مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "انسان کا معاشی مسئلہ اور اس کا اسلامی حل" جدید دور کے پیچیدہ معاشی بحرانوں کو فطرتِ انسانی، اخلاقیات اور الٰہی ہدایت کی روشنی میں سمجھنے اور حل کرنے کی ایک جامع کوشش ہے۔ مصنف کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ آج کا معاشی نظام صرف ایک شعبۂ حیات کو خودمختار سمجھ کر انسانی زندگی کے جامع نظام سے علیحدہ کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے مسائل ناقابلِ حل لگنے لگے ہیں۔ درحقیقت، انسان محض ایک معاشی حیوان نہیں بلکہ ایک متوازن وجود ہے جس میں جسم، نفس، عقل، روح، اخلاق اور تمدن کے تمام پہلو شامل ہیں۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرنا ہی موجودہ معاشی نظام کی خرابی کی جڑ ہے۔

پہلے باب میں مودودی معاشی مسئلے کو اس کی اصلی، سادہ صورت میں پیش کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسان کا بنیادی معاشی مسئلہ یہ ہے کہ تمدن کی ترقی کے باوجود ہر فرد کو اپنی ضروریاتِ زندگی میسر ہوں اور وہ اپنی استعداد کے مطابق شخصیت کی نشوونما کر سکے۔ قدیم زمانے میں قدرتی وسائل پر انحصار تھا، لیکن اجتماعی زندگی اور تمدن کی ترقی کے ساتھ مختلف پیشے، مبادلہ، مالیاتی نظام اور ذرائعِ پیداوار وجود میں آئے۔ یہ تمام ترقیاں فطری تقاضوں کے تحت ہوئیں، لیکن ساتھ ہی بعض فطری عدم مساوات بھی پیدا ہو گئی، جیسے لوگوں کی مختلف قابلیتوں کی وجہ سے آمدنی میں فرق، وراثت کے ذریعے دولت کی غیر مساوی تقسیم، اور وہ افراد جو کسبِ معاش سے قاصر ہوں۔ مودودی کا موقف ہے کہ کوئی حقیقی معاشی نظام وضع کرنے کے لیے ان تمام پہلوؤں کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: دیگر

سرمایہ پرستی کا استیصال

تاہم مجرد اخلاقی تعلیم کے ذریعے سے، اور سوسائٹی کے اخلاقی اثر اور دباؤ سے غیر معمولی حرص و طمع رکھنے والے لوگوں کی کمزوریوں کا بالکل استیصال نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود پھر بھی بہت سے ایسے لوگ باقی رہیں گے جو اپنی ضرورت سے زیادہ کمائی ہوئی دولت کو پھر مزید زائد از ضرورت دولت کمانے میں لگانا چاہیں گے۔ اس لیے اسلام نے اس کے استعمال کے طریقوں پر چند قانونی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس بچی ہوئی دولت کے استعمال کا یہ طریقہ کہ اسے سود پر چلایا جائے اسلامی قانون میں قطعی حرام ہے۔ اگر آپ کسی کو اپنا مال قرض دیتے ہیں تو خواہ اس نے وہ قرض اپنی ضرورتوں پر خرچ کرنے کے لیے لیا ہو، یا وسیلہ معاش پیدا کرنے کے لیے، بہرحال آپ اس سے صرف اپنا اصل مال ہی واپس لینے کے حق دار ہیں ۔ اس طرح اسلام ظالمانہ سرمایہ داری کی کمر توڑ دیتا ہے، اور اس سب سے بڑے ہتھیار کو کند کر دیتا ہے جس کے ذریعے سے سرمایہ دار محض اپنے سرمایہ کے بل پر آس پاس کی معاشی دولت سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ رہا فاضل دولت کے استعمال کا یہ طریقہ کہ اسے انسان خود اپنی تجارت یا صنعت و حرفت یا دوسرے کاروبار میں لگائے ، یا دوسروں کے ساتھ نفع و نقصان کا شریک ہو کر سرمایہ فراہم کرے، تو اسلام اسے جائز رکھتا ہے، اور اس سے جو زائد از ضرورت دولت اشخاص کے پاس سمٹ جاتی ہے اس کا علاج دوسرے طریقوں سے کرتا ہے۔