مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
عرض مترجم
میں نے اس کتاب کا ترجمہ 1985ء میں کیا تھا اور اسی برس محترمہ مریم جمیلہ کے شوہر جناب محمد یوسف خاں صاحب نے اسے شائع کر دیا تھا، لیکن بوجوہ کتاب کی معمولی سی بھی تشہیر نہ ہوئی۔ نہ کہیں تبصرہ چھپا، نہ کہیں اشتہار دینے کی ضرورت محسوس کی گئی، لیکن شاید موضوع کی مناسبت اور اہمیت کے پیش نظر صاحبِ ذوق قارئین نے اسے پسند کیا اور اس کے دو یا تین ایڈیشن نکل گئے۔ اب یہ کتاب گزشتہ لمبے عرصے سے آؤٹ آف پرنٹ تھی۔ اور ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اسے دوبارہ شائع کیا جائے۔ یہ بھی صاف نظر آ رہا تھا کہ محمد یوسف خاں صاحب اپنی عمر کے تقاضوں کے حوالے سے اسے شائع نہیں کر سکیں گے، اس لئے میں نے از خود اس کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے اور یہ موجودہ صورت میں آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
کتاب کے پہلے ایڈیشنوں میں ایک خامی رہ گئی تھی یعنی انگریزی کتب و رسائل کے اصل نام نہیں دیئے گئے تھے اور ان کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی، اب یہ فروگزاشت دور کر دی گئی ہے اور اصل انگریزی نام بھی کمپوز کرا لیے گئے ہیں۔ بحمد اللہ تعالیٰ ترجمے کی زبان میں کسی اصلاح یا ترمیم کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تاہم کتاب کے آخر میں ضمیمے کے طور پر محترمہ مریم جمیلہ کے قبولِ اسلام کے بارے میں ایک مضمون شامل کر دیا گیا ہے۔ یہ سرگزشت میری کتاب ”ہم کیوں مسلمان ہوئے؟“ میں بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر پروفیسر عبدالقادر خان (شعبہ سیاسیات گورنمنٹ کالج سرگودھا، یونیورسٹی) علمی اور تحقیقی دنیا کا ایک معتبر نام ہے، میں ان کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے اس کتاب کے ترجمے کو پسند فرمایا اور اپنی بے لاگ رائے تحریر کر دی۔ یہ تحریر موصوف محترم نے کتاب کے پہلے ایڈیشن پر 24/10/1985 کو تحریر کی تھی اور کتاب کے بیک ٹائٹل پر دیکھی جاسکتی ہے۔
عبدالغنی فاروق
لاہور ۸۔ اگست ۲۰۰۸ء