خواتین اور دینی مسائل
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کے قارئین کے سوالات کے جوابات پر مبنی ایک مجموعہ ہے جو بالخصوص خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق دینی مسائل پر مرتب کیا گیا ہے۔ ابتدائی سوالات میں چند عمومی عقائد کی وضاحت (جیسے وہابیت کی حقیقت، حضرت حوا کی تخلیق، ایصالِ ثواب کے احکام) کے بعد کتاب کا بیشتر حصہ خواتین سے متعلق معاشرتی و فقہی مسائل پر مرکوز ہو جاتا ہے۔
اس میں پردہ اور حجاب کی حدود، مہر کے احکام، تعددِ ازواج، طلاق و خلع، شادی بیاہ کی رسومات، عورت کی تعلیم و ملازمت، اور نکاح میں کفاءت جیسے موضوعات پر مولانا مودودی کے مدلل و تفصیلی جوابات شامل ہیں، جن میں وہ ہر مسئلے کو قرآن و سنت کی روشنی میں پرکھتے ہوئے رائج معاشرتی رسوم کی اصلاح کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جرم کی دنیوی سزا ملنے کی صورت میں آخرت کی سزا کا معاملہ
سوال: کیا اگر کسی گناہ(مثلاً زنا) کی شرعی سزا ایک شخص کو اسلامی حکومت کی جانب سے مل جائے تو وہ آخرت میں اس گناہ کی سزا سے بری ہوجائے گا یا نہیں؟
جواب: شرعی سزا جاری ہونے کے بعد آخرت میں آدمی کی معافی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب کہ آدمی نے اس کے ساتھ خدا سے توبہ بھی کی ہو اور اپنے نفس کی اصلاح کرلی ہو۔لیکن اگر بالفرض ایک شخص نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا گیا،مگر اس نے اپنے گناہ پر اپنے خدا کے سامنے کوئی اعتراف ندامت نہ کیا، کوئی توبہ نہ کی،چوری چھوڑ دینے کا کوئی فیصلہ نہ کیا،بلکہ اُلٹا اپنے دل میں اس شریعت ہی کو کوستا رہا جس نے اس کا ہاتھ کٹوایاہے،تو خدا کے ہاں اس کے معاف کردیے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
(ترجمان القرآن ،فروری 1961ء)