مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام سید مودودی
نیویارک
۲۵/ جنوری ۱۹۶۲ء ۱۹ شعبان ۱۳۸۱ھ
محترمی مولانا مودودی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
آپ کا خط مورخہ ۱۶۔ دسمبر موصول ہوا۔ یہ نہایت درجہ معلومات افزا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بے حد اطمینان بخش طریقے سے میرے سارے ہی سوالات کے جواب دے دیے گئے ہیں۔ اس زحمت فرمائی کے لیے شکر گزار ہوں۔
کئی ہفتے گزرے یہاں نیویارک کی مسجد میں ظفر اللہ خاں ایک لیکچر دینے آئے۔ پہلے تو میں نے ان کی تقریر سننے کا پروگرام بنا رکھا تھا، لیکن عین آخری لمحوں میں وہاں جانے کو جی نہ چاہا۔ جیسا کہ آپ بخوبی جانتے ہیں، ظفر اللہ خاں احمدیوں کے سر بر آوردہ لیڈر ہیں۔ جہاں تک قادیانیوں کی دونوں شاخوں کا تعلق ہے، ذاتی طور پر میں ربوہ والوں کے مقابلے میں لاہوری گروپ کو زیادہ خطرناک سمجھتی ہوں۔ اول الذکر لوگ واضح انداز میں مرزا غلام احمد کو پیغمبر مانتے ہیں اور جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ان کو کافر کہتے ہیں اور یوں وہ کھلے عام حلقۂ اسلام سے باہر ہیں۔ اس کے مقابلے میں لاہوری احمدی بظاہر اپنے آپ کو راسخ العقیدہ مسلمانوں کے روپ میں پیش کرتے ہیں، لیکن بڑی عیاری کے ساتھ خفیہ انداز میں اپنے اصل عقاید کی تبلیغ بھی کرتے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ظفر اللہ خاں اس دوسرے گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو صحیح العقیدہ مسلمان ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کا اصل روپ اس وقت سامنے آگیا تھا جب اعلیٰ سرکاری عہدیدار ہونے کے باوجود اس نے محض اس بنا پر قائد اعظم کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی تھی کہ امام قادیانی نہیں تھے۔
نیویارک میں ایک چھوٹی سی دکان ہے جس میں مشرق سے متعلق خصوصاً پاکستان کی چھپی ہوئی اسلامی کتابیں بھی مل جاتی ہیں۔ اس دکان سے میں نے قادیانیت کے بارے میں شیخ محمد اشرف (لاہور) کی چھپی ہوئی ایک مختصر مگر شاندار انگریزی کتاب خریدی۔ اسے phoenix نامی کسی گمنام شخص نے لکھا ہے، جب کہ ظفر علی خاں کے قلم سے بڑا ہی نفیس تعارف دیا گیا ہے۔ میں نے مرزا کے بارے میں انگریزی زبان میں اس سے بہتر اور واضح کوئی کتاب نہیں دیکھی۔ اس میں موصوف کی اپنی کتابوں سے اقتباسات دیے گئے ہیں۔ اس شخص کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد میں حیرت سے سوچتی رہی کہ محمد علی لاہوری جیسے ذہین و فطین لوگوں نے آخر کس بنا پر مرزا کے لایعنی اور مضحکہ خیز دعاوی کو تسلیم کر لیا۔ یہ المیہ یا تو ذاتی مفادات یا پھر مادی اغراض کی وجہ سے پیش آیا ہو گا۔ مجھے تو یہ شخص اخلاقی حس سے عاری اوسط درجے کی صلاحیتوں کا حامل نظر آیا جس میں یقیناً دیوانگی کے جراثیم وافر مقدار میں تھے۔ اس کے الہامات (بلکہ صحیح تر الفاظ میں مغالطہ آمیز خرافات) اسے یقین دلاتے ہیں کہ خدائے افلاک نے اسے شان و شوکت بخشی ہے اور اعلیٰ ترین زیبائش عطا کی ہے چنانچہ وہ آریوں کا بادشاہ ہے، وہ کرشن مہاراج ہے اور جے سنگھ بہادر ہے (ایک سکھ نام بمعنی فاتح شیر) مریم بھی اسی کا نام ہے اور وہ دس ماہ تک حضرت عیسیٰؑ کے ہمراہ رہا یا رہی تھی اور حضرت عیسیٰ ؑ کی صورت میں دراصل مرزا ہی نے جنم لیا تھا۔ (صفحہ ۱۹۲۔۱۹۱) کیا یہ ہفوات اس امر کا کافی ثبوت نہیں کہ وہ پاگل آدمی تھا۔ میں نہیں جانتی کہ اس کے اعزہ اس کی صحیح شناخت کیوں نہ کر سکے اور کیوں انہوں نے اسے کسی گوشئہ تنہائی میں بند نہیں کر دیا؟ چنانچہ اگر مرزا غلام احمد کو کسی پاگل خانے میں بند کر دیا جاتا تو اسے اپنی خرافات پھیلانے کا موقع نہ ملتا۔ پھر نہ آپ کو ۱۹۵۳ء کے پنجاب فسادات میں حوالۂ زنداں کیا جاتا اور نہ ہی سزائے موت کی نوبت آتی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آج مرزا صاحب زندہ ہوتے تو ان کے بلند بانگ دعاوی مگر مخصوص ذہنی و نفسیاتی حالت کے پیش نظر ڈاکٹروں کا بورڈ انہیں لازماً شیزوفرینیا یعنی مالیخولیا کی ایسی قسم سے مشخص کرے گا جس میں ذہنی انتشار ہوتا ہے مگر مریض کو پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس کے عقاید درست ہیں، اس میں بڑائی کا ادّعا پیدا ہو جاتا ہے اور اسے وہم ہو جاتا ہے کہ کوئی غیر مرئی خارجی طاقت اس کے خیالات کی تائید کر رہی ہے۔
مرزا کی تحریروں کی ایک ایک سطر سے اس کے ذہنی و فکری انتشار و فساد کا احساس ہوتا ہے۔ جیسا کہ مصنف نے لکھا ہے ”نام نہاد پیغمبر غلام احمد میں ایذا رسانی کا جنون اپنی آخری حدوں کو پہنچا ہوا تھا اور اس کے دعاوی اس کے اس جنون کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ جب یہ نفسیاتی کیفیت فزوں تر ہو جاتی تو اس کے دعووں کا آہنگ بھی بڑھ جاتا چنانچہ جب اس کی خرافات کی تردید زیادہ شدّ و مد سے ہوتی تھی‘ تو اس کے پُر عظمت دعووں کا قد بھی لمبا ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اگر مسلمان اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے اور اس کے باؤلا پن پر چنداں توجہ نہ دیتے تو اس کے ذہنی و فکری فساد کا تناسب اس قدر ترقی نہ کرتا (صفحہ ۸۶ - ۱۸۵) جو آخر میں ایسی انتہائی صورت اختیار کر گیا تھا کہ اس نے وجدانی حالت میں اپنے آپ کو خداوند تعالیٰ کے اصل روپ میں دیکھا اور جو لوگ اس کے خلاف تھے، ان کو وہ ”حرامزادہ“ کی گالی دینے لگا تھا۔ میرے علم میں نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد کی کسی ضخیم کتاب کا انگریزی میں ترجمہ ہوا ہو، البتہ ”تعلیماتِ اسلام“ (ٹیچنگ آف اسلام) کے عنوان سے اس کی ایک مختصر کتاب انگریزی میں منتقل ہوئی ہے۔ میرے خیال میں قادیانیوں کو خوب احساس ہے کہ ”الہامات“ کے نام سے جو یاوہ گوئی اور بکواس مرزا صاحب تحریر کرتے ہیں، لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے۔ تاہم میری تجویز ہے کہ مرزا کی کتابیں خصوصاً ”حقیقتِ وحی“ اردو میں بھی دوبارہ چھپنی چاہیے اور اس کا انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں بھی ترجمہ ہونا چاہیے۔ عوام کے استفادے کے لیے نہیں بلکہ طبّی حلقوں کے مطالعے کے لیے۔ یقیناً ”حقیقتِ وحی“ غیر متوازن نفسیات (ابنارمل سائیکالوجی) کے طالب علموں کے لیے بے حد دلچسپی کا باعث بنے گی اور ماہرینِ نفسیات اسے شیزوفرینیا پر گراں قدر اور بہترین دستاویز قرار دیں گے، جس میں عملی قسم کی مکمل اور جامع معلومات کے ذریعے تجزیہ کیا جاسکے گا کہ مالیخولیا کی حالت میں دماغ کس طرح کام کرتا ہے۔ اس مطالعے کی روشنی میں مرزا غلام احمد کی کتابیں دماغی امراض کے سلسلے میں مزید سائنسی تحقیق کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
کچھ عرصہ قبل آپ نے مجھے اپنی ایک کتاب ارسال فرمائی تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ ایشیا اور افریقہ کے قوم پرست اپنے سابق سامراجی آقاؤں کے نظام کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرے تبدیل ہو گئے ہیں۔ مجھے یہ بات ہندوستان میں علی گڑھ اور دیگر کئی شہروں میں ان مسلم کش فسادات کی خبریں سن کر فوراً سمجھ میں آگئی جن میں اَن گنت بے گناہ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ پنڈت نہرو حالانکہ دہریے ہیں اور سوشلزم کے زبردست پیروکار اور داعی، مگر انہوں نے وہی انداز اختیار کیا ہے جو ان کے سابق آقاؤں کا تھا یعنی جو متشددانہ ہتھکنڈے انگریزی استعمار عوام پر آزماتا تھا، وہی بلا جھجک انہوں نے اختیار کر لیے ہیں۔ فرض کیا اگر وہ خود ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال پیدا کرنے میں ملوث نہیں، تب بھی انہوں نے فسادات کی روک تھام اور اس کے ذمہ داران کو سزا دینے کا کوئی اہتمام نہیں کیا۔ دراصل مغربی انداز کی قوم پرستی کا رہنما اصول یہ ہے کہ اقلیتوں کو برداشت نہ کرو اور ان کے خلاف نفرت کی فضا قائم رکھو۔ قوم پرستی کا اولین تقاضا ہی یہ ہے کہ ملک کے تمام باشندے ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہوں، ایک زبان بولیں اور یکساں قسم کے قوانین کی پابندی کریں، اختلاف یہاں برداشت کیا ہی نہیں جاتا اور یکسانیت کو ہر قیمت پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج ہم اس منہ زور جذبے کو پوری دنیا میں پھرا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ روس میں غیر روسیوں کے معاملے میں یہی طرز عمل نظر آتا ہے، جرمنی میں نازیوں نے یہودیوں کے خلاف یہی رویہ اختیار کیا تھا جبکہ یہودی اسرائیل میں یہی سلوک عربوں کے ساتھ کر رہے ہیں اور اب ہندوستان میں یہی المیہ دہرایا جا رہا ہے۔ میں حیران ہوں کہ نہرو نے مسلمانوں کے معاملے میں نازیوں اور صیہونیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور مسلمانوں کو ان کی جائیدادوں سے محروم کیا جا رہا ہے، انہیں ملک چھوڑ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور ان کو وسیع پیمانے پر بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں کتنی زبردست رواداری ہے، اسلامی ریاست کے نظامِ ملت میں جہاں زیرِ حفاظت مذہبی اقلیتوں کو پوری آزادی دی جاتی ہے کہ وہ اپنی معاشرتی و ثقافتی روایات کو زندہ رکھیں اور اپنے قوانین پر غیر مبدّل انداز میں عمل پیرا ہوں۔
آپ کی یہ تشریح کہ اسلام تصویر کی ممانعت کیوں کرتا ہے، بے حد فکر انگیز اور منطقی ہے۔ میری ہمیشہ سے یہ رائے رہی ہے کہ عظیم آرٹ اور مذہبی عقاید میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ میرے نزدیک قاہرہ میں ابن طولون کی مسجد، مسجد قرطبہ، استنبول اور عالمِ اسلام کی دیگر عظیم مساجد، قرآن کی بے مثال غیر معمولی خطاطی، دیدہ زیب قالین، خوشنما کپڑے، برتن اور آئینہ سازی کا کام دراصل اسلام کی روحانی قدروں کا خوبصورت اظہار ہے۔ کیا پیغمبر اسلام کا قول نہیں ہے کہ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ جب اسلامی تہذیب اپنے عروج پر تھی تو آج کی طرح آرٹ کے نمونے محض عجائب گھروں کی زینت نہیں بنتے تھے، بلکہ عام مسلمانوں کی زندگی کا لازمی حصہ تھے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں مغرب کے انسان کی روزمرہ زندگی آرٹ سے قطعی عاری ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ مغربی پہناووں اور الٹرا ماڈرن عمارتوں سے زیادہ کریہہ اور بدصورت چیزیں میں نے کبھی نہیں دیکھیں۔ آج کل نام نہاد غیر مادی، داخلی اور تجریدی پینٹنگ کا کس قدر فیشن ہے، مگر ذرا غور کریں تو یہ دماغی امراض کے ہسپتالوں میں نفسیاتی مریضوں کی بے ہنگم اور لایعنی ”تصویروں“ سے ہو بہو مشابہت رکھتی ہیں۔ ان تصویروں کا عمومی مفہوم ایک ہی ہوتا ہے۔ ’’زندگی بے معنی اور بے مقصد ہے۔ خدا کا کوئی وجود نہیں۔ ہر طرف افراتفری اور لایعنیت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ مجھے اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ماڈرن آرٹ کے انحطاط کا تعلق دراصل ’’فلسفہ تغیر‘‘ (فلاسفی آف چینج) سے ہے یعنی اگر ہر چیز مسلسل تبدیلی کی زد میں رہے تو منطقی طور پر یہ سمجھا جائے گا کہ کسی شے کو دوام اور پائیداری حاصل نہیں، اس لیے یہ محدود وقت اور محدود مقام تک رہنی چاہیے اور حتمی فیصلہ یہ ہوگا کہ کوئی چیز کسی مستقل قدر کی حامل نہیں حالانکہ فنونِ لطیفہ کی عظمت اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اخلاقِ عالیہ اور حسنِ لازوال کی صداقتوں پر استوار ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں ماڈرن آرٹ اور فنونِ لطیفہ کے زوال اور پستی کی نذر ہونے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ روحانی و وجدانی تصورات سے دور ہو گئے ہیں۔ ظاہر ہے جب تک کوئی شخص صداقتِ کُلی (Absolute Truth) کا ادراک نہیں کرتا، وہ کبھی نیکی اور اچھائی کو نہیں پاسکتا اور جس شخص نے یہی گمان پال رکھا ہو کہ آج کا حسن کل کے قبح میں تبدیل ہو جائے گا، وہ کردار کی عظمت اور پاکیزگی کیسے حاصل کر سکے گا؟
شاہ ولی اللہ کے بارے میں جو تھوڑا بہت مطالعہ میں نے کیا ہے، اس سے سخت پریشان ہوئی ہوں۔ ایک طرف تو یہ عالم ہے کہ برصغیر کے بہت سے علماء انہیں الغزالی کے بعد دوسری بڑی علمی و دینی شخصیت قرار دیتے ہیں، جب کہ دوسری جانب کہا جاتا ہے کہ ان کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’حجۃ البالغہ‘‘ نے عقلیت کی برتری کی ترغیب دی اور یوں بالواسطہ مغرب پرست متجددین کو غذا فراہم کی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شاہ ولی اللہ نے اسلام کے نام نہاد ’’عرب‘‘ عناصر کو اس بنا پر مسترد کر دیا کہ ان کا تعلق محض ایک خاص ماحول اور زمانے تک تھا، اور یہ صرف محمد (رسول اللہ) کے قدامت پرست عہد ہی کے لیے موزوں تھے، یہی سبب ہے کہ انہوں نے قرآن کے غیر عربی ترجموں کی حوصلہ افزائی کی اور خود قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شاہ صاحب نے فقہ کے چاروں معروف مکاتب فکر کو یکسر مسترد کر دیا تھا اور ایک ایسا نیا فقہی مسلک ایجاد کرنا چاہتے تھے، جو ہندوستان کے مسلمانوں کے مزاج اور ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ ان سے یہ بات بھی منسوب کی جاتی ہے کہ انہوں نے قرآن و سنت کے صرف انہی حصوں کو لازم اور قابلِ عمل قرار دیا تھا، جن کا تعلق خالص مذہبی اور روحانی معاملات سے ہے اور باقی حصے جن کا تعلق دنیاوی امور سے ہے، ان کے نزدیک محض ساتویں صدی ہجری کے عرب سے وابستہ تھے۔ اب جو بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی، وہ یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ تو برطانوی استعمار کی ہندوستان میں آمد سے قبل ہی اپنا زمانہ گزار چکے تھے، لیکن دوسری جانب جہاں تک میرے ناقص مطالعے کا تعلق ہے، ان کے فکر و فلسفہ نے بعد میں آنے والے نام نہاد مسلمان ”معذرت خواہوں“ کو جواز اور بنیاد بھی فراہم کر دی تھی، پھر کیا انہوں نے اپنے نظریات کو کامل آزادی سے مرتب کیا تھا؟ اگر یہ بات نہیں تھی تو وہ کون سے خارجی عوامل تھے جنہوں نے انہیں متاثر کیا تھا؟ حال ہی میں ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، لاہور، نے بشیر احمد ڈار کی کتاب ”سرسید احمد خاں کی مذہبی فکر“ The Religious Thought of Sir Sayyid Ahmad Khan شائع کی ہے، اس میں مصنف نے لکھا ہے کہ سرسید احمد خاں اپنے نظریات و عقاید کے ثبوت میں جگہ جگہ شاہ ولی اللہ کی عبارتوں کا حوالہ دیتے ہیں۔
سرسید احمد خاں کی معذرت خواہانہ تحریروں نے اسلامی تعلیمات کا جس حد تک حلیہ بگاڑا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور یوں لگتا ہے کہ انہوں نے سید امیر علی اور مولانا ابو الکلام آزاد کو بھی بے پناہ متاثر کیا ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ علامہ اقبال بھی اپنے آپ کو ان اثرات سے نہ بچا سکے جس کا پرتو ان کی انگریزی تصنیف ”اسلام میں مذہبی فکر کی تشکیلِ جدید“ میں نظر آتا ہے۔
میں جانتی ہوں کہ علامہ اقبال بیسوی صدی عیسوی میں وہ عظیم ترین مسلمان شاعر ہیں کہ جن کی شاعری حتیٰ کہ اس کے انگریزی تراجم بھی، بے حد فکر انگیز ہیں۔ لیکن میں پریشان ہوں کہ دراصل ان کا عقیدہ اور نصب العین کیا ہے اور وہ کہاں کھڑے ہیں؟ بعض محققین کا اصرار ہے کہ وہ غیر معمولی حد تک جدّت پسند ہیں اور ثبوت میں متذکرہ انگریزی تصنیف میں سے ایسے حوالے پیش کرتے ہیں جن میں اسلامی تعلیمات کو بعض معاصر یورپی مفکروں کے معیار کے مطابق جانچنے کی کوشش کی گئی ہے اور ترکی میں کمال اتاترک کے تجربات کی جی بھر کر تحسین کی گئی ہے۔ اس کے برعکس یہ بھی حقیقت ہے کہ علامہ اقبال نے اپنی اردو اور فارسی شاعری میں مغربی تہذیب اور اس کے بانیوں پر سخت تنقید کی ہے اور ان مسلمانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو اپنے دینی ورثے کو ترک کر کے اندھا دھند مغرب کی نقالی کر رہے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ظن و تخمین اور یبوست کا مارا ہوا ایک انسان، جیسا کہ تجدّد پرست لازماً ہوتے ہیں، اسلامی تعلیمات کے بارے میں اس راست فکری اور بے میل طریقے سے لکھ ہی نہیں سکتا جیسا کہ علامہ اقبال نے لکھا ہے۔ جو چیز میرے لیے نا قابلِ فہم بن گئی ہے، وہ یہ ہے کہ علامہ موصوف نے متعدد مقامات پر اپنے ہی خیالات کی تردید کیوں کی ہے؟ میں تصوّر بھی نہیں کر سکتی تھی کہ وہ تضاد بیانی میں مبتلا ہوں گے جب کہ ان کا کلام ان کے خلوص کی واضح شہادت دیتا ہوا نظر آتا ہے۔
کیا آپ مجھے مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں کچھ معلومات دے سکیں گے۔ میں نے ان سے متعلق پروفیسر ہمایوں کبیر کی ایک انگریزی کتاب نیویارک کی پبلک لائبریری میں دیکھی ہے، مگر وہ ناکافی اور تشنہ ہے۔ ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ تحریکِ آزادی کے علمبردار تھے، مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھی تھے، سالہا سال تک کانگریس پارٹی کے صدر رہے تھے اور ہندوستان کی آزادی کے بعد سے وفات تک وزیرِ تعلیم کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے تھے۔ یہ بات بھی میرے علم میں آئی ہے کہ وہ صفِ اول کے جیّد عالم تھے، اردو نثر کے صاحبِ طرز ادیب تھے اور قرآن پاک کی ایک ایسی تفسیر کے مصنف تھے جو اچھی خاصی متنازعہ فیہ ہے۔ بدقسمتی سے اب تک ان کی تحریروں کا کوئی انگریزی ترجمہ میرے ہاتھ نہیں لگا۔
میں بہت شکر گزار ہوں گی اگر آپ میرے ان سوالات پر روشنی ڈالیں گے جو میں نے اس خط میں اٹھائے ہیں۔
آپ کی ہم مذہب
مریم جمیلہ