مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام مس مارکس
لاہور
۱۹۔ مئی ۱۹۶۱ء
محترمہ مس مارکس
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۱۲۔ اپریل مجھے مل گیا ہے۔ میں دوبارہ معذرت خواہ ہوں کہ جواب میں پھر تاخیر ہوئی۔ وجہ وہی تھی جسے آپ پہلے سے جانتی ہیں۔ میری خرابیِ صحت اور کثرتِ کار۔ طویل علالت کے بعد بالآخر میں نے Deep Ex Ray کا علاج آزمایا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ اب خاصا صحت مند ہوں۔ تاہم نقاہت سے ابھی تک چھٹکارا نہیں ملا۔
میں نے ”اسلامک ریویو“ میں طبع شدہ وہ کہانی بڑی دلچسپی سے پڑھی ہے، جو آپ کے ناول کا حصہ ہے اور جس کا تراشہ آپ نے خط کے ساتھ ارسال فرمایا ہے۔ بلاشبہ آپ نے عرب مسلمانوں پر مغربی مادہ پرستی کے اثرات کی صحیح ترین عکاسی کی ہے۔ خود میں نے اپنی آنکھوں سے، گزشتہ سفر کے دوران میں عربوں کی زندگی پر ان اثرات کا نظارہ کیا ہے اور اسلام پسند مفکرین و مصلحین سے اس بارے میں گفتگو بھی کی ہے، چنانچہ آپ کی اس کہانی پر عرب مسلمانوں کے غم و غصے سے مجھے چنداں تعجب نہیں ہوا۔ صورتِ حال کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ راسخ العقیدہ اور مخلص مسلمان بھی اس واہمے کا شکار ہیں کہ اگر اسلام کی ”ایسی ہی رجعت پسندانہ اور دقیانوسی“ تصویر پیش کی گئی تو جدید تعلیم یافتہ مسلمان اور مغرب کے باشندے اس سے نفرت کرنے لگیں گے۔ چنانچہ اگر آپ کو اپنے خیالات کے جواب میں منفی اور مخالفانہ باتیں سننی پڑی ہیں، تو ان پر آپ کی پریشانی اور مایوسی فطری امر ہے، مگر آپ کو واقعات و حالات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ اگر آپ مستقل مزاجی اور استقامت کے ساتھ دینِ حق ...... اسلام...... کا پرچار کرتی رہیں تو کامیابی بالآخر آپ کے قدم چومے گی اور راستے کی ساری رکاوٹیں دم توڑ دیں گی۔ میرا مشورہ ہے کہ ہر شخص کو قائل کرنے کی کوشش نہ کریں، خصوصاً ان لوگوں پر تو وقت ضائع نہ کریں جو آپ کی بات پر توجہ دینا پسند نہ کرتے ہوں یا جن کے نظریات آپ سے قطعی متصادم ہوں، خواہ وہ آپ کے والدین ہی کیوں نہ ہوں۔ اس معاملے میں ارشادِ الٰہی ہے <<فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى>>: یعنی نصیحت اور تبلیغ اگر کارآمد ہو تو اسے جاری رکھو۔ اس قرآنی فرمان کی روشنی میں آپ سلامت طبع رکھنے والی ایسی سعید روحوں کو تلاش کریں جو اپنے آپ کو مادہ پرستانہ رجحانات و عقائد سے بلند کر سکیں اور اعلیٰ تر روحانی و اخلاقی اقدار کی تحسین کریں۔ جب تک آپ پہلے ایسے افراد تک رسائی حاصل نہیں کر لیں گی، آپ مادیت کے لق و دق ویرانوں میں اپنے آپ کو یک و تنہا محسوس کریں گی اور مخالف و بے حس لوگوں سے مسلسل بحث مباحثے اور مدلل گفتگوئیں آخر کار آپ کو قنوطی بنا دیں گی۔
یہ ایک ضروری اور قدرتی امر ہے کہ نام نہاد ”ترقی پذیر“ ممالک کو حتی الامکان تیز رفتاری سے اپنی پس ماندگی ختم کرنی چاہیے اور مادی ترقی میں مغربی ممالک کے برابر آنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر المیہ یہ ہے کہ امیر ملکوں سے آنے والی امداد کے نتیجے میں یہ اقوام مغربی تہذیب و ثقافت کی ایسی یلغار کا سامنا کر رہی ہیں جو ہمارے مذہب، ہمارے نظامِ اخلاق، ہماری تہذیب و تمدن غرض ہر اس معیار و اقدار کے لیے شدید خطرہ ہے جو ہمارے لیے بے حد عزیز و محترم ہیں اور جن سے ہماری بقا وابستہ ہے۔ اس پر ستم یہ کہ مسلم ممالک کی قیادت پر ایسے لوگ مسلط ہیں جو ذہنی طور پر احساسِ کمتری اور مغلوبیت کا شکار ہیں، مگر اپنی کم علمی اور جہالت کے باوصف شرعی قوانین کی من مانی تعبیر و تشریح کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال دوہری خطرناک ہے، یعنی ایک تو یہ اسلامی فکر و عمل کے لیے شر و فساد کا حکم رکھتی ہے جب کہ دوسری جانب اس سے اسلامی ملکوں میں کمیونزم کی راہیں کھلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ظاہر ہے جب مسلمان عوام اپنی مقدس و محترم اقدارِ حیات کو کھلی آنکھوں ذلیل ورسوا ہوتے دیکھیں اور ان کی موت وحیات کا مدار محض چند مادی افکار پر ہو جائے تو پھر اسلامی دنیا میں کمیونسٹ پروپیگنڈا خوب بارآور ہو گا اور تخریب کاری اور سازشوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی کے نتیجے میں اسلامی ملکوں میں ناقابل تلافی ہزیمتوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور جس قسم کے حالات چین میں پیدا ہوئے تھے، ویسی ہی تاریخ یہاں دہرائی جائے گی نتیجتاً امریکہ جتنی کچھ مدد ان ملکوں کی کرتا ہے وہ سب کمیونسٹوں کے قبضے میں چلی جائے گی۔ دراصل اسلام کے خلاف صدیوں پرانے گہرے تعصب اور مسلمانوں کے لیے شدید نفرت اور دشمنی نے امریکہ اور یورپ والوں کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ وہ اپنے نفع نقصان سے بھی عاری ہو گئے ہیں۔
اپنے (گزشتہ) خط کے آخر میں آپ نے مجھ سے جو استفسار کیا ہے، یقیناً وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بے حد اہم ہے۔ یہ بعینہ وہی مسئلہ ہے جسے میں گزشتہ پینتیس برسوں سے حل کرنے کی تگ و دو کر رہا ہوں۔ میں نے اسلام کی تفہیم اور اس کے احیاء کے لیے اس وقت کوششیں شروع کیں جب میری عمر محض تئیس برس تھی اور اس وقت سے لے کر آج تک میں نے اپنی زندگی اس مقصد کی خاطر وقف کر رکھی ہے۔ اور اس دوران میں میں نے کبھی مدافعانہ حربوں یا معذرت خواہانہ ہتھکنڈوں سے کام نہیں لیا۔ اس کے برعکس میں نے سہ رخی جارحانہ جنگ لڑی ہے۔ یعنی ایک طرف میں نے مغربی تہذیب کی نظریاتی بنیادوں پر بے رحمی سے حملے کیے ہیں۔ دوسری جانب مقدور بھر ہمت و توفیق کے مطابق اسلام کی نظریاتی بنیادوں کی تشریح و توضیح کی ہے۔ میں نے پوری شرح وبسط کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ اسلامی ضابطۂ حیات سے کیا مراد ہے اور کس طرح ہر شعبۂ زندگی میں یہ مغربی اطوارِ حیات پر فوقیت رکھتا ہے۔ تیسرے نمبر پر میں نے ایسے اہم مسائل کا اسلامی نقطۂ نظر سے عملی حل پیش کیا ہے، جن کے بارے میں اس سے قبل بالغ نظر مسلمان بھی مغرب کی طرف دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں پاتے تھے۔ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان اور ہندوستان میں ہر شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے ایسے لاکھوں افراد تیار ہو چکے ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کے لیے جوش و خروش اور خلوص کے ساتھ میری معاونت کر رہے ہیں۔ میری تقریباً پچیس اردو کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہو چکا ہے اور عرب ممالک کا ایک بڑا طبقہ ان کا مداح بھی ہے اور میرے خیالات سے ہمدردی بھی رکھتا ہے۔ اللہ کی اس بے پایاں عنایت کے لیے میرا سر بے اختیار اس کے حضور میں جھک جاتا ہے اور زبان پر اس کی حمد و ثنا جاری ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے اب تک میری چند ہی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہو سکا ہے۔ اگر آپ اردو سیکھ سکیں، تو میرا اندازہ ہے کہ امریکہ میں اسلام کی جنگ لڑنے کے لیے میری کتابیں آپ کی خاص معاون ثابت ہوں گی۔
شاید آپ نہیں جانتیں کہ ۱۹۴۱ء سے برصغیر پاک و ہند میں ایک تنظیم جماعتِ اسلامی کے نام سے کام کر رہی ہے۔ یہ جماعت اس نظریے اور فلسفے کی تبلیغ کرتی اور اسے عملاً بروئے کار لانے کی سعی کرتی ہے جو میری تحریروں میں موجود ہے۔ ۱۹۴۷ء میں جب کہ برصغیر دو ملکوں میں منقسم ہوا، یہ تنظیم بھی دو حصوں میں بٹ گئی یعنی جماعتِ اسلامی پاکستان اور جماعتِ اسلامی ہند۔ اول الذکر پر ۱۹۵۸ء میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اُس وقت پابندی عاید کر دی گئی جب صدر ایوب خاں نے مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ جب کہ ثانی الذکر اپنی آزاد قیادت کے تحت اب تک برسرِ عمل ہے۔ میں نے یہ ساری داستان آپ کو صرف یہ بتانے کے لیے سنائی ہے کہ مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ سالہا سال کام کرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں کسی مقصد میں کامیابی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ذہنی اور اخلاقی اعتبار سے انسان اعلیٰ معیارات کو عملاً اختیار کرے۔ یہ ابتدا سے لے کر انتہا تک انتہائی مشکل اور جانگسل لڑائی ہے۔ آپ نے یہ جدوجہد ابھی شروع ہی کی ہے اور مجھے خوب اندازہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں ایک نوجوان غیر شادی شدہ نومسلم خاتون کے لیے یہ فریضہ کس قدر دشوار اور تکلیف دہ ہے، لیکن اب جب کہ آپ نے اسلام قبول کر لیا ہے اور مسلمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے بھی بخوبی آگاہی حاصل کر لی ہے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرنی چاہیے جس نے ان ذمہ داریوں کے لیے آپ کو چن لیا ہے۔ اب آپ اپنی کوششوں میں جس قدر سنجیدہ اور مخلص ہوں گی، اللہ تعالیٰ کی فتح و نصرت اسی قدر آپ کے شاملِ حال ہوگی اور یہ ایسے ذریعوں اور واسطوں سے آئے گی کہ ہم اور آپ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔
آخر میں اس امر کا اظہار کرتا چلوں کہ صحت کی خرابی کے باوجود مجھے متنوع اور متضاد قسم کے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔ روزانہ مجھے لکھنے پڑھنے کا اچھا خاصا کام کرنا پڑتا ہے، روزانہ ہی بے شمار خط بھی آتے ہیں (جن کے جواب لکھتا ہوں) اور بہت سے لوگ ملنے بھی آتے ہیں، اس لیے اگر میں آپ کو جلد جواب نہ دے سکوں تو براہِ کرم محسوس نہ کریں اور اپنی خیریت اور سرگرمیوں سے مجھے برابر مطلع کرتی رہیں۔ اسلام کے لیے آپ جو مساعی کر رہی ہیں، مجھے ان سے بے حد دلچسپی ہے۔ میں آپ کے مقالات اور مکتوبات کے اقتباسات اپنے اردو رسالے ”ترجمان القرآن“ میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ براہِ کرم بتائیے کہ آپ نے اپنا اسلامی نام کیا رکھا ہے؟ والسلام
آپ کا مخلص
ابوالاعلیٰ