مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام سید مودودی
<<بسم اللہ الرحمن الرحیم>>
نیویارک
۵-دسمبر، ۱۹۶۰ء
محترمی مولانا مودودی!
آپ کا گرانقدر مقالہ ”زندگی بعد موت“ میں نے ڈربن (جنوبی افریقہ) کے انگریزی جریدہ ”دی مسلم ڈائجسٹ“ کی فروری ۱۹۶۰ء کی اشاعت میں پڑھا ہے، اور اب تک اس موضوع پر میں نے جتنی تحریروں کا مطالعہ کیا ہے، ان سب میں اس نے بہترین طریقے سے میرے دل و دماغ کو متاثر کیا ہے۔ میں نے پہلے پہل آپ کا ذکر مظہر الدین صدیقی کے ایک مقالے میں پڑھا جو ”اسلام ایک صراط مستقیم“ (مرتبہ کینتھ مورگن۔ رونالڈ پریس، نیویارک ۱۹۵۸ء) میں شامل تھا۔ اگرچہ مصنف نے اپنی روایتی تجدّد پرستی کی وجہ سے آپ کے بارے میں تحقیر آمیز لب و لہجہ اختیار کیا تھا، پھر بھی میرے دل میں فوراً ہی آپ کے مقاصد اور نصب العین سے گہری ہمدردی پیدا ہو گئی تھی۔
سالِ گزشتہ کے دوران میں نے اپنے اندر یہ عزم بیدار ہوتا ہوا محسوس کیا کہ مجھے سیکولرزم اور نیشنلزم جیسے ان مادی نظریات کے خلاف اعلانِ جنگ کر دینا چاہیے جو آج بھی دنیا میں خاص اثر اور قوت رکھتے ہیں اور نہ صرف اسلام کی بقا بلکہ پوری نوعِ انسانی کے لیے زبردست خطرہ بن گئے ہیں۔ ذہن میں یہی مقصد لے کر میں اب تک بہت سے مضامین لکھ چکی ہوں، جن میں سے چھ ”مسلم ڈائجسٹ“ ڈربن اور ”اسلامک ریویو“ لندن میں شائع ہو چکے ہیں۔ میرا پہلا مضمون ”اسلام ان ماڈرن ہسٹری“ (اسلام تاریخِ جدید میں) کی تنقید پر مشتمل تھا۔ یہ کتاب اسلامک انسٹی ٹیوٹ میکگل یونیورسٹی مانٹریال کے ڈائریکٹر پروفیسر ولفرڈ کینٹول سمتھ نے لکھی ہے۔ میں نے اس کی تمام دلیلوں کو ایک ایک کر کے نمبر وار غلط ثابت کیا کہ لادینیت اور جدیدیت اسلام سے ہم آہنگ ہیں اور ترکی میں کمال اتاترک کی ’’اصلاحات‘‘ دیگر اسلامی ملکوں کے لیے بھی بہترین قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔
میرے دوسرے مضمون کا عنوان تھا: ’’قومیت، اسلامی اتحاد کے لیے عظیم خطرہ‘‘۔ اس میں مَیں نے ثابت کیا تھا کہ قومیت کا جدید تصور اسلامی اخوت اور امت کے عالمگیر نظریے سے کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتا، نہ ان دونوں میں کوئی مصالحت ہو سکتی ہے۔ میرا تیسرا مقالہ بیک وقت جون ۱۹۶۰ء کے ’’اسلامک ریویو‘‘ اور اگست ۱۹۶۰ء کے ’’دی مسلم ڈائجسٹ‘‘ میں شائع ہوا۔ اس میں مَیں نے کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر آصف۔ اے فیضی کے ان دلائل کی دھجیاں اڑائی تھیں جن میں اس نے مغرب پسند، ’’اصلاح یافتہ‘‘ اور ’’لبرل‘‘ اسلام کی تجاویز پیش کی تھیں اور جنہیں اگر قبول کر لیا جائے تو اسلام محض اخلاقی پند و نصائح کا کھوکھلا ڈھانچہ بن کے رہ جائے گا جو معاصر معاشروں یا تہذیبوں پر کچھ بھی اثر انداز نہیں ہوگا۔
دیگر مضامین میں مَیں نے مشہور ترک ماہر سماجیات ضیاء گوکلب کے ان خیالات کی تردید کی جن میں اس نے قومیت (نیشنلزم) اور لادینیت (سیکولرزم) کو اسلام کے عین مطابق قرار دیا تھا (کمال اتاترک نے اسی سے براہ راست متاثر ہو کر تجدُّد کی مہم شروع کی) سر سید احمد خان کے ان عقاید کو غلط ثابت کیا جن کے زیر اثر اس نے انیسویں صدی کی یورپین سائنس اور فلسفے کو خدا کا درجہ دے دیا تھا۔ میں نے علی عبد الرزاق کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جس نے ’’اسلام اور اصول حکومت‘‘ نامی کتاب میں جو خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے فوراً بعد لکھی گئی، یہ بڑ ہانکی کہ خلافت کبھی بھی اسلام کا لازمی جزو نہیں رہی، اس لیے مذہب کو مکمل طور پر اور ہمیشہ کے لیے ریاست و سیاست سے خارج کر دینا چاہیے۔ مَیں نے تیونس کے صدر حبیب بورقیبہ کے اس بیان پر بھی تنقید کی جس میں اس نے گزشتہ برس رمضان کے روزوں پر یہ کہہ کر کیچڑ اچھالی تھی کہ یہ تیونس کی اقتصادی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ اسی طرح میں نے مصر کے نابینا دانشور اور مصنف ڈاکٹر طہ حسین کے بودے خیالات کی قلعی کھولی جو ”مصر میں کلچر کا مستقبل“ میں یہ دور کی کوڑی لائے ہیں کہ مصر یورپ کا لازمی و حتمی جزو ہے، اس لیے تہذیب و ثقافت کو مکمل طور پر مغربیت و لا دینیت کے رنگ میں رنگنا بے حد ضروری ہے۔ میرے خیال میں یہ تمام نام نہاد مسلمان ”ترقی پسند“ بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں اس اعتبار سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں کہ یہ اسلام کے اندر رہتے ہوئے اسلام کی بنیادوں پر کلہاڑا چلاتے ہیں۔ میں نے اپنے مضامین میں اپنے مسلمان قارئین کو اسی خطرے کا احساس دلانے اور ان کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ہے۔
معاملہ یہ ہے کہ عہد حاضر کی لادینیت، قومیت اور مادیت دراصل والٹیئر، روسو اور مانٹیسکو جیسے ان فلسفیوں کے نظریات کی مرہون منت ہیں جنہوں نے انقلاب فرانس کی آبیاری کی، یہ لوگ ہر نوع کے مذہب سے سخت بیزار تھے، اس لیے انہوں نے اپنی تحریروں میں اس امر پر خاص زور دیا کہ انسان ترقی و نجات کے سارے مراحل خدا کے بغیر ہی طے کر سکتا ہے۔ اس فریب کارانہ تصور نے کہ انسان خدا کا محتاج نہیں، نہ ہی مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی ہوگی، یہ نقطۂ نظر عام کیا کہ انسان کا مقصدِ عظیم اسی زندگی میں زیادہ سے زیادہ مادی خوشحالی اور ترقی کا حصول ہے اور بس۔ ظاہر ہے اس قسم کے انتہائی زہرناک مذہب دشمن ماحول میں مارکسزم، فاشزم، نازی ازم، پریگماٹزم (جسے جان ڈیوی نے پیش کیا) اور صیہونیت (جس نے فلسطین کا المیہ جنم دیا) جیسے سانپ بچھو ہی پیدا ہو سکتے تھے۔ میں اس موضوع پر ایک اور مضمون لکھنے کا ارادہ رکھتی ہوں جس میں بھر پور تفصیلات کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر پیش کروں گی۔
آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ میں کون ہوں؟ میں ایک چھبیس سالہ امریکی خاتون ہوں اور اسلام کو دنیا کی آخری اور واحد امید سمجھ کر اس سے اس قدر دلچسپی رکھتی ہوں کہ اب اسلام قبول کر لینا چاہتی ہوں، لیکن مصیبت یہ ہے کہ نیویارک کے نواح میں جہاں میں رہتی ہوں، کوئی مسلمان نہیں اور مسلمان ہو کر میں اپنے آپ کو خوفناک حد تک یک و تنہا محسوس کروں گی۔ یہی سبب ہے کہ جب میں نے ”دی مسلم ڈائجسٹ“ میں آپ کا مضمون دیکھا تو رسالے کے ایڈیٹر سے آپ کا ایڈریس دریافت کیا تا کہ آپ سے خط و کتابت کی جا سکے۔ براہِ کرم اپنی کچھ تحریریں مجھے ضرور بھجوائیے۔ خصوصاً وہ کتابچہ جو آپ نے چند برس قبل ”اسلامی انقلاب کا لائحۂ عمل“ کے عنوان سے لکھا تھا۔ چونکہ ہم ایک ہی طرح کے نظریات رکھتے ہیں اور ایک ہی منزل کے راہی ہیں، اس لیے آپ سے رابطہ قائم کر کے مجھے بے حد خوشی ہوگی اور آپ کی مساعی میں شرکت کر سکوں گی۔
عقیدت کیش
مارگریٹ مارکس