مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

بنام سید مودودی

لاہور

۱۲/ دسمبر ۱۹۶۱ء

محترمہ مریم جمیلہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا ۸/ نومبر والا مکتوب اور فیملی لاز آرڈیننس سے متعلق ”اسلامک ریویو“ کا اداریہ موصول ہوا۔ شکریہ قبول کیجئے، ایک الگ پارسل میں مجھے آپ کے مقالہ ”تکبیر کی معنویت و اہمیت“ (Significance of the Takbir) کا مسودہ بھی مل گیا ہے۔ (یہ مقالہ میری کتاب Islam Verses The West میں شامل ہے۔)

میں نے اس مقالے کا بغور مطالعہ کیا ہے اور مجھے اس کے ایک ایک لفظ سے کُلی اتفاق ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صراحت کے ساتھ حیوانوں اور انسانوں کی تصویر کشی اور مجسمہ سازی سے منع فرمایا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ تصویر کشی شرک اور بت پرستی کی طرف پہلا قدم ثابت ہوتی ہے اور بت پرستی کا لازماً یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ کسی چیز کی واقعتاً پرستش شروع کر دی جائے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جب نامور شخصیات اور رہنما حضرات کی تصاویر نمایاں طور پر کمروں میں سجائی جائیں یا تقسیم کی جائیں تو لازماً اس کا نتیجہ ایسی ذہنی غلامی اور ’مقدّس عقیدت‘ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے جو ان اشخاص کو خدا کے بجائے عظمت و تقدّس کے مقام پر بٹھا دیتی ہے اور دل و دماغ غیر محسوس طور پر انہی احساسات کے شکنجے میں کس جاتے ہیں...... یہ صورت بھی دراصل بت پرستی ہی کی ایک قسم ہے۔

جب روس نے پولینڈ پر قبضہ کیا تو ملک کی بستی بستی قریہ قریہ میں سٹالن کی ہزاروں لاکھوں تصاویر تقسیم کی گئیں۔ جرمنوں کا بھی یہی انداز تھا۔ نازی فوجی اپنے سینوں پر ہٹلر کی تصویر سجائے رکھتے تھے اور جب زخمی ہو جاتے تھے یا ہسپتال میں زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہوتے تھے تو اس تصویر کو چومتے تھے اور آنکھوں پر رکھتے تھے۔ اسی طرح ٹکٹوں اور سکوں پر مختلف رہنماؤں کی جو تصویریں بنائی جاتی ہیں وہ اس امر کی علامت ہوتی ہیں کہ یہ لوگ دنیا میں اختیارِ کُل کے مالک ہیں چنانچہ سینما کی سکرین پر جب ان کی شبیہیں دکھائی جاتی ہیں تو تماشائیوں پر فرض ہے کہ وہ فوراً اٹھ کر احترام بجالائیں۔ ظاہر ہے اگر یہ سب شرک نہیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ پھر شرک کس چڑیا کا نام ہے۔ نازیوں، فاشسٹوں، کمیونسٹوں، کمالیوں اور ناصریوں نے تصویر کشی کی خوبیوں بلکہ صحیح تر الفاظ میں خرابیوں کا یوں بھر پور انداز میں مظاہرہ کیا ہے اور اس کے تباہ کن نتائج کو یوں واشگاف کیا ہے کہ میرے خیال میں کوئی بھی سلیم الطبع شخص اس امر کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اسلام نے تصویر اور مجسمے پر پابندی کیوں عائد کی ہے۔

ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ایک ایسا شخص جو توحید اور شرک کے فرق کو سمجھتا ہے، کس طرح تصویر کشی کو برداشت کر سکتا ہے جب کہ اس کے نتائج آج بھی بھر پور شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔ آخر کیا سبب ہے کہ جونہی خروشیف نے سٹالن کو مردود قرار دیا، اس کی تصاویر اور مجسمے بھی فوراً منظر عام سے ہٹا دیے؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خروشیف اس امر سے آگاہ تھا کہ انہی تصاویر اور مجسموں کے ذریعے روسیوں کے دل و دماغ پر اس جھوٹے خدا کی عظمت نقش کی گئی تھی؟ پھر کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ تاریخ کے ابتدائی زمانے ہی سے تصاویر بد اخلاقی اور شہوت رانی کی اشاعت و تشہیر میں بنیادی رول ادا کرتی رہی ہیں؟ شراب، موسیقی، رقص، فحش لٹریچر، تصاویر اور مجسمے یوں تو ہمیشہ ہی سے فحاشی اور بدکاری کا ذریعہ بنے رہے ہیں لیکن ماضی کے مقابلے میں آج ان کی اشتعال آفرینی کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب اگر ہمارے جدت پسند حضرات پیغمبر اسلام کی واضح مخالفت کے باوجود لیکن محض ”زمانے“ کا ساتھ دینے اور ”اپ ٹو ڈیٹ“ کہلانے کے جنون میں اسلامی دنیا کو ان خرافات میں جھونکنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ یہ عمل اسلامی اقدار اور تعلیمات کو رَد کیے بغیر انجام نہیں دے سکتے۔ یہ امر میرے لیے ناقابلِ فہم ہے کہ ان بنیادی تبدیلیوں کو اختیار کرنے کے باوجود وہ اپنے آپ کو یا دوسروں کو کیسے مطمئن کرسکیں گے کہ وہ ہمیشہ کی طرح سچے اور پکے مسلمان ہیں؟

معذرت خواہانہ طرزِ عمل اختیار کرنے والوں کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے، میں اس سے سو فیصد متفق ہوں۔ ”دلائل“ کا یہ انداز پس منظر میں دو اسباب رکھتا ہے: یا تو یہ نتیجہ ہے اسلام کے بارے میں گمراہ کن غلط فہمی اور جہالت کا یا پھر منطقی انجام ہے اس شکست خوردہ ذہنیت کا جو آنکھیں بند کر کے ہر منہ زور اور غالب ثقافت کو معیارِ اعلیٰ کے طور پر تسلیم کر لیتی ہے۔ سوچ کا یہ انداز آخر کار مغربی تہذیب کو اسلام کی خوبیوں اور ”خامیوں“ کی کسوٹی بنا بیٹھا ہے جب کہ اس کے برعکس اصل معاملے پر یہ لوگ کبھی غور نہیں کرتے۔ برصغیر پاک و ہند میں معذرت خواہ طبقے کے اولین ہیرو سر سید احمد خاں اور ان کے ساتھی مولوی چراغ علی تھے۔ بعد میں سید امیر علی نے بھی یہی مقام حاصل کر لیا (یاد رہے کہ امیر علی اور چراغ علی دونوں شیعہ تھے) اور ازاں بعد پورے علی گڑھ کے مکتبِ فکر نے مغرب کے سامنے بیک زبان ہو کر اسلام کے معاملے میں معذرتیں پیش کرنی شروع کر دیں۔ محمد علی لاہوری نے (جو مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اور انگریزی میں قرآن کے مترجم ہیں) علی گڑھ والوں کے خیالات و نظریات کی کھل کر اور بھرپور تائید کی (بعض مغربی مصنّفین محمد علی کے نام سے دھوکا کھا کر اسے محمد علی جوہر سمجھ لیتے ہیں جو برصغیر کے ایک معروف سیاست دان اور تحریکِ آزادی کے رہنما تھے) ہندوستان کی طرح مصر میں شیخ محمد عبدہ نے اسی نوعیت کا مصالحانہ انداز اختیار کیا اور اپنے پیچھے عالمِ عرب میں مغرب پرستوں کی دراندازیوں کے لیے کھلا دروازہ چھوڑ گئے۔

جب یہ لوگ ایک مرتبہ معذرت خواہی کے راستے پر چل نکلے تو ان کے لیے غیر محتاط قسم کی بے بنیاد اور مغالطہ آمیز دلیل بازی کی کوئی حد ملحوظ رکھنا ممکن نہ رہا۔ جہاد ان کے نزدیک محض ”مدافعانہ“ جنگ قرار پایا۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں اسلامی قوانین و تعلیمات کو بے حد عجیب اور فضول معنی پہنائے گئے۔ تعددِ ازواج کو اضطراری ضرورت کے طور پر قبول کیا گیا اور ترغیب دی گئی کہ جس قدر جلد ممکن ہو، اسے غیر قانونی قرار دے دینا چاہیے۔ قرآنی معجزات کا یا تو سرے سے انکار کیا گیا یا پھر انہیں لایعنی طریقے سے فطرت کے محیر العقول مظاہر سے تعبیر کیا گیا۔ فرشتے فطرت (نیچر) کی قوتوں سے موسوم ہوئے اور وحی کو غیر معمولی ذہنی فعالیت کا ایک ایسا اظہار قرار دیا گیا جو کسی مجذوب یا دیوانے کی انہونی حرکتوں کی طرح اچانک ظہور پذیر ہوتا ہے۔ سیاسی طور پر تباہ ہونے کے بعد فکری میدان میں یہ سب سے بڑی شکست تھی جس سے مسلمان دوچار ہوئے اور چونکہ ان کی مذہبی

صلاحیتیں مفلوج ہو چکی تھیں، اس لیے وہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے اللہ کی ہدایت اور روشنی حاصل نہ کر سکے۔

آپ نے تعددِ ازواج کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ قطعی درست ہے۔ میں اس پر صرف یہ اضافہ کروں گا کہ سورہ نمبر ۴ کی آیت ۳ تعددِ ازواج کو قانونی صورت دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی کہ تعددِ ازواج تو قانونِ خداوندی کی رو سے کبھی بھی ممنوع نہیں رہی اور تمام پیغمبروں کی شریعتوں میں اس کی حیثیت مسلم رہی ہے۔ چنانچہ انبیاء کی غالب اکثریت ایک سے زیادہ بیویاں رکھتی تھی۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس آیت کے نزول سے پہلے تین بیویاں موجود تھیں یعنی حضرت سودہ، حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ ( رضی اللہ عنہن) اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بیشتر صحابہؓ کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں، یوں ایک ایسے عمل کو قانونی صورت دینے کی ضرورت نہ تھی جو پہلے ہی سے قانونی بنیادیں رکھتا تھا اور معروف حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ دراصل زیر بحث آیت اس وقت نازل ہوئی جب جنگِ احد کے نتیجے میں مدینہ کی بہت سی عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہو گئے تھے۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کو، ایک معروف و مروّج عمل کے حوالے سے، ہدایت کی گئی کہ بیوگان میں سے دو، تین یا چار خواتین سے شادی کر لیں۔ یوں بجائے اس کےکے بیوہ عورتیں اور یتیم بچے بے یارو مددگار پھرتے، وہ نہایت احسن طریقے سے مختلف خاندانوں کا جزو بن گئے۔ اگر اس حکمِ خداوندی سے کسی نئی قانون سازی کا اشارہ ملتا ہے تو وہ یہ نہیں کہ اس سے پہلی بار تعدّدِ ازواج کی اجازت ملی بلکہ چار بیویوں کی تعداد تک پابندی لگ گئی اور طے پایا کہ اگر کوئی خاوند اپنی تمام بیویوں کے معاملے میں عدل سے کام نہیں لے سکتا تو وہ یا تو سب سے حسنِ سلوک کرے یا پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے۔ اس سے قبل کفارِ عرب ان دونوں پابندیوں سے آگاہ تھے نہ انہیں قبول کرتے تھے اور موجودہ بائبل بھی ان سے تہی دامن ہے۔

جو لوگ اسلام کی یہ نئی تعبیر و تشریح کر رہے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ وہ کسے فریب دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ خدا کو یا اپنے آپ کو؟ تاہم میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ مکروہ دھوکا زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہ سکے گا۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ یہ طبقہ محض اپنے سیاسی اقتدار کی دھونس پر عام مسلمانوں کو مذکورہ تلخ نظریات ہضم کرنے پر مجبور کر رہا ہے جب کہ مغربی اخبارات و ذرائع ابلاغ ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں...... لیکن یہ بات بڑی حوصلہ افزا ہے کہ پورے عالمِ اسلام کے عام مسلمانوں اور رائے عامہ کے حلقوں میں ان لوگوں کے خلاف نفرت و بیزاری کی ایک طاقتور لہر ابھر رہی ہے اور یہ اتنی شدید ہے کہ امریکہ میں رہتے ہوئے آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتیں۔ آپ کسی بھی اسلامی ملک میں چلے جائیں عام سادہ دل مسلمان تو کجا اچھے خاصے جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی اکثریت بھی اسلام کی ان انوکھی تشریحات کے خلاف شدید بیزار اور نالاں ہے اور انہیں نظری یا عملی کسی اعتبار سے قبول کرنے پر تیار نہیں، چنانچہ یہ نوجوان جن سے آپ کا سامنا کولمبیا یونیورسٹی میں ہوا ہے، مسلمان رائے عامہ کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں، وہ ایک ایسی حقیر سی اقلیت کی ترجمانی کرتے ہیں جنہیں ان کے ہم مذہبوں نے رضامندی سے نہیں بلکہ مجبوری اور کراہت کے ساتھ قبول کیا ہے۔ یہ لوگ اپنے ملکوں میں واپس آ کر غیر ملکیوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی عادتیں، ان کا مذاق، عام برتاؤ اور سوچ غرض ہر بات عام ہم وطنوں سے قطعی مخالف بلکہ متصادم ہوتی ہے۔ یہ عوام کے قریب ہونا پسند نہیں کرتے اور عوام ان سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ یہ مسلمان ملکوں میں دیسی غیر ملکیوں کی وہ جنس ہے جو یورپی نوآبادیاتی عہد میں تیار ہوئی۔ چونکہ یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ جمہوری ذرائع سے یہ عوام کو لادینی نظریات اختیار کرنے پر کبھی آمادہ نہیں کرسکتے، اس لیے یہ اپنے بدیسی اور اجنبی عقاید کو پرتشدد آمرانہ طریقوں سے مسلمانوں پر تھوپنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جب کہ مغرب سے آنے والی اس قسم کی آوازیں ان کا حوصلہ بڑھاتی رہتی ہیں کہ ”مشرق کی فضا ابھی جمہوریت کے لیے راس نہیں ہے“۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ آمرانِ مطلق جمہوری تقاضوں کو بروئے کار لانے کے لیے معمولی سی آمادگی بھی نہیں رکھتے اور بدترین قسم کی ذہنی غلامی کے نخچیر ہیں۔ مغرب کے فکری و صحافتی حلقے ان کی تحسین محض اس لیے کرتے ہیں کہ یہ مغربی مادیت پر اندھا یقین رکھتے ہیں اور اسلام پر ان کا ایمان بالکل ہی ناکارہ ہوچکا ہے۔

جہاں تک فیملی لاز آرڈیننس کے بارے میں ”اسلامک ریویو“ کے اس اداریے کا تعلق ہے، جو آپ نے مجھے بھجوایا ہے تو آپ کو یہ سن کر خوشی ہوگی کہ جونہی گزشتہ ۷؍مارچ کو یہ قانون نافذ ہوا، میں نے ہر مکتب فکر کے علماء کے ساتھ مل کر ایک اجتماعی بیان جاری کیا جس میں اس کی ایک ایک شق کو ہدفِ تنقید بنایا اور اسے قرآن و سنت کے صریحاً خلاف ثابت کیا۔ حکومت کی طرف سے پریس کو ہدایت کی گئی کہ وہ یہ بیان شائع نہ کریں، پھر بھی بعض حضرات نے اسے کسی نہ کسی طرح شائع کر ہی دیا۔ اس پر ان سے پوچھ گچھ ہوئی اور انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا گیا حتیٰ کہ بعض کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار بھی کر لیا گیا۔ اس کے برعکس سرکاری سرپرستی میں ان ”اصلاحات“ کی تعریف میں ملک کے اندر اور باہر خوب پروپیگنڈا کیا گیا (اور ”اسلامک ریویو“ کا یہ اداریہ بھی اسی ذیل میں آتاہے) آپ نے کہا ہے کہ میں اس پر اپنی رائے دوں، میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ اس آرڈیننس کے حامیوں پر مخالفانہ تنقید کا جو خوف طاری ہے، وہی میری رائے کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہے۔

آخر میں میں اس خلاف معمول اور بے سبب تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہوں، جو خط کے جواب میں پیش آ گئی۔

والسلام

دعا گو: آپ کا دینی بھائی

ابوالاعلیٰ