مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

بنام مریم جمیلہ

لاہور

۳۱/مارچ ۱۹۶۲ء

محترمہ مریم جمیلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا مکتوب مورخہ ۲۲۔ مارچ موصول ہوا۔ آپ نے جس خلوص اور عقیدت سے میری صحت اور خیریت کے متعلق دریافت کیا ہے، اس کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ فکر مندی دراصل فطری نتیجہ ہے اس روحانی رشتے کا جو تمام سچے مسلمانوں کے درمیان خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ بہرحال آپ کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ میں بفضل اللہ کامل خیر و عافیت سے ہوں۔ میرا محکم یقین ہے کہ جب ایک انسان اللہ پر بھروسہ کرتا اور اخلاص و دیانت کے ساتھ اس کے دین کا کام کرتا ہے تو پھر ہر مقام پر اسے ذاتِ باری کی حفاظت اور رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے چنانچہ گزشتہ تین برسوں میں ایک لمحے کے لیے بھی میں اپنی ذاتی حفاظت کے سلسلے میں فکر مند نہیں ہوا، نہ میں نے اس ضمن میں کسی اہتمام کی ضرورت ہی محسوس کی ہے۔ اس کے برعکس صداقتِ ازلی ہی میری سوچوں کا مرکز و محور بنی رہی ہے اور اسے ہی میں نے غیر مبہم انداز میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بیان کیا ہے اور کبھی پروا نہیں کی کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔ بدقسمتی سے جن لوگوں کو حق و صداقت سے پرخاش ہے، انہوں نے مجھے اپنے راستے سے ہٹانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، لیکن بحمد اللہ ان کی تمام سازشیں خاک میں مل گئیں بلکہ الٹا میرے لیے مفید ثابت ہوئیں۔ امید واثق ہے کہ میرا مالکِ حقیقی مستقبل میں بھی میری اسی طرح حفاظت فرمائے گا اور میرے دشمنوں کو ناکام و خاسر کرے گا۔

میں نے ایک عرصہ پہلے آپ کی مشکلات و مسائل کا اندازہ کر لیا تھا اور امریکی معاشرے میں آپ کے مستقبل سے پُر امید نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے پہلے ہی خط میں آپ کو مشورہ دیا تھا کہ امریکہ کی سکونت چھوڑ کر کسی اسلامی ملک، ترجیحاً پاکستان، میں چلی جائیں۔ میرا خیال تھا کہ اگر آپ پاکستان آ جائیں تو عارضی طور پر میں آپ کو اپنے گھر میں ٹھہرا لوں گا اور آپ یہاں خاندان کے ایک فرد کا سکون محسوس کریں گی۔ پھر مناسب وقت پر میں آپ کا تعارف کچھ نیک اور باکردار مسلمان نوجوانوں سے کرا دوں گا، اور ان میں سے جس کو آپ پسند کریں گی، اس سے آپ کا نکاح کر دوں گا اور یوں آپ دونوں پاکستان کی تحریکِ اسلامی کے مفید کارکن ثابت ہوں گے...... لیکن جب یہ بات سامنے آئی کہ آپ امریکہ ہی میں رہنا مناسب سمجھتی ہیں، تو میں نے یہ پروگرام ترک کر دیا۔

لیکن اب جب کہ میں نے آپ کے مسائل پر غور کیا ہے تو میں دوبارہ آپ کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں...... مگر چونکہ آپ امریکہ میں ہیں اور زرِ مبادلہ کی بے شمار پابندیاں درمیان میں حائل ہیں، اس لیے میں آپ کی مالی مدد نہیں کر سکوں گا۔ چنانچہ میرا مشورہ ہے کہ قبل اس کے کہ آپ کے مالی حالات مزید خراب ہوں، امریکہ کو فوراً خیرباد کہہ دیں اور جب ایک مرتبہ آپ یہاں پہنچ جائیں گی تو انشاء اللہ آپ کو اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں رہے گی۔

اس ضمن میں میں چاہتا ہوں کہ آپ کے والدین پر ساری صورتِ حال واضح کر دوں۔ آپ انہیں بے تکلفی سے بتا دیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کا امریکہ میں رہنا کس قدر دشوار ہو جائے گا اور یہ کہ آپ کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ خوشی سے آپ کو پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کی اجازت دے دیں۔ انہیں اس امر سے بھی آگاہ کر دیں کہ جو شخص آپ کو یہ انتہائی قدم اٹھانے اور پاکستان میں چلے آنے کی دعوت دے رہا ہے، وہ آپ کے والدین کے بعد شاید آپ کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے اور وہ محض مشورہ دے کر ہی الگ نہیں ہوا، بلکہ اس سلسلے کی پیش آمدہ ساری ذمہ داریوں سے عہد برآ ہونے کا اعلان کرتا ہے اور اگر آپ اور آپ کے والدین نے اس پیش کش پر اعتماد کیا تو انشاء اللہ اس اعتماد کو ہرگز زک نہیں پہنچے گی۔

آپ کا ہم مذہب

ابوالاعلیٰ