پردہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔
کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: پردہ
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔
کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔
تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
- تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
- تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
- پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
- اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
- تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
- آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟
۴۔ نقاب
جو شخص آیت قرآنی کے الفاظ اور ان کی مقبول عام اور متفق علیہ تفسیر اور عہد نبویﷺ کے تعامل کو دیکھے گا اس کے لیے اس حقیقت سے انکار کی مجال باقی نہ رہے گی کہ شریعتِ اسلامیہ میں عورت کے لیے چہرے کو اجانب سے مستور رکھنے کا حکم ہے اور اس پر خود نبی اکرم ﷺ کے زمانہ سے عمل کیا جا رہا ہے۔ نقاب اگر لفظًا نہیں تو معنی و حقیقتاً خود قرآن عظیم کی تجویز کردہ چیز ہے۔ جس ذات مقدس پر قرآن نازل ہوا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے خواتین اسلام نے اس چیز کو اپنے خارج البیت لباس کا جزو بنایا تھا اور اس زمانہ میں بھی اس چیز کا نام ’’نقاب‘‘ ہی تھا۔
جی ہاں! یہ وہی ’’نقاب‘‘ (veil) ہے جسے یورپ انتہا درجہ کی مکروہ اور گھناؤنی چیز سمجھتا ہے، جس کا محض تصور ہی فرنگی ضمیر پر ایک بارِ گراں ہے، جسے ظلم، تنگ خیالی اور وحشت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ ہاں یہ وہی چیز ہے جس کا نام کسی مشرقی قوم کی جہالت اور تمدنی پسماندگی کے ذکر میں سب سے پہلے لیا جاتا ہے اور جب یہ بیان کرنا ہوتا ہے کہ کوئی مشرقی قوم تمدن و تہذیب میں ترقی کر رہی ہے تو سب سے پہلے جس بات کا ذکر بڑے انشراح و انبساط کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ اس قوم سے ’’نقاب‘‘ رخصت ہو گئی ہے۔ اب شرم سے سر جھکا لیجیے کہ یہ چیز بعد کی ایجاد نہیں، خود قرآن نے اسے ایجاد کیا ہے اور محمدﷺ اسے رائج کر گئے ہیں۔ مگر محض سر جھکانے سے کام نہ چلے گا۔ شتر مرغ اگر شکاری کو دیکھ کر ریت میں سر چھپا لے تو شکاری کا وجود باطل نہیں ہو جاتا۔ آپ بھی اپنا سر جھکائیں گے تو سر ضرور جھک جائے گا مگر قرآن کی آیت نہ مٹے گی، نہ تاریخ سے ثابت شدہ واقعات محو ہو جائیں گے۔ تاویلات سے اس پر پردہ ڈالیے گا تو یہ ’’شرم کا داغ‘‘ اور زیادہ چمک اٹھے گا۔ جب وحی مغربی پر ایمان لا کر آپ اسے ’’شرم کا داغ‘‘ مان ہی چکے ہیں، تو اسے دور کرنے کی اب ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اس اسلام ہی سے اپنی برأت کا اعلان فرما دیں جو نقاب، گھونگٹ، سترِ وجوہ جیسی ’’گھناؤنی‘‘ چیز کا حکم دیتا ہے۔ آپ ہیں ’’ترقی‘‘ کے خواہش مند۔ آپ کو درکار ہے ’’تہذیب‘‘ آپ کے لیے وہ مذہب کیسے قابلِ اتباع ہو سکتا ہے جو خواتین کو شمعِ انجمن بننے سے روکتا ہو، حیااور پردہ داری اور عفت مابی کی تعلیم دیتا ہو، گھر کی ملکہ کو اہلِ خانہ کے سوا ہر ایک کے لیے قرۃ العین بننے سے منع کرتا ہو، بھلا ایسے مذہب میں ’’ترقی‘‘ کہاں! ایسے مذہب کو تہذیب سے کیا واسطہ! ’’ترقی‘‘ اور ’’تہذیب‘‘ کے لیے ضروری ہے کہ عورت…… نہیں لیڈی صاحبہ۔۔۔ باہر نکلنے سے پہلے دو گھنٹے تک تمام مشاغل سے دست کش ہو کر صرف اپنی تزئین و آرائش میں مشغول ہو جائیں، تمام جسم کو معطر کریں، رنگ اور وضع کی مناسبت سے انتہا درجہ کا جاذبِ نظر لباس زیبِ تن فرمائیں، مختلف قسم کے غازوں سے چہرے اور بانہوں کی تنویر بڑھائیں، ہونٹوں کو لپ اسٹک سے مزین کریں، کمان ابرو کو درست اور آنکھوں کو تیر اندازی کے لیے چست کر لیں اور ان سب کرشموں سے مسلح ہو کر گھر سے باہر نکلیں تو شان یہ ہو کہ ہر کرشمہ دامن دل کو کھینچ کھینچ کر ’’جا ایں جااست‘‘کی صدا لگا رہا ہو! پھر اس سے بھی ذوق خود آرائی کی تسکین نہ ہو، تو آئینہ اور سنگار کا سامان ہر وقت ساتھ رہے تاکہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسبابِ زینت کے خفیف ترین نقصانات کی بھی تلافی کی جاتی رہے۔
جیسا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں، اسلام اور مغربی تہذیب کے مقاصد میں بعد المشرقین ہے اور وہ شخص سخت غلطی کرتا ہے جو مغربی نقطۂ نظر سے اسلامی احکام کی تعبیر کرتا ہے۔ مغرب میں اشیا کی قدر و قیمت کا جومعیار ہے، اسلام کا معیار اس سے بالکل مختلف ہے۔ مغرب جن چیزوں کو نہایت اہم اورمقصودِ حیات سمجھتا ہے، اسلام کی نگاہ میں ان کی کوئی اہمیت نہیں اور اسلام جن چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، مغرب کی نگاہ میں وہ بالکل بے قیمت ہیں۔ اب جو مغربی معیار کا قائل ہے، اسے تو اسلام کی ہر چیز قابلِ ترمیم ہی نظر آئے گی۔ وہ اسلامی احکام کی تعبیر کرنے بیٹھے گا تو ان کی تحریف کر ڈالے گا اور تحریف کے بعد بھی انھیں اپنی زندگی میں کسی طرح نصب نہ کر سکے گا۔ کیوں کہ قدم قدم پر قرآن اور سنت کی تصریحات اس کی مزاحمت کریں گی۔ ایسے شخص کو عملی طریقوں کے جزئیات پرنظر ڈالنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ جب مقاصد کے لیے ان طریقوں کو اختیار کیا گیا ہے وہ خود کہاں تک قابلِ قبول ہیں۔ اگر وہ مقاصد ہی سے اتفاق نہیں رکھتا تو حصولِ مقاصد کے طریقوں پر بحث کرنے اور انھیں مسخ و محرف کرنے کی فضول زحمت کیوں اٹھائے؟کیوں نہ اس مذہب ہی کو چھوڑ دے جس کے مقاصد کو وہ غلط سمجھتا ہے؟ اور اگر اسے مقاصد سے اتفاق ہے تو بحث صرف اس میں رہ جاتی ہے کہ ان مقاصد کے لیے جو عملی طریقے تجویز کیے گئے ہیں وہ مناسب ہیں یا نامناسب اور اس بحث کو بآسانی طے کیا جا سکتا ہے لیکن یہ طریقہ صرف شریف لوگ ہی اختیار کر سکتے ہیں۔ رہے منافقین، تو وہ خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوقات میں سب سے ارذل مخلوق ہیں۔ انھیں یہی زیب دیتا ہے کہ دعوٰی ایک چیز پر اعتقاد رکھنے کا کریں اور درحقیقت اعتقاد دوسری چیز پر رکھیں۔
نقاب اور برقع کے مسئلے میں جس قدر بحثیں کی جا رہی ہیں وہ دراصل اسی نفاق پر مبنی ہیں۔ ایڑی سے چوٹی تک کا زور یہ ثابت کرنے میں صرف کیا گیا ہے کہ پردے کی یہ صورت اسلام سے پہلے کی قوموں میں رائج تھی اور جاہلیت کی یہ میراث عہدِ نبویﷺ کے بہت مدت بعد مسلمانوں میں تقسیم ہوئی۔ قرآن کی ایک صریح آیت اور عہدِ نبوی کے ثابت شدہ تعامل اور صحابہ و تابعین کی تشریحات کے مقابلہ میں تاریخی تحقیقات کی یہ زحمت آخر کیوں اٹھائی گئی؟ صرف اس لیے کہ زندگی کے وہ مقاصد پیشِ نظر تھے اور ہیں جو مغرب میں مقبولِ عام ہیں۔ ’’ترقی‘‘ اور ’’تہذیب‘‘ کے وہ تصورات ذہن نشین ہو گئے ہیں جو اہلِ مغرب سے نقل کیے گئے ہیں۔ چوں کہ برقع اوڑھنا اور نقاب ڈالنا ان مقاصد کے خلاف ہے اور ان تصورات سے کسی طرح میل نہیں کھاتا، لہٰذا تاریخی تحقیق کے زور سے اس چیز کومٹانے کی کوشش کی گئی جو اسلام کی کتاب آئین میں ثبت ہے، یہ کھلی ہوئی منافقت، جو بہت سے مسائل کی طرح اس مسئلہ میں بھی برتی گئی ہے، اس کی اصلی وجہ وہی بے اصولی، عقل کی خفت اور اخلاقی جرأت کی کمی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اتباعِ اسلام کا دعوٰی کرنے کے باوجود قرآن کے مقابلہ میں تاریخ کو لا کر کھڑا کرنے کا خیال بھی ان کے ذہن میں نہ آتا۔ یا تو یہ اپنے مقاصد کو اسلام کے مقاصد سے بدل ڈالتے (اگر مسلمان رہنا چاہتے) یا اعلانیہ اس مذہب سے الگ ہو جاتے جو ان کے معیار ترقی کے لحاظ سے مانع ترقی ہے۔
جو شخص اسلامی قانون کے مقاصد کو سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ کچھ عقل عام (common sense) بھی رکھتا ہے اس کے لیے یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ عورتوں کو کھلے چہروں کے ساتھ باہر پھرنے کی عام اجازت دینا ان مقاصد کے بالکل خلاف ہے جنھیں اسلام اس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ ایک انسان کو دوسرے انسان کی جو چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ اس کا چہرہ ہی تو ہے۔ انسان کی خلقی و پیدائشی زینت، یا دوسرے الفاظ میں انسانی حسن کا سب سے بڑا مظہر چہرہ ہے۔ نگاہوں کو سب سے زیادہ وہی کھینچتا ہے۔ جذبات کو سب سے زیادہ وہی اپیل کرتا ہے۔ صنفی جذب و انجذاب کا سب سے زیادہ قوی ایجنٹ وہی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے نفسیات کے کسی گہرے علم کی بھی ضرورت نہیں۔ خود اپنے دل کو ٹٹولیے۔ اپنی آنکھوں سے فتوٰی طلب کیجیے۔ اپنے نفسی تجربات کا جائزہ لے کردیکھ لیجیے۔ منافقت کی بات تو دوسری ہے۔ منافق اگر آفتاب کے وجود کو بھی اپنے مقصد کے خلاف دیکھے گا تو دن دیہاڑے کہہ دے گا کہ آفتاب موجود نہیں۔ البتہ صداقت سے کام لیجیے گا۔ تو آپ کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ صنفی تحریک (sex appeal) میں جسم کی ساری زینتوں سے زیادہ حصہ اس فطری زینت کا ہے جو اللہ نے چہرے کی ساخت میں رکھی ہے۔ اگر آپ کو کسی لڑکی سے شادی کرنی ہو اورآ پ اسے دیکھ کر آخری فیصلہ کرنا چاہتے ہوں تو سچ بتائیے کہ کیا دیکھ کر آپ فیصلہ کریں گے؟ ایک شکل اس کے دیکھنے کی یہ ہو سکتی ہے کہ چہرے کے سوا وہ پوری کی پوری آپ کے سامنے ہو۔ دوسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ ایک جھروکے میں وہ صرف اپنا چہرہ دکھا دے۔ بتائیے کہ دونوں شکلوں میں سے کون سی شکل کو آپ ترجیح دیں گے؟ سچ بتائیے کیا سارے جسم کی بہ نسبت چہرے کا حسن آپ کی نگاہ میں اہم ترین نہیں ہے؟
اس حقیقت کے مسلم ہو جانے کے بعد آگے بڑھیے۔ اگر سوسائٹی میں صنفی انتشار اور لامرکزی ہیجانات و تحریکات کو روکنا مقصود ہی نہ ہو، تب تو چہرہ کیا معنی، سینہ، بازو، پنڈلیاں اور رانیں سب کچھ ہی کھو ل دینے کی آزادی ہونی چاہیے، جیسی کہ اس وقت مغربی تہذیب میں ہے۔ اس صورت میں ان حدود و قیود کی کوئی ضرورت ہی نہیں جو اسلامی قانون حجاب کے سلسلہ میں آپ اوپر سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں لیکن اگر اصل بات اسی طوفان کو روکنا ہو تو اس سے زیادہ خلاف حکمت اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ اسے روکنے کے لیے چھوٹے چھوٹے دروازوں پر تو کنڈیاں چڑھائی جائیں اور سب سے بڑے دروازے کا چوپٹ کھلا چھوڑ دیا جائے۔
اب آ پ سوال کر سکتے ہیں کہ جب ایسا ہے تو اسلام نے ناگزیر حاجات و ضروریات کے لیے چہرہ کھولنے کی اجازت کیوں دی؟ جیسا کہ تم خود پہلے بیان کر چکے ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کوئی غیر معتدل اور یک رخا قانون نہیں ہے۔ وہ ایک طرف مصالحِ اخلاقی کا لحاظ کرتا ہے تو دوسری طرف انسان کی حقیقی ضرورتوں کا بھی لحاظ کرتا ہے اور ان دونوں کے درمیان اس نے غایت درجہ کا تناسب اور توازن قائم کیا ہے۔ وہ اخلاقی فتنوں کا سدِّباب بھی کرنا چاہتا ہے اور اس کے ساتھ کسی انسان پر ایسی پابندیاں بھی عائد کرنا نہیں چاہتا جن کے باعث وہ اپنی حقیقی ضروریات کو پورا نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے عورت کے لیے چہرے اور نقاب کے باب میں ویسے قطعی احکام نہیں دیے جیسے ستر پوشی اور اخفائے زینت کے باب میں دیے ہیں۔ کیوں کہ سترپوشی اور اخفائے زینت سے ضروریات زندگی کو پورا کرنے میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ مگر چہرے ا ور ہاتھوں کو دائمًا چھپائے رکھنے سے عورتوں کو اپنی حاجات میں سخت مشکل پیش آ سکتی ہے پس عورتوں کے لیے عام قاعدہ یہ مقرر کیا گیا کہ چہرے پر نقاب یا گھونگٹ ڈالے رہیں اور اس قاعدہ میں الا ما ظھر منھا کے استثنا سے یہ آسانی پیدا کر دی گئی کہ اگر حقیقت میں چہرہ کھولنے کی ضرورت پیش آ جائے تو وہ اسے کھول سکتی ہے، بشرطیکہ نمائشِ حسن مقصود نہ ہو بلکہ رفع ضرورت مدِّنظر ہو پھر دوسری جانب سے فتنہ انگیزی کے جو خطرات تھے ان کا سدباب اس طرح کیا گیا کہ مردوں کو غضِ بصر کا حکم دیا گیا تاکہ اگر کوئی عفت ماب عورت اپنی حاجات کے لیے چہرہ کھولے تو وہ اپنی نظریں نیچی کر لیں اور بے ہودگی کے ساتھ اسے گھورنے سے باز رہیں۔
پردہ داری کے ان احکام پر آپ غورکریں گے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلامی پردہ کوئی جاہلی رسم نہیں بلکہ ایک عقلی قانون ہے۔ جاہلی رسم ایک جامد چیز ہوتی ہے۔ جو طریقہ جس صورت سے رائج ہو گیا، کسی حال میں اس کے اندر تغیر نہیں کیا جا سکتا۔ جو چیز چھپا دی گئی وہ بس ہمیشہ کے لیے چھپا دی گئی۔ آپ مرتے مر جائیں مگر اس کا کھلنا غیر ممکن۔ بخلاف اس کے عقلی قانون میں لچک ہوتی ہے۔ اس میں احوال کے لحاظ سے شدت اور تخفیف کی گنجائش ہوتی ہے۔ موقع و محل کے اعتبار سے اس کے عام قواعد میں استثنائی صورتیں رکھی جاتی ہیں۔ ایسے قوانین کی پیروی اندھوں کی طرح نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے عقل اور تمیز کی ضرورت ہے۔ سمجھ بوجھ رکھنے والا پیرو خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ کہاں اسے عام قاعدے کی پیروی کرنی چاہیے اور کہاں قانون کے نقطہ نظر سے ’’حقیقی ضرورت‘‘ درپیش ہے جس میں استثنائی رخصتوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ پھر وہ خود ہی یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ کس محل پر رخصت سے کس حد تک استفادہ کیا جائے اور استفادہ کی صورت میں مقصد قانون کو کس طرح ملحوظ رکھا جائے۔ ان تمام امور میں دَرحقیقت ایک نیک نیت مومن کا قلب ہی سچا مفتی بن سکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: <<اِسْتَفْتِ قَلْبَکَ اور دَعْ مَا حَاکَ فیِ صَدْرِک>> (اپنے دل سے فتوٰی طلب کرو اور جو چیز دل میں کھٹکے اسے چھوڑ دو)یہی وجہ ہے کہ اسلام کی صحیح پیروی جہالت اور ناسمجھی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ یہ عقلی قانون ہے اور اس کی پیروی کے لیے قدم قدم پر شعور اور فہم کی ضرورت ہے۔