مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام مریم جمیلہ
لاہور
۱۸/ اپریل ۱۹۶۲ء
محترمہ مریم جمیلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۷۔ اپریل مجھے کل موصول ہوا۔ خوشی ہوئی کہ آپ نے میرا مشورہ قبول کرلیا ہے اور پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کی رہنمائی فرمائے اور ایسی بھلائیاں عطا کرے جو آپ کے بہترین مفاد میں ہوں۔
میں آپ کو اس ضمن میں بحری سفر اختیار کرنے کا مشورہ دوں گا کہ ہوائی جہاز کے مقابلے میں اس کا کرایہ بھی کم ہے اور آپ اپنے ساتھ اچھا خاصا سامان بھی لا سکیں گی۔ سمندری جہاز آپ کو کراچی لائے گا، جہاں سے ٹرین کے ذریعے آپ لاہور پہنچیں گی۔ کراچی اور لاہور کے درمیان بہت سی تیز رفتار ریل گاڑیاں چلتی ہیں اور یہ سفر عموماً بائیس گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے۔ جونہی آپ نیویارک کے پاکستانی کونسل خانے میں روانگی کے انتظامات کو آخری صورت دیں، پاکستان میں چوہدری غلام محمد صاحب کو ۲۳۔ اسٹریچن روڈ کراچی کے پتے پر جہاز کا نام، روانگی کی تاریخ، متعلقہ جہاز راں کمپنی کا نام اور کراچی میں اس کی ممکنہ آمد کی تاریخ سے آگاہ کردیں۔ میں چوہدری صاحب کو ایک خط لکھ رہا ہوں کہ وہ کراچی میں آپ کا خیر مقدم کریں، کراچی سے لاہور تک آپ کے سفر کے ضروری انتظامات فرمائیں اور جونہی آپ کراچی پہنچیں، مجھے تار دے کر اطلاع کر دیں۔ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر یا تو میں خود حاضر ہوں گا یا میرے سیکرٹری ملک غلام علی صاحب آپ کا استقبال کریں گے اور آپ کو میرے مکان پر لے آئیں گے۔ کوشش کریں کہ آپ جون کے تیسرے ہفتے تک لاہور پہنچ جائیں کہ جولائی کے وسط میں میں افریقہ جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اگر آپ میرے بیرونِ ملک سفر پر جانے سے دو تین ہفتے پہلے یہاں آ جائیں توآپ میرے افراد خانہ سے خوب شناسا ہو جائیں گی اور میں اپنے دورے پر بغیر کسی فکر و تردّد کے جاسکوں گا۔
میں مناسب سمجھتا ہوں کہ چند ضروری باتیں آپ کے گوش گزار کر دوں تا کہ نفسیاتی اور جسمانی طور پر آپ کو ایک نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں سہولت رہے۔ جیسا کہ آپ پہلے ہی جانتی ہوں گی ہمارا طرز حیات اور معاشرتی رہن سہن امریکی معاشرت و ماحول سے قطعی مختلف ہے۔ یہاں وہ بہت سی سہولتیں اور فوائد مفقود ہیں جو امریکہ میں عام ہیں اور ہر شخص کو حاصل ہیں۔ اسی طرح زبان کی رکاوٹ بھی کسی حد تک پریشان کن ثابت ہو گی۔ ظاہر ہے ان وجوہ کی بنا پر ابتداء میں کچھ عرصہ آپ کے اعصاب پر اچھا خاصا بوجھ رہے گا اور آپ پریشانی بھی محسوس کریں گی۔ چنانچہ جب تک آپ صبر و استقامت سے کام نہیں لیں گی، اپنے آپ کو ہمارے طریقِ زندگی کے مطابق ڈھالنے کا مصمم ارادہ نہیں کریں گی اور یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ ہی اپنا جینا مرنا وابستہ نہیں کر لیں گی، ابتدائی سطح پر یہاں کی ناگزیر مشکلات سے موافقت پیدا کرتے ہوئے آپ کو غیر معمولی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا اور اگرچہ میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کی ضرورتوں کا خیال رکھوں اور سہولتیں مہیا کروں، مگر ہر مرحلے میں مجھے آپ کا ایسا تعاون درکار ہو گا جس میں مستقل مزاجی کا عمل دخل ضروری ہے۔
بہتر ہے کہ میں آپ کو اپنے خاندان کا مختصر تعارف بھی کرا دوں۔ میری دو بیٹیاں تقریباً آپ کی ہم عمر ہیں۔ یعنی ۲۳ سالہ حمیرا انگریزی ادبیات میں ایم اے کر رہی ہے جب کہ انیس سالہ اسماء اکنامکس میں بی اے کر رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کی گہری سہیلیاں بن جائیں گی، آپ کو اردو پڑھائیں گی اور آپ سے ایک نومسلمہ کا جوش و جذبہ حاصل کریں گی۔ میری اہلیہ انگریزی نہیں جانتیں، اس لیے زبان کی رکاوٹ شروع شروع میں آپ دونوں کو بے تکلف نہیں ہونے دے گی، لیکن توقع ہے کہ دو تین ماہ کے اندر آپ اردو کی اتنی شد بد ضرور حاصل کرلیں گی کہ مخاطب کی بات سمجھ لیں اور ضروری امور پر گفتگو کرلیں۔ آپ اردو سیکھ لیں گی تو عربی کی تعلیم کا مناسب وقت کے بعد انتظام کردوں گا۔
جہاں تک آپ کی شادی کا تعلق ہے، میں اسے کلیتاً آپ کی مرضی پر چھوڑ دوں گا اور میری طرف سے اس سلسلے میں قطعاً کوئی جبر نہیں ہوگا تاہم آپ کی رضا مندی سے میں آپ کے لیے مناسب شریک زندگی تلاش کرنے میں ضرور مدد کروں گا۔ صورت جو بھی ہو آپ میرے گھر کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھیں گی، میں آپ کو مہمان نوازی کے اسی جذبے سے یہاں آنے کی دعوت دے رہا ہوں، جس جذبے سے مدینے کے مسلمانوں نے مکہ میں مقیم اپنے مظلوم اور خوفزدہ مسلمان بھائیوں کو دعوت دی تھی اور میرا خیال ہے کہ آپ بھی ہجرت
کے اسی احساس کے تحت یہاں آئیں گی اور یہ سمجھ لیں گی کہ ایمان کا رشتہ خونی رشتے سے کہیں زیادہ مضبوط اور گہرا ہوتا ہے۔
یہاں آ کر آپ کو شادی میں توقف اس لیے بھی کرنا چاہیے کہ کچھ مدت میں میری اہلیہ آپ کو اس امر کی عملی تربیت دے سکیں گی کہ ایک پاکستانی بیوی اپنا گھر کیسے چلاتی ہے اور گھریلو معاملات سے کس طرح نمٹتی ہے۔ شادی کے نقطۂ نظر سے یہ تربیت انتہائی ضروری ہے اور ناگزیر ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ آپ کسی مغرب زدہ خاوند کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکیں گی، بلکہ مزاج اور فطرت کے اعتبار سے ایسے نوجوان کو پسند کریں گی جو اچھے مسلمان کی زندگی گزار رہا ہو اور اس نوعیت کی مقابل زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ یہاں کے مسلمان خاندانوں کے آداب معاشرت سے بخوبی واقفیت حاصل کرسکیں۔
آپ کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جب آپ لاہور پہنچیں گی تو ملک کا یہ حصہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہوگا۔ جون، جولائی اور اگست میں یہاں گرمی اپنے پورے عروج پر ہوتی ہے اور دن کے وقت درجۂ حرارت سو درجہ فارن ہائیٹ سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہمارے گھر ائیر کنڈیشنڈ نہیں ہوتے، لیکن بجلی کے پنکھے بہرحال استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ آپ آہستہ آہستہ ہمارے یہاں کے شدید موسموں کی عادی ہو جائیں گی لیکن یہاں پہنچتے ہی آپ کو موسم کی جس حدت اور شدت کا سامنا کرنا پڑے گا، ذہنی طور پر اسے برداشت کرنے کے لیے آپ کو تیار رہنا چاہیے۔
یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نیویارک میں پاکستان کے کونسل جنرل نے راہداری کے جملہ انتظامات میں تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ آپ کو ان سے اتنی مدت تک کے ویزہ کی یقین دہانی لے لینی چاہیے، جتنی مدت میں یہاں کی شہریت حاصل کی جاسکے۔ ابھی آپ اپنی شہریت تبدیل نہ کرائیں۔ ابھی آپ کو یہاں کچھ عرصے تک امریکی پاسپورٹ پر ہی رہائش اختیار کرنی چاہیے اور یہی مناسب رہے گا۔
اپنے ساتھ آپ روزمرہ استعمال کی جتنی چیزیں بھی آسانی سے لاسکیں، لے آئیں۔ بھاری کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے یہاں غیر ملکی مصنوعات اتنی مہنگی ہیں کہ امریکہ میں آپ ان کی گرانی کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ چنانچہ روزانہ ضرورت کی ہر چیز لے آئیے، پاکستان میں وہ چیزیں آسانی سے دستیاب نہیں ہو سکتیں۔
میں ایک علیحدہ خط آپ کے والدین کو بھی لکھ رہا ہوں۔ آپ خود بھی میرا تعارف ان سے کرا دیں اور میرے کچھ خطوط بھی انہیں دکھا دیں تاکہ ان پر وہ پس منظر واضح ہو جائے جس میں میں انہیں خط لکھ رہا ہوں۔
آپ کا دینی بھائی
ابوالاعلیٰ