مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پیش لفظ
میری عمر انیس برس کی تھی، جب میں نے انگریزی تراجم کی مدد سے اسلامی لٹریچر کا باضابطہ اور بھرپور مطالعہ اس نقطۂ نظر سے شروع کیا کہ اسلام کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کروں اور یہ معلوم کروں کہ عملاً مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے۔ کتابیں پڑھنے کا ایک مدعا یہ بھی تھا کہ میں رسائل و اخبارات کی فراہم کردہ معلومات سے ہٹ کر اسلامی ملکوں کے بارے میں مفصل تعارف حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اُسی زمانے میں میں نے عرب ممالک اور پاکستان کے تقریباً ایک درجن نوجوان دانشوروں سے خط و کتابت شروع کی، مگر ان میں سے بیشتر حضرات نے اپنے یورپین طرزِ زندگی، اسلامی عقاید و معاشرت کے ضمن میں بے حسی بلکہ بعض اوقات بر ملا مخاصمانہ رویے اور بچگانہ اندازِ فکر کے حوالے سے مجھے بہت مایوس کیا اور ان لوگوں سے میری مراسلت چند ماہ سے زیادہ نہ چل سکی۔
بالآخر میں نے بالغ نظر اور با رسوخ رہنماؤں بالخصوص علماء سے رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور 1960ء کے اختتام تک میں اقوام متحدہ میں عراق کے سابق مندوب اعلیٰ ڈاکٹر فاضل جمالی، واشنگٹن میں اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمود حب اللہ، الجزائری علماء کے سرخیل اور فرانسیسی استعمار کے خلاف جہاد آزادی کے ہیرو شیخ محمد بشیر ابراہیمی، الازہر کے ڈاکٹر محمد البہی، پیرس کے ڈاکٹر حمید اللہ، اسلامی فقہ و قانون کے نامور ماہر، دمشق یونیورسٹی میں علم شریعت کے پروفیسر اور شام کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر معروف دوالیبی اور جنیوا میں اسلامک سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید رمضان سے خطوط کا تبادلہ کر چکی تھی۔ سید قطب شہید سے رابطہ قائم کرنے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر کامیابی نہ ہوئی کہ وہ اس وقت مصر میں لمبی قید کاٹ رہے تھے۔ اس زمانے میں مرحوم شیخ حسن البناء اور اخوان المسلمین کا ذکر، اگرچہ منفی انداز میں سہی‘ نیویارک کے اخبارات و جرائد میں کثرت سے آتا تھا، لیکن امریکی سکالروں اور صحافیوں کو بھی ابھی تک مولانا مودودی اور جماعتِ اسلامی کی اہمیت و حیثیت کا احساس نہیں ہوا تھا۔ یہی سبب ہے کہ تقریباً دس برس سے انگریزی کتابوں اور رسالوں کے بے تحاشا مطالعے کے باوجود میں مولانا مودودی کے نام تک سے واقف نہ تھی، نہ جماعتِ اسلامی کے بارے میں کچھ جانتی تھی۔ حتیٰ کہ 1960ء میں کینتھ مورگن کی کتاب ”اسلام؛ صراطِ مستقیم“ (ISLAM; THE STRAIT PATH) میں مظہر الدین صدیقی کا ایک مقالہ میری نظر سے گزرا جس میں مولانا مودودی کا ذکر تھا۔ یہ بھی محض اتفاق کی بات ہے کہ میں نے ”دی مسلم ڈائجسٹ ڈربن“ میں اسی نام کے تحت ایک شاندار مضمون پڑھا اور میرے دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ ایسے غیر معمولی ذہین اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل انسان سے مراسلت کی جائے۔ چنانچہ میں نے جریدہ مذکور کے ایڈیٹر کو خط لکھ کر مولانا موصوف کا ایڈریس حاصل کر لیا۔
میں نے مولانا مودودی کو پہلا خط لکھا تو زیادہ سے زیادہ میں ایسے مختصر سے جواب کی توقع لگائے بیٹھی تھی جس میں باہم یکساں خیالات و نظریات پر مسرت و خیر خواہی کا ذکر کیا گیا ہو گا۔ اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ خط و کتابت میری ساری زندگی کے لیے فیصلہ کن اہمیت کی حامل ہوگی۔
مولانا مودودی نے مجھے قبول اسلام کی ترغیب نہیں دی۔ اسکی ضرورت اس لیے نہیں تھی کہ میں اس سے پہلے ہی عین اسلام کی دہلیز پر آ کھڑی ہوئی تھی اور اپنا آخری فیصلہ ان کے علم کے بغیر بھی کر سکتی تھی۔ اسی طرح مولانا موصوف نے میری علمی زندگی کے حوالے سے مجھ پر کوئی فیصلہ کن اثرات مرتب نہیں کیے کہ ان سے تعارف حاصل ہونے سے کم و بیش ایک سال پہلے سے میں اسلام کی مدافعت اور حمایت میں مقالات لکھ رہی تھی اور ایک دوسرے سے باہم متعارف ہونے سے قبل ہی میرے خیالات و نظریات کا ڈھانچہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو چکا تھا۔ تاہم اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس خط و کتابت کے اثر سے مجھے جو وسیع معلومات حاصل ہوئیں اور بصیرت کو جو روشنی و گہرائی ملی، اس کے نتیجے میں میرے خیالات کی شیرازہ بندی ہوگئی اور میری تحریر کو نیا عمق اور پختگی نصیب ہوئی۔
زیرِ نظر خطوط کا مطالعہ ان کے تاریخی پس منظر کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ امریکہ میں جان ایف کینیڈی صدر ریاست تھے اور ملک سیاسی و اقتصادی اعتبار سے ترقی و خوشحالی کی انتہائی رفعتوں کو چھو رہا تھا، جب کہ خروشچیف کی زیر قیادت کمیونسٹ روس اور مغربی جمہوریتوں کے درمیان نام نہاد سرد جنگ بھی اپنے عروج پر تھی۔ پاکستان میں صدر ایوب خان بلا شرکتِ غیرے برسر اقتدار تھا، اس نے اپنی آمریت کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لیے مارشل لاء لگا رکھا تھا اور جماعتِ اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو خلافِ قانون قرار دے دیا تھا۔ خدا ترس علماء کو محض اس بنا پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی تھی اور انہیں دھمکایا جارہا تھا کہ انہوں نے عوام کی غالب اور واضح اکثریت کی خواہشات کے علی الرغم محض جابرانہ طریقے سے نافذ کیے جانے والے غیر اسلامی عائلی قوانین کو ہدفِ تنقید کیوں بنایا تھا....... یہی زمانہ تھا جب میں اپنے آبائی شہر میں ساڑھے تین برس تک مہنگا اور بے فائدہ نفسیاتی علاج کرانے اور دو سال تک ہسپتال کے بستر پر مقید رہنے کے بعد بھی شدید احساسِ تنہائی اور غیر معمولی پریشان فکری کا شکار تھی اور زندگی میں اپنی ذات اور مقام کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ زندگی کے اس نازک موڑ پر مولانا مودودی نے میری مدد فرمائی، مجھے اس زرخیز سرزمین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کیا جہاں سے میری بامقصد اور مفید زندگی کا آغاز ہوا، جہاں سے میری مساعی مشکور ہونے کا امکان پیدا ہوا اور جہاں میرے خیالات کو بیان و اظہار کا بہرۂ وافر نصیب ہوا۔
مریم جمیلہ
۱۴۔ جمادی الثانی ۱۳۸۹ھ
۲۸۔ اگست ۱۹۶۸ء