مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام مریم جمیلہ
۲۹۔ ستمبر ۱۹۶۱ء
محترمہ مریم جمیلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۱۱ جولائی مجھے چند ہی روز پہلے ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے ملک سے پاکستان تک بحری ڈاک کس قدر سست رو ہے۔ آپ کے ناول ’’احمد خلیل‘‘ کا مسودہ مجھے ایک مہینہ پہلے مل گیا تھا اور آج کل اسلامک پبلیکیشنز کے پاس ہے، جونہی وہ مجھے واپس لوٹاتے ہیں، میں اس کے مطالعے کے لیے وقت نکالوں گا اور اپنی رائے دوں گا۔
آپ یہ سن کر پریشان ہو جائیں گی کہ حکومت پاکستان نے اچانک ہی میرے پاسپورٹ سے تمام افریقی اور عرب ملکوں کے نام خارج کر دیے جس کی وجہ سے مجھے افریقہ کا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ اُس وقت سے اب تک مجھے ان ملکوں کی جانب سے اور اندرونِ ملک سے بھی‘ ان گنت خطوط ملے ہیں جن میں اس جابرانہ اور ناروا پابندی کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ اس سے خوشی صرف عیسائی مشنوں کو ہوئی ہے یا قادیانیوں کو جو مرزا غلام احمد آف قادیان (بھارت) کو نیا پیغمبر مانتے ہیں اور جو مرد یا عورت ان کی تکذیب کرتا ہے اسے کافر کہتے ہیں۔
کسی مناسب تنظیم اور مالی امداد کے بغیر اسلام نے بڑی تدریج کے ساتھ افریقہ میں اپنے قدم جمائے ہیں حالانکہ یورپی مشنوں نے غیر معمولی تگ و دو بھی کی ہے اور بے تحاشا پیسہ بھی خرچ کیا ہے۔ یہی ایک حقیقت دونوں عقیدوں کے درمیان بنیادی خصوصیات کے فرق و تضاد کو واشگاف کر دیتی ہے۔ عیسائیت کی بنیادیں اتنی کمزور ہیں کہ بے شمار کرسچن سکولوں، ہسپتالوں، منظم مشنریوں اور سامراجی مملکتوں کی بھر پور سرپرستی اور مدد کے باوجود بہت ہی کم افریقی اسے خوشدلی سے قبول کرتے ہیں اور جو کر لیتے ہیں، بہت جلد وہ بھی اسکی فریب کاری سے باخبر ہو جاتے اور اس پر تین حرف بھیجنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگرچہ اسلام افریقیوں کے سامنے صحیح صورت میں پیش نہیں کیا جاتا، نہ ہی مسلمانوں کی اکثریت اسلامی طرز عمل کا قابل تقلید نمونہ پیش کرتی ہے، پھر ہمارے پاس تربیت یافتہ مبلغین کی بھی شدید کمی ہے، اس کے باوجود اسلام وہاں جس حد تک بھی متعارف ہو رہا ہے، وہ ان سادہ مزاج مسلمانوں کے ذاتی روابط کا نتیجہ ہے جن کی اکثریت اگرچہ تعلیم یافتہ نہیں ہے، مگر ان کا صاف ستھرا کردار اور حسنِ سلوک افریقیوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ ان حالات میں میرا ارادہ ہے کہ وہاں اسلام کی توسیع واشاعت کے لیے منظم پروگرام کا آغاز کیا جائے، مگر افسوس میرے ہاتھ باندھ دیے گئے ہیں۔ تاہم ساری رکاوٹوں کے باوجود یہ نصب العین میری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوگا اور افریقہ سے بہت دُور رہ کر بھی انشاء اللہ میں حتی الامکان اسے بہترین انداز میں بروئے کار لانے کے لیے کوشاں رہوں گا۔
اگر آپ کو علم ہوتا کہ ’’ووکنگ اسلامک ریویو‘‘ کس مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے تو اس رسالے کی جانب سے حبیب بورقیبہ کی تائید و حمایت پر آپ کو تعجب نہ ہوتا۔ اس ادارے سے متعلق لوگ ہمارے ہم وطن ہیں اور ہم انہیں بخوبی جانتے ہیں۔ یہ حضرات اس مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار (لاہوری گروپ) ہیں جس نے پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ اس شخص کے پیروکاروں کی بڑی جماعت اعلانیہ اسے پیغمبر قرار دیتی ہے اور اسے جھٹلانے والوں کو برملا کافر اور بے ایمان کہتی ہے۔ مرزا غلام احمد کا بیٹا بشیر الدین محمود اس گروپ کی قیادت کرتا ہے جب کہ ایک دوسرا گروپ جو ’’اسلامک ریویو‘‘ اور انگلستان کی ووکنگ مسجد کا انتظام چلاتا ہے، مرزا موصوف کو واضح طور پر پیغمبر اور نبی ماننے کی جرات نہیں کرتا، تاہم مسیح موعود، مجدّد اور مہدی قرار دیتا ہے اور دراصل انہی کے حلقۂ فکر سے وابستہ ہے۔
یہ امر خاصا معنی خیز ہے کہ برصغیر پاک و ہند پر برطانوی تسلط کے دوران قادیانیوں کے دونوں گروپ انگریزی اقتدار کی حمایت کرتے رہے۔ اس کے جواب میں برطانوی سامراج نے نہ صرف ان کی در پردہ پشت پناہی کی بلکہ ہر طرح کی مثبت حوصلہ افزائی اور امداد و تعاون کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ یوں قادیانیوں کو اندرونِ ملک اہم عہدوں پر فائز کیا گیا، جب کہ بیرونِ ملک یہ لوگ ہز میجسٹی کی سلطنت کے انتہائی وفادار اور جانثار نمک خوار ثابت ہوئے۔ ان کا نام نہاد ’’اسلامی‘‘ پروپیگنڈا اس لیے برداشت کیا جاتا رہا کہ بظاہر یہ بے ضرر نظر آتا تھا اور ان کے تبلیغی ادارے سامراج کے لیے انہی ان گنت مگر بے نام خدمات کو بڑی ہوشیاری سے اسلامی تبلیغ کے پردے میں چھپاتے رہے۔ محمد علی جنہوں نے قرآن کا انگریزی میں ترجمہ کیا، قادیانیوں کی لاہوری شاخ کے رہنما تھے، انہوں نے ہی انگلستان میں ’’ووکنگ مشن اور لٹریری ٹرسٹ‘‘ قائم کیا اور ’’اسلامک ریویو‘‘ کا اجرا کیا۔
یہ لوگ مغربی معیارات کے عین مطابق اپنے آپ کو ’’روشن خیال، ترقی پسند، متجدّد اور لبرل‘‘ ثابت کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان یا کسی دوسرے اسلامی ملک میں جب بھی اسلام کی ’’اصلاح‘‘ کے لیے کوئی قدم اٹھایا گیا، قادیانیوں نے اس کا پُر جوش خیر مقدم کیا، چنانچہ حال ہی میں جب ہمارے ملک میں مغرب پسند حلقوں کو خوش کرنے کے لیے عائلی قوانین میں ترمیم کی گئی تو ’’اسلامک ریویو‘‘ کے اربابِ اختیار نے انہیں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا۔
بیروت اور قاہرہ میں کرسچین یونیورسٹیوں کے بارے میں آپ کے اندازے اور تجزیے بالکل درست ہیں۔ آپ کی اطلاع کے لیے پاکستان میں بھی مسیحی اسکول اور کالج گزشتہ ڈیڑھ سو برسوں سے ایسے ہی نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں کا منتخب تعلیم یافتہ امیر طبقہ اور اعلیٰ سرکاری افسران اپنے بچوں کو چار پانچ سال کی عمر ہی میں ان اداروں کے حوالے کر دیتے ہیں، جہاں یہ بچے اردو کی بجائے انگریزی نوشت و خواند سیکھتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں سے بیشتر اپنی قومی زبان میں کچھ لکھ سکتے ہیں، نہ اس کا تلفظ صحیح انداز میں ادا کر سکتے ہیں۔ یوں اس طبقے کے لوگ اپنے عقائد، سوچ اور معاشرتی روایات کے اعتبار سے بدیسی بن جاتے ہیں اور انتہا یہ ہے کہ کرسمس تو جوش و خروش سے مناتے ہیں مگر عیدین سے اغماض برتتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کی مبادیات تک سے بے بہرہ رہتے ہیں اور ستم یہ کہ بڑے ہو کر یہی ہمارے لیڈر، حکمران بلکہ معمارانِ قوم بنتے ہیں۔
ہمارا قومی نظامِ تعلیم جو ہمیں انگریزی سامراج سے ورثے میں ملا ہے، سخت تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ اسکول اگرچہ مسلمانوں کو عیسائی نہیں بناتے، لیکن نظامِ تعلیم کے لادینی، مادہ پرستانہ مزاج کے نتیجے میں عملاً جہالت، مردہ دلی اور بے حسی کو فروغ ملا ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت اگر مسلمان ہے تو وہ اپنے نظامِ تعلیم کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ اس کے کچھ اور اسباب ہیں۔ میں نے یہ سب باتیں اس لیے لکھ دی ہیں کہ چونکہ آپ نئی نئی اسلام کے زیر سایہ آئی ہیں، اس لیے آپ سمجھ لیں کہ مسلمان کیوں جدیدیت کا شکار ہو کر اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور کیوں ان کی زبانیں اور قلم ”کفر“ کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
آپ جن مسائل کا سامنا کر رہی ہیں، مجھے ان پر سخت تشویش ہے۔ مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب ایک شخص کسی بے دین ملک میں اسلام قبول کرتا ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے اور جب کوئی عورت ایسا قدم اٹھا لے تو ظاہر ہے مشکلات و مصائب کا تناسب ہزاروں گنا بڑھ جاتا ہے۔ آپ نے اپنے تلخ تجربات کی روشنی میں دیکھ لیا ہو گا کہ ماڈرن مغرب کے یہ لوگ کس قدر حوصلے اور وسعت ظرفی کے حامل ہیں؟ اور وہ لوگ کس حد تک اسلام کی ترجمانی کرتے ہیں جو اسلامی ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر رہتے امریکہ میں ہیں؟ میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ ان حالات میں آپ کس ذہنی مشکل اور اذیت سے دوچار ہوں گی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجربات آپ کو اس دنیا میں بھی کامیابی سے نوازیں گے اور انشاء اللہ آخرت میں بھی فوز و فلاح کا باعث بنیں گے۔
اگر آپ نے لاہور آنے کی میری دعوت قبول کر لی تو میرا خیال ہے کہ مشکلات کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا اور میں بھی ہر ممکن طریقے سے آپ کے ساتھ تعاون کروں گا، لیکن اگر آپ امریکہ ہی میں رہنا چاہیں تب بھی میں عملاً آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ بے تکلفی سے لکھیے کہ آپ کا پروگرام کیا ہے، پھر میں انشاء اللہ آپ کی معاونت کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے بے پایاں رحم و کرم سے نوازے اور صبر و استقامت عطا فرمائے۔ والسلام
آپ کا دینی بھائی
ابوالاعلیٰ