خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
سنت نماز اور شرک
سوال: اﷲ کی جو عبادت ہم بجا لاتے ہیں،اس کا نام الصلاۃ یعنی نماز ہے۔پھر یہ فرض ،سنت، وتر،نفل کیا چیز ہیں اور یہ پڑھ کر ہم کس کی عبادت کرتے ہیں۔جاتے تو ہم ہیں اﷲ کی عبادت بجا لانے اور پڑھنے لگتے ہیں نماز سنت،جس کی نیت بھی یوں باندھتے ہیں: دو رکعت نماز سنت،سنت رسول اﷲﷺ کی، وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس طرح بھی حضورﷺ کااﷲ کی عبادت میں شریک ہوجانا ثابت نہیں ہوتا؟
جواب: فرض نماز کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو اس کے عائد کردہ فریضۂ صلاۃ کو ادا کرنے کے لیے کم سے کم لازم ہے۔جس کے بغیر حکم کی تعمیل سے ہم قاصر رہ جائیں گے۔ سنت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عبادت جو فرض کے علاوہ نبیﷺ ہمیشہ ادا کیا کرتے تھے اور جس کی آپؐ نے ہمیں تاکید کی ہے۔ نفل سے مراد ہے خدا کی وہ عبادت جو ہم اپنی خوشی سے کرتے ہیں۔جسے ہم پر نہ لازم کیا گیا ہے اور نہ جس کی تاکید کی گئی ہے۔ اب فرمایے کہ اس میں شرک کہاں سے آگیا؟’’سنت رسول اللّٰہ کی ‘‘کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ رسول اﷲ ﷺ کی نماز پڑھی جارہی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ نماز ہے جو رسول اﷲ ﷺ فرض سے زائد پڑھا کرتے تھے اور آپﷺ کے اتباع میں ہم بھی پڑھتے ہیں۔
(ترجمان القرآن،فروری 1961ء)