مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
ضمیمہ: میرا قبولِ اسلام
ذیل کا مضمون میں نے محترمہ مریم جمیلہ کی متعدد خودنوشت تحریروں کی روشنی میں مرتب کیا تھا۔ یہ میری کتاب ”ہم کیوں مسلمان ہوئے“ کا ایک باب ہے اور موضوع کی مناسبت سے ضمیمے کے طور پر اس کتاب میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان آ کر محترمہ موصوفہ نے بھر پور عائلی اور عملی زندگی بسر کی اور تقریباً ڈیڑھ درجن نہایت وقیع کتابیں انگریزی میں مرتب فرمائیں۔
***
قرآن سے میرا تعارف عجیب طریقے سے ہوا:
میں بہت چھوٹی تھی، جب میرے کانوں کو موسیقی سے غیر معمولی رغبت ہو گئی۔ مختلف گیتوں اور کلاسیکل اوپرا کے ریکارڈ پہروں میری سماعت کو لوریاں دیتے رہتے۔ چنانچہ میری عمر تقریباً گیارہ برس کی تھی جب ایک روز محض اتفاق سے میں نے ریڈیو پر عربی موسیقی سن لی، جس نے دل و دماغ کو مسرت کے ایک عجیب احساس سے بھر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں فرصت کے لمحوں میں بڑے اشتیاق سے عربی موسیقی سنتی حتیٰ کہ ایک وقت آیا کہ پسند اور ذوق کا دھارا ہی بدل گیا۔ میں اپنے والد کے ساتھ نیویارک کے شامی سفارتخانے میں گئی اور عربی موسیقی کے بہت سے ریکارڈ لے آئی۔ انہی میں سورہ مریم کی بے حد دلنواز اور فردوسِ گوش تلاوت بھی تھی، جو اُمِ کلثوم کی نہایت سریلی آواز میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ (یاد رہے اُمِ کلثوم بنیادی طور پر قاریہ تھی۔ اس بدنصیب نے گلوکارہ کا ذلیل پیشہ بعد میں اختیار کیا) اگرچہ میں ان گیتوں کے فہم سے بے خبر تھی مگر عربی زبان کی آوازوں اور سُروں سے
مجھے بے پناہ محبت ہو گئی تھی۔ سورۂ مریم کی تلاوت تو مجھے مسحور کر دیتی تھی۔
عربی زبان سے اس گہرے لگاؤ ہی کا نتیجہ تھا کہ میں نے عربوں کے بارے میں کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ خصوصاً عربوں اور یہودیوں کے تعلق پر ڈھونڈ ڈھونڈ کر کتابیں حاصل کرتی اور یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئی کہ اگرچہ عقائد کے اعتبار سے یہودی اور عرب ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں مگر یہودی عبادت خانوں میں فلسطینی عربوں کے خلاف زبردست زہر اگلا جاتا ہے۔ ساتھ ہی عیسائیوں کے رویّے نے مجھے مایوس کیا۔ میں نے عیسائیت کو پیچیدہ اور لاینحل مسائل کے گورکھ دھندے کے سوا کچھ نہ پایا اور چرچ نے مختلف اخلاقی، سیاسی اور اقتصادی و تہذیبی قباحتوں کے ساتھ جس لامتناہی مصالحت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے‘ اس نے خصوصاً مجھے بہت پریشان کیا۔ میں نے یہودی اور عیسوی عبادت خانوں کو بہت قریب سے دیکھا اور دونوں کو منافقت اور بدی کی دلدل میں ڈوبے ہوئے پایا۔
میں نسلاً یہودی تھی، اس لئے یہودیت کا مطالعہ کرتے ہوئے جب میں نے محسوس کیا کہ اسلام تاریخی اعتبار سے اس کے بہت قریب ہے تو فطری طور پر اسلام اور عربوں کے بارے میں جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا اور عربی زبان کی محبت نے اس اشتیاق کو دوچند کر دیا۔
۱۹۵۳ء کے موسم گرما میں میں سخت بیمار پڑ گئی۔ میں صاحب فراش تھی، جب ایک شام میری والدہ نے پبلک لائبریری جاتے ہوئے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کوئی کتاب تو نہیں منگانا چاہتی۔ میں نے قرآن کے ایک نسخے کی فرمائش کی، اور وہ آتے ہوئے جارج سیل کا ترجمہ لے آئیں اور یوں قرآن سے میرے رابطے کی ابتدا ہوئی۔
جارج سیل اٹھارویں صدی کا عیسائی عالم اور مبلغ تھا، مگر سخت متعصب اور تنگ نظر۔ اس کے ترجمے کی زبان مغلق ہے اور حاشیوں پر بلا ضرورت اور سیاق و سباق سے ہٹ کر البیضاوی اور زمخشری کے حوالے دیئے گئے ہیں تا کہ عیسوی نقطہ نظر سے انہیں غلط ثابت کیا جا سکے۔ چنانچہ ایک مرتبہ تو میں اسے بالکل نہ سمجھ سکی۔ قرآن مجھے بابل کی بے ہنگم کہانیوں کے غیر مربوط ملغوبے سے کچھ ہی بہتر نظر آیا مگر میں نے اس کا مطالعہ ترک نہ کیا اور اسے تین دن اور رات تقریباً مسلسل پڑھتی رہی حتیٰ کہ تھک کر ادھ مؤا ہو گئی۔
اسی عرصے میں قسمت نے یاوری کی اور کتابوں کی ایک دکان پر میں نے محمد مارما ڈیوک پکتھال کا ترجمہ قرآن دیکھا۔ جونہی میں نے اس کتاب کو کھولا‘ ایک زبردست انکشاف نے میرا استقبال کیا۔ زبان کا حسن اور بیان کی فصاحت مجھے اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ دیباچے کے پہلے ہی پیرے میں مترجم نے نہایت خوبصورت طریقے سے وضاحت کی ہے کہ ”یہ قرآنی مفاہیم کو ...... جیسا کہ عام مسلمان اسے سمجھتے ہیں، انگریزی زبان میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہے اور جو شخص قرآن پر یقین نہیں رکھتا‘ وہ اس کے ترجمے کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ دنیا کا کوئی ترجمہ عربی قرآن کی جگہ نہیں لے سکتا۔“ وغیرہ۔
میں فوراً سمجھ گئی کہ مجھے جارج سیل کا ترجمہ ناگوار کیوں لگا تھا؟ اللہ تعالیٰ پکتھال مرحوم کو بے پایاں رحمتوں سے نوازے، انہوں نے برطانیہ اور امریکہ میں قرآن کو سمجھنا آسان بنا دیا اور میرے سامنے بھی روشنیوں کے دروازے کھول دیئے۔ چنانچہ پہلی مرتبہ میں نے توریت کی تنگ اور جامد قوم پرستی کے مقابلے میں قرآن کی ہمہ گیر بین الاقوامیت کا مشاہدہ کیا۔ ازلی اور حتمی قدروں کے لیے میری بے قراری کو سکون مل گیا۔ میں نے اسلام میں ہر وہ اچھی‘ سچی اور حسین چیز پالی جو زندگی (اور موت) کو معنی اور مقصد عطا کرتی ہے۔ جبکہ دیگر مذاہب میں حق مسخ ہو کر رہ گیا ہے، اس کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے، اس کے گرد کئی طرح کے حصار کھینچ دیئے گئے ہیں۔ قرآن اور اس کے بعد مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعے سے مجھے یقین ہو گیا کہ عربوں نے اسلام کو سربلندی عطا نہیں کی ہے بلکہ یہ اسلام ہے جس کے طفیل عرب دنیا بھر میں کامیاب و بامراد ہوئے۔
میری علالت کا سلسلہ برسوں پر محیط رہا حتیٰ کہ ۱۹۵۹ء میں مکمل صحت یاب ہو کر میں نے اپنے اوقات کا بیشتر حصہ پبلک لائبریری نیویارک کے شعبہ شرقیات (اورینٹل ڈویژن) میں گزارنا شروع کیا۔ یہیں پر مجھے پہلی مرتبہ حدیث کی مشہور کتاب مشکوٰۃ المصابیح کے انگریزی ترجمے کی چار ضخیم جلدوں کا تعارف حاصل ہوا۔ یہ کلکتہ کے مولانا فضل الرحمٰن کی کاوش کا نتیجہ تھیں۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ حدیث کے متعلقہ حصوں سے شناسائی کے بغیر قرآنِ پاک کا مناسب اور مفصل ادراک ممکن نہیں۔ ظاہر ہے پیغمبر علیہ السلام کی رہنمائی اور تشریح کے بغیر کہ جن پر براہ راست وحی نازل ہوتی تھی، کلام الٰہی کو کیونکر سمجھا جا سکتا تھا، اس لئے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ حدیث کو نہیں مانتے، دراصل وہ قرآن کے بھی منکر ہیں۔
مشکوٰۃ کے تفصیلی مطالعے کے بعد مجھے اس حقیقت میں ذرہ برابر شبہ نہ رہا کہ قرآن وحی الٰہی ہے۔ اس بات نے اس امر کو تقویت دی کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دماغی کاوش کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ قرآن زندگی کے بارے میں تمام بنیادی سوالات کا ایسا مسکت، ٹھوس اور اطمینان بخش جواب دیتا ہے کہ جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔
میں بچپن میں موت کے تصور سے سخت خوفزدہ رہتی تھی۔ یوں بھی ہوتا کہ آدھی رات کو میں موت کے ڈر سے زور زور سے چلانے لگتی۔ اکثر والدین سے دریافت کرتی کہ مجھے موت کیوں آئے گی اور مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ تو وہ جواب دیتے کہ موت بہرحال اٹل حقیقت ہے مگر میڈیکل سائنس جس انداز میں ترقی کر رہی ہے، عین ممکن ہے اس سے تمہاری عمر سو سال سے بھی زیادہ ہو جائے۔ تاہم وہ زندگی بعد موت کے تصور کو سختی سے مسترد کر دیتے اور قیامت یا جنت دوزخ کو محض واہمہ قرار دیتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ میرے والدین اصلاح یافتہ (یعنی ترمیم پسند) یہودی تھے جو بڑی حد تک مسیحی معاشرے میں جذب ہو چکے تھے۔ امریکہ میں رہنے والے یہودیوں کی غالب اکثریت اصلاً روسی ہے مگر ہمارا گھرانا جرمن تھا۔ ہم لوگ روسی یہودیوں کی طرح جبر و تشدد کے تحت نہیں نکالے گئے تھے بلکہ سو سوا سو سال پہلے اقتصادی ترقی کی تلاش میں اپنی مرضی سے امریکہ آئے تھے، چنانچہ میرے والدین اور اقربا اپنے عبادت خانوں کو عام یہودیوں کے برعکس سینا گاگ (Cynagogue) کے بجائے ٹیمپل (TEMPLE) کہا کرتے تھے، جہاں عبادت بھی پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی طرز پر ہوا کرتی تھی۔ مختصر یہ کہ سوائے شادی بیاہ کے بندھنوں کے، ہمارے گھرانے میں راسخ العقیدہ یہودیوں والی کوئی بھی فکری یا عملی بات نہ تھی اور امریکی معاشرت کی عام دہریت اس پر بھی ہر لحاظ سے اثر انداز ہو چکی تھی۔
دوسرا سبب اس خالص مادی نقطہ نظر کا یہ تھا کہ توریت، تلمود اور انجیل میں عقیدۂ آخرت بہت ہی مبہم ہے اور تمام پیغمبروں، ولیوں اور نیک لوگوں کو ان کے افعال کی جزا و سزا اسی دنیا میں ملتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ایوب علیہ السلام پر آزمائش آتی ہے۔ ان کے بیٹے انتقال کر جاتے ہیں، ان کی جائیداد اور مال و متاع تباہ ہو جاتا ہے اور وہ سخت تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ جاتے ہیں اور بیزاری کے عالم میں خدا سے شکوہ کرنے لگتے ہیں کہ وہ نیک لوگوں کو مصیبت میں گرفتار کر دیتا ہے۔ یہ کہانی اس انجام پر منتج ہوتی ہے کہ بالآخر ان کا مرض بھی جاتا رہتا ہے اور بچے اور مال و متاع بھی دوبارہ مل جاتا ہے، مگر آخرت کے امکانی نتائج کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ تلمود تو برملا اس امر کا پرچار کرتی ہے کہ ”بدترین زندگی موت سے اچھی ہے“۔
انہی وجوہ کی بنا پر میرے والدین بھی عام لوگوں کی طرح زندگی کے محض دنیاوی اور مادی رخ کے قائل تھے۔ ”زندگی کا مقصد خوش رہنا اور عیش کرنا ہے“ وہ میری باتوں کے جواب میں کہا کرتے۔ ”خوب صورت آرام دہ مکان ہو، بنیادی سہولتیں ہوں، دوستوں کاایک حلقہ ہو اور تفریح کے مختلف سامان ہوں تو زندگی مثالی ہے اور بس۔‘‘ سوچنے کا یہی وہ سطحی نقطۂ نظر ہے جو پورے معاشرے میں جاری و ساری تھا، مگر میری سوچ اس عام دھارے سے مختلف تھی۔ بہت بچپن ہی سے میں ’’اہم اور بنیادی چیزوں‘‘ کی تکمیل کی فکر کرتی تھی حتیٰ کہ موت سے پہلے اس امر کا یقین چاہتی تھی کہ میں نے اپنی زندگی گناہوں میں یا فضولیات میں نہیں گزاری۔ سنجیدگی ہمیشہ سے میری سوچوں کی ہم رکاب رہی ہے۔ چنانچہ ہم عصر طرزِ زندگی پر حاوی چھچھورے پن سے مجھے شدید نفرت تھی۔ میں آغاز ہی میں ان بہت سی باتوں سے متنفر تھی جو میری سوسائٹی میں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھی جاتی
تھین۔ میرا ردِعمل ہر اس بات کے خلاف بڑا شدید ہوتا تھا جو احمقانہ اور سطحی ہو‘ غیر واقعی اور غیر شائستہ ہو یا تصنع پر مبنی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے ریڈیو‘ ٹیلی ویژن اور سینما سے کوئی رغبت نہ تھی۔ مغربی لٹریچر، آرٹ، موسیقی اور رقص و سرود مجھے کبھی نہیں بھائے۔ میں دولت کی نمائش اور عیش و عشرت کی زندگی کو ہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھتی رہی۔ میرے دل میں یہ تاثر رفتہ رفتہ بڑا طاقتور ہو چکا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو انسانی زندگی میں اولیت اور برتری حاصل نہیں ہے بلکہ دونوں کے ڈانڈے غیر انسانی سرحدوں سے ملتے ہیں۔ اسکول کی تعلیم کے دوران میرے پسندیدہ موضوع تاریخ اور لسانیات رہے اور دونوں میں میں نے خاصا عبور حاصل کیا۔ بلوغت کے زمانے میں میری ہم جماعت لڑکیوں کے پسندیدہ مشاغل فیشن ایبل لباس، بناؤ سنگھار، مخلوط رقص‘ پارٹیاں یا ہم عمر دوست لڑکوں سے تنہائیوں میں ملاقاتیں تھیں، مگر میں نے ان حالات میں اپنے اوپر جبر کر کے اپنی حفاظت کی۔ شراب یا سگریٹ پینے سے انکار کیا، ممکن حد تک سادہ لباس پہنا تا کہ صنف مخالف کے لئے میرے اندر کشش یا جاذبیت کم سے کم تر ہو جائے، اپنے آپ کو لیے دیے رکھا۔ نتیجتاً کتابوں اور مختلف قسم کے گہرے فکری مشاغل سے میری دلچسپیاں بڑھتی گئیں۔ اور گرد و پیش کے ماحول کی قباحتوں سے خدا نے مجھے محفوظ رکھا۔
میرے والد نے ایک مرتبہ مجھے بتایا کہ دنیا میں کوئی قدر دائمی حیثیت نہیں رکھتی؛ اس لئے ہمیں بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ خود کو بدل لینا چاہئے تو میرے دل نے اس قول کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور میری یہ پیاس بڑھتی ہی چلی گئی کہ مجھے وہ چیز ملے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہو اور خدا کا شکر ہے کہ جب میں نے قرآن پاک کا مطالعہ کیا تو میری پیاس بجھ گئی اور مجھے میری مطلوبہ چیز مل گئی۔ مجھے پتہ چل گیا کہ اللہ کی رضا کے لیے جو بھی نیک کام کیا جائے گا‘ وہ کبھی ضائع نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا کوئی صلہ نہ ملے‘ تب بھی آخرت میں اس کا انعام یقینی ہے۔ قرآن نے بتایا کہ جو لوگ کسی اخلاقی ضابطے کے بغیر زندگی گزارتے ہیں اور خدا کی خوشنودی کو پیش نظر نہیں رکھتے‘ دنیاوی زندگی میں خواہ وہ کتنے ہی کامیاب ہوں مگر آخرت میں صریح خسارے میں رہیں گے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیں وہ فضول اور بے فائدہ کام ترک کر دینا چاہئے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہو۔
قرآن کی ان تعلیمات کو میرے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور آپؐ کی سیرت طیبہ نے مزید واضح اور روشن کر دیا جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ایک مرتبہ فرمایا: ”آپؐ کے اخلاق قرآن کے عین مطابق تھے۔“ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآنی تعلیمات کا مکمل و اکمل نمونہ تھے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ اقدس کا ایک ایک پہلو مثالی ہے۔ ایک نوجوان کی حیثیت سے‘ ایک باپ کی حیثیت سے‘ ایک پڑوسی‘ ایک تاجر‘ ایک مبلغ، ایک دوست‘ ایک سپاہی اور فوجی جرنیل کے اعتبار سے‘ ایک فاتح‘ ایک منصف‘ ایک قانون ساز‘ ایک حکمران اور سب سے بڑھ کر اللہ کے ایک عاشقِ صادق کے لحاظ سے وہ خدا کی کتاب کی ہو بہو مثال تھے۔
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مصروفیات کی تفصیل نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ وہ دن کا ایک لمحہ ضائع نہ کرتے اور سارا وقت اللہ اور اس کی مخلوق کے لیے وقف رکھتے۔ ان کا اپنی بیویوں سے سلوک نہایت منصفانہ اور مثالی تھا۔ انصاف اور عدل اور تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ ان کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جائز ضرورت کے تحت ایک غلام کے لیے درخواست کی تو اسے تقویٰ کی تلقین کی اور اپنے کنبے پر دیگر مسلمانوں کی ضرورتوں کو ترجیح دی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کا مقصد عیش پسندی نہیں بلکہ ”کامیابی“ قرار دیا۔ چنانچہ آپؐ کی تعلیم کے مطابق جو شخص آخرت کی کامیابی کے لیے بالارادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے‘ اسے اس جذباتی سکون کے نتیجے میں خوشی اور مسرت خود بخود حاصل ہو جاتی ہے جو ہزار مادی عیش کے بعد بھی نہیں ملتی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپؐ دنیاوی زندگی سے بے نیاز تھے۔ وہ روزمرہ زندگی کی ضروریات کا خاص لحاظ کرتے تھے۔ شگفتہ مزاج اور خوش بیان تھے۔ بچوں کے ساتھ کھیل بھی لیتے تھے‘ مگر اصل توجہ کے قابل انہوں نے آخرت کی زندگی ہی کو سمجھا اور مادی و روحانی زندگی میں حد درجہ توازن پیدا کر دیا۔
قرآن اور حدیث کے علاوہ میں نے اسلام پر متعدد دوسرے تراجم پڑھے۔ مثلاً کتاب الہدایہ جو اسلامی فقہ کی تشریح ہے۔ امام غزالی کی احیاء العلوم کے جستہ جستہ حصے‘ مقدمہ ابن خلدون‘ علامہ اقبال کی نظمیں اور محمد اسد کی خودنوشت ”روڈ ٹو مکہ“۔ موخرالذکر نے میرے احساسات کو فیصلہ کن مرحلے تک پہنچانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ آسٹریا کے ایک یہودی نے مغربی تہذیب کی کھوکھلی اقدار کو کس طرح ٹھکرایا اور اسلام میں اس کو کس طرح اپنی تشنگی کا سامان ملا۔
مطالعہ و جستجو کا یہ سلسلہ جاری تھا کہ میری اعصابی حالت بڑی تیزی سے خراب ہونی شروع ہو گئی۔ میں صاحب فراش ہو کر رہ گئی اور مکمل طور پر ناکارہ ہوگئی۔ ہر علاج آزمایا گیا۔ ایک سال تک نفسیاتی اور طبی دونوں طرح کا معالجہ ہوا مگر بے سود۔ دوسرے سال صرف نفسیاتی علاج پر اکتفا کیا گیا‘ مگر مرض بڑھتا ہی چلا گیا۔ بالآخر مجھے دماغی امراض کے ایک شفاخانے میں داخل کرا دیا گیا جہاں مجھے دو سال سے زیادہ عرصہ قیام کرنا پڑا۔ میری بیماری نے ڈاکٹروں کو بالکل عاجز کر دیا اور ایک مرحلے پر آ کر انہوں نے تشخیص اور معائنہ بھی بند کر دیا۔ مختصر یہ کہ میں اس وقت طبی نقطہ نظر سے لاعلاج ہو چکی تھی، مگر کچھ ہی عرصے کے بعد معجزانہ طور پر شفایاب ہونے لگی۔ میری شفایابی کو طبی علاج معالجے کا مرہون منت قرار نہیں دیا جا سکتا، نہ میری قوت ارادی بہت زیادہ طاقتور ہو گئی تھی۔ میرا صحت یاب ہونا صرف اللہ تعالیٰ کے کرم کا نتیجہ تھا۔
جب میں نے اپنے والدین کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مجھے ہسپتال سے واپس لے جانے کا بندوبست کریں اور اس کے بعد میں گھر آ گئی تو میں نے تہیہ کر لیا کہ اب اسلام کے اثرات عملاً اپنی زندگی پر غالب کروں گی۔ ابتداء میں نے اپنے طور پر نیویارک کے اسلامی مرکز میں مسلمانوں سے ملاقات اور تبادلہ خیالات کی راہیں پیدا کیں اور بڑی خوشی ہوئی کہ جن لوگوں سے میرا رابطہ قائم ہوا، وہ بہترین لوگ تھے۔ اسلامی مرکز کی مسجد میں میں نے مسلمانوں کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اور اس مشاہدے نے میرے اس یقین کو پختہ کر دیا کہ صرف اسلام ہی مکمل آسمانی مذہب ہے، باقی مذاہب میں سچائی کے محض منتشر اجزا موجود ہیں۔
اب میں اس حتمی نتیجے پر پہنچ گئی تھی کہ اسلام بہر صورت دین حق ہے اور اسلام ہی میں دور حاضر کی تہذیبی برائیوں کا مقابلہ کرنے اور ان پر غالب آنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چنانچہ میں نے جو نئے نظریات اپنائے تھے، ان کے اظہار کے لئے میں نے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ یہ مضامین انگلستان، جنوبی افریقہ، ترکی، سوئٹزرلینڈ، سیلون، بھارت اور پاکستان کے مختلف انگریزی جرائد میں شائع ہوئے۔ سب کا موضوع اور مرکزی خیال ایک ہی تھا۔ یعنی اسلام اور مغربیت کے مختلف پہلوؤں سے بحث کرکے دونوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا تھا۔ خصوصیت سے میں نے ان نام نہاد جدید اصلاحات کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی جن کا مقصد اسلام کی بنیادوں کو متزلزل کرنا ہے۔ ان مضامین میں مَیں نے یہ ثابت کیا کہ مغرب کی جدید تہذیب کس طرح فطری و عملی پہلوؤں سے اسلام سے متصادم ہے اور ان دونوں میں کسی مرحلے پر مصالحت نہیں ہو سکتی۔ میں محمد اسد کی ایک اور کتاب ’’اسلام ایٹ دی کراس روڈز‘‘ سے بہت زیادہ متاثر تھی۔ میرا خیال ہے یہ کتاب اپنے موضوع پر شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔
بہر حال میرے مضامین محمد اسد صاحب کی کتاب سے نسبتاً زیادہ براہِ راست (Direct) قسم کے تھے اور ان میں مَیں نے اصل مسئلہ پر ذرا تفصیل سے بحث کی تھی۔ میرے مضامین کی اشاعت نے دنیا کے ہر حصہ کے مسلمان رہنماؤں سے مراسلت اور خط و کتابت کی راہیں پیدا کر دیں۔ انہی حضرات میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی شامل تھے۔ انہوں نے میرے ایک خط کے جواب میں لکھا:
’’آپ کی ذہنی پریشانیوں اور صدمات کی سرگزشت میں میرے لیے کوئی غیر متوقع بات نہیں۔ اگر کوئی فرد اپنے اردگرد کے معاشرتی ماحول سے مسلسل ٹکراتا ہوا گزر رہا ہو اور اسے کہیں سے معمولی سی ہمدردی اور حوصلہ افزائی میسر نہ آئے تو ایسے حالات میں اس آدمی کے‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ اعصاب کا برقرار رہنا غیر معمولی اور غیر فطری بات ہو گی۔ آپ کے رجحانات‘ آپ کی سوسائٹی سے متصادم ہیں۔ جن حالات نے آپ کو ماہر نفسیات یا شفاخانہ امراض دماغی تک پہنچایا وہ آپ کے اندر کسی نفسیاتی خلل کا نتیجہ نہیں بلکہ آپ اور آپ کے ماحول کے درمیان جو واضح عدم مطابقت اور تصادم موجود چلا آ رہا ہے‘ ان سے ایسے حالات کا پیدا ہونا بالکل فطری امر ہے۔ جس سوسائٹی میں آپ رہ رہی ہیں‘ وہ آپ کو اس عورت کی حیثیت سے کبھی قبول نہیں کر سکتی جو حیثیت آپ کے پیش نظر ہے‘ وہاں تو آپ کی ہر خوبی کو خامی ہی تصور کیا جائے گا۔‘‘
اس مکتوب میں مولانا محترم نے تحریر فرمایا:
”اگر آپ پاکستان آ جائیں تو یہاں آپ اپنے آپ کو بہت سے ہم خیال لوگوں کے درمیان محسوس کریں گی۔ علاوہ ازیں یہاں لاہور میں بعض صالح نوجوان مسلمان بھی مل سکتے ہیں جنہیں آپ دائمی رفیقِ حیات بنا سکتی ہیں۔ آپ یقیناً کسی مغرب زدہ ’اعتدال پسند‘ فرد سے شادی کرنا پسند نہیں کریں گی بلکہ آپ کو حقیقی مسرت کسی مسلمان نوجوان کو رفیقِ حیات بنانے ہی سے حاصل ہوگی۔ میں امید کروں گا کہ آپ اپنے والدین پر یہ واضح کر دیں گی کہ کیوں آپ کے لئے امریکہ میں مزید قیام ناممکن ہو گیا ہے اور یہ بات بھی کہ آپ کی بھلائی اور فلاح کا تقاضا ہے کہ آپ پاکستان میں مستقل سکونت اختیار کر لیں۔ آپ اپنے والدین کو یہ بھی بتا دیں کہ جس شخص نے آپ کو یہ نازک قدم اٹھانے کا مشورہ دیا ہے‘ اس نے صرف یہ رائے دینے پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ وہ مستقبل کی تمام ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآ ہونے کے لیے تیار ہے۔ اگر آپ اور آپ کے والدین مجھ پر اعتماد کریں تو انشاءاللہ آپ کے اس اعتماد کو کبھی دھچکا نہیں لگے گا۔‘‘
میں نے مولانا کو حسبِ ذیل جواب دیا۔
”یہ خدا کا کرم ہے کہ آپ میری دستگیری فرما رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے اب میں تنہا جد و جہد پر مجبور نہیں ہوں۔ میں آپ کی پیشکش قبول کرتی ہوں اور تہہ دل سے آپ کی شکر گزار ہوں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔‘‘
اس کے بعد میں نے نیویارک سے ایک یونانی مال بردار بحری جہاز میں کراچی تک کا سفر کیا۔ منزلِ مقصود تک پہنچنے کا یہی کم خرچ ممکن ذریعہ ہوسکتا تھا۔ یہ سفر تقریباً چھ ہفتے تک جاری رہا۔ جہاز کے مسافر اور عملہ کے لوگ چونکہ اخلاقی اور روحانی طور پر انتہائی پست لوگ تھے‘ اس لئے سفر کے دوران مجھے زندگی کے بعض تلخ ترین تجربات سے گزرنا پڑا۔ پورٹ سوڈان میں تو مجھے اس قدر خطرہ محسوس ہوا کہ اپنے تحفظ کی خاطر پولیس کی نگرانی کی درخواست کرنی پڑی۔ بہرحال اسکندریہ پورٹ سوڈان اور جدہ میں میرے ساتھ مسلمان بھائیوں نے جو حسن سلوک کیا وہ باعث صد مسرت واطمینان تھا۔ اس سے میری کدورت کا غبار گونہ چھٹ گیا۔
جب میں کراچی پہنچی تو وہاں مولانا مودودی کے معتقدین اور احباب نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا اور بے حد خاطر مدارت کی۔ چند روز بعد بذریعہ طیارہ کراچی سے لاہور آ گئی اور مولانا محترم کے گھر قیام کیا۔ میں مولانا کی بچیوں کی ہم عمر تھی، اس لئے مجھے اس گھر میں کوئی اجنبیت محسوس نہ ہوئی۔ کچھ عرصہ کے بعد میرا نکاح جماعت اسلامی کے ایک سرگرم اور مخلص رکن محمد یوسف خان سے ہو گیا۔ خاں صاحب پہلے سے شادی شدہ اور عیال دار تھے، مگر میں نے اس رشتے کو بخوشی قبول کر لیا کہ جاہلیت کے ہر شعار کی نفی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر سنت کی پیروی میرا مقصد حیات ہے۔ بحمد اللہ تعالیٰ میں اپنے نئے گھر میں مسرت وسکون کی زندگی گزار رہی ہوں اور آج تک کسی الجھن یا پریشانی کا شکار نہیں ہوئی۔