اسلام دور جدید کا مذہب
اشاعت: 1968ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "اسلام دور جدید کا مذہب" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ان خیالات کا ایک جامع مجموعہ ہے جو انہوں نے مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کو دیے گئے انٹرویوز کے ذریعے پیش کیے۔ یہ کتاب دراصل چار مختلف انٹرویوز پر مشتمل ہے جو بالترتیب بی بی سی لندن، ڈیلی سن لندن، سوئس ٹیلی ویژن اور اٹلی ٹیلی ویژن کے لیے ریکارڈ کیے گئے تھے۔ ان تمام انٹرویوز میں مولانا مودودی اسلام کے جامع نظامِ حیات کی وضاحت کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو جدید دور کے تمام چیلنجز کا مؤثر جواب دے سکتا ہے۔
کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام ایک ازلی اور ابدی حقیقت ہے جو کسی خاص زمان و مکان کی پابند نہیں۔ اس لیے اسے "پرانا" یا "جدید" کہنا بے معنی ہے۔ مودودی واضح الفاظ میں کہتے ہیں: "صداقت ہر حال میں صداقت ہے، اس کے قدیم یا جدید ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔" اس بنیادی اصول کی روشنی میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اسلامی نظامِ حکومت، تعلیم، معیشت اور قانون تمام جدید ریاستوں سے برتر ہے اور اس کی بنیاد پر ایک جدید ریاست نہ صرف قائم کی جا سکتی ہے بلکہ وہ دیگر تمام نظاموں پر فائق ثابت ہو گی۔
پہلے حصے میں، جو بی بی سی لندن کے انٹرویو پر مبنی ہے، مودودی پاکستان کے دستور 1973ء میں شامل اسلامی دفعات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ دفعات ان کی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بی بی سی لندن، ولیم کرالے
بی بی سی : کیا آپ پاکستان کے دستور ۱۹۷۳ء میں شامل اسلامی دفعات پر مطمئن ہیں؟
سید مودودی: جی ہاں، ہم ان دفعات پر مطمئن ہیں اور درحقیقت (پاکستان کے) دستور میں ان دفعات کو شامل کرنے کے لیے ہم نے مسلسل جدوجہد کی ہے۔
بی بی سی : مثلاً اسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ؟
سید مودودی: اسلام سے متعلق ہر وہ چیز جو دستور میں شامل ہے، دراصل ہماری (اجتماعی) کوششوں کے نتیجے میں شامل کی گئی ہے۔ جہاں تک ان دفعات کے شاملِ آئین ہونے کا تعلق ہے اس پر تو ہم مطمئن ہیں، لیکن اس بات پر مطمئن نہیں ہیں کہ ان پر عمل درآمد کس طریقے سے ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دفعات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے اور نہ صرف یہ کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ جتنے کام بھی کیے جا رہے ہیں وہ ان کے برعکس کیے جا رہے ہیں۔
بی بی سی : پاکستان کا موجودہ قانونی ڈھانچہ اینگلو سیکسن قانون کی بنیاد پر قائم ہے۔ کیا آپ اسلام کے شرعی قوانین کو نافذ کرنے کے لیے پاکستان کے موجودہ قانونی نظام میں بنیادی تغیرات لائیں گے؟
سید مودودی: ہم صرف اتنا ہی نہیں چاہتے کہ محض قانونی نظام (legal system) کو تبدیل کیا جائے، بلکہ ہمارے پیش نظر پورے معاشرے کو اسلامی بنیادوں پر استوار کرنا اور پورے نظام حکومت کو تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف قانونی نظام کو تبدیل کرنا کافی نہیں ہو سکتا۔
قانونی نظام کے ساتھ ایک بڑا تعلق ملک کے تعلیمی نظام کا ہے۔ اگر نظام تعلیم افرادِ قوم کو مسلمان بنانے والا نہ ہو تو محض قانونی نظام کے نفاذ سے اسلامی معاشرے کی تشکیل کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہی معاملہ ملک کے معاشی نظام کا ہے۔ اگر اسے صحیح اسلامی خطوط پر استوار نہ کیا جائے تو اس صورت میں محض قانونی نظام کی اصلاح مفید اور مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ اس بنا پر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری پوری معاشرتی زندگی، اسلام کے مطابق ہو ۔ ہماری حکومت کی نمایاں پالیسیاں اسلام کے مطابق ہوں اور حکومت کے سارے معاملات صحیح اسلامی خطوط پر انجام پائیں۔
اس مقصد کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ سروسز کی ٹریننگ کے تمام اداروں کا تعلیمی اور تربیتی ڈھانچہ تبدیل کیا جائے، سول سروس کے تمام شعبوں اور فوج کی تربیت کے اداروں میں بھی اسلام کی اخلاقی تعلیم دینے کا انتظام کیا جائے اور زیرِ تربیت افسروں کے دلوں میں اسلام کا صحیح شعور (creed) بٹھایا جائے۔ ان کو سچا مسلمان بنانے کی کوشش کی جائے، لیکن یہ کام نہیں کیا جا رہا ہے، اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ انگریزی حکومت کے زمانے میں سروسز کو جس طرز پر ٹریننگ دی جاتی تھی، اسی طرز پر اب بھی دی جا رہی ہے۔ اسلامی تربیت کی کوئی فکر اب تک نہیں کی گئی۔ اس لیے ہمارے نقطۂ نظر سے محض لیگل سسٹم (قانونی نظام )میں تبدیلی کافی نہیں ہے۔ ہم مکمل تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔
بی بی سی: آپ نے ہر شعبۂ زندگی سے متعلق اداروں میں اسلامی تعلیم و تربیت کو لازمی قرار دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایک جدید ریاست کی معیشت کو خالص اسلامی اصولوں کے مطابق کیوں کر چلایا جا سکتا ہے؟
سید مودودی: ہم نے یہ بات ثابت کرنے میں کئی سال صرف کیے ہیں کہ ایک جدید ریاست کو مکمل طور پر اسلام کے عطا کردہ اصولوں پر چلایا جا سکتا ہے اور صرف چلایا ہی نہیں جا سکتا، بلکہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی بنیادوں پر قائم ہونے والی جدید ریاست دوسری تمام جدید ریاستوں سے زیادہ کامیاب اور بہتر ہے۔ چنانچہ ہماری کوشش صرف یہی نہیں ہے کہ ہم پاکستان میں اسلام کو نافذ کر کے یہ بتائیں کہ اسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے، بلکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس جدید ریاست کو دیکھ کر دُنیا کی دوسری جدید ریاستیں اس بات کی قائل ہو جائیں کہ یہ ریاست ان سے کہیں بہتر اور فائق ہے۔ اسلامی ریاست کے اصول باقی تمام سیاسی نظاموں پر فوقیت رکھتے ہیں۔......... دنیا کے مسلمان ممالک میں بھی ایک عنصر موجود ہے جو اسلام کے حقیقی اصولوں پر عمل درآمد کرنا چاہتا ہے۔
بی بی سی: آپ پرانے طریقے کی طرف کیوں go back (واپس پلٹنا) چاہتے ہیں؟
سید مودودی: آپ نے یہ جو کہا ہے کہ ہم ایک پرانے طریقے کی طرف واپس کیوں جانا چاہتے ہیں تو اس میں یہ go back کا لفظ غلط ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ انسان کے لیے خدا کی طرف سے جو ہدایت آئی ہے وہ سب سے قدیم بھی ہے اور سب سے جدید بھی۔ خُدائی ہدایت کسی وقت اور مقام کی پابند نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ازلی اور ابدی چیز ہے۔ اس وجہ سے go back کا لفظ استعمال کرنا بے معنی ہے۔
Truth is always truth, it can not be old or new, at any time and at every place it is truth [صداقت ہر حال میں صداقت ہے، اس کے قدیم یا جدید ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صداقت ہر عہد میں اور ہر مقام پر صداقت ہے۔]
بی بی سی: اسلامی قانون کے بعض پہلوؤں، مثلاً قانونِ تعزیرات (criminal laws) کے بارے میں جدید ذھن کے اندر بعض اعتراضات اور شبھات پائے جاتے ھیں۔ موجودہ دور کی جدید مسلم ریاستیں بھی ان قوانین کو ترک کر چکی ہیں۔ شاید آپ اتفاق کریں کہ یہ تعزیری قوانین دراصل قرونِ وسطیٰ کی سوسائٹی کے لیے وضع کیے گئے تھے اور یہ قوانین (موجودہ) معاشرے کے لیے زیادہ موزون نہیں ہوسکتے۔ اب جرم اور سزا کے بارے میں تصورات بھی تبدیل ہو چکے ہیں، اس لیے یہ معاملہ مذہبی نقطۂ نظر سے زیادہ معاشرتی ہے۔ کیا آپ اس بدلے ہوئے زمانے میں، اس دور کے تبدیل شدہ رویوں کے برعکس ان قوانین کو ان کی اسی پرانی شکل میں نافذ کرنا چاہیں گے؟
سید مودودی: آپ جس (عصر حاضر) کا ذکر کر رہے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ اس میں امریکا اور یورپ کے اندر اور خود مسلمان ممالک کے اندر جن میں اسلامی قوانین پر عمل کرنا چھوڑ دیا گیا ہے، کیا (وہاں) ارتکاب جرم کی رفتار (crime rate) بڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟ کیا خیال ہے آپ کا؟
بی بی سی: in many countries it is increasing (بہت سے ممالک میں یہ رفتار بڑھ رہی ہے)۔
سید مودودی: ہمارے ہاں پنجاب کے بارے میں جو پولیس رپورٹ حال (۱۹۷۵ء) میں شائع ہوئی ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صرف ایک مہینے میں دو سو قتل ہوئے ہیں اور یہ رفتار جرم پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں رفتارِ جرائم کے بارے میں آپ (خوب) جانتے ہیں کہ اس وقت کیا ہے اور وہ کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے؟ اب سوال یہ ہے کہ کسی معاشرے میں جرائم کا موجود رہنا کچھ اچھا ہے؟
بی بی سی : اچھا نہیں ہے!
سید مودودی: اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ آپ کے موجودہ (criminal laws تعزیری قوانین) جرائم کے خاتمے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ ان میں اضافے کے موجب بن رہے ہیں۔
اس کے برعکس ایک مسلمان ملک میں، جہاں اسلام کا قانون صرف ایک حد تک ہی نافذ کیا گیا ہے، یعنی چوری پر اسلامی تعزیرات نافذ کی گئی ہیں، وہاں اس نے چوری کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وہاں کیفیت یہ ہے کہ اگر آپ اپنا سامان سڑک پر چھوڑ کر چلے جائیں اور تین دن کے بعد واپس آئیں تو وہ آپ کو وہیں پڑا ملے گا، کوئی اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ اگر آپ اپنا گھر کھلا چھوڑ کر چلے جائیں اور کئی ہفتے کے بعد واپس آئیں تو آپ کو سارے گھر کا سامان جوں کا توں ملے گا۔ کوئی شخص گھر میں داخل تک نہیں ہوگا۔ یہ صرف اس چیز کا نتیجہ ہے کہ سعودی عرب میں ان سزاؤں کے نفاذ پر شروع میں جو چند ہاتھ کاٹے گئے، ان کی وجہ سے چوری کا وہاں خاتمہ ہو گیا، تو کیا چند مجرموں کے ہاتھ کاٹ کر چوری ختم کر دینا بہتر ہے یا یہ بہتر ہے کہ مجرموں کو جیل بھیج بھیج کر ان کو عادی مجرم بنایا جائے؟ وہ جیل سے نکلیں تو پھر چوری کریں اور پھر جیل جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کے موجودہ تعزیری قوانین جرائم کی پرورش کر رہے ہیں، لیکن ہم اسلامی قوانین کے نفاذ کے ساتھ جرائم کو ختم کر سکتے ہیں۔ اب کیا یہ بہتر ہے کہ ہم جرائم کو ختم کر دیں یا یہ بہتر ہے کہ جرائم ہوتے رہیں اور ان کے مؤثر انسداد کی کوئی تدبیر نہ کی جائے؟
بی بی سی: جدید معاشرے کے حالات و اطوار بہت بدل چکے ہیں۔ جرم اور سزا کا تصور بدل چکا ہے۔ ماضی کی اسلامی ریاست میں اور موجودہ دور کی جدید ریاست میں بڑا فرق رونما ہو چکا ہے...... شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی معاشرتی کیفیت اور ساخت بالکل مختلف ہے۔ اس لیے ایک محدود شہری نظام کے لیے اگر اسلامی سزائیں مفید بھی تھیں تو موجودہ بڑے بڑے شہروں کے لیے یہ کس طرح کارآمد ہو سکتی ہیں، جب کہ ان میں جرائم کا ہونا ایک حد تک فطری بات ہے اور ان میں سزائوں کا عملی نفاذ کوئی آسان کام بھی نہیں؟
سید مودودی: آپ کا خیال یہ ہے کہ شکاگو اور نیویارک جیسے بڑے بڑے شہروں کی social life (معاشرتی زندگی) ہی ایسی ہے کہ ان کے اندر جرائم کا ہونا ایک فطری چیز ہے۔ اس لیے اس حالت کے خاتمے کے لیے ہاتھ کاٹنے جیسی سزاؤں کا نفاذ ایک غیر ترقی پسندانہ بات ہے اور آپ کے خیال میں یہ عملاً ممکن بھی نہیں، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے اور اگر صرف چوری پر ہاتھ کاٹنے کا قانون جاری کر دیا جائے تو نیویارک اور شکاگو جیسے شہروں بلکہ پورے امریکا میں چوری کا ارتکاب کم ہو سکتا ہے۔ اس کا مکمل خاتمہ تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب کہ پورا سیاسی اور معاشرتی نظام اسلامی خطوط پر قائم کیا جائے، لیکن اسلامی سزاؤں کے نتیجے میں بھی اس میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔
ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ اسلام کی تجویز کردہ سزائیں معاشرے سے جرائم کا مکمل انسداد کرسکتی ہیں اور ہم یہ چاہتے کہ پاکستان کے اندر اسلام کا مکمل ضابطۂ حیات جاری ہو اور اسلامی تعزیرات نافذ ہوں، پھر ہم دنیا کو بتائیں گے کہ ہمارے ہاں جرائم کس طرح ختم ہو گئے ہیں۔ اگر ہمیں اس بات کا موقع ملا کہ ہم پاکستان میں صحیح اسلامی نظام قائم کر سکیں (تو) ہم عملاً دنیا پر یہ بات ثابت کر دیں گے کہ اسلام کی بنیادوں پر ایک جدید ریاست چل سکتی ہے اور زیادہ بہتر طریقے سے چل سکتی ہے اور اسلام کی بنیاد پر ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے، جو جرائم سے پاک اور امن وامان کا گہوارہ ہوتا ہے۔
بی بی سی: روایتی اسلامی قانون کا یہ پہلو ایسا ہے کہ (آج کا) انسان اس کو قبول کرنے میں دقّت محسوس کرتا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ذھن کے لیے کسی جرم پر ایک شخص کا ہاتھ کاٹ کر اسے ایک عضو سے محروم کر دینا ایک وحشیانہ فعل معلوم ہوتا ہے ...... اسی لیے قرونِ وسطیٰ کے ایک نظام کو خواہ وہ اپنی جگہ پر مفید ہی تھا، جدید دَور میں رائج کرنا کُچھ عجیب سی بات معلوم ہوتا ہے۔
سید مودودی: میرا خیال ہے کہ آپ کی موجودہ تہذیب کو جسے آپ جدید تہذیب کہتے ہیں، جتنی ہمدردی مجرم کے ساتھ ہے، اتنی ہمدردی ان لوگوں کے ساتھ نہیں جن پر جرم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔
مثلاً ایک شخص کا بچہ کوئی اغوا کر کے لے جاتا ہے اور پھر اس کو اطلاع دیتا ہے کہ ”اتنے ملین ڈالر مجھے دے دو تو بچہ تمہیں مل جائے گا ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا“ اور بعض اوقات وہ ایسا کر بھی گزرتا ہے، تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اس طرح کے آدمی کو پکڑ کر اگر کوئی سخت سزا دی جائے، مثلاً اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے یا اس کی گردن اڑا دی جائے تو کیا یہ وحشیانہ فعل ہو گا؟ یعنی آپ کے نزدیک والدین کو ان کے بچوں سے محروم کر دینا کوئی وحشیانہ حرکت نہیں، البتہ اس حرکت کے مرتکب کو اس کے جرم کی سزا دینا وحشیانہ فعل اور ظالمانہ فعل ہے، جس کی کم از کم ریاست کو ذمہ داری نہیں لینی چاہیے۔ آپ کی ساری ہمدردی اس شخص کے ساتھ ہے، جس نے ایک مجرمانہ اور غیر انسانی فعل کے ذریعے سے اپنے آپ کو مستوجب سزا ٹھہرایا ہے اور اس شخص کے بارے میں آپ بے حس ہیں، جسے ظلم اور سنگ دلی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ جو شخص معاشرے کے اندر جرم کا ارتکاب کر کے معاشرے کے امن وسکون کو غارت کرتا ہے، وہ اس کا مستحق ہے کہ اس کو اتنی سخت سزا دی جائے کہ دوسروں کو اس سے عبرت ہو اور وہ اس قسم کے جرم کے ارتکاب کی جرأت نہ کر سکیں، یعنی ہمارے نزدیک سزا صرف سزا ہی نہیں ہے، بلکہ وہ ارتکاب جرم کو روکنے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ جرم کی حوصلہ شکنی بھی کرتی ہے، چنانچہ ہماری ہمدردی مجرم کے ساتھ نہیں ہے، بلکہ اس شخص کے ساتھ ہے جس پر ارتکاب جرم کیا جاتا ہے اور اس معاشرے کے ساتھ ہے جس کے اندر ارتکاب جرم سے ناہمواری اور عدم تحفظ کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔
You think it is more social and more cultured to be a criminal. It is human to .kill a man and it is inhuman to kill a murderer
ابھی پچھلے دنوں امریکا میں مس ہرسٹ کا جو واقعہ پیش آیا وہ آپ کے علم میں ہو گا۔ جو لوگ اس کو اغوا کر کے لے گئے تھے، انھوں نے اس کو اس حد تک جرائم آشنا کر دیا کہ اس نے بنک پر ڈا کا ڈالا اور دوسرے جرائم کا ارتکاب کرتی پھری۔ آپ کے نزدیک وہ لوگ تو بہت مہذب اور cultured ہیں، لیکن اگر ان لوگوں کو کوئی سخت سزا دی جائے تو یہ فعل غیر مہذبانہ ہو گا۔
بی بی سی: اس کے باوجود...... اس بات کا قائل ہونا بہت مشکل ہے کہ معاشرے کو اتنا غیر مہذب، ان گھڑ اور غیر ترقی یافتہ تسلیم کر لیا جائے اور اس میں اس قسم کی انتہائی سزائوں کو رائج کیا جائے جو آپ بیان فرما رہے ہیں؟
سید مودودی: بات دراصل یہ ہے کہ آپ کے معاشرے میں جو جرائم ہو رہے ہیں، آپ نے ان کے ساتھ صلح کر لی ہے اور آپ ان کے ساتھ ہی جینا چاہتے ہیں۔ گویا آپ چاہتے یہ ہیں کہ آپ کی سوسائٹی میں لوگوں کو قتل بھی کیا جاتا رہے، اغوا کی وارداتیں بھی ہوتی رہیں، ڈاکے بھی پڑتے رہیں، لوگوں کا گھروں کے اندر اطمینان سے سانس لینا بھی مشکل ہو جائے، لیکن ان میں سے کسی چیز کو ختم کرنے کے لیے کوئی سخت اقدام نہ کیا جائے، کیونکہ یہ آپ کے خیال میں تہذیب کے خلاف ہے اور اس سے موجودہ دور کے مہذب انسان کی توہین ہوتی ہے۔ نیویارک میں اس وقت حالت یہ ہے کہ اگر رات کے وقت آکر کسی کا کوئی عزیز یا دوست گھنٹی بجائے تو وہ بھی اس خوف سے دروازہ نہیں کھولے گا کہ آنے والا ضرور کوئی ڈاکو ہوگا، اس قسم کے خوف و دہشت کے درمیان آپ لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں، لیکن اس صورت حال سے آپ نے compromise (سمجھوتہ) کر لیا ہے اور اس کو بدلنے کے لیے آپ تیار نہیں۔ آپ کا خیال یہ ہے کہ اس کو تو رہنا ہی ہے اور اس چیز کے ہوتے ہوئے آپ ماڈرن اور مہذب بھی ہیں۔ لیکن اگر اس جرم و خوف کی زندگی کو بدلنے کے لیے کوئی سخت قدم اٹھایا جائے تو وہ آپ کے نزدیک قرونِ وسطیٰ کی طرف پلٹنا ہے۔
لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں موقع ملے تو ہم اسلامی قوانین کو رائج کر کے دنیا کو دکھا دیں کہ اس طرح ایک پرامن معاشرہ (peaceful society) وجود میں آتا ہے۔ وہ معاشرہ مہذب اور ماڈرن بھی ہوگا اور امن و سلامتی کا گہوارہ بھی۔ اس کے قیام کے بعد آپ کے یہ سارے نام نہاد جدید تصورات و نظریات محض ایک داستانِ پارینہ بن جائیں گے۔ چنانچہ، اگر ہم اسلامی نظامِ زندگی کے قائل اور اسے دنیا میں قائم کرنے کے آرزو مند ہیں تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ہمارا قدیم مذہبی یا قومی نظام ہے، اور اس بنا پر اس کے ساتھ ہمیں محبت ہے۔ بلکہ اس کو ہم اس وجہ سے مانتے ہیں کہ وہ سراسر ایک معقول اور عادلانہ نظام ہے، اور یہ ایک بالکل مطابقِ انصاف اور معقول بات ہے کہ سوسائٹی کو جرائم سے پاک کیا جائے۔ ہمارے نزدیک وہ معاشرہ نہایت بُرا ہے جس کے اندر جرائم پرورش پاتے ہوں، اور لوگوں کی ہمدردی کا اصل مرکز مجرم ہوں، نہ کہ وہ جن پر جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔
بی بی سی: جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہاں اسلامی قوانین نافذ نہیں بلکہ سیکولر نظام پایا جاتا ہے، ان ممالک میں مسلمانوں کا طرزِ عمل کیا ہو گا جب کہ وہ کسی غیر اسلامی قانون پر یقین نہیں رکھتے۔ کیا وہ اس قسم کی گورنمنٹ کے خلاف کوئی اقدام کریں گے؟
سید مودودی: نہیں، اگر ہم کسی غیر مسلم ریاست میں ہوں گے تو ہم اس ریاست میں یہ کوشش کریں گے کہ پرامن جمہوری ذرائع سے لوگوں کے خیالات کو تبدیل کریں اور دلائل کے ساتھ ان کو اسلامی نظامِ زندگی کی معقولیت اور برتری کا قائل کریں۔ اس طریقے سے جب ہم اکثریت کے خیالات اور ذہنوں کو تبدیل کر لیں گے اور لوگوں کو اسلامی نظامِ زندگی کا قائل کر لیں گے تو اس اکثریت کی بنا پر وہاں کا نظام تبدیل کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ چیز جمہوری نقطۂ نظر سے بالکل درست ہوگی۔ ہم اس ریاست کے اندر غیر جمہوری ذرائع سے کوئی انقلاب نہیں لائیں گے۔
بی بی سی: کیا آپ کے خیال میں جمہوریت کی اسلامک سوشل فلاسفی کے اندر گنجائش پائی جاتی ہے؟
سید مودودی: Yes, but not in the western meaning. In western political philosophy sovereignty rests with people but in Islam it rests with God.[جی ہاں، لیکن اہل مغرب کے نظریے کے مطابق نہیں۔ مغربی فلسفۂ سیاست میں تو اقتدار اعلیٰ کے مالک عوام ہوتے ہیں، لیکن اسلام میں اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔]
اس بنیادی فرق کے باوجود ہمارا نظام حکومت ایسا ہوگا کہ اس میں ریاست کے سربراہ کا انتخاب لوگوں کی کثرت رائے کے ذریعے سے ہوگا۔ لوگوں کے نمائندے ان کی رائے سے منتخب ہوں گے، اور پارلیمنٹ ان منتخب نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔ کوئی حکومت، عوام الناس کا اعتماد کھو دینے کے بعد قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس حد تک جمہوریت ہمارے ہاں موجود ہے۔ گویا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کی مشینری جمہوری طریقے پر اللہ تعالیٰ کے احکام و قوانین نافذ کرے گی، عوام خود مقتدر اعلیٰ نہیں ہوں گے۔
بی بی سی: کیا اِس وقت ان معنوں میں کوئی صحیح اِسلامی جمہوری ریاست پائی جاتی ہے؟ یا ماضی قریب میں ایسی کوئی ریاست موجود تھی؟
سید مودودی: اگر فرض کیجیے کہ کسی مسلمان ملک میں اس قسم کا اسلامی جمہوری نظام موجود نہیں ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کا دیا ہوا جمہوری تصور ریاست اور قانون حکمرانی ناقص ہے، بلکہ یہ صورت حال ان لوگوں کی غلطی کا نتیجہ ہے جو مسلمان بھی کہلاتے ہیں، لیکن اسلام کے جمہوری نظام کو رائج نہیں کرتے۔ چنانچہ ہماری کوشش یہ ہے کہ مسلمان، جہاں کہیں بھی ہیں، وہ محض professing muslims (نام کے مسلمان) نہ رہیں، بلکہ practicing muslim (عملی مسلمان) نہیں۔
بی بی سی: آپ موجودہ دور میں حکومت کا نظام کن خطوط پر استوار کریں گے؟
سید مودودی: اگر آپ جماعت اسلامی کے Manifesto (منشور) کا مطالعہ کریں تو آپ کو پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم اسلامی اصول حکمرانی پر مبنی ایک جمہوری حکومت کس طرح قائم کریں گے اور اس کے نمایاں خدوخال کیا ہوں گے۔
بی بی سی: ایک اور اہم مسئلہ ہے سوسائٹی میں عورت کے مقام اور حیثیت کا۔ اس معاملے میں اسلامی اقدار، مغرب کی صنعتی طور پر ترقی یافتہ سوسائٹی کی اقدار سے قطعی طور پر مختلف اور متضاد ھیں۔ آپ کی رائے کیا ہے اس معاملے میں، کہ کیا جدید زمانے کے بدلے ہوئے حالات اور جدید تہذیبی قدروں کی روشنی میں معاشرے کے اندر عورت کے بارے میں اسلام کے نقطۂ نظر میں کوئی ترقی پسندانہ تبدیلی ممکن ہے؟
سید مودودی: دیکھیے، آپ کے خیال میں آپ کی جو جدید تہذیب اور ماڈرن کلچر ہے، آپ سمجھتے ہیں کہ تہذیب اور ثقافت کا یہی ایک standard (معیار) ہے۔ اس معیار پر آپ دوسری ہر تہذیب و ثقافت کو پرکھتے ہیں، لیکن ہم اس کو نہیں مانتے۔ آپ اپنی جس تہذیب اور کلچر کو ”ماڈرن“ کہہ کہ اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک backward (پس ماندہ) اور فرسودہ چیز ہے اور یہ تباہ کر رہی ہے آپ کی پوری سوسائٹی کو اور آپ کے پورے نظام تمدن کو۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس ’’ماڈرن کلچر‘‘ کو اپنی سوسائٹی میں لائیں اور اسے بھی تباہ کر لیں۔
آپ کی جدید تہذیب یہی ہے نا کہ آپ نے اپنے ہاں خاندانی نظام کا خاتمہ کر دیا ہے۔ آپ نے عورت کا جو مقام و مرتبہ سوسائٹی کے اندر متعین کیا، اس کا نتیجہ یہی نکلا ہے کہ آپ نے عورتوں کے اخلاق بھی برباد کیے اور مردوں کے بھی۔ آپ نے لوگوں کو اخلاقی پستی کی انتہا تک گرا دیا۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی وہاں تک گر جائیں۔ ہم اس کے لیے تیار نہیں۔ ہم اپنی سوسائٹی کو ان تمام برائیوں سے پاک رکھنا چاہتے ہیں، جو آپ کی ماڈرن سوسائٹی میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے نزدیک ترقی اور چیز ہے اور نام نہاد ماڈرن سوسائٹی کی بُری عادات و اطوار اور چیز۔ ہم ترقی کے قائل ہیں اور وہ ہم ضرور کریں گے، لیکن اس شکل میں نہیں کہ جس طرح آپ کر رہے ہیں، ہم اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ اس کے بجائے ہم اپنے اصولوں پر تعمیر و ترقی کریں گے اور وہی صحیح معنوں میں تعمیر و ترقی شمار ہو گی۔
بی بی سی:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عورت کا مقام گھر کے اندر ہے اور اس کی معاشرتی زندگی کے جملہ معاملات اس کے شوہر سے ہی وابستہ ہونے چاہییں، اور وہ دوسرے مردوں سے رابطہ نہیں رکھ سکتی۔ اس صورت میں کیا آپ یہ بھی پسند نہ کریں گے کہ عورتیں ڈاکٹر یا معلمات بنیں؟
سید مودودی: جی ہاں، اسلامی اُصولِ معاشرت کی رُو سے عورت کا مقام اس کا گھر ہے اور اس میں مرد کی حیثیت نگران اور قوام کی ہے۔ البتہ جہاں تک عورتوں کے تعلیم پانے اور ڈاکٹر یا معلمہ وغیرہ بننے کا سوال ہے تو ہم نہ صرف یہ کہ اس کو درست سمجھتے ہیں بلکہ ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں، لیکن اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک مسلمان عورت یہ سمجھتی ہے کہ اس کا اصل دائرہ کار اس کا گھر ہے۔ ہماری خواتین ڈاکٹر بھی بنیں گی لیکن وہ عورتوں کا علاج کریں گی، مردوں کا نہیں۔ ہم عورتوں کا ڈاکٹر بننا اِس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کا علاج کریں اور عورتوں کو مردوں سے علاج نہ کرانا پڑے۔
ہم یہ چاہتے ہیں کہ عورتیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معلمات اور لیڈی لیکچرار اور پروفیسر بنیں، تاکہ وہ ہماری بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دے سکیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری عورتوں کو مرد پڑھائیں۔ چنانچہ ہمارے ملک میں ایسے بے شمار کالج موجود ہیں جن میں صرف خواتین پڑھاتی ہیں اور تمام علوم وفنون کی تعلیم دیتی ہیں۔ وہ سائنس بھی پڑھاتی ہیں اور دوسرے جدید علوم بھی۔ اسی طرح دوسرے شعبوں میں بھی جہاں ضروری ہو، ہم اپنی خواتین کو اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آراستہ کرتے ہیں۔ لیکن ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ ہم اس اصول کو ہرگز تبدیل نہیں کریں گے کہ مُسلمان عورتوں کا اصل مقام ان کا گھر ہے۔ مسلمان عورت سے ہم جو بھی کام لیں گے وہ اس کے گھر کے اندر اور عورتوں کی سوسائٹی کے اندر لیں گے۔
بی بی سی : جیسا کہ آپ نے فرمایا یہ درست ہے کہ مغربی سوسائٹی میں خاندانی نظام انتشار کا شکار ھے ، لیکن اسلامی قانون کا یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اس میں طلاق کے ذریعے شادی کے بندھن کو ختم کر دینا بہت آسان ہے ۔ خاص طور پر موجودہ فیملی لاز (عائلی قوانین) سے پہلے تو ایسا ھی تھا ۔ کیا یہ چیز عورتوں کے لیے عدم تحفظ کی موجب نہیں ہے؟
سید مودودی: طلاق میں اس آسانی کے باوجود آپ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں طلاقوں کی شرح بہت کم ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔ وہاں خاندانی نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ میں نے مغربی معاشرے اور مغربی تہذیب کی اس صورتِ حال کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے۔
ہمارے یہاں تو کبھی اتفاق سے یہ سننے میں آتا ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس پر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس طرح طلاق ہمارے ہاں آسان ہونے کے باوجود عملاً ایک rare (کم یاب) چیز ہے۔ لیکن آپ کے ہاں جو حالات ہیں وہ آپ خود جانتے ہیں کہ وہاں طلاقوں کی کس قدر بھرمار ہو رہی ہے۔
بی بی سی: مغربی سوسائٹی میں طلاقوں کی یہ کثرت عورتوں کے لیے کچھ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ معاشی طور پر آزاد ہیں اور مُرد کی محتاج نہیں ہیں، جبکہ اسلامی معاشرہ میں عورت کی یہ پوزیشن نہیں ہے؟
سید مودودی: آپ کو معلوم نہیں ہے کہ مسلمان عورت اپنے باپ سے ورثہ پاتی ہے، اپنے شوہر سے اور اپنے بیٹے سے بھی اس کو حصہ پہنچتا ہے۔ اس طرح جس شکل میں بھی اس کو کوئی ورثہ ملتا ہے، وہ اس کی خود مالک ہوتی ہے اور اس کا شوہر، باپ، بیٹا یا کوئی اور شخص اس کو اس سے محروم نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ایک مسلمان عورت کاروبار کرسکتی ہے اور ان اداروں میں ملازمت کرسکتی ہے جن کا دائرۂ کار خواتین تک محدود ہے۔ اس طرح اس کو معقول طریقے سے جو معاشی آزادی حاصل ہوسکتی ہے، ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ہم ایسی معاشی آزادی کو درست نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں وہ بالکل آزاد ہو جائے اور جس کے نتیجے میں معاشرے کے اندر طلاقوں کی اس طرح بھرمار ہو جائے جیسی کہ مغربی معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ جس سوسائٹی میں divorce rate (طلاق کی شرح) اس قدر بڑھ جائے وہاں ان بچوں کا کیا حشر ہوگا، جن کی ماؤں نے طلاق لے لی ہو۔ طلاق لے کر پہلے وہ ایک شخص سے شادی کریں پھر کسی اور شخص سے اور پھر کسی اور شخص سے اور ادھر بچوں کا حال یہ ہو کہ کوئی ان کا والی وارث نہ ہو۔ آپ کے ہاں نئی نسل جرائم کی کیوں عادی ہوتی جارہی ہے اور teen-agers (نوعمر طبقے) میں جرائم کیوں ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں؟
اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہے کہ آپ کے ہاں طلاقیں بڑی کثرت سے ہو رہی ہیں، اور ان کے نتیجے میں خاندانی نظام درہم برہم بلکہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے ہاں نو عمر مُجرم زیادہ تر عائلی طور پر برباد گھروں سے نکل کر آ رہے ہیں، لیکن آپ یہ تسلیم کریں گے کہ ایسی بات خُدا کے فضل سے ہمارے ہاں تقریباً ناپید ہے، اور ایسا شاذ و نادر ہی کبھی ہوتا ہو گا کہ کسی خاندان میں طلاق کے نتیجے میں بچے بگڑ کر مجرم بن جائیں۔ تو اس لحاظ سے ہم اپنے آپ کو مغربی معاشرے سے کہیں زیادہ بہتر اور قابل رشک پوزیشن میں پاتے ہیں اور یہ چیز اسلام کے ان معاشرتی اصولوں کی بدولت ہے، جو ہمارے معاشرے میں اب تک برقرار ہیں اور ان کی پابندی کی جاتی ہے۔
بی بی سی: کیا آپ بھارت کے موجودہ حالات میں بھارتی مسلمانوں کی اخلاقی مدد اور حمایت کرنا چاہتے ہیں؟
سید مودودی: بالکل، ہم بھارتی مسلمانوں کو moral support (اخلاقی مدد) دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کی رائے عامہ کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ بھارت میں مسلم کشی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے اور بھارتی حکومت پر یہ دباؤ ڈالے کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف کے ساتھ کام لے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر مسلسل ظلم و زیادتی کی جا رہی ہے، ظلم و زیادتی ہی نہیں، بلکہ ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے، جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی جرم ہے۔ لیکن چونکہ بھارت ایک بڑی طاقت ہے، اس لیے اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ وہ اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کر رہا ہے؟ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی رائے عامہ اس معاملے میں بھارت پر اپنا اخلاقی دباؤ ڈال کر اسے اس نسل کشی سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔
بی بی سی: آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ آیا تصنیفی کام میں تاریخی تحقیق کے جدید اصول اختیار کیے جا سکتے ہیں؟
سید مودودی: آپ تاریخی تحقیق و مطالعے کے جس ماڈرن سسٹم کا حوالہ دے رہے ہیں، میرا خیال یہ ہے کہ اس مقابلے میں ہمارے ہاں جو طریق تحقیق ہے، اس کا ماڈرن ریسرچ اسکالرز کو کبھی خیال بھی نہیں آیا ہو گا۔ ہمارے ہاں جس طریقے سے روایات کو تحقیق و جستجو اور چھان پھٹک کے بعد قبول کیا جاتا ہے، اس کا اہتمام کسی دور میں بڑے سے بڑے علمائے تاریخ نے کبھی نہیں کیا۔ ہمارے ہاں روایات کی صحت کو عقلی معیار پر جانچنے کے ساتھ ساتھ ان کی اسناد کی تحقیق کی جاتی ہے۔ جب یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ان کی سند پوری طرح متصل ہے اور اس میں سے کوئی کڑی غائب یا کمزور نہیں ہے، تب ان روایات کو قبول کیا جاتا ہے۔ احادیث اور کتب سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب تمام روایات کو اس طریق تحقیق پر جانچنے کے بعد ان کو قبول یا رَد کیا جاتا ہے۔ آپ کے موجودہ ریسرچ اسکالرز اس طرز تحقیق سے بالکل نا آشنا ہیں۔
بی بی سی: میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے یہ گراں قدر لمحات مجھے عطاء فرمائے۔ یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ اب میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ، خدا حافظ۔ [ہفت روزہ آئین لاہور ،مدیر مظفر بیگ، ۱۵ جنوری ۱۹۷۶ء ...... ۲۵ نومبر ۱۹۷۵ء صبح گیارہ بجے بی بی سی لندن کے نمائندے ولیم کرالے نے یہ انٹرویو لیا، جسے حفیظ الرحمان احسن نے ٹیپ کرکے مرتب کیا۔ یہ سوال و جواب زیادہ تر اردو میں ہوئے تھے]