شہادت حق
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "شہادت حق" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک اہم تصنیف ہے جو اُمّتِ مسلمہ کے وجودی مقصد، اس پر عائد شدہ ذمّہ داریوں، اور موجودہ دور کے مسائل کے حقیقی حل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مسلمان ہونا صرف نام یا رسم کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک بڑی ذمّہ داری کا تقاضا ہے—وہ ذمّہ داری جسے قرآن مجید نے "شہادتِ حق" کا نام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ» (البقرہ:143)۔ اس آیت کی روشنی میں مولانا مودودی یہ ثابت کرتے ہیں کہ اُمّتِ مسلمہ کا وجود ہی اس لیے ہے کہ وہ تمام دنیا کے سامنے اسلام کے حق اور راستی ہونے کی گواہی دے۔
پہلا باب، جو کتاب کا بنیادی اور مرکزی باب ہے، اسی تصور کی وضاحت کرتا ہے۔ مصنف واضح کرتے ہیں کہ شہادتِ حق صرف زبانی گواہی نہیں، بلکہ قول و عمل دونوں کا امتزاج ہے۔ قولی شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان زبان و قلم سے اسلام کی تعلیمات کو واضح کریں، جبکہ عملی شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں اسلام کے اصولوں کا مظاہرہ کریں۔ دونوں کے بغیر شہادتِ حق نامکمل رہتی ہے، اور اس کے لیے ایک اسلامی ریاست کا قیام بھی ضروری ہے تاکہ اسلام کا نظامِ حیات عملاً نافذ ہو سکے۔ مولانا مودودی موجودہ دور کی اُمّتِ مسلمہ کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی اکثریت نہ صرف شہادتِ حق سے غافل ہے بلکہ اپنے قول و عمل سے اسلام کے خلاف گواہی دے رہی ہے۔
کتاب کا دوسرا بڑا حصہ 'مسلمانوں کے مسائل و حقوق اور اس کا حل' اسلامی تحریک کے عملی نظمِ جماعت، کام کے تین ممکنہ راستوں، اور دیگر دینی جماعتوں کے ساتھ تعلق کو موضوع بناتا ہے، جس میں شرکاء سے متوقع کام اور طریقۂ کار کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
آخری باب 'اعتراضات اور ان کے جوابات' ان سوالات کا جواب دیتا ہے جو تحریک کے اندر اور باہر سے اٹھائے جاتے تھے—کیا یہ ایک نیا فرقہ بن رہا ہے، اجتہادی مسائل میں جماعت کا مسلک کیا ہے، امارت میں غلو سے کیسے بچا جائے، امیر کے انتخاب کا طریقہ کیا ہو، اور کیا زکوٰۃ کی وصولی و بیت المال کے قیام کا حق تحریک کو حاصل ہے—اور یوں کتاب نظریاتی بنیاد سے عملی تنظیمی سوالات تک ایک مکمل دائرہ مکمل کرتی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انتخابِ امیر
یہ ارکان، ایک شخص کو اپنا امیر منتخب کرتے ہیں، نہ اس بنا پر کہ امارت اُس کا کوئی ذاتی حق ہے، بلکہ اِس بنا پر کہ بہرحال منظم طریقے پر کام کرنے کے لیے، ایک سربراہِ کار ہونا چاہیے۔ یہ منتخب کردہ امیر معزول کیا جا سکتا ہے اور جماعت میں سے، کوئی دُوسرا شخص اس کی جگہ امارت کے لیے چنا جا سکتا ہے ۔ یہ امیر صرف اسی جماعت کا امیر ہے، نہ کہ تمام اُمّت کا۔ اس کی اطاعت، صرف انھی لوگوں پر لازم ہے جو اِس جماعت میں شامل ہوں، اور ہمارے ذہنوں میں ایسا کوئی تصور تک نہیں ہے کہ ’’جس کی گردن میں اس کی بیعت کا کلادہ نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔‘‘
اب خدا را مجھے بتائیے کہ جب ہم اس طریقے پر کام کر رہے ہیں تو آخر ہماری اِس تحریک سے، اُمّت میں ایک نیا فرقہ کیسے بن جائے گا؟ عجیب تر بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے دامن، خود اِن غلطیوں سے آلودہ ہیں، جن کی وجہ سے فرقہ بندی کا فتنہ رونما ہوتا ہے ، جن کے ہاں خوابوں اور کشفوں اور کرامتوں کے چرچے ہیں، جن کے ہاں سارا کام کسی ’’حضرت‘‘ کی شخصی عقیدت کے بل پر چل رہا ہے، جن کے ہاں کسی شخصیت کے لیے، کسی مخصوص منصب کا دعوٰی کیا جاتا ہے ، جن کے ہاں فروعی مسائل پر جھگڑے اور مناظرے ہوتے ہیں اور اجتہادی مسالک پر دھڑے بندیاں کی جاتی ہیں، وہی ہمیں الزام دینے میں پیش پیش ہیں۔ اگر کوئی برا نہ مانے تو میں صاف کہوں کہ ہمارا اصل قصور جس پر یہ حضرات بگڑے ہوئے ہیں وہ نہیں ہے، جو یہ زبانوں سے کہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے دین کے اس اصلی کام کی طرف دعوت دی، جو اُن کے نفس کو مرغوب نہیں ہے ، اور اس کام کے لیے وہ صحیح طریقہ اختیار کیا جس سے اُن کے طریقوں کی غلطیاں بے نقاب ہونے لگیں۔