دعوت دین کی ذمہ داری
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "دعوت دین کی ذمہ داری" ایک ایسی تحریر ہے جو مسلمانوں کو ان کے بنیادی فریضۂ حیات—یعنی دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر—کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ مصنف کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ آج کے مسلمان اس ذوقِ تبلیغ سے عاری ہو چکے ہیں جو اسلام کی عالمگیریت اور تاریخی کامیابیوں کا سبب بنا تھا۔ وہ اس غفلت کی وجہ سے مسلمانوں کی موجودہ تنزلی کو سمجھاتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اسلام کی قوت کا اصل سرچشمہ تلوار نہیں بلکہ تبلیغ دین کا وہ جذبہ تھا جو ہر مسلمان کے دل میں رچا بسا تھا۔
کتاب کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ آج کے مسلمان تبلیغ کے نام پر صرف شور و شغب اور انجمن سازیوں تک محدود ہیں، جبکہ اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کی اشاعت محض ذاتی خوبیوں، عملی زندگی کے اثرات اور عام ذوقِ تبلیغ کے اشتراک عمل سے ممکن ہوئی۔ مودودی قرآنی آیات کی روشنی میں واضح کرتے ہیں کہ مسلمان کا وجودی مقصد ہی دعوت دین ہے، جیسا کہ سورۃ آل عمران کی آیات (3:110، 3:104) اور سورۃ النحل (16:125) میں بیان ہوا ہے۔
اس کے بعد مصنف اسلام کی قوت کے بنیادی سرچشمے کی وضاحت کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت تلوار کی بجائے تبلیغ کے ذریعے ہوئی۔ تاریخی واقعات—جیسے بغداد کے زوال کے باوجود سماٹرا میں اسلام کی ترقی، یا اندلس سے اسلام کے خاتمے کے وقت جاوا میں اس کی تجدید—اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اسلام کی زندگی تبلیغ پر منحصر ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
محض تبلیغی جماعتیں یا ہمہ گیر ذوق تبلیغ
ہم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں نے عیسائیوں کی طرح مشنری سوسائٹیاں بنا کر کام نہیں کیا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ ہم تنظیم کے ساتھ کام کرنے کے مخالف ہیں، بلکہ دراصل مراد یہ ہے کہ یہ کام محض ایک جماعت یا چند جماعتوں کا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے مسلمانوں میں تبلیغ دین کے ایک ایسے عام ذوق کی ضرورت ہے کہ ہر مسلمان اپنے آپ کو اس مقدس کام کے لیے مامور سمجھنے لگے۔
اگر عام مسلمان اس ذوق سے بے بہرہ رہیں اور محض ایک انجمن یا چند انجمنوں پر یہ کام چھوڑ دیا جائے تو ہم کبھی غیر مسلموں کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ ہر جگہ مسلمانوں کا عام ذوق تبلیغ ہی فتح و کامرانی سے سرفراز ہوا ہے۔ اگر افریقہ میں مسلمانوں کا یہ عام ذوق نہ ہوتا اور صرف انجمنیں ہی فریضہ تبلیغ کو انجام دینے کے لیے چھوڑ دی جاتیں تو عیسائیوں کی بدر جہا زیادہ طاقت ور اور دولت مند سوسائٹیوں کے مقابلے میں انھیں قیامت تک وہ کامیابی نصیب نہیں ہو سکتی تھی، جس پر آج ساری مسیحی دنیا انگشت بدنداں رہ گئی ہے۔ اسی طرح اگر مجمع الجزائر ملایا]انڈونیشیا [میں عام تاجروں اور سیاحوں کا دینی جذبہ خدمت کام نہ کرتا اور صرف وہ چند عربی اور مقامی واعظین اور علما ہی دعوت اسلام کا فرض انجام دیتے، جو وقتاً فوقتاً وہاں پہنچتے رہے تھے تو شاید آج بحرالکاہل کے ساحلوں پر اذان کی وہ گونج اس کثرت سے سنائی نہ دیتی جو آج بت پرستی اور مسیحی استعمار کی متحدہ مزاحمت کے باوجود سنائی دے رہی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ دعوتِ اسلام ایک فرضِ کفایہ ہے جس کے لیے کسی ایک جماعت کا کھڑا ہونا تمام امت کے لیے کفایت کرتا ہے۔ لیکن شریعت کی یہ رخصت محض مسلمانوں کی آسانی کے لیے ہے۔ اس رخصت کا مطلب اگر کچھ ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ یہ فرض عائد تو تمام مسلمانوں پر ہوتا ہے جسے سب کو ادا کرنا چاہیے، لیکن کم از کم ایک جماعت تو ایسی ضرور رینی چاہیے جو ہمیشہ بالالتزام اسے ادا کرتی رہے اور وہ جماعت یقیناً علما و صلحائے امت کی جماعت ہے۔
پس ہمارے نزدیک اسلام کی اشاعت کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم غیر مسلموں کو مخاطب کرنے کے بجائے خود مسلمانوں کو مخاطب کریں اور ان میں اس قسم کی مذہبی روح پھونک دیں کہ ہر مسلمان ایک مبلغ بن جائے۔ اس سے نہ صرف فریضہ تبلیغ ہی بہترین صورت سے انجام پائے گا، بلکہ ہمارے سیکڑوں دینی امراض کو بھی خود بخود شفا ہو جائے گی۔