مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام سید مودودی
نیویارک
۱۱۔ جولائی ۱۹۶۱ء
محترمی مولانا مودودی
السلام علیکم
۲۰ جون کے خط کے لیے شکر گزار ہوں۔ آپ کی بحالی صحت کی خبر سے خصوصاً بہت خوشی ہوئی۔ ظاہر ہے اب آپ افریقہ کا دورہ اطمینان سے مکمل کرسکیں گے۔ چونکہ اس خط کا جواب ستمبر، یعنی آپ کی لاہور واپسی، سے قبل متوقع نہیں، اس لیے میں اسے بحری ڈاک سے بھیج رہی ہوں۔
جیسا کہ میں نے اپنے مطالعے سے اندازہ کیا ہے، اشاعتِ اسلام کے نقطۂ نظر سے دنیا بھر میں افریقہ ہی وہ براعظم ہے جہاں اس کے امکانات سب سے زیادہ روشن ہیں۔ خصوصاً نائیجیریا میں احمد وبیلو اور ابوبکر تفاوئی بلیوا کی ہوش مند قیادت میں اسلام نہایت سرعت سے اپنے سائے پھیلا رہا ہے اور عالم یہ ہے کہ جہاں کوئی ایک لامذہب عیسائیت قبول کرتا ہے وہاں دس آدمی حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مشنریوں کے پاس دولت کے وسیع ذخائر ہیں، یورپ کی ساری طاقتیں ان کی پشت پر ہیں، گزشتہ ایک صدی سے انہوں نے تعلیم پر مکمل اجارہ داری حاصل کر رکھی ہے اور ہسپتالوں اور یتیم خانوں کی صورت میں بھرپور تگ و دو کر رہے ہیں، لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ مٹھی بھر انسانوں کو ہی عیسائی بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں، جبکہ دوسری جانب پچھلے چند ہفتوں اور مہینوں کے دوران میں گاؤں کے گاؤں اسلام قبول کرتے چلے گئے ہیں۔ حال ہی میں ”نیویارک ٹائمز“ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اخبار کے نامہ نگار نے نائیجیریا کے ایک شہر میں کام کرنے والے بہت سے رومن کیتھولک مشنریوں سے انٹرویو کیے ہیں جن میں انہو ں نے بتایا ہے کہ وہ افریقی جنہیں باقاعدہ بپتسمہ دے کر عیسائی بنایا گیا تھا، ان میں سے بیشتر اب مسجد میں جا کر پابندی سے نماز پڑھتے ہیں اور رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک اس صورتِ حال کی سب سے اہم اور بڑی وجہ یہ حقیقت ہے کہ عیسائیوں میں نسلی امتیاز کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ گرجوں تک میں اس نوعیت کا فرق روا رکھا جاتا ہے جب کہ سارے افریقی باشندے جانتے ہیں کہ مساجد میں ان کا مساویانہ استقبال کیا جائے گا اور وہاں انہیں گھر کا سا راحت بھرا ماحول میسر آئے گا۔ اسی تناظر میں میرا خیال یہ ہے کہ اگر مسلمان مبلغین امریکہ میں اشاعتِ اسلام کو منظم کریں تو دو کروڑ سیاہ فام باشندے بالخصوص غریب، بے روزگار، فرومایہ اور بے خانماں افراد جو نیویارک اور شکاگو کی یہودی بستیوں کے آس پاس کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، بہت جلد اسلام قبول کر لیں گے۔
میں نے اسلام دشمن پروپیگنڈے پر مبنی انتخاب میں اس اداریے کو بھی شامل کر لیا ہے جو تیونس کے صدر حبیب بورقیبہ کی اس مہم کے حق میں ’اسلامک ریویو‘ میں شائع ہوا ہے جو انہوں نے رمضان کے روزوں کے خلاف شروع کی تھی۔ میرے نزدیک یہ اداریہ توہین آمیز ہے اور نا قابلِ معافی بھی۔ عجیب اتفاق یہ ہے کہ میری اس کتاب میں زیر بحث مصنفین یا تو بیروت کی امریکن یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر قاہرہ کے امریکی کالج سے۔ یہ دونوں ادارے پروٹسٹنٹ مشنوں کی زیر نگرانی چل رہے ہیں اور اگرچہ انہوں نے بہت ہی کم لوگوں کو عیسائی بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن مسلمان طالب علموں کو اسلام کے مدِ مقابل لاکھڑا کرنے میں اور انہیں مغربی بود و باش کا شیدائی بنانے میں انہوں نے زبردست فتوحات حاصل کی ہیں۔ میں کل ہی سعودی عرب کے ایک طالب علم سے ملی ہوں۔ اس نے امریکن یونیورسٹی بیروت سے بی۔اے کی ڈگری لی تھی اور اب کولمبیا یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم میں گریجوایشن کر رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ بیروت کی امریکن یونیورسٹی میں تمام مسلمان طلبہ کے لیے گرجا میں جا کر عیسائی مذہب کے مطابق عبادت کرنا لازمی ہے اور اگر کوئی طالب علم ایسا کرنے سے انکار کرے تو متبادل کے طور پر اسے لازماً CHRISTIAN MORALS کا مضمون اختیار کرنا پڑتا ہے۔
چونکہ میں نے ایک کمرشل اسکول سے ٹائپ رائٹنگ کا کورس کیا ہوا ہے، اس لیے میرا خیال تھا کہ میں کسی ادارے میں سیکرٹری کی ملازمت حاصل کرلوں گی اور اس میں مجھے کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ اس سلسلے میں میں نے سب سے پہلے عرب انفرمیشن سنٹر کی طرف رجوع کیا۔ میرا گمان تھا کہ چونکہ میں عرب ملکوں میں غیر معمولی دلچسپی لیتی ہوں اور پھر اسلام بھی قبول کر چکی ہوں، اس لیے مجھے خصوصی اہمیت دی جائے گی، لیکن سنٹر کے ارباب اختیار کو جونہی پتہ چلا کہ یہودی نو مسلم ہوں اور جمال عبد الناصر یا اس کے ”عرب ازم“ سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتی، تو وہ اس قدر سرد مہری اور بے مروّتی سے پیش آئے کہ میں نے دوبارہ اُدھر کا رُخ کرنے کی جرات نہیں کی۔ اس کے بعد میں نے نیویارک میں THE AMERICAN FRIENDS OF THE MIDDLE EAST کے صدر دفتر سے رابطہ قائم کیا۔ یہاں دونو جوان خوبصورت امریکی لڑکیاں استقبالیہ کے فرائض انجام دے رہی تھیں۔ انہوں نے نہایت بے تکلفی سے بتایا کہ وہ تمام قدیم اور بے لچک مذاہب کو بیکار محض سمجھتی ہیں اور جب تک عرب اسلام سے پیچھا نہیں چھڑائیں گے اور اسے بوسیدہ کپڑے کی طرح رڈی کی ٹوکری میں نہیں پھینکیں گے، وہ اقتصادی ترقی کے مراحل طے کر سکتے ہیں نہ ان کا معیارِ زندگی بلند ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نیویارک میں مشرقِ وسطیٰ کے معاملات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں پر یا تو صیہونی اور عیسائی مشنری قابض ہیں یا پھر یہ خالصتاً تجارتی بنیادوں پر چل رہی ہیں۔
چند دنوں کے بعد مجھے نیویارک میں تیونس کے ٹریڈ سنٹر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ باہر الماریوں میں ہاتھ کے بنے ہوئے شاندار قالینوں اور تانبے کی خوبصورت پلیٹوں کی نمائش جاری تھی۔ میرا اشتیاق بڑھا اور میں اندر چلی گئی۔ فی الحقیقت مجھے زندگی میں اتنا شدید صدمہ کبھی نہیں ہوا جتنا یہاں آ کر ہوا۔ فرش سے لے کر چھت تک لمبے شیلف تھے جن میں شراب کی انواع و اقسام کی بوتلیں سجی ہوئی تھیں۔ میں نے انچارج خاتون سے جو سامنے ایک ڈیسک پر براجمان تھی، دریافت کیا کہ کیا یہ آزاد جمہوریہ تیونس کی پیداوار ہے؟ اس نے فخریہ لہجے میں بتایا کہ جی ہاں شراب کی یہ وسیع اور زبردست صنعت جو مقامی استعمال میں بھی آتی ہے اور برآمد بھی کی جاتی ہے، صدر حبیب بورقیبہ کی زیر قیادت تیونس کی شاندار اقتصادی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس خاتون نے بتایا کہ اسلام قرونِ وسطیٰ کی یادگار ہے اور اس سے جس قدر جلد نجات حاصل کر لی جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ محترمہ فرانس کے بھاری بھر کم لہجے میں بات کر رہی تھی۔ میں نے دریافت کیا کہ آیا اس کا تعلق فرانس سے ہے تو اس نے پُر زور طریقے سے اثبات میں جواب دیا۔ اس نے بتایا کہ تیونسی حکومت نے اسے براہِ راست ملازمت میں لیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر بورقیبہ فرانس کے ساتھ گہرے دوستانہ مراسم استوار کرنا چاہتے ہیں۔
آج سہ پہر کو میں نیویارک یونیورسٹی کا چکر لگانا چاہتی ہوں، جہاں میں ایک زمانے میں پڑھا کرتی تھی۔ وہاں میں ایک یہودی لڑکے سے گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں جس نے دو ہفتے قبل کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن جب اس کی ماں کو اس کی خبر ملی تو وہ شدید بر افروختہ ہوئی۔ اسے پکڑا، معبد میں لے گئی اور مجبور کیا کہ وہ دوبارہ یہودی مذہب اختیار کرے، ورنہ وہ اس کی مالی کفالت سے دستکش ہو جائے گی۔ لڑکے کے پاس اس کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ باپ مر چکا تھا اور ماں ہی اس کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔ وہ میڈیکل کا طالب علم ہے اور فی الحال چند برسوں تک وہ کمانے کے قابل نہیں ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے والدین نے میرے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا۔ وہ اس لڑکے کی ماں کی طرح تنگ نظر نہیں ہیں اور برابر میری سرپرستی کرتے رہتے ہیں۔
میں ستمبر میں آپ کے جواب کا انتظار کروں گی اور افریقہ کے بارے میں دلچسپ تفصیلات بھی چاہوں گی۔
آپ کی ہم مذہب
مریم جمیلہ