مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

بنام مس مارکس

لاہور

۲۱۔ جنوری ۱۹۶۱ء

محترمہ مس مارکس، السلام علیکم

آپ کا خط مورخہ ۵۔دسمبر ۱۹۶۰ء اُس وقت یہاں پہنچا جب میں شاہ سعود کی دعوت پر سعودی عرب جا چکا تھا۔ شاہ موصوف مدینہ منورہ میں ایک اسلامی یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کا منصوبہ اور ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے انہوں نے مجھے بلایا تھا جس کے لیے مجھے تقریباً ایک ماہ کے لیے گھر سے باہر رہنا پڑا۔ واپس آیا تو آپ کا خط اور مضامین کے تین تراشے موصول ہوئے۔ میں اس مسرت کو بیان نہیں کرسکتا جو آپ کے خط اور مضامین کے مطالعے سے مجھے حاصل ہوئی۔

میں نے خط کی ابتداء میں آپ کو دانستہ ”السلام علیکم“ کی ترکیب سے مخاطب کیا ہے، جو صرف مسلمانوں کے لیے مستعمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ آپ فی الحال قبول اسلام کے بارے میں سوچ رہی ہیں، لیکن میرے یقین کی حد تک آپ پہلے سے باقاعدہ مسلمان ہیں۔ ایک ایسا فرد جو اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو، قرآن کو اللہ کا کلام سمجھتا ہو اور آخرت کی زندگی کو برحق مانتا ہو، وہ مسلمان ہے۔ خواہ وہ کسی یہودی، عیسائی یا بت پرست گھرانے ہی میں پیدا ہوا ہو۔ آپ کے خیالات اس امر کی حتمی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ متذکرہ بالا عقاید پر پختہ یقین رکھتی ہیں، اسی لیے میں آپ کو مسلمان عقیدے میں اپنی بہن سمجھتا ہوں۔ حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کے لیے کسی بپتسمہ کی ضرورت ہے نہ کسی مذہبی رہنما کے سامنے زانو تہ کرنے کی حاجت ہے، بلکہ اگر آپ کا دل اسلام کی حقانیت کا قائل ہو چکا ہے تو یقین واثق کے ساتھ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیجیے۔ پھر کوئی اسلامی نام (مثلاً عائشہ یا فاطمہ) اختیار کر لیجیے اور اپنے نام اور مذہب کا ببانگ دہل اعلان کر دیجیے تاکہ اسلامی دنیا کو پتہ چل جائے کہ اب آپ عظیم اسلامی برادری کی رکن بن گئی ہیں۔ اس کے بعد آپ کو روزانہ پانچ وقت کی فرض نمازیں ادا کرنی ہوں گی اور مستقل مزاجی کے ساتھ اسلام کی دیگر ہدایات پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ میں آپ کو اسلام کی دہلیز پر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں، یقین کامل کے ساتھ بس ایک قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، پھر آپ اہل ایمان کی صف میں آ کھڑی ہوں گی...... میرے خیال میں آپ کا یہ آخری قدم ان خیالات و نظریات کا فطری و منطقی نتیجہ ہو گا جن کو آپ پہلے سے اختیار کر چکی ہیں۔

میرے ذاتی معاون نے آپ کو بہت سے پمفلٹ بھیج دیے ہیں، ان میں وہ مقالہ بھی شامل ہے جو آپ کو مطلوب ہے۔ ان کے علاوہ میں اپنی چند کتابیں بھی بھجوا رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب میں آپ کے مضامین کا مطالعہ کر رہا تھا، تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں اپنی ہی تحریریں پڑھ رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ جب آپ میری کتابیں پڑھیں گی تو آپ کی بھی یہی کیفیت ہو گی۔ یہ دلچسپ اور عجیب صورت اس امر کے باوجود ہے کہ آج سے پہلے ہمارے درمیان کبھی کوئی رابطہ نہیں رہا۔ دراصل خیالات کی اس ہم آہنگی اور نظریات کے اس توارد کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم دونوں نے ایک ہی سرچشمہ فیض سے اکتساب کیا ہے اور ایک ہی ماخذ سے مستفید ہوئے ہیں۔

یہ مغرب پرست مسلمان جن کی روحانی موت پر آپ پریشان اور نوحہ کناں ہیں، اسلامی دنیا میں مغربی نوآباد یاتی نظام کی بدترین پیداوار ہیں۔ نوآباد یاتی نظام نے جتنے گہرے گھاؤ ہمیں روحانی اور ذہنی شعبے میں لگائے ہیں، اتنا بڑا نقصان سیاسی اور اقتصادی میدان میں بھی نہیں کیا۔ مغربی سامراج نے ہماری ہی صفوں میں ایسے ان گنت ذہنی غلام پیدا کر دیے جن کے قلب و دماغ سیاسی آزادی کے بعد بھی مغرب کے زلّہ خوار ہیں اور جو اب بھی اپنے یورپین آقاؤں کی غلامی کا پٹہ نہایت وفاداری کے ساتھ اپنی گردنوں میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اس پہلو سے دیکھیں تو اکثر سوچتا ہوں کہ آزادی کے لیے ہماری جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی اور ہمیں ایک طویل مدت تک ان دیسی سامراجیوں کے خلاف برسر پیکار رہنا پڑے گا۔

اب میں ایک بات پر اپنی خوشگوار حیرت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایک نوجوان امریکی لڑکی کس طرح اور کن مراحل سے گزر کر یوں اسلام کے صاف ستھرے اور بے میل عقیدے تک پہنچی؟ کیا آپ کچھ وقت نکال کر مجھے اپنے ذہنی ارتقاء کی اجمالی داستان سنانا پسند کریں گی؟ مجھے آپ کے اس احساسِ تنہائی کا بھی خوب اندازہ ہے جو اسلامی معاشرے کے فقدان سے آپ پر طاری ہے اور بلاشبہ ایک غیر مسلم معاشرے میں ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑا عذاب یہی ہے، لیکن یہ سن کر شاید آپ کچھ ڈھارس محسوس کریں کہ آج کی دنیا میں ہر سچا مسلمان ہر کہیں اسی قسم کے ذہنی عذاب کا شکار ہے جس قسم کا تجربہ آپ کو امریکہ کی غیر مسلم سوسائٹی میں ہو رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسرے مقامات پر اس کا تناسب کچھ کم ہو یا نوعیت مختلف ہو۔

اگر آپ کبھی پاکستان تشریف لائیں تو آپ سے مل کر اور اپنے گھر میں آپ کا خیر مقدم کرکے مجھے بے حد خوشی ہوگی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ رمضان کا مہینہ یہاں گزاریں اور روزے ہمارے گھر پر رکھیں۔ اس سے مجھے اور میرے اہل و عیال کو کمال درجے کی مسرت ہوگی (رمضان کا مہینہ اس سال ۷ فروری سے ۱۸ مارچ تک رہے گا) میں انشاء اللہ مارچ کے آخر تک لاہور ہی میں ٹھہروں گا۔ اس کے بعد میں افریقہ کا دورہ کرکے وہاں اسلامی تبلیغی کام کو منظم کرنا چاہتا ہوں، جہاں سے واپسی انشاء اللہ مئی کے آخر میں ہوگی۔ اس سال کا بقیہ حصہ میں لاہور ہی میں گزاروں گا، چنانچہ اس دوران میں آپ جب بھی تشریف لائیں، مجھے گھر پہ موجود پائیں گی۔

آپ کا اسلامی بھائی

ابوالاعلیٰ