مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ عبادات

حج و عمرہ

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ عبادات

طہارت سے حج تک — ہر عبادت کا بنیادی طریقہ، قرآن و حدیث کے حوالہ جات کے ساتھ۔

یہ عبادت کا اصلی مفہوم ہے اور اسلام کا اصل مقصد مسلمان کو ایسا ہی عبادت گزار بندہ بنانا ہے۔ اس غرض کے لیے اسلام میں چند ایسی عبادتیں فرض کی گئی ہیں جو انسان کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتی ہیں۔ گویا یوں سمجھو کہ یہ خاص عبادتیں اس بڑی عبادت کے لیے ٹریننگ کورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو شخص یہ ٹرینگ جتنی اچھی طرح لے گا وہ اس بڑی اور اصلی عبادت کو اتنی ہی اچھی طرح ادا کرسکے گا۔ اس لیے ان خاص عبادتوں کو فرض عین قرار دیا گیا ہے اور انھیں ارکان دین یعنی دین کے ستون" کہا گیا ہے۔ جس طرح ایک عمارت چند ستونوں پر قائم ہوتی ہے، اسی طرح اسلامی زندگی کی عمارت بھی ان ستونوں پر قائم ہے۔ ان کو توڑ دو گےتو اسلام کی عمارت کو گرا دو گے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دینیات»، باب: عبادت کا مفہوممکمل باب پڑھیں

حج و عمرہ

2 طریقے1 آیات3 احادیث

طریقہ — مرحلہ وار

قرآنِ مجید

فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
اس میں کھلی ہوئی  نشانیاں ہیں، ابراہیم کا مُقام ِعبادت ہے، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ہوگیا۔ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیر وی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جا نا چاہیے کہ اللہ تما م دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔

احادیث

صحیح بخاری 1773

جس نے حج کیا اور نہ کوئی فحش بات کی نہ گناہ، وہ ایسے واپس لوٹتا ہے جیسے آج ہی ماں نے جنا ہو۔

صحیح بخاری 1521

… سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔

صحیح مسلم 3137

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر ( سوار ہو کر ) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے : تمھیں چا ہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، میں نہیں جا نتا شاید اس حج کے بعد میں ( دوبارہ ) حج نہ کر سکوں ۔

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

دین کے ساتھ اللہ نے حج میں دنیا کے بھی بے شمار فائدے رکھے ہیں۔ حج کی وجہ سے مکہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ زمین کے ہر کونے سے اللہ کا نام لینےوالے ایک ہی زمانے میں وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، آپس میں اسلامی محبت قائم ہوتی ہے اور یہ نقش دلوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ مسلمان خواہ کسی ملک اور کسی نسل کے ہوں، سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک ہی قوم ہیں۔ اس بنا پر حج ایک طرف خدا کی عبادت ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی کانفرنس بھی ہے اور مسلمانوں کی عالم گیر برادری میں اتحاد پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «دینیات»، باب: حجمکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔