دینیات
اشاعت: 1937ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "دینیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع اور مختصر تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کے بنیادی عقائد، احکام اور مقاصد کو ایک منظم، منطقی اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد صرف فقہی مسائل کی تفصیلات تک محدود دینی تعلیم کے روایتی نظام کی اصلاح کرنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ جب تک طالب علم کو یہ نہ سمجھا دیا جائے کہ اسلام دراصل کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے، اور اس کے عقائد زندگی سے کس طرح وابستہ ہیں، تب تک محض نماز، روزہ یا طہارت کے احکام سکھانا بے اثر رہتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک ایسا منہج اختیار کیا جو قرآن مجید کے طرزِ استدلال پر مبنی ہو، جس میں عقائد کی تعلیم کو اولین اہمیت حاصل ہو، اور طالب علم کو ان عقائد کی صحت کے مضبوط دلائل سے آشنا کیا جائے۔
کتاب کا آغاز ناشر کے تعارفی نوٹ سے ہوتا ہے، جس میں کتاب کی تاریخِ اشاعت (1937ء)، اس کی وسیع مقبولیت، اور دنیا بھر کی متعدد زبانوں میں تراجم کا ذکر ہے۔ ناشر کے مطابق، یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں میں بھی شہرت حاصل کر چکی ہے، اور بہت سے غیر مسلم افراد نے اس کے مطالعے کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے بعد مولانا مودودی خود دیباچہ میں اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ خصوصیت سے نوجوانوں کے لیے مرتب کیا گیا ہے تاکہ وہ اسلام کی حقیقت کو صحیح تناظر میں سمجھ سکیں۔
کتاب سات مختصر ابواب میں دین کے بنیادی مسائل کو ترتیب دیتی ہے۔ باب اول میں لفظِ اسلام کے معنی، اسلام کی حقیقت اور کفر کے نقصانات بیان کیے گئے ہیں؛ باب دوم اور سوم بالترتیب ایمان و اطاعت کے تقاضوں اور نبوت کے تصور—بشمول ختمِ نبوت کے دلائل—کو واضح کرتے ہیں۔ باب چہارم 'ایمان مفصل' میں اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور آخرت پر ایمان کی تفصیل دی گئی ہے، جبکہ باب پنجم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی بنیادی عبادات کا تعارف کراتا ہے۔ آخری دو ابواب دین اور شریعت کے فرق، احکامِ شریعت معلوم کرنے کے ذرائع (فقہ اور تصوف) اور اللہ کے حقوق، نفس کے حقوق، بندوں کے حقوق اور تمام مخلوقات کے حقوق کی چار قسموں کو بیان کر کے کتاب کو ایک مکمل، اگرچہ مختصر، نصابی خاکے کی صورت میں مکمل کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"دینیات"، جو انگریزی میں Towards Understanding Islam کے نام سے شائع ہوئی، غالباً مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے — درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور دہائیوں سے ایک معیاری تعارفی نصابی کتاب کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ یہ ایک سپرد کردہ نصابی کتاب کے طور پر شروع ہوئی: مولانا نے اسے 1930ء کی دہائی میں ہندوستانی مسلم اسکولوں کے لیے اسلامیات کا نصاب تیار کرنے والی ایک کمیٹی کے لیے لکھا۔
اس کے سات ابواب ایک بنیادی نصاب کی ترتیب میں آگے بڑھتے ہیں: یہ "اسلام" کی تعریف اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر کرتی ہے؛ ایمان اور اطاعت کو ایک مکمل اسلامی زندگی کے دو اجزاء کے طور پر بیان کرتی ہے؛ نبوت پر ایک باب یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ نے انسانی رسولوں کے ذریعے وحی کا طریقہ کیوں چنا؛ "ایمان مفصل" کا باب عقائد کی تفصیل بیان کرتا ہے؛ عبادات پر باب پانچوں ارکان کو ارادے کی تربیت کا نظام قرار دیتا ہے؛ اور آخری دو ابواب "دین" کو "شریعت" سے ممیز کرتے ہیں — یہی تفریق جو "اسلامی ریاست" میں وسیع سیاسی معاملہ اختیار کرتی ہے۔
اہمیت اور اسے کیسے پڑھا جائے۔ اپنی وسیع عالمی رسائی کی وجہ سے، یہ کتاب بہت سے غیر اردو بولنے والوں کے لیے مولانا مودودی کی فکر سے پہلا تعارف رہی ہے۔ یہ اسلام کے بنیادی اصول اس مخصوص سیاسی نظریے سے الگ پیش کرتی ہے جس نے مولانا کو ان کی دیگر تصانیف میں متنازعہ بنایا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے مکمل تصویر کے لیے کم از کم ایک زیادہ ترقی یافتہ سیاسی تصنیف کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- تعارفی طرزِ تحریر: سیاسی نظریے کو چھوئے بغیر اسلام کے بنیادی اصول پیش کرنا اس کتاب کے مقصد کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- "مکمل مصنف" کا مسئلہ: اگر کسی کا مولانا سے واحد تعارف صرف یہی کتاب ہو، تو وہ ان کے بارے میں کیا چیز چھوٹ جائے گی؟
- اسلام بطور تسلیم: کتاب "اسلام" کو سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر بیان کرتی ہے۔ یہ کیا فلسفیانہ کردار ادا کرتی ہے؟
- عبادت بطور تربیت: مولانا پانچوں ارکان کو "ارادے کی تربیت کا نظام" قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کو قابلِ قبول لگتا ہے؟
- دین بمقابلہ شریعت: یہی تفریق "اسلامی ریاست" کی سیاسی دلیل میں کس طرح بہت مختلف کردار ادا کرتی ہے؟
- نصابی کتاب کی ابتدا: اس ابتدا نے کتاب کے لہجے اور حذف شدہ موضوعات کو کیسے متاثر کیا ہوگا؟
- عالمی رسائی: یہ کتاب مولانا کی زیادہ ترقی یافتہ تصانیف کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترجمہ شدہ کیوں بنی؟
- پڑھنے کی ترتیب: کیا آپ اس کتاب یا "اسلامی ریاست" سے شروع کرنے کا مشورہ دیں گے؟
لا الہ الا اللہ کی حقیقت
یہ تو صرف الفاظ کا مفہوم تھا۔ اب اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ انسان کی قدیم سے قدیم تاریخ کے جو حالات ہم تک پہنچے ہیں، اور پرانی سے پرانی قوموں کے جو آثار دیکھے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے ہر زمانےمیں کسی نہ کسی کو خدا مانا ہے اور کسی نہ کسی کی عبادت ضرور کی ہے۔ اب بھی دنیا میں جتنی قومیں ہیں، خواہ وہ نہایت وحشی ہوں یا نہایت مہذب، ان سب میں یہ بات موجود ہے کہ وہ کسی کو خدا مانتی ہیں اور اس کی عبادت کرتی ہیں۔ اس سے معلوم ہواکہ انسان کی فطرت میں خدا کا خیال بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے اندر کوئی ایسی چیز ہے جواسے مجبور کرتی ہے کہ کسی کو خدا مانے اور اس کی عبادت کرے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ تم خود اپنی ہستی پر اور تمام انسانوں کی حالت پر نظر ڈال کر اس سوال کا جواب معلوم کر سکتے ہو۔انسان دراصل بندہ ہی پیدا ہوا ہے۔ وہ فطرتاًمحتاج ہے، کمزور ہے، فقیرہے۔ بے شمار چیزیں ہیں جو اس کی ہستی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، مگر اسکے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں، آپ سے آپ اس کو حاصل بھی ہوتی ہیں اور اس سےچھن بھی جاتی ہیں۔بہت سی چیزیں ہیں جو اس کے لیے فائدہ مند ہیں۔ وہ ان کو حاصل کرنا چاہتاہے مگر کبھی وہ اس کو مل جاتی ہیں اور کبھی نہیں ملتیں۔ کیونکہ ان کو حاصل کرنا بالکل اسکے اختیار میں نہیں ہے۔
بہت سی چیزیں ہیں جو اس کو نقصان پہنچاتی ہیں، اس کی عمر بھر کی محنتوں کو آن کی آن میں برباد کر دیتی ہیں، اس کی آرزوؤں کو خاک میں ملا دیتی ہیں، اس کوبیماری اور ہلاکت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ وہ ان کو دفع کرنا چاہتا ہے۔ کبھی وہ دفع ہوجاتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتیں۔ اس سے وہ جان لیتا ہے کہ ان کا آنا اور نہ آنا، دفع ہونا یا نہ ہونا اس کے اختیار سے باہر ہے۔بہت سی چیزیں ہیں جن کی شان وشوکت اور بزرگی کو دیکھ کر وہ مرعوب ہو جاتاہے۔ پہاڑوں کو دیکھتا ہے، دریاؤں کو دیکھتا ہے، بڑے بڑے ہولناک جانور دیکھتاہے، ہواؤں کے طوفان اور پانی کے سیلاب اور زمین کے زلزلے دیکھتا ہے، بادلوں کی گرج اور گھٹاؤں کی سیاہی اور بجلی کی کڑک چمک اور موسلا دھار بارش کے مناظراس کے سامنے آتے ہیں، سورج اور چاند اور تارے اس کو گردش کرتے دکھائی دیتےہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سب چیزیں کتنی بڑی کتنی طاقت ور، کتنی شان دار ہیں اور ان کے مقابلے میں وہ خود کتنا ضعیف اور حقیر ہے۔یہ مختلف نظارے اور خود اپنی مجبوریوں کے مختلف حالات دیکھ کر اس کے دل میں آپ سے آپ اپنی بندگی ، محتاجی اور کمزوری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ اورجب یہ احساس پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی خود بخود الوہیت یعنی خدائی کا تصوربھی پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ ان ہاتھوں کا خیال کرتا ہے جو اتنی بڑی طاقتوں کے مالک ہیں۔ ان کی بزرگی کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کی عبادت میں سر جھکادے۔ ان کی قوت کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کے آگے اپنی عاجزی پیش کرے۔ ان کی نفع پہنچانے والی قوتوں کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کےآگے مشکل کشائی کے لیے ہاتھ پھیلائے ، اور ان کی نقصان پہنچانے والی طاقتوں کااحساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان سے خوف کھائے اور ان کے غضب سے بچے۔جہالت کے سب سے نیچے درجے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو چیزیں اس کوشان اور طاقت والی نظر آتی ہیں یا کسی طرح نفع یا نقصان پہنچاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، یہی خدا ہیں۔ چنانچہ وہ جانوروں اور دریاؤں اور پہاڑوں کو پوجتا ہے، زمین کی پرستش کرتا ہے، آگ اور بارش اور ہوا اور چاند اور سورج کی عبادت کرنے لگتا ہے۔یہ جہالت جب ذرا کم ہوتی ہے اور کچھ علم کی روشنی آتی ہے تو اسے معلوم ہوتاہے کہ یہ سب چیزیں تو خود اسی کی طرح محتاج اور کمزور ہیں۔ بڑے سے بڑا جانوربھی ایک ادنیٰ مچھر کی طرح مرتا ہے۔ بڑے بڑے دریا خشک ہو جاتے ہیں اورچڑھتے اترتے رہتے ہیں۔ پہاڑوں کو خود انسان تو ڑتا پھوڑتا ہے۔ زمین کا پھیلناپھولنا خود زمین کے اپنے اختیار میں نہیں، جب پانی اس کا ساتھ نہیں دیتا تو وہ خشک ہو جاتی ہے۔ پانی بھی بے اختیار ہے۔ اس کی آمد ہوا کی محتاج ہے۔ ہوا بھی اپنے اختیار میں نہیں۔ اس کا مفید یا غیر مفید ہونا دوسرے اسباب کے تحت ہے۔چاند اور سورج اور تارے بھی کسی قانون کے تابع ہیں۔ اس قانون کے خلاف وہ کوئی ادنیٰ جنبش بھی نہیں کر سکتے ۔ اب اس کا ذہن مخفی اور پر اسرار قوتوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ ان ظاہری چیزوں کی پشت پر کچھ پوشیدہ قوتیں ہیں جو ان پر حکومت کر رہی ہیں اور سب کچھ انھی کے اختیار میں ہے۔ یہیں سےخداؤں اور دیوتاؤں کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے۔ روشنی اور ہوا اور پانی اور بیماری و تندرستی اور مختلف دوسری چیزوں کے خدا الگ الگ مان لیے جاتے ہیں اور ان کی خیالی صورتیں بنا کر ان کی عبادتیں کی جاتی ہیں۔اس کے بعد جب اور زیادہ علم کی روشنی آتی ہے تو انسان دیکھتا ہے کہ دنیاکے انتظام میں ایک زبردست قانون اور ایک بڑے ضابطے کی پابندی پائی جاتی ہے۔ ہواؤں کی رفتار، بارش کی آمد، سیاروں کی گردش ، فصلوں اور موسموں کے تغیرمیں کیسی با قاعدگی ہے؟ کس طرح بے شمار قو تیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں؟ کیسا زبردست قانون ہے کہ جو وقت جس کام کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے،ٹھیک اسی وقت پر کائنات کے تمام اسباب جمع ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سےاشتراک عمل کرتے ہیں۔ انتظام عالم کی یہ ہم آہنگی دیکھ کر مشرک انسان یہ ماننے پرمجبور ہو جاتا ہے کہ ایک سب سے بڑا خدا بھی ہے جو ان تمام چھوٹے چھوٹےخداؤں پر حکومت کر رہا ہے، ورنہ اگر سب ایک دوسرے سے الگ اور بالکل خودمختار ہوں تو دنیا کا سارے کا سارا کارخانہ درہم برہم ہو جائے۔ وہ اس بڑے خدا کو’اللہ"اور " پر میشور " اور " خدائے خدا نگاں وغیرہ ناموں سے موسوم کرتا ہے۔ مگرعبادت میں اس کے ساتھ چھوٹے خداؤں کو بھی شریک رکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ خدائی بھی دنیوی بادشاہی کے نمونے پر ہے۔ جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ ہوتا ہےاور اس کے بہت سے وزیر اور معتمد اور ناظم اور دوسرے بااختیار عہدے دار ہوتےہیں اسی طرح کائنات میں بھی ایک بڑا خدا ہے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے خدااس کے ماتحت ہیں۔ جب تک چھوٹے خداؤں کو خوش نہ کیا جائے گا بڑے خدا تک رسائی نہ ہو سکے گی ۔ اس لیے ان کی عبادت بھی کرو، ان کے آگے بھی ہاتھ پھیلاؤ،ان کی ناراضی سے بھی ڈرو، ان کو بڑے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ اور نذروں اورنیازوں سے انھیں خوش رکھو۔
پھر جب علم میں اور ترقی ہوتی ہے تو خداؤں کی تعداد گھٹنے لگتی ہے۔ جتنے خیالی خدا جاہلوں نے بنا رکھے ہیں ان میں سے ایک ایک کے متعلق غور کرنے سے انسان کو معلوم ہوتا چلا جاتا ہے کہ وہ خدا نہیں ہیں، ہماری ہی طرح کے بندے ہیں، بلکہ ہم سے بھی زیادہ بے بس ہیں۔ اس طرح وہ ان کو چھوڑتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر میں صرف ایک خدا رہ جاتا ہے، مگر اس ایک کے متعلق پھر بھی اس کے خیالات میں بہت کچھ جہالت باقی رہ جاتی ہے۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ خدا ہماری طرح جسم رکھتا ہے اور ایک جگہ بیٹھا ہوا خدائی کر رہا ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا بیوی بچے رکھتاہے اور انسان کی طرح اس کے ہاں بھی اولاد کا سلسلہ چل رہا ہے۔ کوئی یہ گمان کرتاہے کہ خدا انسان کی صورت میں زمین پر اترتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا اس دنیا کےکارخانے کو چلا کر خاموش بیٹھ گیا ہے اور اب کہیں آرام کر رہا ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ خداکے ہاں بزرگوں اور روحوں کی سفارش لے جانا ضروری ہے، اور ان کو وسیلہ بنائے بغیروہاں کام نہیں چلتا۔ کوئی اپنے خیال میں خدا کی ایک صورت تجویز کرتا ہے اور عبادت کے لیے اس صورت کو سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی غلط فہمیاں توحید کا اعتقاد رکھنے کے باوجود انسان کے ذہن میں باقی رہ جاتی ہیں جن کے سبب سے وہ شرک یا کفر میں مبتلا ہوتا ہے، اور یہ سب جہالت کا نتیجہ ہیں۔
سب سے اوپر<< لا الہ الا اللہ>> کا درجہ ہے۔ یہ وہ ہے جو خود اللہ نے ہر زمانےمیں اپنے نبیوں کے ذریعے سے انسان کے پاس بھیجا ہے۔ یہی علم سب سے پہلےانسان حضرت آدم کو دے کر زمین پر اتارا گیا تھا۔ یہی علم حضرت آدم علیہ السلام کےبعد حضرت نوح، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا۔پھر اسی علم کو لے کر سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ یہ خالص علم ہے جس میں جہالت کا شائبہ تک نہیں۔ اوپر ہم نے شرک اور بت پرستی اورکفر کی جتنی صورتیں لکھی ہیں، ان سب میں انسان اسی وجہ سے مبتلا ہوا کہ اس نےپیغمبروں کی تعلیم سے منہ موڑ کر خود اپنے حواس اور اپنی عقل پر بھروسا کیا۔ آؤ ہم بتائیں کہ اس چھوٹے سے فقرے میں کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔
(1) سب سے پہلی چیز الوہیت یعنی خدائی کا تصور ہے۔ یہ وسیع کائنات جس کے آغازاور انجام اور انتہا کا خیال کرنے سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے، جو نا معلوم زمانے سے چلی آ رہی ہے اور نا معلوم زمانے تک چلی جا رہی ہے، جس میں بے حد و حساب مخلوق پیداہوئی اور پیدا ہوئے چلی جا رہی ہے، جس میں ایسے ایسے حیرت انگیز کرشمے ہو رہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے، اس کائنات کی خدائی صرف وہی کر سکتا ہے جو غیر محدود ہو، ہمیشہ سے ہو اور ہمیشہ رہے، کسی کا محتاج نہ ہو، بے نیاز ہو، قادر مطلق ہو، حکیم اور دانا ہو، ہر چیز کا علم رکھتا ہو اور کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو، سب پر غالب ہو اور کوئی اسکے حکم سے سرتابی نہ کر سکے، بے حساب قوتوں کا مالک ہو اور کائنات کی ساری چیزوں کواس سے زندگی اور رزق کا سامان بہم پہنچے، عیب و نقص اور کمزوری کی تمام صفات سےپاک ہو، اور اس کے کاموں میں کوئی دخل نہ دے سکے۔
(۲) خدائی کی یہ تمام صفات ایک ہی ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔ یہ ناممکن ہےکہ دو ہستیاں یہ صفات برابر رکھتی ہوں، کیونکہ سب پر غالب اور سب پر حاکم تو ایک ہی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات تقسیم ہو کر بہت سے خداؤں میں بٹ جائیں،کیونکہ اگر حاکم ایک ہو اور عالم دوسرا اور رازق تیسرا، تو ہر ایک خدا دوسرے کا محتاج ہوگا،اگر ایک نے دوسرے کا ساتھ نہ دیا تو ساری کائنات یک لخت فنا ہو جائے گی۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات ایک سے دوسرے کو منتقل ہوں ۔ یعنی کبھی ایک خدا میں پائی جائیں اورکبھی دوسرے میں، کیونکہ جو خدا خود زندہ رہنے کی قوت نہ رکھتا ہو وہ ساری کائنات کوزندگی نہیں بخش سکتا، اور جو خدا خود اپنی خدائی کی حفاظت نہ کر سکتا ہو وہ اتنی بڑی کائنات پر حکومت نہیں کر سکتا۔ پس تم کو علم کی جتنی زیادہ روشنی ملے گی اتنا ہی زیادہ تم کو یقین ہوتا جائے گا کہ خدائی کی صفات صرف ایک ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔
(۳) خدائی کے اس کامل اور صحیح تصویر کو نظر میں رکھو، پھر ساری کائنات پر نظر ڈالو ۔ جتنی چیزیں تم دیکھتے ہو، جتنی چیزوں کو کسی ذریعے سے محسوس کرتے ہو، جتنی چیزوں تک تمہارے علم کی پہنچ ہے، ان میں سے ایک بھی ان صفات سے متصف نہیں ہے۔ عالم کی ساری موجودات محتاج ہیں، محکوم ہیں، بنتی اور بگڑتی ہیں، مرتی اور جیتی ہیں۔ کسی کو ایک حال پر قیام نہیں ۔ کسی کو اپنے اختیار سے کچھ کرنے کی قدرت نہیں۔ کسی کو ایک بالاترقانون کے خلاف بال برابر حرکت کرنے کا اختیار نہیں۔ ان کے حالات خود گواہی دیتےہیں کہ ان میں سے کوئی خدا نہیں ہے، کسی میں خدائی کی ادنی جھلک بھی نہیں پائی جاتی۔کسی کا خدائی میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے۔ یہی معنی ہیں<< لا الہ>> کے۔
(۴) کائنات کی ساری چیزوں سے خدائی چھین لینے کے بعد تم کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ایک اور ہستی ہے جو سب سے بالا تر ہے۔ صرف وہی تمام خدائی صفات رکھتی ہے اور اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ یہی معنی ہیں <<الا اللہ>> کے۔یہ سب سے بڑا علم ہے۔ تم جس قدر تحقیق اور جستجو کرو گے تم کو یہی معلوم ہوگاکہ یہی علم کا سرا بھی ہے اور یہی علم کی آخری حد بھی۔ طبیعیات، کیمیا، ہیئت،ریاضیات، حیاتیات، حیوانیات، انسانیات، غرض کائنات کی حقیقتوں کا کھوج لگانےوالے جتنے علوم ہیں ان میں سے خواہ کوئی علم لے لو، اس کی تحقیق میں جس قدر تم آگے بڑھتے جاؤ گے<< لا الہ الا اللہ>> کی صداقت تم پر زیادہ کھلتی جائے گی اور اس پرتمھارا یقین بڑھتا جائے گا۔ تم کو علمی تحقیقات کے میدان میں ہر ہر قدم پر محسوس ہوگاکہ اس سب سے پہلی اور سب سے بڑی سچائی سے انکار کرنے کے بعد کائنات کی ہر چیز بے معنی ہو جاتی ہے۔