مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام سید مودودی
نیو یارک
۲۲/ مارچ ۱۹۶۲ء
۱۶/ شوال ۱۳۸۱ھ
محترمی مولانا مودودی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب سے آپ کا پاسپورٹ ضبط کر کے آپ کو افریقہ اور عرب ممالک کے سفر سے روکا گیا ہے اور خصوصاً جب سے آپ کے پبلشر میاں طفیل محمد گرفتار ہوئے ہیں، میں آپ کی خیریت کے بارے میں سخت خدشات محسوس کر رہی ہوں۔ چنانچہ خط کا جواب ایک ماہ تک نہ آئے یا مزید تاخیر ہو جائے تو میں انتہائی پریشانی کے عالم میں یہ سوچنے لگتی ہوں کہ کہیں آپ بیمار پڑ گئے ہوں یا خدانخواستہ آپ کو بھی کہیں گرفتار نہ کر لیا گیا ہو۔ اگرچہ ہم بالمشافہ کبھی ایک دوسرے سے نہیں ملے، لیکن آپ کی خیر و عافیت سے میری دلچسپی ایک ایسے قریبی عزیز اور رشتہ دار کی سی ہے جس سے سخت خطرات میں بہت سی امیدیں وابستہ ہوں۔ میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ آپ کو ہر قسم کے ضرر و نقصان سے محفوظ رکھے۔
کئی ماہ پیشتر آپ نے فراخدلانہ پیش کش فرمائی تھی کہ میں اگر لاہور آ جاؤں تو آپ کا ہر ممکن تعاون اور ہمدردی مجھے حاصل ہو گی۔ میں نے اُس وقت اس پیشکش کو قبول بھی کر لیا تھا...... بعد میں میری خاموشی سے آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ میں اس دعوت کو عملی صورت دینے میں کیوں متذبذب ہوں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ دراصل میں اپنے اندر اپنے خاندان اور ماحول سے مکمل قطع تعلق کر کے ایک بالکل ہی اجنبی اور نامانوس فضا میں نقلِ مکانی کرنے کا نہ حوصلہ پیدا کر سکی تھی، نہ اعتماد محسوس کرتی تھی۔ یہی سبب ہے کہ آپ نے جب بھی اس موضوع پر بات کی، میں نے اُسے محض اس امید پر ٹال دیا کہ یہاں کسی نہ کسی طرح حالات کوئی بہتر شکل اختیار کر جائیں گے...... لیکن اب سوچتی ہوں کہ میری توقعات درست نہیں تھیں۔
مختصراً میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں اس ماحول سے قطعی مایوس ہو چکی ہوں اور اس سوسائٹی میں رہنا میرے لیے اب کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ اب تک میں نے یہاں کوئی قابلِ ذکر ملازمت نہیں کی، نہ ہی اپنے اندر اس کی صلاحیت اور دلچسپی موجود پاتی ہوں۔ میں نے کسی نوع کے روزگار کی تربیت حاصل کی ہے نہ پیشہ ورانہ قسم کی اہلیت رکھتی ہوں اور نہ میرے پاس کسی کالج کا کوئی ڈپلومہ ہے اور اس پر طرہ یہ کہ مارچ ۱۹۵۷ء سے اپریل ۱۹۵۹ء تک میں نے دو سال کا عرصہ دماغی امراض کے ہسپتالوں میں گزارا ہے...... اس لیے مجھے ہرگز کوئی توقع نہیں کہ میں اپنے مزاج اور طبیعت کے مطابق کوئی باوقار، مفید اور مناسب روزگار حاصل کر سکوں گی۔ چنانچہ جب بھی میں ملازمت کی تلاش میں نکلتی ہوں، روزگار دلانے والے دفاتر اور ادارے مجھ سے بہت ہی سردمہری سے پیش آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ان اداروں کا بڑا مقصد ایسے ’’ناپسندیدہ‘‘ عناصر کی سکریننگ کرنا ہے جن کی معاشرے میں کوئی قدر و قیمت (Market value) نہ ہو اور سچی بات یہ ہے کہ ان کے نقطۂ نظر سے میری کوئی ’’مارکیٹ ویلیو‘‘ نہیں اور میں بیکار محض ہوں۔
دوسری جانب کیفیت یہ ہے کہ میرے والد جو ایک سیلز مین اور میری والدہ جو بہت ہی معزز سماجی کارکن ہیں، اگلے سال ریٹائر ہونے والے ہیں۔ پھر وہ اپنی محدود آمدنی میں میری کفالت نہیں کر سکیں گے اور میں بے یار و مددگار رہ جاؤں گی۔ مزید ستم یہ کہ وہ چار کمروں کے اس فلیٹ کو فروخت کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں جہاں ہم ستمبر ۱۹۳۹ء سے رہ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ گھر کا فرنیچر اور دیگر سامان بھی بیچ دیا جائے اور بقیہ زندگی اس وقت تک چلتے پھرتے، سیر و سفر میں گزار دی جائے جب تک کوئی بیماری انہیں مفلوج کر کے رکھ دے یا موت آ جائے۔ چونکہ میرے والدین اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم محبت و مودت اور امن و سکون کی حالت میں اکٹھے نہیں رہ سکتے، اس لیے وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنا گوارا نہیں کریں گے۔ فرض کیا اگر وہ اس پر آمادہ ہو بھی جائیں تو میں ان کے ہمراہ سخت پریشان اور افسردہ رہوں گی۔ ان کی مسرتیں محض دنیاوی اور ہنگامی ہوتی ہیں جو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتیں اور یوں اُن کا سارا طرزِ حیات سطحی، خالی خولی اور بے مقصد نظر آتا ہے۔ اندازہ فرمائیں کہ گزشتہ تین برسوں سے جب سے کہ میں ہسپتال سے فارغ ہوئی ہوں، خطرے کی یہ تلوار مسلسل میرے سر پر لٹک رہی ہے اور اب مزید نزدیک آگئی ہے کہ اگر والدین کی ریٹائرمنٹ سے پہلے مستقل ملازمت کا کوئی انتظام نہ ہوا تو یا مجھے سٹی ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی خیرات پر گزر بسر کرنی پڑے گی یا عمر بھر کے لیے کسی محتاج خانے کی بھیانک قید کاٹنی پڑے گی جہاں سے چھٹکارا ممکن نہیں ہوتا۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ اس معاشرے میں میرے لیے کوئی جگہ نہیں اور والدین کے سہارے کے بغیر ایک آزاد شہری کے طور پر‘ میں یہاں ایک دن بھی نہیں رہ سکتی اور ذلت و رسوائی اور بے بسی کی زندگی گزارنے سے بہتر ہوگا کہ مجھے موت آجائے۔ میں اس حقیقت کے اظہار میں کوئی باک محسوس نہیں کرتی کہ اگر دینِ اسلام پر میرا ایمان نہ ہوتا، تو میں برسوں پہلے خودکشی کر چکی ہوتی۔
سوچتی ہوں کہ ایک عرصہ پہلے میں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرایا تھا، پتہ نہیں اب اس کی قبولیت کی گنجائش ہے یا نہیں؟
آپ کی دینی بہن
مریم جمیلہ