مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
بنام سید مودودی
نیویارک
۱۲- اپریل ۱۹۶۱ء
محترمی مولانا مودودی
مجھے یہ معلوم کر کے صدمہ ہوا کہ آپ دو ماہ تک خرابیِ صحت کا شکار رہے ہیں اور اسی ناسازیِ طبع کی وجہ سے افریقہ کا دورہ بھی نہیں کر سکے۔ میری انتہائی خواہش ہے کہ ڈاکٹر درد کے افاقے کے لیے کوئی مؤثر علاج ڈھونڈ نکالیں۔ ایسی تکلیف میں مبتلا رہ کر بھی ایسے طویل خط ٹائپ کرانا جس میں میری تشفی کے مطابق میرے ایک ایک سوال کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے، اچھا خاصا زحمت طلب کام ہے۔
ان دنوں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اخبارات جن باتوں کی غیر مختتم اور متواتر دہائی دے رہے ہیں وہ نام نہاد ”ترقی پذیر“ ممالک میں معیارِ زندگی کی سربلندی اور اقتصادی ترقی کے بارے میں ہیں اور اس مقصد کی خاطر امریکہ اور روس سے غیر ملکی امداد کو ناگزیر سمجھ لیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح نام نہاد ”ترقی پذیر“ ممالک کی نام نہاد ”اقتصادی خوشحالی“ محض سراب بن کے رہ گئی ہے۔ یوں بھی ان ممالک میں اقتصادی ترقی کا مفہوم محض یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ شہروں کو ترقی دی جائے یا صنعت و مشینی زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے۔ اس طرح عملی طور پر ”اقتصادی ترقی“ کا نعرہ دراصل مغربی اقدار کی اشاعت و فروغ کا ذریعہ بن گیا ہے جب کہ اس کا دوسرا مقصد ایشیا اور افریقہ کی دیسی روایات اور ثقافت کو تباہ کرنا ہے۔ بظاہر جہالت کے خاتمے اور فروغِ علم و تعلیم کی ضرورت پر بڑا زور دیا جاتا ہے لیکن مذکورہ سیاق و سباق میں تعلیم کا مطلب خالصتاً مغربی معیارات پر مبنی ایسی جدید سیکولر تعلیم ہے جس میں ٹیکنالوجی پر خصوصی زور دیا جاتا ہو جبکہ سماجی انصاف اور تقسیمِ دولت کے اسلامی نظریات و ذرائع مثلاً زکوٰۃ، قوانینِ وراثت، وقف اداروں اور سرمائے پر سود کی حرمت کو قطعی نظر انداز کیا جاتا ہے۔ میرے نزدیک عہد حاضر میں جس تحریک نے اسلامی طریقوں کے مطابق سماجی انصاف کو حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی، وہ کالعدم اخوان المسلمون ہے جو ۱۹۲۸ء میں شیخ حسن البناء نے برپا فرمائی تھی۔
چونکہ میں ذہنی طور پر ہمیشہ سے بین الاقوامیت کی قائل رہی ہوں اور دنیا کی مختلف قوموں کے درمیان بہتر ثقافتی اتحاد کی آرزو مند ہوں، اس لیے میں نوجوانی کے زمانے میں اقوام متحدہ کے بعض اداروں مثلاً یونیسکو (یواین او کا تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارہ) کو مثالی تنظیمیں خیال کرتی اور ان کے بارے میں خاصی ”عقیدت“ رکھتی تھی۔ لیکن بعد کے مطالعے اور تجربے نے میری گرم جوشی کو بہت کم کر دیا۔ ۱۹۴۶ء میں جب یونیسکو کا آغاز ہوا، میری عمر صرف بارہ برس تھی، تاہم میں نے اس وقت سے لے کر آج تک اس کی تمام مطبوعات کا بغور مطالعہ کیا ہے، بظاہر وہ مکمل طور پر معروضی اور غیر جانبدارانہ نقطۂ نظر کی حامل سمجھی جاتی ہیں، لیکن عام مغربی رسائل و جرائد کی مانند وہ بھی اسلامی طریقِ زندگی کے خلاف شدید تعصب اور بغض کا شکار ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اقوام متحدہ کے مختلف ادارے بھی دیگر یورپی تنظیموں کی طرح دراصل مغربیت اور جدید مادّیت کے فروغ و اشاعت کا وسیلہ ہیں۔ چنانچہ یہ محض اتفاق کی بات نہیں کہ یونیسکو کے اولین ڈائریکٹر سر جولین ہکسلے (نامور برطانوی بیالوجسٹ سر تھامس ہکسلے کے پوتے) متعدد ایسی کتابوں کے مصنف ہیں جو نقطۂ نظر کے اعتبار سے مکروہ قسم کے الحاد اور مادہ پرستی کی شاہکار ہیں۔
میرے ناول ”احمد خلیل“ جو ایک عرب فلسطینی مہاجر کی سرگزشت پر مبنی ہے، کا آخری باب مارچ ۱۹۶۱ء میں بیک وقت ”اسلامک ریویو“ ووکنگ اور ”مسلم ڈائجسٹ“ (ڈربن) کے رمضان نمبر میں شائع ہوا۔ اس وقت سے مجھے بہت سے مسلمانوں کے خطوط مل چکے ہیں جن میں اس امر کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے کہ ’میں نے روایتی قدیم عرب زندگی کی ایسی عکاسی کیوں کی ہے جس میں لوگوں کو مقامی لباس میں‘ ایک ہی طشت میں انگلیوں سے کھاتے ہوئے یا فرش پر بچھی ہوئی چٹائی یا دری پر سوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مکتوب نگاروں کا اصرار تھا کہ میں نے اپنے کرداروں کا اس ”پس ماندگی“ میں زندگی گزارتے ہوئے دکھا کر عرب مفاد کو سخت دھچکا لگایا ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
میرا خیال ہے کہ ایشیا اور افریقہ کا جدید تعلیم یافتہ حکمران طبقہ جو بے طرح سے اپنے اپنے ملکوں کو ”ترقی“ دینے کے خبط میں مبتلا نظر آتا ہے، دراصل اپنے غریب عوام کی بہبودی کا کوئی سچا جذبہ نہیں رکھتا، بلکہ ان کی جانب سے احساسِ ندامت کا شکار ہے۔ وہ ہر لمحہ شدید قسم کے احساسِ کمتری میں دبے رہتے ہیں کہ ان کے ملکوں کو ”پس ماندہ“ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ میرے نزدیک ان ملکوں میں بھاری صنعتیں قائم کرنے کا جو جنون نظر آتا ہے، اس سے عوام کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچے گا، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ”ترقی یافتہ“ اور ”متمدن“ ملکوں میں ان حکمرانوں پر واہ واہ کے ڈونگرے برسائے جائیں گے کہ انہوں نے بڑے بڑے کارخانے، عظیم الشان ڈیم اور ہائیڈروالیکٹرک کے دیو قامت پلانٹ قائم کر لیے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ قوموں کا معاملہ بھی افراد سے مختلف نہیں ہوتا جو محض سطحی کر و فر کا مظاہرہ کرنے اور خالی خولی چودھراہٹ کا رعب جمانے کے لیے زراندوزی کرتے ہیں۔ قرآنِ حکیم نے اس طرزِ عمل کو کتنی خوبصورتی سے بیان فرمایا ہے:
”خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔“ (الحدید۔ آیت ۲۰)
اور یہ آیتِ ربانی آج بھی ویسا ہی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے جیسا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا۔
حالات کے اس نقشے کو دیکھ کر ہی یہ بات میری سمجھ میں آئی ہے کہ عقیدہ آخرت کو دین اسلام کا جزو لازم کیوں بنایا گیا ہے اور تقریباً ہر قرآنی آیت میں اس پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جونہی ایک شخص آخرت پر محکم یقین اختیار کرتا ہے، دنیا اور اس سے وابستہ اقدار کی فوقیت کا تصور فوراً ہی دم توڑ دیتا ہے۔ عقیدۂ آخرت ایک
شخص پر جو فوری اثر مرتب کرتا ہے وہ یہ کہ زندگی صحیح تناظر کے ساتھ سامنے آجاتی ہے اور انسان اہم اور غیر اہم معاملات میں تمیز کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جس کے بعد ایک فرد نیکی کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو ازلی و ابدی ہے اور ایسی مادی کامیابیوں سے دور رہتا ہے جو آخر کار ہمیشہ کے لیے فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہیں اور اپنے پیچھے ہلکا سا نشان بھی نہیں چھوڑتیں۔ ضابطۂ اخلاق کی پشت پر یہ یقین ہی مؤثر ترین طاقت ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ میزان عدل قائم کریں گے۔ اسی لیے روزِ جزاء کے بغیر مذہب کی حیثیت بے معنی ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے اگر قیامت کا تصور ایسی ہی اخلاقی روحانی ضرورت ہے تو اس کی بنیاد محض خوش کن آرزوؤں پر استوار نہیں کی جا سکتی جیسا کہ تشکیک کے مارے ہوئے لوگ کرتے ہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو معروضی بھی ہے اور محکم بھی۔
میں پہلے بھی عرض کر چکی ہوں کہ ان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی شدید تنہائی محسوس کرتی ہوں جو بنیادی طور پر ہمارے ایمان و عقائد سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہاں نیویارک میں مسلمانوں کی مختصر سی تعداد رہائش پذیر ہے جن سے ہر ہفتے مسجد میں اس وقت ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جب میں وہاں عربی سیکھنے جاتی ہوں۔ جمعہ کو میں کولمبیا یونیورسٹی جاتی ہوں، جہاں پاکستان سمیت مختلف اسلامی ملکوں کے طالب علموں کا اجتماع ہوتا ہے۔ ہم جمعہ کی نماز اکٹھی پڑھتے ہیں.. بعد میں کھانے کی میز پر گفتگو ہوتی ہے، جہاں بدقسمتی سے تقریباً ہر معاملے میں میرا اُن سے ویسا ہی اختلاف ہوتا ہے جیسے میرے اپنے والدین سے۔ ان مسلمان نوجوانوں کا پختہ یقین ہے کہ اسلام کو جدید مغربی تہذیب اور اس کے نظریات و اعمال سے مصالحت کر لینی چاہیے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق تبدیل کر لینا چاہیے۔ ان میں سے چند ایک تو اسلام کے بنیادی عقاید تک کو ہدف بنانے سے نہیں چوکتے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو حدیث کو سند ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اگرچہ میں انتہائی حکمت اور تحمل سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں، مگر بدقسمتی سے ہم ایک دوسرے کو قائل نہیں کر سکے۔ نتیجہ یہ کہ ہر گفتگو کے بعد میں شدید قلبی اذیت اور ذہنی انتشار سے دوچار ہوتی ہوں۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ میرے استاد نے، جن سے میں مسجد میں عربی سیکھتی ہوں اور جو مصر کے رہنے والے ہیں، مجھے بتایا کہ وہ اپنے مصری ہونے کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنا مسلمان ہونے کو۔ انہوں نے مجھے یقین دلانے کی کوشش کی کہ قوم پرستی کا جذبہ ہر انسان کے دل میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔ مغرب سے اس کی درآمد تو بہت بعد میں غیر ضروری طور پر ہوئی ہے۔
اب میں آپ سے دریافت کرنا چاہتی ہوں کہ اس صورت حال میں ہمیں کیا لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہیے؟ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نومبر ۱۹۵۹ء سے اب تک اس نقطۂ نظر کی حمایت اور مدافعت میں بہت سے مضامین لکھ چکی ہوں اور وہ مختلف انگریزی جرائد میں شائع بھی ہو چکے ہیں، لیکن ظاہر ہے یہ کوشش بڑی ناکافی ہے۔ براہ کرم مجھے مطلع فرمایئے کہ تحریری خدمات کے علاوہ آپ نے اس ضمن میں عملی کام کس نوعیت اور نہج پر کیا ہے اور اس کی موجودہ کیفیت کیا ہے؟
آپ کی بحالی صحت کے لیے دعا گو ہوں اور آپ کی اور آپ کے اہل خانہ کی خدمت میں سلام عرض کرتی ہوں۔
مخلص
مارگریٹ مارکس