دینیات
اشاعت: 1937ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "دینیات" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ جامع اور مختصر تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلام کے بنیادی عقائد، احکام اور مقاصد کو ایک منظم، منطقی اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد صرف فقہی مسائل کی تفصیلات تک محدود دینی تعلیم کے روایتی نظام کی اصلاح کرنا ہے۔ مولانا مودودی نے واضح کیا ہے کہ جب تک طالب علم کو یہ نہ سمجھا دیا جائے کہ اسلام دراصل کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے، اور اس کے عقائد زندگی سے کس طرح وابستہ ہیں، تب تک محض نماز، روزہ یا طہارت کے احکام سکھانا بے اثر رہتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک ایسا منہج اختیار کیا جو قرآن مجید کے طرزِ استدلال پر مبنی ہو، جس میں عقائد کی تعلیم کو اولین اہمیت حاصل ہو، اور طالب علم کو ان عقائد کی صحت کے مضبوط دلائل سے آشنا کیا جائے۔
کتاب کا آغاز ناشر کے تعارفی نوٹ سے ہوتا ہے، جس میں کتاب کی تاریخِ اشاعت (1937ء)، اس کی وسیع مقبولیت، اور دنیا بھر کی متعدد زبانوں میں تراجم کا ذکر ہے۔ ناشر کے مطابق، یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں میں بھی شہرت حاصل کر چکی ہے، اور بہت سے غیر مسلم افراد نے اس کے مطالعے کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ اس کے بعد مولانا مودودی خود دیباچہ میں اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ رسالہ خصوصیت سے نوجوانوں کے لیے مرتب کیا گیا ہے تاکہ وہ اسلام کی حقیقت کو صحیح تناظر میں سمجھ سکیں۔
کتاب سات مختصر ابواب میں دین کے بنیادی مسائل کو ترتیب دیتی ہے۔ باب اول میں لفظِ اسلام کے معنی، اسلام کی حقیقت اور کفر کے نقصانات بیان کیے گئے ہیں؛ باب دوم اور سوم بالترتیب ایمان و اطاعت کے تقاضوں اور نبوت کے تصور—بشمول ختمِ نبوت کے دلائل—کو واضح کرتے ہیں۔ باب چہارم 'ایمان مفصل' میں اللہ، فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور آخرت پر ایمان کی تفصیل دی گئی ہے، جبکہ باب پنجم نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج جیسی بنیادی عبادات کا تعارف کراتا ہے۔ آخری دو ابواب دین اور شریعت کے فرق، احکامِ شریعت معلوم کرنے کے ذرائع (فقہ اور تصوف) اور اللہ کے حقوق، نفس کے حقوق، بندوں کے حقوق اور تمام مخلوقات کے حقوق کی چار قسموں کو بیان کر کے کتاب کو ایک مکمل، اگرچہ مختصر، نصابی خاکے کی صورت میں مکمل کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"دینیات"، جو انگریزی میں Towards Understanding Islam کے نام سے شائع ہوئی، غالباً مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے — درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے اور دہائیوں سے ایک معیاری تعارفی نصابی کتاب کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ یہ ایک سپرد کردہ نصابی کتاب کے طور پر شروع ہوئی: مولانا نے اسے 1930ء کی دہائی میں ہندوستانی مسلم اسکولوں کے لیے اسلامیات کا نصاب تیار کرنے والی ایک کمیٹی کے لیے لکھا۔
اس کے سات ابواب ایک بنیادی نصاب کی ترتیب میں آگے بڑھتے ہیں: یہ "اسلام" کی تعریف اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر کرتی ہے؛ ایمان اور اطاعت کو ایک مکمل اسلامی زندگی کے دو اجزاء کے طور پر بیان کرتی ہے؛ نبوت پر ایک باب یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ نے انسانی رسولوں کے ذریعے وحی کا طریقہ کیوں چنا؛ "ایمان مفصل" کا باب عقائد کی تفصیل بیان کرتا ہے؛ عبادات پر باب پانچوں ارکان کو ارادے کی تربیت کا نظام قرار دیتا ہے؛ اور آخری دو ابواب "دین" کو "شریعت" سے ممیز کرتے ہیں — یہی تفریق جو "اسلامی ریاست" میں وسیع سیاسی معاملہ اختیار کرتی ہے۔
اہمیت اور اسے کیسے پڑھا جائے۔ اپنی وسیع عالمی رسائی کی وجہ سے، یہ کتاب بہت سے غیر اردو بولنے والوں کے لیے مولانا مودودی کی فکر سے پہلا تعارف رہی ہے۔ یہ اسلام کے بنیادی اصول اس مخصوص سیاسی نظریے سے الگ پیش کرتی ہے جس نے مولانا کو ان کی دیگر تصانیف میں متنازعہ بنایا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے مکمل تصویر کے لیے کم از کم ایک زیادہ ترقی یافتہ سیاسی تصنیف کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- تعارفی طرزِ تحریر: سیاسی نظریے کو چھوئے بغیر اسلام کے بنیادی اصول پیش کرنا اس کتاب کے مقصد کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- "مکمل مصنف" کا مسئلہ: اگر کسی کا مولانا سے واحد تعارف صرف یہی کتاب ہو، تو وہ ان کے بارے میں کیا چیز چھوٹ جائے گی؟
- اسلام بطور تسلیم: کتاب "اسلام" کو سرِ تسلیم خم کرنے کے طور پر بیان کرتی ہے۔ یہ کیا فلسفیانہ کردار ادا کرتی ہے؟
- عبادت بطور تربیت: مولانا پانچوں ارکان کو "ارادے کی تربیت کا نظام" قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ آپ کو قابلِ قبول لگتا ہے؟
- دین بمقابلہ شریعت: یہی تفریق "اسلامی ریاست" کی سیاسی دلیل میں کس طرح بہت مختلف کردار ادا کرتی ہے؟
- نصابی کتاب کی ابتدا: اس ابتدا نے کتاب کے لہجے اور حذف شدہ موضوعات کو کیسے متاثر کیا ہوگا؟
- عالمی رسائی: یہ کتاب مولانا کی زیادہ ترقی یافتہ تصانیف کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترجمہ شدہ کیوں بنی؟
- پڑھنے کی ترتیب: کیا آپ اس کتاب یا "اسلامی ریاست" سے شروع کرنے کا مشورہ دیں گے؟
نبوت محمدیؐ کا ثبوت
ذرا ایک ہزار چارسو برس پیچھے پلٹ کر دیکھو، دنیا میں نہ تار برقی تھی ، نہ ٹیلی فون تھے، نہ ریل تھی، نہ چھاپے خانے تھے، نہ اخبار اور رسالے شائع ہوتے تھے،نہ کتابیں چھپتی تھیں، نہ سفر اور سیاحت کی وہ آسانیاں تھیں جو آج کل پائی جاتی ہیں۔ایک ملک سے دوسرے ملک تک جانے میں مہینوں کی مسافت طے کرنی پڑتی تھی۔ان حالات میں دنیا کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد ایران، روم اور مصر کے ملک تھے جن میں کچھ علوم وفنون کا چرچا تھا۔ مگرریت کے بڑے بڑے سمندروں نے عرب کو ان سب سے جُدا کر رکھا تھا۔ عرب سوداگر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کر کے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے۔مگر یہ تعلق صرف مال کی خرید و فروخت کی حد تک تھا۔ خود عرب میں کوئی اعلیٰ درجے کاتمدن نہ تھا، نہ کوئی مدرسہ تھا، نہ کوئی کُتب خانہ تھا، نہ لوگوں میں تعلیم کا چر چا تھا۔ تمام ملک میں گنتی کے چند لوگ تھے جن کو کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اس زمانے کے علوم و فنون سے آشنا ہوتے۔ وہاں کوئی باقاعدہ حکومت بھی نہ تھی۔ کوئی قانون بھی نہ تھا۔ ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا۔ آزادی کے ساتھ لوٹ مار ہوتی تھی۔آئے دن خون ریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ آدمی کی جان کوئی قیمت ہی نہ رکھتی تھی۔جس کا جس پر بس چلتا اسے مار ڈالتا اور اس کے مال پر قبضہ کر لیتا۔ اخلاق اورتہذیب کی ان کو ہوا تک نہ لگی تھی۔ بدکاری اور شراب خوری اور مجوئے بازی کا بازارگرم تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف بر ہنہ ہو جاتے تھے۔ عورتیں تک ننگی ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ حرام و حلال کی کوئی تمیز نہ تھی۔ عربوں کی آزادی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی قاعدے، کسی قانون، کسی ضابطے کی پابندی کے لیے تیار نہ تھا، نہ کسی حاکم کی اطاعت قبول کر سکتا تھا۔ اس پر جہالت کی یہ کیفیت کہ ساری قوم پتھر کے بتوں کو پوجتی تھی۔ راستہ چلتے میں کوئی اچھا سا چکناپتھر مل جاتا تو اسی کو سامنے رکھ کر پرستش کر لیتے تھے۔ یعنی جو گردنیں کسی کے سامنے نہ جھکتی تھیں وہ پتھروں کے سامنے جھک جاتی تھیں، اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ پتھر ان کی حاجت روائی کریں گے۔
ایسی قوم اور ایسے حالات میں ایک شخص پیدا ہوتا ہے۔ بچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ سر سے اُٹھ جاتا ہے۔ اس لیے اس گئی گزری حالت میں جوتربیت مل سکتی تھی وہ بھی اس کو نہیں ملتی ۔ ہوش سنبھالتا ہے تو عرب لڑکوں کے ساتھ بکریاں چرانے لگتا ہے۔ جوان ہوتا ہے تو سوداگری میں لگ جاتا ہے۔ اٹھنا ، بیٹھنا،ملنا جلنا سب اٹھی عربوں کے ساتھ ہے جن کی حالت تم نے اوپر دیکھی ہے۔ تعلیم کانام تک نہیں ، حتی کہ پڑھنا بھی نہیں آتا۔ مگر اس کے باوجود اس کی عادتیں، اس کےاخلاق، اس کے خیالات سب سے جدا ہیں۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا ۔ کسی سےبد کلامی نہیں کرتا۔ اس کی زبان میں سختی کے بجائے شیرینی ہے اور وہ بھی ایسی کہ لوگاس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ وہ کسی کا ایک پیسہ بھی ناجائز طریقے سے نہیں لیتا۔اس کی ایمان داری کاحال یہ ہے کہ لوگ اپنے قیمتی مال اس کے پاس حفاظت کےلیے رکھواتے ہیں اور وہ ہر ایک کے مال کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرتا ہے۔ساری قوم اس کی دیانت پر بھروسا کرتی ہے اور اسے امین کے نام سے پکارتی ہے۔اس کی شرم و حیا کا یہ حال ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد کسی نے اس کو برہنہ نہیں دیکھا۔ اس کی شائستگی کا یہ حال ہے کہ بدتمیز اور گندے لوگوں میں پلنے اور رہنے کےباوجود ہر بدتمیزی اور ہر گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں صفائی اورستھرائی پائی جاتی ہے۔ اس کے خیالات اتنے پاکیزہ ہیں کہ اپنی قوم کو لوٹ مار اورخوں ریزی کرتے دیکھ کر اس کا دل دُکھتا ہے اور وہ لڑائیوں کے موقع پر صلح و صفائی کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ دل ایسا نرم ہے کہ ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتاہے۔ یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ مسافروں کی میزبانی کرتا ہے۔ کسی کو اس سے دیکھ نہیں پہنچتا اور وہ خود دوسروں کی خاطر دکھ اٹھاتاہے۔ پھر عقل ایسی صحیح ہے کہ بت پرستوں کی اس قوم میں رہ کر بھی وہ بتوں سےنفرت کرتا ہے۔ کبھی کسی مخلوق کے آگے سر نہیں جھکا تا۔ اس کے اندر سے خود بخود آوازآتی ہے کہ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں نظر آتی ہیں، ان میں سے کوئی پوجنے کےلائق نہیں۔ اس کا دل آپ سے آپ کہتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہو سکتا ہے اور ایک ہی ہے۔ اس جاہل قوم میں یہ شخص ایسا ممتاز نظر آتا ہے گویا پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا چمک رہا ہے، یا گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک شمع روشن ہے۔چالیس برس کے قریب اس طرح پاک، صاف اور اعلیٰ درجے کی شریفانہ زندگی بسر کرنے کے بعد یہ شخص اس تاریکی سے جو اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی، گھبرا اٹھتا ہے۔ جہالت، بداخلاقی، بدکرداری، بدنظمی اور شرک و بت پرستی کا یہ ہولناک سمندر جو اس کو گھیرے ہوئے تھا، اس سے وہ نکل جانا چاہتا ہے، کیونکہ یہاں کوئی چیز بھی اس کی طبیعت کے مناسب نہیں۔ آخر وہ آبادی سے دور ایک پہاڑکے غار میں جا جا کر تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارنے لگتا ہے۔ فاقےکر کر کے اپنی روح اور اپنے دل و دماغ کو اور زیادہ پاک صاف کرتا ہے، سوچتاہے، غور و فکر کرتا ہے اور کوئی روشنی ڈھونڈتا ہے جس سے وہ اس چاروں طرف پھیلی ہوئی تاریکی کو دور کر دے۔ ایسی قوت و طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اس گڑی ہوئی دنیا کو توڑ پھوڑ کر پھر سے سنوار دے۔یکا یک اس کی حالت میں ایک عظیم الشان تغیر رونما ہوتا ہے۔ ایک دم سےاس کے دل میں وہ روشنی آجاتی ہے جس کو اس کی فطرت مانگ رہی تھی۔ اچانک اس کے اندر وہ طاقت بھر جاتی ہے جس کا ظہور اس سے پہلے بھی نہ ہوا تھا۔ وہ غار کی تنہائی سے نکل آتا ہے۔ اپنی قوم کے پاس آتا ہے۔ اس سے کہتا ہے کہ یہ بُت کسی کام کے نہیں، انھیں چھوڑ دو۔ یہ زمین، یہ چاند، یہ سورج، یہ تارے، یہ زمین وآسمان کی ساری قوتیں ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ وہی تمھارا پیدا کرنے والا ہے۔ وہی رزق دینے والا ہے۔ وہی مارنے اور چلانے والا ہے۔ سب کو چھوڑ کر اس کو پوجو۔سب کو چھوڑ کر اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو۔ یہ چوری، یہ لوٹ مار، یہ شراب خوری ، یہ جوا، یہ بدکاریاں جو تم کرتے ہو ، سب گناہ ہیں۔ انھیں چھوڑ دو، خدا انھیں پسند نہیں کرتا۔ سچ بولو، انصاف کرو، نہ کسی کی جان لو، نہ کسی کا مال چھینو ۔ جو کچھ لو حق کے ساتھ لو، جو کچھ دو حق کے ساتھ دو۔ تم سب انسان ہو، انسان اور انسان سب برابر ہیں، بزرگی اور شرافت انسان کی نسل اور نسب میں نہیں، رنگ روپ اور مال ودولت میں نہیں، خدا پرستی ، نیکی اور پاکیزگی میں ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اورنیک اور پاک ہے وہی اعلیٰ درجے کا انسان ہے، اور جو ایسا نہیں وہ کچھ بھی نہیں۔مرنے کے بعد تم سب کو اپنے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس عادل حقیقی کےہاں نہ کوئی سفارش کام آئے گی، نہ رشوت چلے گی، نہ کسی کا نسب پوچھا جائے گا۔وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہوگی ۔ جس کے پاس یہ سامان ہوگا وہ جنت میں جائے گا، اور جس کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو گا وہ نامراد دوزخ میں ڈالاجائے گا۔جاہل قوم نے اس نیک انسان کو محض اس قصور میں ستانا شروع کیا کہ وہ ایسی باتوں کو برا کیوں کہتا ہے جو باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی چلی آ رہی ہیں اور ان باتوں کی تعلیم کیوں دیتا ہے جو بزرگوں کے طریقے کے خلاف ہیں۔ اسی قصور پرانھوں نے اسے گالیاں دیں، پتھر مارے، اس کے لیے جینا مشکل کر دیا۔ اس کےقتل کی سازشیں کیں۔ ایک دن دو دن نہیں، اکٹھے تیرہ برس تک سخت سے سخت ظلم توڑے، یہاں تک کہ اسے وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اور پھر وطن سے نکال کر بھی دم نہ لیا۔ جہاں اس نے پناہ لی تھی وہاں بھی کئی برس اس کو پریشان کرتے رہے۔یہ سب تکلیفیں اس نیک انسان نے کس لیے اٹھا ئیں؟ صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کو سیدھا راستہ بتانا چاہتا تھا۔ اس کی قوم اسے بادشاہی دینے کے لیے تیارتھی، دولت کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈالنے پر آمادہ تھی ، بشرطیکہ وہ اپنی اس تعلیم سے باز آجائے ۔ مگر اس نے سب چیزوں کو ٹھکرا دیا اور اپنی بات پر قائم رہا۔ کیا اس سے بڑھ کر نیک دلی اور صداقت تمہارے خیال میں آ سکتی ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدے کی خاطر نہیں، محض دوسروں کے بھلے کی خاطر تکلیفیں اٹھائے ؟ وہی لوگ جن کے فائدے کے لیے وہ کوشش کر رہا ہے اس کو پتھر مارتےہیں اور وہ ان کے لیے دعائے خیر کرتا ہے۔ انسان تو کیا، فرشتے بھی اس کی نیکی پرقربان جائیں ۔پھر دیکھو، جب یہ شخص اپنے غار سے یہ تعلیم لے کر نکلا تو اس میں کتنا بڑاانقلاب ہو گیا۔ اب جو کلام وہ سنا رہا تھا ، وہ ایسا فصیح و بلیغ تھا کہ کسی نے نہ اس سےپہلے ایسا کلام کہا نہ اس کے بعد کوئی کہہ سکا۔ عرب والوں کو اپنی شاعری، اپنی خطابت، اپنی فصاحت پر بڑا ناز تھا۔ اس نے عربوں سے کہا کہ تم ایک ہی سورت اس کلام کے مانند بنا لاؤ۔ مگر سب کی گردنیں عاجزی سے جھک گئیں۔ حد یہ ہے کہ خود اس شخص کی اپنی بول چال اور تقریر کی زبان بھی اتنی اعلیٰ درجے کی نہ تھی جتنی اس خاص کلام کی تھی۔ چنانچہ آج بھی جب ہم اس کی دوسری تقریروں کا مقابلہ اس کلام سے کرتے ہیں تو دونوں میں نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔اس نے ، اس ان پڑھ صحرانشین انسان نے حکمت اور دانائی کی ایسی باتیں کہنی شروع کیں کہ نہ اس سے پہلے کسی انسان نے کہی تھیں، نہ اس کے بعد آج تک کوئی نہ کہہ سکا، نہ چالیس برس کی عمر سے پہلے خود اس کی زبان سے وہ کبھی سنی گئی تھیں۔اس اُمّی نے اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور انسانی زندگی کے تمام معاملات کے متعلق ایسے قانون بنائے کہ بڑے بڑے عالم اور عاقل برسوں کے غور وخوض اور ساری عمر کے تجربات کے بعد بمشکل ان حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں، اور دنیا کےتجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔ تیرہ سو برس سے زیادہ مدت گزر چکی ہے مگر آج بھی اس کے بنائے ہوئے قانون میں کسی ترمیم کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ دنیا کے قانون ہزاروں مرتبہ بنے اور بگڑے، ہر آزمائش میں ناکام ہوئے اور ہر بار ان میں ترمیم کرنی پڑی۔ مگر اس صحرانشین ، اُمّی نے تن تنہا بغیرکسی دوسرے انسان کی مدد کے جو قانون بنا دیے ان کی کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں جو اپنی جگہ سے ہٹائی جا سکتی ہو۔اس نے تئیس برس کی مدت میں اپنے اخلاق، اپنی نیکی و شرافت اور اپنی اعلیٰ تعلیم کے زور سے اپنے دشمنوں کو دوست بنایا، اپنے مخالفوں کو موافق بنایا، بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلے میں انھیں اور آخر کار شکست کھا کر اس کے قدموں میں آرہیں ۔ اس نے جب فتح پائی تو کسی دشمن سے بدلہ نہ لیا، کسی پر سختی نہ کی۔ جنھوں نےاس کے حقیقی چچا کو قتل کیا تھا اور اس کا کلیجا نکال کر چبا گئے تھے، ان کو بھی فتح پا کراس نے معاف کر دیا۔ جنھوں نے اس کو پتھر مارے تھے، اس کو وطن سے نکالا تھا،ان کو فتح پا کر اس نے بخش دیا۔ اس نے کبھی کسی سے دغا نہ کی ، عہد کر کے کبھی نہ توڑا، جنگ میں بھی کسی پر زیادتی نہ کی ، اس کے سخت سے سخت دشمن بھی کبھی اس پرکسی گناہ یا ظلم کا الزام نہ رکھ سکے۔ یہی نیکی تھی جس نے بالآخر تمام عرب کا دل موہ لیا۔ پھر اس نے اپنی تعلیم و ہدایت سے انھی عربوں کو جن کا حال تم او پر پڑھ چکے ہو،وحشت اور جہالت سے نکال کر اعلیٰ درجے کی مہذب قوم بنا دیا۔ جو عرب کسی قانون کی پابندی پر تیار نہ تھے ، ان کو اس نے ایسا پابندِ قانون بنا دیا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی قوم ایسی پابند قانون نظر نہیں آتی۔ جو عرب کسی کی اطاعت پر آمادہ نہ تھے، اس نے ان کو ایک عظیم الشان سلطنت کا تابع بنا دیا۔ جن لوگوں کو اخلاق کی ہوا تک نہ لگی تھی ان کے اخلاق ایسے پاکیزہ بنا دیے کہ آج ان کے حالات پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ جو عرب اس وقت دنیا کی قوموں میں سب سے زیادہ پست تھے وہ اس تنہا انسان کے اثر سے تیس برس کے اندر یکا یک ایسے زبردست ہو گئے کہ انھوں نے ایران، روم اور مصر کی عظیم الشان سلطنتوں کے تختے الٹ دیے۔ دنیا کوتمدن، تہذیب، اخلاق اور انسانیت کا سبق دیا اور اسلام کی ایک تعلیم اور ایک شریعت کو لے کر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے دور دراز گوشوں تک پھیلتے چلے گئے۔یہ تو وہ اثرات ہیں جو عرب قوم پر ہوئے۔ اس سے زیادہ حیرت انگیز اثرات اُس امی کی تعلیم سے تمام دنیا پر ہوئے۔ اس نے ساری دنیا کے خیالات، عادات اور قوانین میں انقلاب پیدا کر دیا۔ ان کو چھوڑ و جنھوں نے اس کو اپنا رہنما ہی مان لیا ہے۔ مگر حیرت یہ ہے کہ جنھوں نے اس کی پیروی سے انکار کیا، جو اس کے مخالف ہیں، اس کے دشمن ہیں، وہ بھی اس کے اثرات سے نہ بچ سکے۔ دنیا توحید کا سبق بھول گئی تھی، اس نے یہ سبق پھر سے یاد دلایا اور اتنے زور کے ساتھ اس کا صور پھونکا کہ آج بت پرستوں اورمشرکوں کے مذہب بھی توحید کا دعویٰ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس نے اخلاق کی ایسی زبر دست تعلیم دی کہ اس کے بنائے ہوئے اصول تمام دنیا کے اخلاقیات میں پھیل گئےپھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ اس نے قانون اور سیاست اور تہذیب و معاشرت کے جواصول بتائے وہ ایسے پکے اور بچے اصول تھے کہ مخالفوں نے بھی چپکے چپکے ان کی خوشہ چینی شروع کر دی اور آج تک کیسے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ تم کو اوپر بتایا جا چکا ہے، یہ شخص ایک جاہل قوم اور ایک نہایت تاریک ملک میں پیدا ہوا تھا۔ چالیس برس کی عمر تک گلہ بانی اور سوداگری کے سوااس نے کوئی کام نہ کیا تھا۔ کسی قسم کی تعلیم و تربیت بھی اس نے نہ پائی تھی ۔ مگر غورکرد، چالیس برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد کہاں سے اس کے اندر یکا یک اتنے کمالات جمع ہو گئے؟ کہاں سے اس کے پاس ایسا علم آ گیا ؟ کہاں سے اس میں یہ طاقت پیدا ہو گئی؟ ایک اکیلا انسان ہے اور ایک ہی وقت میں بے نظیر سپہ سالار بھی ہے،ایک اعلیٰ درجے کا حج بھی ہے، ایک زبر دست مقنن بھی ہے، ایک بے مثل فلاسفر بھی ہے، ایک لاجواب مصلح اخلاق و تمدن بھی ہے، ایک حیرت انگیز ماہر سیاست بھی ہے۔ پھر اتنی مصروفیتوں کے باوجود وہ راتوں کو گھنٹوں اپنے خدا کی عبادت بھی کرتاہے۔ اپنی بیویوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہے۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت بھی کرتا ہے۔ ایک بڑے ملک کی بادشاہی مل جانے پر بھی وہ ایک فقیر کی سی زندگی بسر کرتا ہے۔ بوریے پر سوتا ہے۔ موٹا جھوتا پہنتا ہے۔ غریبوں کی سی غذا کھاتاہے۔ بلکہ کبھی کبھی فاقے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔یہ حیرت انگیز کمالات دکھا کر اگر وہ کہتا کہ میں انسان سے بالاتر ہستی ہوں تب بھی کوئی اس کے دعوے کی تردید نہ کر سکتا تھا۔ مگر جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا؟اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب میرے اپنے کمالات ہیں۔ اُس نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں، سب کچھ خدا کا ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے جو کلام پیش کیا ہے، جس کی نظیر لانے سے سب انسان عاجز ہیں، یہ میرا کلام نہیں ہے نہ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے اور اس کی ساری تعریف خدا کے لیے ہے۔ میرے جتنے کام ہیں یہ بھی میری اپنی قابلیت سے نہیں ہیں، محض خدا کی ہدایت سے ہیں۔ اُدھر سے جو کچھ اشارہ ہوتا ہے وہی کرتا ہوں اوروہی کہتا ہوں۔ اب بتاؤ کہ ایسے بچے انسان کو خدا کا پیغمبر کیسے نہ مانا جائے؟ اس کے کمالات ایسے ہیں کہ تمام دنیا میں ابتدا سے لے کر آج تک ایک انسان بھی اس کے مانند نہیں ملتا۔ مگر اس کی سچائی ایسی ہے کہ وہ ان کمالات پر فخر نہیں کرتا ۔ ان کی تعریف خود حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ جس نے یہ سب کچھ دیا ہے صاف صاف اسی کا حوالہ دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں؟ جب وہ خود اپنی خوبیوں کے متعلق کہتا ہے کہ یہ خدا کی دی ہوئی ہیں، تو ہم کیوں کہیں کہ نہیں یہ سب تیرےاپنے دماغ کی پیداوار ہیں؟ جھوٹا آدمی تو دوسروں کی خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ شخص ان خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جنھیں وہ آسانی کے ساتھ اپنی خوبیاں کہ سکتا تھا ، جن کے حاصل ہونے کا ذریعہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوسکتا، جن کی بنا پر اگر وہ انسان سے بالاتر ہونے کا بھی دعوئی
کرتا تو کوئی اس کی تردید نہ کر سکتا تھا۔ پھر بتاؤ کہ اس سے زیادہ سچا انسان کون ہو گا۔دیکھو، یہ ہیں ہمارے سرکار، تمام جہان کے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی پیغمبری کی دلیل خود ان کی سچائی ہے۔ ان کے عظیم الشان کارنامے، ان کےاخلاق، ان کی پاک زندگی کے واقعات، سب تاریخوں سے ثابت ہیں۔ جو شخص صاف دل سے حق پسندی اور انصاف کے ساتھ ان کو پڑھے گا اس کا دل خود گواہی دے گا کہ وہ ضرور خدا کے پیغمبر ہیں۔ وہ کلام جو انھوں نے پیش کیا وہ یہی قرآن ہے جسے تم پڑھتےہو۔ اس بے نظیر کتاب کو جو شخص بھی سمجھ کر کھلے دل سے پڑھے گا، اس کو اقرار کرنا پڑےگا کہ یہ ضرور خدا کی کتاب ہے۔ کوئی انسان ایسی کتاب تصنیف نہیں کر سکتا۔