مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام سید مودودی
نیویارک
۳۱۔ جنوری ۱۹۶۱ء
محترمی مولانا مودودی!
کئی روز ہوئے، میں نے آپ کی طرف سے کتابوں اور پمفلٹوں کا تحفہ وصول کیا۔ خوب! یہ تو ایک چھوٹی موٹی لائبریری کے برابر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ کا شکریہ ادا کر ہی نہیں سکتی۔ صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ اس عظیم تحفے کو میں قیمتی خزانہ سمجھ کر سنبھال کر رکھوں گی...
کل ہی آپ کا خط بھی ملا۔ اس میں آپ نے لکھا ہے کہ جب آپ میری تحریروں کو پڑھ رہے تھے تو یوں محسوس کر رہے تھے گویا اپنے خیالات کا مطالعہ کر رہے ہوں۔ بالکل یہی معاملہ میرے ساتھ پیش آیا ہے۔ جب میں آپ کی کتابوں اور مقالوں کا مطالعہ کرتی ہوں تو ہو بہو یہی احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے ہی خیالات و نظریات کو پڑھ رہی ہوں۔ فرق محض یہ ہے کہ یہ زیادہ زور دار طریقے سے بیان ہوئے ہیں اور جس خوبی سے اور مکمل انداز میں ان کی وضاحت ہوئی ہے، شاید ویسی قدرت میں کبھی حاصل نہ کر سکوں۔
حال ہی میں میں نے دو مضمون لکھے ہیں۔ ان میں سے ایک علامہ اقبال کی شاعری کے بارے میں ہے (میری کتاب ISLAM VERSES THE WEST میں دیکھیے علامہ اقبال کے بارے میں مضمون)۔ پوری ہم عصر اسلامی دنیا میں علامہ اقبال وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے لازوال ادبی اقدار کو مردِ مسلمان کا استعارہ بنا کر پیش کیا ہے۔ دوسرے مضمون کا عنوان ہے ”مغربی مادیت کے فلسفیانہ ماخذ“ اس میں میں نے کھوج لگایا ہے کہ مغربی مادیت نے دراصل قدیم یونانی تہذیب کی کوکھ سے جنم لیا ہے، یہ یورپین نشاۃِ ثانیہ کا دودھ پی کر جوان ہوئی ہے اور اب کمیونزم جیسے نظریات کی صورت میں اپنے کمال کو جا پہنچی ہے۔ اسی مضمون میں مَیں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ آج ہم جن مفاسد کا سامنا کر رہے ہیں، یہ نتیجہ ہیں ان رجحانات کا جو گزشتہ پانچ سو برس سے فروغ پا رہے ہیں۔ چنانچہ یہ محض اتفاق کی بات نہیں کہ مغربی فکر کے تمام بڑے رہنما کٹر مادہ پرست تھے۔ حقیقتِ واقعی یہ ہے کہ جدید مغربی تہذیب چرچ کے خلاف کھلی بغاوت کا نام ہے، جس نے آخر کار تمام مذاہب اور روحانی اقدار کے خلاف کھلی جنگ کی صورت اختیار کر لی۔ یوں مادّہ پرستی یورپ کے خمیر میں داخل ہے اور اس کی تہذیب کا ایک لازمی جزو۔ بد قسمتی سے ایشیا اور افریقہ کے رہنماؤں نے بھی، جیسا کہ آپ نے اپنے کتابچے ”مسئلہ قومیت اور ہندوستان“ میں بیان فرمایا، یورپ سے یہی سبق سیکھا کہ اپنے قومی ورثے کی تحقیر کرو اور اپنے آپ پر مادّہ پرستانہ فلسفوں کا رنگ چڑھا لو۔ یوں یہ لوگ تضاد اور عبرت کا عجیب نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ یعنی ایک طرف تو اپنے سابق آقاؤں کے خلاف نفرت اور غضب کا شدید لاوا ان کے ذہنوں میں کھول رہا ہے، مگر دوسری جانب یہ انہی کے عقاید و نظریات کے پُر جوش پرچارک اور علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں یہی صورتِ حال ایشیا اور افریقہ اور آج کل خصوصاً کانگو میں خونریز انقلابات کا پیش خیمہ بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ افریقہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، مَیں ڈرتی ہوں وہاں آپ کو سفر کے دوران کسی خطرناک صورتِ حال سے سابقہ پیش نہ آئے۔ مَیں جب مصر یا ایسے ہی دیگر مسلم ممالک کے بارے میں پڑھتی ہوں کہ وہاں خارجہ پالیسی میں روس اور چین جیسے کمیونسٹ ملکوں کی پیروی کی جا رہی ہے، تو سخت تشویش اور دکھ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے ان اسلامی ملکوں خصوصاً مصر سے دلی ہمدردی ہے، لیکن افسوس ان کی حکمت عملیوں میں اسلام کہیں کار فرما نظر نہیں آتا۔ سطحی نظر رکھنے والا مسلمان شاید یہ دیکھ کر بہت خوش ہو کہ جمال ناصر افریقہ میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے بڑا سرگرم ہے، مگر باخبر حضرات خوب جانتے ہیں کہ وہ یہ سارا کھڑاگ محض اپنا ذاتی قد کاٹھ بڑھانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے رچا رہا ہے، اسلامی عقائد کی تبلیغ و تشہیر ہرگز اس کا مطمح نظر نہیں ہے۔
میری یہ مخلصانہ رائے ہے، اور یہ رائے گہرے مطالعے اور غور و فکر سے بنی ہے، کہ اسلام کو جس طرح آپ نے سمجھا ہے اور جس طرح آپ نے اپنی گرانقدر کتابوں TOWARDS UNDERSTANDING ISLAM اور LAW AND CONSTITUTION اور دیگر کتابچوں میں اسے پیش فرمایا ہے اور جو آپ نے ازراہ نوازش مجھے بھی بھجوائے ہیں، وہ اسلام کی صحیح ترین تعبیر و تشریح ہے اور میں یہ کہتے ہوئے خدانخواستہ کسی کے خلاف تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔ میرے دل میں آپ کے لیے اس اعتبار سے بے حد عقیدت و احترام ہے کہ آپ نے اسلام کو اس کے بے میل، صحیح پس منظر میں دیکھا ہے اور ”وقت“ کی کسی عارضی و سطحی مصلحت سے اسے مملو نہیں کیا، نہ ہی کسی اجنبی نظریے یا فلسفے کی اس میں آمیزش ہونے دی ہے۔ آپ نے اسلام کو جس طور سے اپنی کتابوں اور تحریروں میں پیش کیا ہے، اس کی روشنی میں میرا تأثر یہ ہے کہ اسلام واحد اور اعلیٰ و ارفع اسلوب حیات ہے، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ بہت سے مسلمان ایسا نہیں سمجھتے۔ میں نیویارک کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سے مسلمان طالب علموں سے ملی ہوں، وہ مجھے باور کرانے کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ کمال اتاترک بہت اچھا مسلمان تھا اور یہ کہ اسلام کو ہم عصر فلسفوں اور نظریات کے مقرر کردہ معیارات کو بہر حال قبول کر لینا چاہیے۔ یہ مسلمان طلبہ اس امر کی بھی وکالت کرتے ہیں کہ اسلام کا ہر وہ اصول اور عمل جو جدید مغربی تمدن سے ٹکراتا ہے، مسترد کر دینا چاہیے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس طرز فکر کو ”روشن خیالی“، ”ترقی پسندی“ اور ”آزاد روی“ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ ہماری طرح کے لوگوں کو ”جنونی“ اور رجعت پسند (REACTIONARIES AND FANATICS) کہہ کر مطعون کیا جاتا ہے اور فتویٰ دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ وقت کے حقائق کا سامنا نہیں کر سکتے۔
آپ نے اپنے کتابچے ”مسئلہ قومیت اور ہندوستان“ میں مغربی لباس پہننے والے مسلمانوں پر نکتہ چینی کی ہے۔ اکثر لوگ اسے معمولی بات قرار دے کر مسترد کر دیں گے، مگر میرے خیال میں یہ معاملہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ <<مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ>> یعنی جو کفار کی نقل کرتا ہے، وہ انہی میں سے ہو گا۔
میرا خیال ہے کہ مسلمان اپنی وضع قطع میں خاص انفرادیت رکھتا ہے اور اس کے اظہار میں اسے فخر محسوس کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ میں جب بھی کسی مسلمان رہنما کو مکمل مغربی لباس میں اور بغیر داڑھی کے دیکھتی ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ اس کا ایمان ناقص ہے، جبھی تو یہ زبان حال سے پکار رہا ہے کہ دنیا والو! میں اپنی بنیادی حیثیت پر شرمندہ ہوں۔ کیا آپ نے محمد اسد کی کتاب ISLAM AT THE CROSSROADS کا مطالعہ فرمایا ہے؟ موصوف نے اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی ہے۔
آپ کو اس امر پر تعجب ہے کہ روایتی امریکی گھرانے میں پلنے والی ایک لڑکی کس طرح اسلام کے قریب آگئی۔ ظاہر ہے آپ کا یہ تأثر حیران کن نہیں۔ میں آپ کو یہ دلچسپ روداد سناتی ہوں:
میری عمر دس برس کی تھی اور میں اصلاح یافتہ یہودیوں کے سنڈے اسکول میں پڑھتی تھی جب میں یہودیوں کی المناک تاریخ سے واقف اور متاثر ہوئی۔ خصوصاً حضرت ابراہیمؑ اور ان کے بیٹوں حضرت اسماعیلؑ اور حضرت اسحاقؑ نے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے۔ یہ جان کر بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ حضرت اسحاقؑ یہودیوں کے مورثِ اعلیٰ ہیں جب کہ حضرت اسماعیلؑ عربوں کے جد امجد ہیں اور یوں یہ دونوں قومیں نہ صرف گہری قرابت کے رشتے میں منسلک ہیں بلکہ بہت سے ادوار میں ان کی تاریخ باہم یکسانیت بھی رکھتی ہے۔ مطالعے سے یہ بھی پتہ چلا کہ ہسپانیہ کے اسلامی دور میں یہودیوں نے عبرانی تہذیب کا گویا سنہری زمانہ بسر کیا۔ صہیونی عزائم سے بے خبر میں ایک عرصے تک اس بھولپن کا شکار رہی کہ یورپ کے یہودی فلسطین میں محض صحیح النسل سامی قوم کی حیثیت سے عربوں کی طرح زندگی گزارنے کے لیے ہجرت کر رہے ہیں۔ میں یہ سوچ کر نہال ہو جاتی کہ یہودی اور عرب ایک مرتبہ پھر یک جائی و یک رنگی اختیار کر لیں گے اور سپین کی مانند از سرِ نو ایک عہدِ زریں برپا ہوگا۔
جوانی اور طالب علمی کا سارا زمانہ میں نے ایک قسم کے معاشرتی مقاطعے میں گزارا۔ میں دن کا بیشتر حصہ لائبریری میں کتابیں پڑھتے ہوئے گزار دیتی۔ مردوں سے میل جول، رقص و سرود کی محفلوں میں شرکت اور سینما بینی سے مجھے سخت نفرت تھی۔ اسی طرح میں نت نئے لباسوں، زیورات یا میک اپ کا بھی کوئی شوق نہ رکھتی تھی۔ سگریٹ نوشی کو میں بیہودہ حرکت اور پیسے کا ضیاع سمجھتی تھی۔ باوجود اس کے کہ امریکہ میں ہر لڑکی شراب پیتی ہے تاکہ مخلوط پارٹیوں میں وہ مقبول و ہر دلعزیز قرار پائے اور باوجود اس کے کہ میرے والدین شراب کو زندگی کی مسرتوں کا اٹوٹ حصہ سمجھتے تھے، میں نے اسے کبھی منہ نہیں لگایا۔ سوائے اس کے کہ چند ہم عمر لڑکیوں اور لڑکوں سے میرے رسمی مراسم تھے، ہائی اسکول کی آٹھ سالہ تعلیم کے دوران میں نے کبھی کسی سے دوستی استوار نہیں کی۔
میں نیویارک یونیورسٹی کے دوسرے سال میں پڑھتی تھی جب میری ملاقات ایک ایسی نوجوان یہودی لڑکی سے ہوئی جو اسلام قبول کرنے کا مصمم ارادہ کر چکی تھی۔ چونکہ عربوں کے بارے میں میری رائے بڑی مثبت اور خوشگوار تھی اور میں ان کی تہذیب اور تاریخ میں گہری دلچسپی رکھتی تھی، اس لیے میری خواہش پر اس نے نیویارک میں مقیم کچھ عربوں اور مسلمانوں سے میرا تعارف کرایا۔ میں اور متذکرہ سہیلی ”اسلام میں یہودیت“ نام کا ایک ایسا مضمون پڑھتی تھیں جسے ایک یہودی ربی پڑھاتا تھا۔ ربی بظاہر مذاہب کے تقابلی مطالعے کی آڑ میں اپنے شاگردوں کو یہ درس دیا کرتا کہ اسلام میں ہر اچھی بات براہِ راست عہد نامہ قدیم، تلمود اور تورات کی قدیم واعظانہ تشریحات سے اخذ کی گئی ہے۔ ہماری نصابی کتاب JUDAISM IN ISLAM (مطبوعہ واشنگٹن اسکوائر پریس، نیو یارک ۱۹۵۴ء) اسی ربی نے ترتیب دی تھی اور قرآن کی دوسری اور تیسری سورتوں کی فرداً فرداً آیات کا حوالہ دے کر ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان کا ماخذ مختلف یہودی کتب ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کلاس روم میں ایسی فلمیں اور رنگین سلائیڈیں بھی دکھائی جاتیں جو یہودی ریاست اسرائیل کی عظمت و شوکت کی عکاسی کرتی تھیں...... لیکن ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ نصابی قسم کے اس پروپیگنڈے نے میرے دل و دماغ پر اسلام کے مقابلے میں یہودیت کی بالا تری تو کیا ثابت کرنی تھی، میں نے ایک برعکس نقطۂ نظر اختیار کر لیا کیونکہ اس حقیقت کے باوجود کہ عہد نامہ قدیم میں خدا کے بارے میں کچھ عالمگیر نظریات بھی موجود ہیں اور ایسے اعلیٰ اخلاقی ضوابط بھی جن کی تعلیم مختلف انبیاء نے دی تھی، یہودیت نے ہمیشہ ہی اپنے قبائلی اور نسلی تشخص کو پیش نظر رکھا ہے اور چند شریفانہ عقائد کے سوا یہودیوں کی کتب، یہودی تاریخ اور ان کا خدا ایک قبائلی حوالہ بن کے رہ گئے ہیں۔ مقامیت کے اسی تنگ نظرانہ پس منظر نے صہیونیت کی شکل میں نیا بہروپ اختیار کر لیا ہے اور وہ بھی سر تا پا لادینیت پر مبنی۔ چنانچہ یہ امر چنداں تعجب ناک نہیں کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کو اگر چہ نہایت راسخ العقیدہ اور کٹر یہودی بھی عہد حاضر کے عظیم ترین یہودیوں میں شمار کرتے ہیں، لیکن موصوف خدا کی کسی حیثیت کے قائل نہیں، نہ صفاتی نہ مابعد الطبیعیاتی۔ انہوں نے کبھی عبادت خانے میں حاضری نہیں دی، نہ ہی وہ مخصوص یہودی قوانین، رسوم یا روایات پر یقین رکھتے ہیں۔ بیشتر یہودی قائدین خدا کے بارے میں یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ وہ بالا تر قسم کی ایک ایسی ہستی ہے جو یہودی مفادات کے لیے مختلف نوعیت کے وسائل تقسیم کرتی رہتی ہے۔ چنانچہ صہیونیت نے مغرب کے جدید اور بدترین نظریہ قومیت کو من وعن قبول کر لیا ہے۔ ظاہر ہے مفاد پرستی اور ابن الوقتی کا یہی فلسفہ ان کے ذہنوں کو ان مظالم پر مطمئن کر سکتا تھا جو انہوں نے عرب اکثریت کو فلسطین سے بے دخل کر کے اور اسرائیل میں مقیم باقی ماندہ عرب اقلیت کو ذلیل و رسوا کر کے انجام دیے ہیں اور یوں وہ عرب دنیا کے ’’اندھیروں‘‘ میں ’’ترقی‘‘ اور ’’روشن خیالی‘‘ کا مینارہ بن گئے ہیں۔ میرے نزدیک یہ امر بڑی تشویش کا باعث ہے کہ اسرائیل اگرچہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں کہیں زیادہ آگے ہے مگر وہاں ایسے انتہا پسند اور برخود غلط قبائل آباد ہو گئے ہیں جو اپنے آپ کو سارے انسانوں سے برتر و اعلیٰ سمجھتے ہیں، اور یہی بات عالمی امن کو کسی وقت بھی خاکستر کر سکتی ہے۔ میں نے ایک مرتبہ مسز گولڈا مئیر کو جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سنا تھا، وہ کہہ رہی تھیں: ’’میں ہر اس شخص کی مخالفت کرتی ہوں جو اسرائیل کو اس کے مفتوحہ علاقوں سے بیدخل کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے نزدیک اخلاقی معیار صرف ایک ہے کہ یہودی ریاست میں یہودی عوام کو اپنی بقا کی مکمل ضمانت حاصل رہے۔‘‘
یہاں موصوفہ نے کسی دوسری قوم کی سالمیت کی ذرہ برابر پروا نہیں کی تھی۔ اسی دوران میں یہ بات بھی میرے علم میں آئی کہ یہودی علماء عیسائیوں کے مقابلے میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہیں زیادہ بغض اور عداوت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور آج کی اصلاح یافتہ یہودیت بھی منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ یوں اگرچہ میں نسلی طور پر یہودی ہوں، مگر میرے خیالات و عقائد یہودیوں سے کوئی لگا نہیں کھاتے۔
چونکہ میرے والدین راسخ العقیدہ یہودی نہیں تھے اور افکار و عمل، طرزِ حیات اور عام اطوار کے اعتبار سے روایتی امریکیوں کی ہو بہو نقل تھے، اس لیے دو برس تک یہودی مذہبی اسکول میں تعلیم پانے کے بعد میں نے ’’تحریک تہذیب و اخلاق‘‘ Ethical Culture Movement میں داخلہ لے لیا۔ یہ ادارہ آنجہانی ڈاکٹر فیلکس ایڈلر نے انیسویں صدی کے اواخر میں قائم کیا تھا۔ آپ نے اپنے کتابچے ’’اسلام کا نظام اخلاق‘‘ میں اس خود ساختہ لا ادری [AGNOSTIC_ لا ادری، جو خدا یا کائنات کی ابتدا کے بارے میں کوئی علم رکھنے سے انکار کرتا ہو۔]تحریک کا ذکر کیا ہے جو اخلاقی اقدار کی کسی فوق الفطری بنیاد کو تسلیم نہیں کرتی اور اضافی اور نظری حیثیت کے ساتھ ساتھ محض من گھڑت ہے۔ میں نے اخلاقی تہذیب کے اس اسکول میں چار برس تک ہفتہ وار کلاسوں میں حاضری دی حتیٰ کہ پندرہ برس کی عمر میں گریجوایشن کا کورس مکمل کر لیا۔ اس وقت سے اکتوبر ۱۹۵۴ء تک جب کہ میں نے نیویارک یونیورسٹی کی ”ربی کیش کی کلاس“ میں داخلہ لیا، مجھ پر مکمل طور پر دہریت والحاد کا رنگ چڑھ رہا اور تمام مذاہب میرے نزدیک واہمے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ ایک روز لیکچر کے دوران ربی کیش نے بتایا کہ وہ تمام اخلاقی قدریں جو عالمگیر سطح پر ہر انسان اپنی پیدائش کے ساتھ اختیار کرتا اور ان سے مستفید ہوتا ہے، دراصل اللہ کی تخلیق کردہ ہیں، ان کے بنانے میں انسان کا کوئی عمل دخل ہے، نہ یہ اضافی یا ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس سلسلے کے تفصیلی دلائل تو میرے ذہن میں محفوظ نہ رہے، لیکن وہ اتنے ٹھوس تھے اور ان میں اتنی منطقیت تھی کہ یہ میری زندگی میں زبردست انقلاب کا پیش خیمہ بن گئے۔
اس کے بعد میں نے جوں جوں قرآن کا خوب غور سے مطالعہ کیا، میرا یہ احساس قوی ہوتا گیا کہ اسلام اور صرف اسلام نے عربوں کو ایک عظیم و منفرد قوم بنا دیا تھا اور قرآن کے بغیر آج عربی زبان بھی شاید معدوم ہو چکی ہوتی یا کم از کم اس کی وہی کیفیت ہوتی جو افریقہ کے غیر مہذب زولو قبائل کی زبان ہے یعنی مبہم اور بے حیثیت۔ میں اس نتیجے پر پہنچی کہ تمام عرب لٹریچر اور ثقافت اپنے وجود کے لیے قرآن کا مرہونِ منت ہے، اس لیے عرب کلچر اور اسلام باہم لازم و ملزوم ہیں۔ دوسرے کے بغیر پہلا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
اگرچہ میرے والدین مروجہ تہذیب اور خصوصاً صہیونیت کے خلاف میری دشمنی کا ادراک کرنے سے قاصر تھے، تاہم زندگی کا جو ڈھب میں نے اختیار کیا، انہوں نے اس میں کوئی مداخلت نہ کی۔ اوّل اوّل انہوں نے اسلام کی طرف میرے میلان کی حوصلہ شکنی، کی محض اس خدشے سے کہ میں ان کی اور باقی خاندان کی دشمن ہو جاؤں گی، مگر اب جب کہ وہ میرے عزمِ راسخ سے آگاہ ہو گئے ہیں، انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ نہ تو وہ مجھے تبدیلیِ مذہب سے روکیں گے نہ ہی اس طرزِ زندگی کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی کریں گے جسے اختیار کر کے مجھے حقیقی مسرت حاصل ہوگی۔ اگرچہ ہر معاملے میں وہ میرے خیالات سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن وہ بڑے ہی متحمل مزاج اور وسیع الظرف ہیں۔ انہوں نے نہ مجھے کبھی جائیداد سے عاق کرنے کی دھمکی دی ہے نہ ہی میرا مقاطعہ کرنے کی۔ کتنا فرق ہے میرے ماں باپ اور کٹر یہودی والدین میں۔ ان کا جو بچہ کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لیتا ہے وہ ان کے نزدیک گویا مر جاتا ہے۔
کل میں نیویارک کے مرکزِ اسلامی میں گئی تھی، جہاں کے امام ڈاکٹر نور الدین شریع جو الازہر کے فارغ التحصیل ہیں، اب مجھے عربی میں پنج وقتہ نماز پڑھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ آئندہ رمضان میں جس کے روزے میں پہلی مرتبہ رکھوں گی، نمازوں کا التزام بھی شروع کر دوں گی۔
یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ جب ہمارے نظریات میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے تو باہم مل جل کر کام کرنا مناسب رہے گا یا اپنے اپنے دائرہ عمل میں مصروفِ کار رہیں۔ اس طویل خط کی گزارشات کی روشنی میں براہِ کرم مجھے مفید مشوروں سے ضرور نوازیے۔ بہت شکر گزار ہوں گی۔
عقیدت کیش
مارگریٹ مارکس