مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "مولانا مودودی اور محترمہ مریم جمیلہ کی مراسلت" ایک فکری و روحانی مکالمے کا منفرد نمونہ ہے، جو دو ایسے ذہنوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے جنہوں نے عصرِ حاضر کے مادیت، سیکولرزم اور تہذیبی غلامی کے خلاف اپنی زندگی کا عہدِ جہاد کر رکھا تھا۔ یہ مراسلت صرف ذاتی خطوط کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلام کی حقانیت، اس کے نظامِ حیات کی شمولیت، اور مغربی تہذیب کے فلسفیانہ بحران کا ایک جامع تجزیہ ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام واحد ایسا ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو حقیقی معنیٰ، مقصد اور اخلاقی استحکام فراہم کرتا ہے، جبکہ تمام جدید نظریات—چاہے وہ لادینیت ہو، قومیت ہو یا مادیت—انسانیت کو روحانی خلا اور اخلاقی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

مراسلت کا آغاز محترمہ مریم جمیلہ (مارگریٹ مارکوس) کے ایک خط سے ہوتا ہے، جس میں وہ مولانا مودودی کے مضامین سے متاثر ہونے کا اعتراف کرتی ہیں اور اپنے فکری سفر کا ذکر کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے اندر پروان چڑھ کر بھی اس کی خالی خولی اور بے مقصدی سے بے چینی محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ ان کا موقف واضح ہے: جدید لادینیت اور قومیت اسلامی امت کے تصور کے لیے وجودی خطرہ ہیں، اور ان کے خلاف جہاد ضروری ہے۔ مولانا مودودی کا پہلا جوابی خط ان کے عقائد کی تائید کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ جو شخص اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتا ہے، وہ فطری طور پر مسلمان ہے، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

بنام مس مارکس

لاہور

۲۵۔ فروری، ۱۹۶۱ء

محترمہ مس مارکس! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا مفصل خط یہاں قدرے تاخیر سے پہنچا۔ افسوس کہ بعض طے شدہ ناگزیر مصروفیات کی وجہ سے میں آپ کو فوراً جواب نہ لکھ سکا۔ ظاہر ہے آپ کو ذہنی کوفت ہوئی ہو گی۔ اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

میں نے آپ کی زندگی کے حالات کا مطالعہ بڑی دلچسپی اور توجہ سے کیا۔ میں جب آپ کا خط پڑھ رہا تھا تو بے اختیار سوچ رہا تھا کہ ایک غیر متعصب اور صاف ذہن کس طرح بالآخر صراط مستقیم کو پالیتا ہے، شرط یہ ہے کہ اخلاص اور سعی مسلسل ہم رکاب رہیں۔ آپ کو اس راستے میں جن مشکلات، مصائب اور ذہنی کرب سے دوچار ہونا پڑا، وہ ہرگز میرے لیے غیر متوقع نہیں۔ اگر ایک فرد اپنے ماحول سے مسلسل جنگ آزما رہے، اور ہمدردی یا حوصلہ افزائی کے دو لفظ بھی کسی جانب سے اسے نصیب نہ ہوں، تو اگر اس کے اعصاب مکمل تباہی سے بچ جائیں تو فی الواقع یہ ایک خلاف معمول واقعہ ہوگا۔ اپنے ماحول سے آپ کی عدم مطابقت کا سبب محض یہ ہے کہ اس معاشرے سے آپ کی کوئی مطابقت نہیں۔ آپ کا مذاق اور افتادِ طبع، آپ کے خیالات، عادتیں اور طرز زندگی غرض کوئی بات بھی تو اس سوسائٹی کی خصوصیات سے میل نہیں کھاتی، بلکہ بنیادی طور پر قطعی مختلف ہے۔ متواتر تصادم کی یہ کیفیت آپ کو اس نقصان اور ذہنی خلجان سے جس سے اب تک آپ دوچار رہ چکی ہیں، کہیں زیادہ مشکلات میں مبتلا کر سکتی تھی۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے خط استوا کے کسی پودے کو قطب شمالی میں اگانے کی کوشش کی جائے۔ ہر شخص موافق ماحول ہی میں اپنی صلاحیتوں کو جلا دے سکتا ہے۔ ہر وقت کے مخالف ماحول میں انسان کا ذہنی توازن ختم ہو کے رہ جاتا ہے اور صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک آپ کی شادی نہیں ہوسکی۔ ظاہر ہے امریکی معاشرہ آپ جیسی خاتون کو قبول بھی کیسے کرسکتا ہے۔ جہاں آپ کی خوبیاں ان کے نزدیک برائیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ آپ کو اپنے معاشرتی ڈھانچے میں کوئی سچا شریک حیات مل ہی نہیں سکتا اور مصنوعی طور پر آپ ایسے کسی بندھن میں بندھ بھی گئیں تو نہ یہ آپ کے حسب خواہش ہوگا، نہ ہی کامیاب ازدواجی زندگی کا ضامن ہوگا۔

آپ کا پہلا خط ملنے کے ساتھ ہی میں نے آپ کے مسائل پر غور شروع کر دیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ دو میں سے آپ کو ایک بات کا انتخاب کرنا ہوگا۔ یا تو امریکہ میں کھلم کھلا اسلام کے لیے کام شروع کر دیجئے اور اس مقصد کے لیے اپنے گرد مخلص خیر خواہوں اور کارکنوں کی ایک جماعت اکٹھی کر لیجیے یا پھر کسی اسلامی ملک میں ہجرت کر جائیے۔ اس کے لیے میں ترجیحاً پاکستان کا نام تجویز کروں گا۔ ان دونوں میں سے آپ کو کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے، میرے لیے اس معاملے میں کوئی فیصلہ دینا بہت مشکل ہے۔ اس کا انحصار آپ کے حالات اور میلانِ طبع پر ہے اور ان کا اندازہ آپ خود ہی کر سکتی ہیں۔ ہاں البتہ اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر پاکستان میں آنا چاہیں تو یہاں آپ اپنے آپ کو بہت سے ہم خیال لوگوں میں پائیں گی جب کہ زبان کا تفاوت بھی پریشان کن نہ ہو گا۔ اللہ کے فضل سے آپ یہاں ہر طرح کی اخلاقی اور مادی امداد اور حوصلہ افزائی پائیں گی۔ پھر یہ بات بھی یقینی ہے کہ شریکِ حیات کے طور پر آپ کو یہاں کوئی پاکباز مسلمان نوجوان بھی مل جائے گا۔ جب آپ پاکستان تشریف لے آئیں گی تو میں انشاء اللہ آپ کی ہر ممکن مدد کروں گا، مگر افسوس زرمبادلہ پر سخت پابندیوں کی وجہ سے میں آپ کے امریکہ و پاکستان کے درمیان سفر کے سلسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔

چونکہ آپ کے والدین آپ کے خیر خواہ ہیں، اس لیے امید ہے وہ آپ کے راستے میں مزاحم نہیں ہوں گے۔ انہیں یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اگر انہوں نے اپنی بیٹی کو ناموافق ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا تو نہ صرف مایوسیاں اس کا محاصرہ کرلیں گی بلکہ اس کے اعصاب بھی ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر خوش قسمتی سے اسے موافقانہ اور دوستانہ سماجی ماحول مل جائے، تو وہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو صحت یاب محسوس کرے گی اور با مقصد و مفید زندگی گزارنے کے بھی قابل ہوجائے گی۔ میرا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا تو وہ آپ کے فیصلے میں ہرگز کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ وہ میری تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔

آپ نے ISLAM AT THE CROSSROADS کے بارے میں پوچھا ہے، میں نے محمد اسد صاحب کی یہ کتاب بھی پڑھی ہے، ان کی دیگر کتب کا مطالعہ بھی کیا ہے اور قبول اسلام کے بعد جب وہ برصغیر پاک و ہند میں مقیم رہے تھے تو ان سے میرے ذاتی مراسم بھی تھے، آپ کے لیے شاید یہ امر دلچسپی کا موجب ہو گا کہ وہ بھی نسلاً آسٹریا کے یہودی ہیں۔ انہوں نے اسلامی عقاید و نظریات کی جو تبلیغ کی ہے خصوصاً مغربی تہذیب اور اس کے مادہ پرستانہ فلسفوں پر انہوں نے جو شدید تنقید فرمائی ہے، اس کے لیے میرے دل میں ان کا بڑا احترام ہے۔ لیکن یہ بات میں بڑے ہی دکھ اور افسوس سے لکھ رہا ہوں کہ اگرچہ قبول اسلام کے ابتدائی زمانے میں وہ راسخ العقیدہ اور باعمل مسلمان تھے، مگر بعد میں آہستہ آہستہ انہوں نے نام نہاد ”روشن خیال“ مسلمانوں کے انداز و اطوار اپنا لیے........... بالکل ”اصلاح پسند“ یہودیوں کی مانند۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی عرب مسلمان اہلیہ کو طلاق دے کر ایک ماڈرن امریکی لڑکی سے شادی کر لی ہے اور یوں ان کا انحراف افسوس ناک انداز میں حتمی صورت اختیار کر گیا ہے۔ یہ وہ تلخ اور اندوہناک حقائق ہیں جن سے انکار ممکن ہے نہ ان کی کوئی توجیہہ ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے سراسر انہیں بھی الزام نہیں دیا جا سکتا۔ مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار ہماری ملاقات ہوئی تو اگر چہ انہیں اسلام قبول کیے کئی برس گزر گئے تھے، لیکن وہ بڑے ہی پرجوش مسلمان تھے اور ان میں بڑی خوشگوار تبدیلیاں دیکھنے میں آئی تھیں۔ مگر عہدِ حاضر کا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایک سچے مسلمان کی زندگی بسر کرنے لگتا ہے تو اس کی تمام صلاحیتیں قدر (مارکیٹ ویلیو) کھو دیتی ہیں۔ کچھ اسی قسم کا حادثہ محمد اسد صاحب کے ساتھ پیش آیا۔ قبولِ اسلام سے قبل وہ جدید ترین معیار زندگی کے حامل تھے اور انہیں بہترین سہولتیں میسر تھیں، مگر حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کے بعد انہیں بدترین مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں حالات کے ساتھ ایک کے بعد ایک مصالحت کرنی پڑی۔ تاہم مجھے اب بھی توقع ہے کہ اگرچہ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں بہت سی ترامیم کر لی ہیں اور معکوس تبدیلیوں کا شکار ہو گئے ہیں، لیکن ان کے معیارات اور نظریات و عقاید میں کوئی تغیر نہیں آیا۔ ہمارے پیغمبر اعظم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کے طریقوں کی پیروی ہاتھ میں دہکتا ہوا کوئلہ پکڑنے کے مترادف ہو گی۔ غالباً آج وہی زمانہ آ گیا ہے۔ چنانچہ حالت یہ ہے کہ اگر کوئی مرد یا عورت اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو مادہ پرستانہ تہذیب کے مارے ہوئے لوگ قدم قدم پر ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور سارا ماحول ایسے مسلمان کے مقابل آ کھڑا ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو ایسے مسلمان کو مصالحانہ رویہ اختیار کرنا پڑتا ہے یا اپنے معاشرے سے مسلسل تصادم کی کیفیت میں گھر جاتا ہے۔ ایسی جانگسل اور تھکا دینے والی کشمکش کے لیے فولادی اعصاب اور ہیرے کا جگر درکار ہے۔

کیا آپ نے واشنگٹن یا مانٹریال کے ”اسلامی مراکز“ سے رابطہ قائم کیا ہے؟ یہ مراکز آپ کے لیے بڑے معاون اور مفید ثابت ہوں گے۔ مانٹریال کے اسلامی سنٹر کا پتہ یہ ہے:

THE ISLAMC CENTER 1345 RED PATH CRESCENT, MONTREAL-2QUEBEE-CANADA

میرے آئندہ افریقی سفر کے حوالے سے آپ نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے، میں اس کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں نے افریقہ کے جن ملکوں کے سفر کا پروگرام بنایا ہے، خوش قسمتی سے وہاں صورتِ حال پُرسکون اور معمول کے مطابق ہے۔ چنانچہ میں صومالی لینڈ، کینیا، یوگنڈہ، ٹانگانیکا، زنجبار، ماریشس اور جنوبی افریقہ کے سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، جن کی مدد سے میں افریقہ میں اشاعتِ اسلام کا منصوبہ تیار کرسکوں گا۔

آپ نے صدر ناصر کے بارے میں جن ڈراؤنے خیالات کا اظہار کیا ہے، مجھے اس کا بخوبی احساس ہے۔ اسلام کا حامی اور مبلغ ہونا تو دور کی بات ہے، اس ظالم کے ہاتھ تو بے گناہ شہیدوں کے خون میں ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اخوان المسلمون کو بے رحمی سے کچل کر اس شخص نے عالمِ عرب میں اسلامی قوتوں پر ایسی کاری ضرب لگائی ہے جس کی تلافی شاید کبھی نہ ہوگی۔ اس کے منہ میں کم از کم چار زبانیں ہیں جب یہ اہلِ مصر سے خطاب کرتا ہے تو کہتا ہے نحن ابناء فراعنہ (ہم فرعونوں کے بیٹے ہیں) اور اس کے عملی اظہار کے طور پر اس نے قاہرہ کے چوکوں میں اس فرعون ...... رعمسیس دوم ...... کے دیو ہیکل مجسمے نصب کرائے ہیں جس نے بنی اسرائیل کے خلاف وحشت و بربریت کی انتہا کر دی تھی۔ جب اس کا روئے سخن عربوں کی طرف ہوتا ہے تو اپنے آپ کو ”عظیم عرب قوم“ کا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے مگر جب افریقیوں سے بات کرتا ہے تو ان کے خود ساختہ رہنما اور ترجمان کا بہروپ دھار لیتا ہے۔ حال ہی میں اس نے قاہرہ ریڈیو پر ”صورت الاسلام“ کا کھڑاگ رچایا ہے کہ اس کی حکمتِ عملی کے ایک حصے کو یہی بات فائدہ دیتی ہے۔ اس شخص کی طرح کے منافق اور محض باتونی مہم جُو اسلامی مقاصد کی آبیاری نہیں کرسکتے، اس کے لیے تو ایسے مجاہد صفت لوگ درکار ہیں جو بے لوث، مخلص اور منکسر المزاج ہوں، باطل کے خلاف غیر مصالحانہ رویہ رکھتے ہوں اور ذاتی مقاصد اور نام و نمود کی قربانی دے کر اپنا سب کچھ اسلام کے لیے نثار کر دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

مجھے اس اطلاع پر دلی مسرت ہوئی کہ آپ باعمل مسلمان بن گئی ہیں، پنج وقتہ نماز پڑھنا شروع کر دی ہے اور رمضان کے روزے بھی رکھ رہی ہیں۔ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام کے راستے پر ترقی اور استقامت عطا فرمائے۔

مخلص

ابوالاعلیٰ