مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام مریم جمیلہ
لاہور
۲۴/اکتوبر ۱۹۶۱ء
میری محترمہ دینی بہن، السلام علیکم
آپ کا خط مورخہ ۱۹/اکتوبر اور خطبہ موصول ہوا۔ شکریہ
کولمبیا یونیورسٹی میں مسلمان طالبعلموں سے آپ کی جو گفتگو ہوئیں، وہ میرے اندازوں کے عین مطابق ہیں۔ پاکستان اور عالمِ عرب میں نوخیز نسلیں جس نظامِ تعلیم کے زیرِ سایہ پروان چڑھ رہی ہیں، میں نے اس کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اس کے ناگزیر نتائج بہر حال یہی ہیں کہ طلبہ اسلام اور اس کے تاریخی و ثقافتی ورثے کے خلاف سخت متعصب ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ موقع ملتے ہی یہ لوگ اس کی صورت کو مسخ کرنے اور روح کا حلیہ بگاڑنے میں لگ جاتے ہیں۔ دراصل یہ طبقہ ذہنی طور پر شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے، جب کہ اخلاقی اعتبار سے کھوکھلا ہو جاتا ہے، چنانچہ اس رویّے کے ساتھ جب یہ اپنے اپنے ملکوں میں واپس آتے ہیں اور اہم قومی ذمہ داریوں پر قابض ہو کر خود مختار اور طاقتور پوزیشن اختیار کر لیتے ہیں تو اپنے پروگرام پر عمل شروع کر دیتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں حکمرانوں اور عوام میں لامتناہی حالتِ جنگ کی بنیادی اور اصل وجہ یہی ہے...... لیکن مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ صورتِ حالات کا ایک روشن پہلو بھی ہے اور میرے ملک میں انہی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایسے طالب علم بھی ہیں جو اسلامی ضابطۂ حیات کے نفاذ کے لیے زبردست جوش اور تڑپ رکھتے ہیں۔ یہ امید افزا صورتِ عرب ممالک، ترکی، انڈونیشیا اور تمام اسلامی ملکوں میں کارفرما نظر آتی ہے۔ یہ طلبہ، خصوصاً جن کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے ہے، مجھ سے گہرا رابطہ رکھتے ہیں اور میری ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ بدقسمتی سے ان طلبہ کو امریکہ یا یورپ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جانے نہیں دیا جاتا اور تمام تر سرپرستی ان نوجوانوں کی ہوتی ہے جو بگڑے ہوئے فرزندانِ زمین کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ نیویارک میں آپ کو مثبت سوچ کے نوجوانوں سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
میں چاہتا تھا کہ آپ کے ناول ”احمد خلیل“ کی اشاعت کا فیصلہ جلد ہو جاتا، لیکن افسوس چند ہی روز پہلے اسلامک پبلیکیشنز کے مینیجنگ ڈائریکٹر میاں طفیل محمد گرفتار کر لیے گئے اور اب وہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت پابندِ سلاسل ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت، جو برطانوی راج کا ورثہ ہے، کسی بھی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر حوالۂ زنداں کیا جا سکتا ہے۔ حکمران اسے پکڑتے ہیں اور جب تک چاہیں اسے قید خانے میں ڈال سکتے ہیں۔ میاں طفیل محمد گزشتہ بیس برسوں سے میرے بہت قریبی رفیق ہیں اور چونکہ انہیں فیملی لاز آرڈیننس کے خلاف ایک کتابچہ شائع کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، اس لیے اسلامک پبلیکیشنز کا سارا کام لامتناہی عرصے کے لیے ٹھپ ہو کے رہ گیا ہے۔
میں نے آپ کے خطبہ جمعہ کا مطالعہ بڑے غور سے کیا ہے۔ یقین کریں کہ یہ میرے ان خیالات سے ہو بہو مطابقت رکھتا ہے جن کا پرچار تسلسل کے ساتھ میں گزشتہ تیس برسوں سے کر رہا ہوں اور انہی خیالات کی بنا پر تجدّد پسند کسی خطرے کی طرح مجھ سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ امریکہ میں پل بڑھ کر اور تعلیم پا کر ایک لڑکی نے مسائل کے ادراک میں کس طرح کی شاندار بصیرت حاصل کی ہے؟ خطبے کے نفسِ مضمون سے میرے دل میں قدر و تحسین کے بے پناہ جذبات پیدا ہوئے ہیں۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو اپنے دین کی زیادہ سے زیادہ بصیرت عطا کرے، اور اسلام کی توسیع و اشاعت کے لیے آپ کو حوصلہ و استقامت بخشے۔ والسلام، نیک تمناؤں کے ساتھ
آپ کا دینی بھائی
ابوالاعلیٰ