے سامنے یہ شہادت دی کہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کو قتل کیا ہے۔ [الاستیعاب، ج ۲، ص ۵۸۹]

اس کے بعد حضرت علیؓ عراق سے اور حضرت معاویہؓ شام سے جنگ کی تیاریاں کر کے ایک دوسرے کی طرف بڑھے اور صفین کے مقام پر جو فرات کے مغربی جانب الرقہ کے قریب واقع تھا، فریقین کا آمنا سامنا ہوا۔ حضرت معاویہؓ کا لشکر فرات کے پانی پر پہلے قابض ہو چکا تھا، انھوں نے لشکر مخالف کو اس سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی۔ پھر حضرت علیؓ کی فوج نے لڑ کر ان کو وہاں سے بے دخل کر دیا اور حضرت علیؓ نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ اپنی ضرورت بھر پانی لیتے رہو اور باقی سے لشکر مخالف کو فائدہ اٹھانے دو۔ [الطبری ، ج ۳، ص ۵۶۸ - ۵۶۹- ابن الاثیر، ج ۳ ص ۱۴۵ - ۱۴۶۔ ابن خلدون، تکملہ جلد ۲، ص ۱۷۰]

ذی الحجہ کے آغاز میں باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت علیؓ نے حضرت معاویہؓ کے پاس اتمام حجت کے لیے ایک وفد بھیجا۔ مگر ان کا جواب یہ تھا کہ ”میرے پاس سے چلے جاؤ، میرے اور تمھارے درمیان تلوار کے سوا کچھ نہیں ہے۔“ [ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۴۶ ۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم ، ص ۱۷۰]

کچھ مدت تک جنگ جاری رہنے کے بعد جب محرم کے ۳۶ھ کے آخر تک لیے التوائے جنگ کا معاہدہ ہو گیا تو حضرت علیؓ نے پھر ایک وفد حضرت عدیؓ بن حاتم کی سرکردگی میں بھیجا جس نے حضرت معاویہؓ سے کہا کہ سب لوگ حضرت علیؓ پر جمع ہو چکے ہیں اور صرف آپ اور آپ کے ساتھی ہی ان سے الگ ہیں۔ حضرت معاویہؓ نے جواب دیا: ”وہ قاتلین عثمانؓ کو ہمارے حوالے کر دیں تاکہ ہم انھیں قتل کر دیں، پھر ہم تمہاری بات مان لیں گے اور اطاعت قبول کر کے جماعت کے ساتھ ہو جائیں گے۔“اس کے بعد حضرت معاویہؓ نے ایک وفد حضرت علیؓ کے پاس بھیجا جس کے سردار حبیب بن مسلمہ الفہری تھے۔ انھوں نے حضرت علیؓ سے کہا: ”اگر آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ آپ نے حضرت عثمانؓ کو قتل نہیں کیا تو جنھوں نے قتل کیا ہے انھیں ہمارے حوالے کر دیں۔ ہم حضرت عثمانؓ کے بدلے انھیں قتل کر دیں گے۔ پھر آپ خلافت سے دست بردار ہو جائیں، تاکہ مسلمان آپس کے مشورے سے جس پر اتفاق کریں اسے خلیفہ بنا لیں۔“ [الطبری، جلد ۴، ص ۳-۴- ابن الاثیر، جلد ۳، ص ۱۴۷ - ۱۴۸ - البدایہ، ج ۷ ، ص ۲۵۷ - ۲۵۸۔ ابن خلدون، تکملہ جلد ۲، ص ۱۷۱]

محرم گزرنے کے بعد صفر ۳۷ھ سے اصل فیصلہ کن جنگ شروع ہوئی اور آغاز ہی میں حضرت علیؓ نے اپنی فوج میں یہ اعلان کر دیا کہ ”خبردار! لڑائی کی ابتدا اپنی طرف سے نہ کرنا جب تک وہ حملہ نہ کریں۔ پھر جب تم انھیں شکست دے دو تو کسی بھاگنے والے کو قتل نہ کرنا، کسی زخمی پر ہاتھ نہ ڈالنا، کسی کو برہنہ نہ کرنا، کسی مقتول کی لاش کا مثلہ نہ کرنا، کسی گھر میں نہ گھسنا، ان کے مال نہ لوٹنا، اور عورتیں خواہ تمھیں گالیاں ہی کیوں نہ دیں، ان پر دست درازی نہ کرنا۔“ [الطبری، ج ۴، ص ۶۔ ابن الاثیر، ج ۳ ص ۱۴۹]

اس جنگ کے دوران میں ایک واقعہ ایسا پیش آگیا جس نے نص صریح سے یہ بات کھول دی کہ فریقین میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عمارؓ بن یاسر، جو حضرت علیؓ کی فوج میں شامل تھے، حضرت معاویہؓ کی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ حضرت عمارؓ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صحابہؓ میں مشہور و معروف تھا، اور بہت سے صحابیوںؓ نے اس کو حضورؐ کی زبان مبارک سے سنا تھا کہ <<تقتلك الفئة الباغية>> (تم کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا)۔ مسند احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، طبرانی، بیہقی، مسند ابوداؤد طیالسی وغیرہ کتب حدیث میں حضرت ابوسعید خدری، ابوقتادہ انصاری، ام سلمہ، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابوہریرہ، عثمان بن عفان، حذیفہ، ابو ایوب انصاری، ابو رافع، خزیمہ بن ثابت، عمرو بن العاص، ابوالیسر، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم اور متعدد دوسرے صحابہ سے اس مضمون کی روایات منقول ہوئی ہیں۔ ابن سعد نے طبقات میں بھی یہ حدیث کئی سندوں سے نقل کی ہے۔ [ابن سعد، ج۳، ص ۲۵۱ تا ۲۵۳-۳۵۹]

متعدد صحابہ و تابعین نے، جو حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کی جنگ میں مذبذب تھے، حضرت عمارؓ کی شہادت کو یہ معلوم کرنے کے لیے ایک علامت قرار دے لیا تھا کہ فریقین میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ [ابن سعد، ج ۳، ص ۲۵۳-۲۵۹-۲۶۱۔ الطبری، ج۴، ص ۲۷، ابن الاثیر، ج۳، ص ۱۵۷ - ۱۶۵۔]

ابوبکر جصاص احکام القرآن میں لکھتے ہیں:

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے باغی گروہ کے خلاف تلوار سے جنگ کی اور ان کے ساتھ وہ اکابر صحابہ اور اہل بدر تھے جن کا مرتبہ سب جانتے ہیں۔ اس جنگ میں وہ حق پر تھے اور اس میں اس باغی گروہ کے سوا جو ان سے برسرِ جنگ تھا، اور کوئی بھی ان سے اختلاف نہ رکھتا تھا۔ مزید برآں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمارؓ سے فرما دیا تھا کہ تم کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جو تواتر کے ساتھ منقول ہوئی ہے اور عام طور پر صحیح مانی گئی ہے، حتیٰ کہ خود حضرت معاویہؓ سے بھی جب عبداللہ بن عمرو بن العاص نے اسے بیان کیا تو وہ اس کا انکار نہ کر سکے، البتہ انھوں نے اس کی یہ تاویل کی کہ عمار کو تو اس نے قتل کیا ہے جو انھیں ہمارے نیزوں کے آگے لے آیا۔ اس حدیث کو اہل کوفہ، اہل بصرہ، اہل حجاز اور اہل شام، سب نے روایت کیا ہے۔ [احکام القرآن للجصاص ، ج ۳، ص ۴۹۲۔]

ابن عبدالبر الاستیعاب میں لکھتے ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بتواتر آثار یہ بات منقول ہے کہ عمار بن یاسر کو باغی گروہ قتل کرے گا اور یہ صحیح ترین احادیث میں سے ہے۔“ [الاستیعاب، ج ۲، ص ۴۲۴۔]

یہی بات حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں لکھی ہے۔[ الاصابہ، ج ۲، ص ۵۰۶۔] دوسری جگہ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: ”قتل عمار کے بعد یہ بات ظاہر ہو گئی کہ حق حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور اہل السنّت اس بات پر متفق ہو گئے، درآں حالیکہ پہلے اس میں اختلاف تھا۔“[ الاصابہ، ج ۲، ص ۵۰۲۔ تہذیب التہذیب میں ابن حجر لکھتے ہیں کہ <<وتواترت الروایات عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انه قال لعمار تقتلك الفئة الباغية>> (ج ۷، ص ۴۱۰)]

حافظ ابن کثیر البدایہ والنہایہ میں حضرت عمار بن یاسر کے قتل کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی اس خبر کا راز کھل گیا کہ حضرت عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، اور اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ حضرت علیؓ حق پر ہیں اور حضرت معاویہؓ باغی ہیں۔“[ البدایہ، جلد ۷، ص ۲۷۰۔]

جنگ جمل سے حضرت زبیرؓ کے ہٹ جانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد تھا کہ انھوں نے دیکھا کہ حضرت علیؓ کے لشکر میں حضرت عمار بن یاسر موجود ہیں۔[ البدایہ، ج ۷، ص ۲۴۱۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص ۱۶۲۔]

مگر جب حضرت عمار کے شہید ہونے کی خبر حضرت معاویہؓ کے لشکر میں پہنچی اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے اپنے والد اور حضرت معاویہؓ دونوں کو حضورؐ کا یہ ارشاد یاد دلایا تو حضرت معاویہؓ نے فوراً اس کی یہ تاویل کی کہ ”کیا ہم نے عمار کو قتل کیا ہے؟ ان کو تو اس نے قتل کیا جو انھیں میدان جنگ میں لایا۔‘‘ [الطبری، ج ۴، ص ۲۹۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۵۸۔ البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۲۶۸- ۲۶۹- ۲۷۰، علامہ ابن کثیر حضرت معاویہؓ کی اس تاویل کے متعلق کہتے ہیں کہ ”یہ بڑی دور کی تاویل ہے جو انھوں نے پیش کی ۔“ ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علیؓ کو جب حضرت معاویہؓ کی اس تاویل کی خبر پہنچی تو انھوں نے فرمایا: ”اس طرح کی تاویل سے تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضرت حمزہؓ کے قاتل خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔“ شرح فقہ اکبر، ص ۷۹، طبع مجتبائی، دہلی۔] حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ حضرت عمار کو باغی گروہ میدان جنگ میں لائے گا، بلکہ یہ فرمایا تھا کہ باغی گروہ ان کو قتل کرے گا، اور ظاہر ہے کہ ان کو قتل حضرت معاویہؓ کے گروہ نے کیا تھا نہ کہ حضرت علیؓ کے گروہ نے۔

حضرت عمار کی شہادت کے دوسرے روز ۱۰ صفر کو سخت معرکہ برپا ہوا جس میں حضرت معاویہؓ کی فوج شکست کے قریب پہنچ گئی۔ اس وقت حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت معاویہؓ کو مشورہ دیا کہ اب ہماری فوج نیزوں پر قرآن اٹھا لے اور کہے کہ <<هذا حكم بيننا وبينكم>> (یہ ہمارے اور تمھارے درمیان حکم ہے۔) اس کی مصلحت حضرت عمرو نے خود یہ بتائی کہ ”اس سے علیؓ کے لشکر میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ کچھ کہیں گے کہ یہ بات مان لی جائے، اور کچھ کہیں گے کہ نہ مانی جائے۔ ہم جمع رہیں گے اور ان کے ہاں تفرقہ برپا ہو جائے گا۔ اگر وہ مان گئے تو ہمیں مہلت مل جائے گی۔‘‘ [الطبری، ج ۴، ص ۳۴۔ ابن سعد، ج ۴، ص ۲۵۵۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۶۰۔ البدایہ، ج ۷، ص ۲۷۲۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم ، ص ۱۷۴۔] اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ یہ محض ایک جنگی چال تھی، قرآن کو حکم بنانا سرے سے مقصود ہی نہ تھا۔

اس مشورے کے مطابق لشکر معاویہؓ میں قرآن نیزوں پر اٹھا لیا گیا، اور اس کا وہی نتیجہ ہوا جس کی حضرت عمرو بن العاصؓ کو امید تھی۔ حضرت علیؓ نے عراق کے لوگوں کو لاکھ سمجھایا کہ اس چال میں نہ آؤ اور جنگ کو آخری فیصلے تک پہنچ جانے دو۔ مگر ان میں پھوٹ پڑ کر رہی اور آخر کار حضرت علیؓ مجبور ہو گئے کہ جنگ بند کر کے حضرت معاویہؓ سے تحکیم کا معاہدہ کر لیں۔ پھر یہی پھوٹ حکم مقرر کرنے کے موقع پر بھی رنگ لائی۔ حضرت معاویہؓ نے اپنی طرف سے حضرت عمروؓ بن العاص کو حکم بنایا۔ حضرت علیؓ چاہتے تھے کہ اپنی طرف سے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو مقرر کریں۔ مگر عراق کے لوگوں نے کہا: ”وہ تو آپ کے چچازاد بھائی ہیں، ہم غیر جانب دار آدمی چاہتے ہیں۔“ آخر ان کے اصرار پر حضرت ابوموسیٰ اشعری کو حکم بنانا پڑا، حالانکہ حضرت علیؓ ان پر مطمئن نہ تھے۔ [الطبری، ج ۴، ص ۳۴- ۳۵-۳۶- ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۶۱- ۱۶۲- البدایہ ج ۷، ص ۲۷۵- ۲۷۶۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص ۱۷۵۔]