مرکزی مواد پر جائیں
اسلامی نظامِ زندگی

نظامات — زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و حدیث کی روشنی

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

اسلام — ایک مکمل نظامِ زندگی

زندگی کے یہ تمام نظام — عقائد، عبادات، معیشت، معاشرت، تعلیم اور سیاست — الگ الگ خانے نہیں بلکہ ایک ہی دین کے حصے ہیں، جس کی پیروی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کا راستہ ہے۔ ذیل میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے اقتباسات ہیں۔

لہٰذا فی الواقع جو چیز انسان کو درکار ہے وہ زندگی کے مقاصد نہیں بلکہ مقصد ہے جس کے ضمن میں سارے چھوٹے بڑے مقاصد پوری موافقت کے ساتھ اپنی اپنی جگہ لے سکیں اور جس کے حصول کی کوشش میں وہ سب حاصل ہو جائیں۔ اسے راستے نہیں بلکہ راستہ درکار ہے جس پر وہ اپنی پوری زندگی کو اس کے تمام پہلوؤں سمیت کامل ہم آہنگی کے ساتھ اپنے مقصودِ حیات کی طرف لے چلے۔ اسے فکر، علم، ادب، آرٹ، تعلیم، مذہب، اَخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست، قانون وغیرہ کے لیے الگ الگ نظامات نہیں بلکہ ایک جامع نظام درکار ہے جس میں یہ سب ہمواری کے ساتھ سموئے جا سکیں، جس میں ان سب کے لیے ایک مزاج اور ایک ہی طبیعت رکھنے والے مناسب اصول موجود ہوں، اور جس کی پیروی کرکے آدمی اور آدمیوں کا مجموعہ اور من حیث الکل پوری آدمیت اپنے بلند ترین مقصود تک پہنچ سکے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دین حق»، باب: زندگی کا انقسام پذیر نہ ہونامکمل باب پڑھیں
انسان اس کا پیدائشی بندہ ہے اس کا کام یہی ہے کہ اپنے خالق کی بندگی و اطاعت کرے۔ اس کی زندگی کے لیے کوئی صورت بجز اس کے صحیح نہیں ہے کہ وہ سراسر خدا کی بندگی ہو۔ اس بندگی کا طریقہ تجویز کرنا انسان کا اپنا کام نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس خدا کا کام ہے جس کا وہ بندہ ہے۔ خدا نے اس کی راہ نُمائی کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں اور کتابیں نازل کی ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ اپنی زندگی کا نظام اسی سرچشمہ ہدایت سے اخذ کرے۔ انسان اپنی زندگی کے پورے کارنامے کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اور یہ جواب دہی اسے اس دُنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کرنی ہے۔ دُنیا کی موجودہ زندگی دراصل امتحان کی مہلت ہے اور یہاں انسان کی تمام سعی و کوشش اس مقصد پر مرکوز ہونی چاہیے کہ وہ آخرت کی جواب دہی میں اپنے خدا کے حضور کام یاب ہو۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «اسلام کا نظام حیات»، باب: اِسلام کا نظریۂ زندگی و اخلاقمکمل باب پڑھیں
اس طرح دنیا میں عزت اور بزرگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد جب وہ اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو گا تو اس پر خدا اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کرے گا، کیونکہ جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اس کا پورا پورا حق اس نے ادا کر دیا، اور جس امتحان میں خدا نے اس کو ڈالا تھا اس میں وہ پورے پورے نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوا۔ یہ ابدی کامیابی ہے جو دنیا سے لے کر آخرت تک مسلسل چلی جاتی ہے اور کہیں اس کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دینیات»، باب: اسلام کے فائدے مکمل باب پڑھیں

نظامِ عقائد

ہر انسان کی زندگی اسی بنیاد پر گزرتی ہے کہ وہ کن باتوں کو اپنے عقائد پر استوار کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے ارد گرد کے افراد و کائنات کے بارے میں کیا خیال کرتا ہے؟ ان کا کیا رشتہ ہے؟ اس کی کیا ذمہ داری ہے؟ اس کے کیا حقوق ہیں۔ وغیرہ اسی بنیاد پر وہ اپنی زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔

اس غرض کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا علم… قیاس وگمان نہیں بلکہ ’’علم‘‘… ہو کہ اس کی اور کائنات کی حقیقت کیا ہے اور کائنات میں اس کی حیثیت کیا ہے۔ پھر وہ اس بات کے جاننے کا۔۔۔سمجھ بیٹھنے کا نہیں بلکہ جاننے کا۔۔۔ حاجت مند ہے کہ آیا زندگی بس یہی دُنیا کی زندگی ہے یا یہ پوری زندگی کا ایک ابتدائی حصہ ہے۔ آیا سفر بس پیدائش سے لے کر موت تک کی مسافت کا ہے یا یہ پورے سفر میں سے محض ایک مرحلہ ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دین حق»، باب: الدین کی نوعیتمکمل باب پڑھیں

توحید

اللہ تعالی اس کائنات کا تنہا خالق، مالک اور رازق ہے۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

(۲) یہ کلمہ انسان میں انتہا درجے کی خود داری اور عزت نفس پیدا کر دیتا ہے۔ اس پر اعتقاد رکھنے والا جانتا ہے کہ صرف ایک خدا تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ اس کے سواکوئی نفع پہنچانے والا نہیں، کوئی مارنے اور جلانے والا نہیں، کوئی صاحب اختیار اور بااثر نہیں۔ یہ علم اور یقین اس کو خدا کے سوا تمام قوتوں سے بے نیاز اور بے خوف کر دیتاہے۔ اس کی گردن کسی مخلوق کے آگے نہیں جھکتی ۔ اس کا ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلتااس کے دل میں کسی کی بزرگی کا سکہ نہیں بیٹھتا۔ یہ صفت سوائے عقیدہ توحید کے اور کسی عقیدے سے پیدا نہیں ہو سکتی ۔ شرک اور کفر اور دہریت کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ انسان مخلوقات کے آگے جھکے، ان کو نفع اور نقصان کا مالک سمجھے، ان سے خوف کھائےاور ان ہی سے امیدیں وابستہ رکھے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دینیات»، باب: انسان کی زندگی پر عقیدۂ توحید کا اثرمکمل باب پڑھیں
(۴) اس کلمے پر اعتقاد رکھنے والا اچھی طرح سمجھتا ہے کہ نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی کے سوا اس کے لیے نجات اور فلاح کا کوئی ذریعہ نہیں، کیونکہ وہ ایک ایسے خدا پراعتقاد رکھتا ہے جو بے نیاز ہے، کسی سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ بے لاگ عدل کرنے والاہے اور کسی کو اس کی خدائی میں دخل یا اثر حاصل نہیں۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دینیات»، باب: انسان کی زندگی پر عقیدۂ توحید کا اثرمکمل باب پڑھیں

بنیادی مواد جلد شامل کیا جائے گا۔

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔