پردہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔
کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: پردہ
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔
کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔
تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
- تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
- تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
- پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
- اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
- تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
- آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟
۲۔مدنیتِ صالحہ کے لوازم
آئیے اب ہم اس مسئلہ کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کریں کہ ایک صالح تمدن کے لیے عورت اور مرد کے حیوانی اور انسانی تعلق میں معتدل اور متناسب امتزاج کی صورت کیا ہے اور اس امتزاج پر بے اعتدالی کی کن کن صورتوں کے عارض ہونے سے تمدن فاسد ہو جاتا ہے۔
(۱)۔ میلانِ صنفی کی تعدیل:
سب سے اہم اور مقدم سوال خود اس صنفی کشش اور میلان کا ہے کہ اسے کس طرح قابو میں رکھا جائے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ انسان کے اندر یہ میلان تمام حیوانات سے زیادہ طاقت ور ہے۔ نہ صرف یہ کہ انسانی جسم کے اندر صنفی تحریک پیدا کرنے والی قوتیں زیادہ شدید ہیں، بلکہ باہر بھی اس وسیع کائنات میں ہر طرف بے شمار صنفی محرکات پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ چیز جس کے لیے فطرت نے خود ہی اتنے انتظامات کر رکھے ہیں، اگر انسان بھی اپنی توجہ اور قوتِ ایجاد سے کام لے کر اسے بڑھانے اور ترقی دینے کے اسباب مہیا کرنے لگے اور ایسا طرزِ تمدن اختیار کرے جس میں اس کی صنفی پیاس بڑھتی چلی جائے اور پھر اس پیاس کو بجھانے کی آسانیاں بھی پیدا کی جاتی رہیں تو ظاہر ہے اس صورت میں یہ حدِ مطلوب سے بہت زیادہ متجاوز ہو جائے گی، انسان کا حیوانی عنصر اس کے انسانی عنصر پر پوری طرح غالب ہو جائے گا اور یہ حیوانیت اس کی انسانیت اور اس کے تمدن دونوں کو کھا جائے گی۔
صنفی تعلق اور اس کے مبادی اور محرکات میں سے ایک ایک چیز کو فطرت نے لذیذ بنایا ہے۔ مگر جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں، فطرت نے یہ لذت کی چاٹ محض اپنے مقصد یعنی تعمیرِ تمدن کے لیے لگائی ہے۔ اس چاٹ کا حد سے بڑھ جانا اور اسی میں انسان کا منہمک ہوجانا نہ صرف تمدن بلکہ خود انسان کی بھی تخریب و ہلاکت کا موجب ہو سکتا ہے، ہو رہا ہے اور بارہا ہوچکا ہے۔ جو قومیں تباہ ہو چکی ہیں ان کے آثار اور ان کی تاریخ کو دیکھیے۔ شہوانیت ان میں حد سے متجاوز ہو چکی تھی۔ ان کے لٹریچر اسی قسم کے ہیجان انگیز مضامین سے لبریز پائے جاتے ہیں۔ ان کے تخیلات، ان کے افسانے، ان کے اشعار، ان کی تصویریں، ان کے مجسمے، ان کے عبادت خانے، ان کے محلات سب کے سب اس پر شاہد ہیں۔ جو قومیں اب تباہی کی طرف جا رہی ہیں ان کے حالات بھی دیکھ لیجیے۔ وہ اپنی شہوانیت کو آرٹ، ادبِ لطیف، ذوقِ جمال اور ایسے کتنے ہی خوش نما اور معصوم ناموں سے موسوم کر لیں، مگر تعبیر کے بدل جانے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ یہ کیا چیز ہے کہ سوسائٹی میں عورت کوعورتوں سے زیادہ مرد کی صحبت اور مرد کو مردوں سے زیادہ عورتوں کی معیت مرغوب ہے؟ یہ کیوں ہے کہ عورتوں اور مردوں میں تزئین و آراش کا ذوق بڑھتا چلا جا رہا ہے؟ اس کی کیا وجہ ہے کہ مخلوط سوسائٹی میں عورت کا جسم لباس سے باہر نکلا پڑتا ہے؟ وہ کون سی شے ہے جس کے سبب سے عورت اپنے جسم کے ایک ایک حصے کو کھول کھول کر پیش کر رہی ہے اور مردوں کی طرف سے ھل من مزید کا تقاضا ہے؟ اس کی کیا علت ہے کہ برہنہ تصویریں، ننگے مجسمے اور عریاں ناچ، سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں؟ اس کا کیا سبب ہے کہ سینما میں اُس وقت تک لطف ہی نہیں جب تک کہ عشق و محبت کی چاشنی نہ ہو اور اس پر صنفی تعلقات کے بہت سے قولی اور فعلی مبادی کا اضافہ نہ کیا جائے؟ یہ اور ایسے ہی بہت سے مظاہر اگر شہوانیت کے مظاہر نہیں تو کس چیز کے ہیں؟ جس تمدن میں ایسا غیر معتدل شہوانی ماحول پیدا ہو جائے اس کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں صنفی میلان کی شدت اور پیہم ہیجان اور مسلسل تحریک کی وجہ سے ناگزیر ہے کہ نسلیں کم زور ہو جائیں، جسمانی اور عقلی قوتوں کی نشوونما بگڑ جائے۔ قوائے ذہنی پراگندہ [ایک ڈاکٹر لکھتا ہے : بلوغ کے آغاز کا زمانہ بڑے اہم تغیرات کے ساتھ آتا ہے۔ نفس اور جسم کے مختلف افعال میں اس وقت ایک انقلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور تمام حیثیتوں سے عام نشو ونما ہوتی ہے۔ آدمی کو اس وقت ان تغییرات کو برداشت کرنے اور اس نشود نما کو حاصل کرنے کے لیے اپنی تمام قوت درکار ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بیماریوں کے مقابلہ کی طاقت اس زمانہ میں آدمی کے اندر بہت کم ہوتی ہے۔ عام نشو نما ، اعضا کی ترقی اور نفسی و جسمانی تغییرات کا یہ طویل عمل جس کے بعد آدمی بچہ سے جوان بنتا ہے، ایک تھکا دینے والا عمل ہے جس کے دوران میں طبیعت انتہائی جدو جہد میں مصروف ہوتی ہے۔ اس حالت میں اس پر کوئی غیر معمولی بارڈالنا جائز نہیں۔ خصوصا صنفی عمل اور شہوانی ہیجان تو اس کے لیے تباہ کن ہے۔
ایک اور مشہور جرمن عالم نفسیات و عمرانیات لکھتا ہے کہ : صنفی اعضا کا تعلق چوں کہ لذت اور جوش کے غیر معمولی ہیجانات (sensations) کے ساتھ ہے، اس وجہ سے یہ اعضا ہماری ذہنی قوتوں میں سے ایک بڑا حصہ اپنی طرف جذب کر لینے یا بالفاظ دیگر ان پر ڈاکا ڈالنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ اگر انھیں غلبہ حاصل ہو جائے تو یہ آدمی کو تمدن کی خدمت کی بجائے انفرادی لطف اندوزی میں منہمک کر دیں ۔ یہ طاقت ور پوزیشن جو انھیں جسم انسانی میں حاصل ہے، آدمی کی صنفی زندگی کو ذرا سی غفلت میں حالت اعتدال یہ در ہے۔ آدی کی ذراسی میں سے بے اعتدالی کی طرف لے جا کر مفید سے مصر بنا سکتی ہے۔ تعلیم کا اہم ترین مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس خطرے کی روک تھام کی جائے۔] ہو جائیں، فواحش کی کثرت ہو، امراضِ خبیثہ کی وبائیں پھیلیں، مانع حمل، اسقاطِ حمل اور قتلِ اطفال جیسی تحریکیں وجود میں آئیں، مرد اور عورت بہائم کی طرح ملنے لگیں، بلکہ فطرت نے ان کے اندر جو صنفی میلان تمام حیوانات سے بڑھ کر رکھا ہے اسے وہ مقاصد فطرت کے خلاف استعمال کریں اوراپنی بہیمیت میں تمام حیوانات سے بازی لے جائیں، حتّٰی کہ بندروں اور بکروں کو بھی مات کر دیں۔ لامحالہ ایسی شدید حیوانیت انسانی تمدن و تہذیب بلکہ خود انسانیت کو بھی غارت کر دے گی اور جو لوگ اس میں مبتلا ہوں گے ان کا اَخلاقی انحطاط انھیں ایسی پستی میں گرائے گا جہاں سے وہ پھر کبھی نہ اُٹھ سکیں گے۔
ایسا ہی انجام اس تمدن کا بھی ہو گا جو تفریط کا پہلو اختیار کرے گا۔ جس طرح صنفی میلان کا حدِ اعتدال سے بڑھ جانا مضر ہے اسی طرح اسے حد سے زیادہ دبانا اور کچل دینا بھی مضر ہے۔ جو نظامِ تمدن انسان کو سنیاس اور برہمچریہ اور رہبانیت کی طرف لے جانا چاہتا ہے وہ فطرت سے لڑتا ہے اور فطرت اپنے مدِ مقابل سے کبھی شکست نہیں کھاتی بلکہ خود اسی کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ خالص رہبانیت کا تصور تو ظاہر ہے کہ کسی تمدن کی بنیاد بن ہی نہیں سکتا۔ کیوں کہ وہ دراصل تمدن و تہذیب کی نفی ہے۔ البتہ راہبانہ تصورات کو دلوں میں راسخ کرکے نظامِ تمدن میں ایک ایسا غیر صنفی ماحول ضرور پیدا کیا جا سکتا ہے جس میں صنفی تعلق کو بذاتِ خود ایک ذلیل، قابلِ نفرت اور گھناؤنی چیز سمجھا جائے، اس سے پرہیز کرنے کو معیارِ اَخلاق قرار دیا جائے اور ہر ممکن طریقے سے اس میلان کو دبانے کی کوشش کی جائے۔ مگر صنفی میلان کا دبنا دراصل انسانیت کا دبنا ہے وہ اکیلا نہیں دبے گا بلکہ اپنے ساتھ انسان کی ذہانت، قوتِ عمل، عقلی استعداد، حوصلہ و عزم اور ہمت وشجاعت سب کو لے کر دب جائے گا۔ اس کے دبنے سے انسان کی ساری قوتیں ٹھٹھر کر رہ جائیں گی۔ اس کا خون سرد اور منجمد ہو کر رہ جائے گا۔ اس میں اُبھرنے کی کوئی صلاحیت باقی نہ رہے گی۔ کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی محرک طاقت یہی صنفی طاقت ہے۔
پس صنفی میلان کو افراط و تفریط سے روک کر توسط و اعتدال کی حالت پر لانا اور اسے ایک مناسب ضابطے سے منضبط (regulate) کرنا ایک صالح تمدن کا اولین فریضہ ہے۔ اجتماعی زندگی کا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ وہ ایک طرف غیر معتدل (abnormal) ہیجان و تحریک کے ان تمام اسباب کو روک دے جنھیں انسان خود اپنے ارادے اور اپنی لذت پرستی سے پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف فطری (normal) ہیجانات کی تسکین و تشفی کے لیے ایسا راستہ کھول دے جو خود منشائے فطرت کے مطابق ہو۔
(۲) ۔ خاندان کی تاسیس:
اب یہ سوال خود بخود ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ فطرت کا منشا کیا ہے؟ کیا اس معاملہ میں ہمیں بالکل تاریکی میں چھوڑ دیا گیا ہے کہ آنکھیں بند کرکے ہم جس چیز پر چاہیں ہاتھ رکھ دیں اور وہی فطرت کا منشا قرار پائے؟ یا نوامیسِ فطرت پرغور کرنے سے ہم منشائے فطرت تک پہنچ سکتے ہیں؟ شاید بہت سے لوگ صورتِ اول ہی کے قائل ہیں اور اسی لیے وہ نوامیس فطرت پر نظر کیے بغیر ہی کیف ماا تفق جس چیز کو چاہتے ہیں، منشائے فطرت کہہ دیتے ہیں، لیکن ایک محقق جب حقیقت کی جستجو کے لیے نکلتا ہے تو چند ہی قدم چل کر اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا فطرت آپ ہی اپنے منشا کی طرف صاف صاف انگلی اُٹھا کر اشارہ کر رہی ہے۔
یہ تو معلوم ہے کہ تمام انواعِ حیوانی کی طرح انسان کو بھی زوجین یعنی دو صنفوں کی صورت میں پیدا کرنے اور ان کے درمیان صنفی کشش کی تخلیق کرنے سے فطرت کا اولین مقصد بقائے نوع ہے لیکن انسان سے فطرت کا مطالبہ صرف اتنا ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس سے بڑھ کرکچھ دوسرے مطالبات بھی اس سے کرتی ہے اور باادنیٰ تامل ہمیں معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ مطالبات کیا ہیں اور کس نوعیت کے ہیں۔
سب سے پہلے جس چیز پر نظر پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام حیوانات کے برعکس انسان کا بچہ نگاہ داشت اور پرورش کے لیے بہت زیادہ وقت، محنت اور توجہ مانگتا ہے۔ اگر اسے مجرد ایک حیوانی وجود ہی کی حیثیت سے لے لیا جائے تب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی حیوانی ضروریات پوری کرنے… یعنی غذا حاصل کرنے اور اپنے نفس کی مدافعت کرنے… کے قابل ہوتے ہوئے وہ کئی سال لے لیتا ہے اور ابتدائی دو تین سال تک تو وہ اتنا بے بس ہوتا کہ ماں کی پیہم توجہ کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔
لیکن یہ ظاہر ہے کہ انسان خواہ وحشت کے کتنے ہی ابتدائی درجہ میں ہو، بہرحال نرا حیوان نہیں ہے۔ کسی نہ کسی مرتبہ کی مدنیت بہرحال اس کی زندگی کے لیے ناگزیر ہے اور اس مدنیت کی وجہ سے پرورشِ اولاد کے فطری تقاضے پر لامحالہ اور تقاضوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک یہ کہ بچہ کی پرورش میں ان تمام تمدنی وسائل سے کام لیا جائے جو اس کے پرورش کرنے والے کو بہم پہنچ سکیں۔ دوسرے یہ کہ بچے کو ایسی تربیت دی جائے کہ جس تمدنی ماحول میں وہ پیدا ہوا ہے وہاں تمدن کے کارخانے کو چلانے اور سابق کارکنوں کی جگہ لینے کے لیے وہ تیار ہو سکے۔
پھر تمدن جتنا زیادہ ترقی یافتہ اور اعلیٰ درجہ کا ہوتا جاتا ہے، یہ دونوں تقاضے بھی اتنے ہی زیادہ بھاری اور بوجھل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک طرف پرورشِ اولاد کے ضروری وسائل و لوازم بڑھتے جاتے ہیں اور دوسری طرف تمدن نہ صرف اپنے قیام و بقا کے لیے اپنے مرتبے کے مطابق اچھے تعلیم و تربیت یافتہ کا رکن مانگتا ہے، بلکہ اپنے نشو و ارتقا کے لیے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ ہر نسل پہلی نسل سے بہتر اُٹھے، یعنی دوسرے الفاظ میں ہر بچے کا نگاہ بان اسے خود اپنے آپ سے بہتر بنانے کی کوشش کرے۔۔۔ انتہا درجہ کا ایثار جو انسان سے جذبہ خود پسندی تک کی قربانی مانگتا ہے۔
یہ ہیں فطرتِ انسانی کے مطالبات اور ان مطالبات کی اوّلین مخاطب ہے عورت۔ مرد ایک ساعت کے لیے عورت سے مل کر ہمیشہ کے لیے اس سے اور اس ملاقات کی ذمہ داری سے الگ ہو سکتا ہے۔ لیکن عورت کو تو اس ملاقات کا قدرتی نتیجہ برسوں کے لیے بلکہ عمر بھر کے لیے پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ حمل قرار پانے کے بعد سے کم از کم پانچ برس تک تو یہ نتیجہ اس کا پیچھا کسی طرح چھوڑتا ہی نہیں اور اگر تمدن کے پورے مطالبات ادا کرنا ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مزید پندرہ سال تک وہ عورت، جس نے ایک ساعت کے لیے مرد کی معیت کا لطف اٹھایا تھا، اس کی ذمہ داریوں کا بار سنبھالتی رہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک مشترک فعل کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تنہا ایک فریق کس طرح آمادہ ہو سکتا ہے؟ جب تک عورت کو اپنے شریکِ کار کی بے وفائی کے خوف سے نجات نہ ملے، جب تک اسے اپنے بچے کی پرورش کا پورا اطمینان نہ ہو جائے، جب تک اسے خود اپنی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کے کام سے بھی ایک بڑی حد تک سبک دوش نہ کر دیا جائے، وہ اتنے بھاری کام کا بوجھ اُٹھانے پر کیسے آمادہ ہو جائے گی؟ جس عورت کا کوئی قوام (protector provider) نہ ہو اس کے لیے تو حمل یقینا ایک حادثہ اور مصیبت، بلکہ ایک خطرناک بلا ہے جس سے چھٹکارا پانے کی خواہش اس میں طبعی طور پر پیدا ہونی چاہیے آخر وہ اسے خوش آمدید کیسے کہہ سکتی ہے؟
لامحالہ یہ ضروری ہے۔۔۔ اگر نوع کی بقا اور تمدن کا قیام اور ارتقا ضروری ہے۔۔۔ کہ جو مرد جس عورت کو بار آور کرے وہی اس بار کو سنبھالنے میں اس کا شریک بھی ہو۔ مگر اس شرکت پر اسے راضی کیسے کیا جائے؟ وہ تو فطرتًا خود غرض واقع ہوا ہے۔ جہاں تک بقائے نوع کے طبعی فریضے کا تعلق ہے، اس کے حصے کا کام تو اسی ساعت پورا ہو جاتا ہے جب کہ وہ عورت کو بار آور کر دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ بار تنہا عورت کے ساتھ لگا رہتا ہے اور مرد سے وہ کسی طرح بھی چسپاں نہیں ہوتا۔ جہاں تک صنفی کشش کا تعلق ہے وہ بھی اسے مجبور نہیں کرتی کہ اسی عورت کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ چاہے تو اسے چھوڑ کر دوسری اور دوسری کوچھوڑ کر تیسری سے تعلق پیدا کر سکتا ہے اور ہر زمین میں بیج پھینکتا پھر سکتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ معاملہ محض اس کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ بخوشی اس بار کو سنبھالنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔ آخر کون سی چیز اسے مجبورکرنے والی ہے کہ وہ اپنی محنتوں کا پھل اس عورت اور اس بچے پر صرف کرے؟ کیوں وہ ایک دوسری حسین دوشیزہ کو چھوڑ کر اس پیٹ پھولی عورت سے اپنا دل لگائے رکھے؟ کیوں وہ گوشت پوست کے ایک بے کار لوتھڑے کو خواہ مخواہ اپنے خرچ پر پالے؟ کیوں اس کی چیخوں سے اپنی نیند حرام کرے؟ کیوں اس چھوٹے سے شیطان کے ہاتھوں اپنا نقصان کرائے جو ہر چیز کو توڑتا پھوڑتا اور گھر بھر میں گندگی پھیلاتا پھرتا ہے اورکسی کی سن کر نہیں دیتا۔
فطرت نے کسی حد تک اس مسئلہ کے حل کا خود بھی اہتمام کیا ہے۔ اس نے عورت میں حُسن، شیرینی، دل لبھانے کی طاقت اور محبت کے لیے ایثار و قربانی کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے تاکہ ان ہتھیاروں سے مرد کی خود غرضانہ انفرادیت پر فتح پائے اوراسے اپنا اسیر بنا لے۔ اس نے بچے کے اندر بھی ایک عجیب قوتِ تسخیر بھر دی ہے تاکہ وہ اپنی تکلیف دہ، برباد کن، پاجیانہ خصوصیات کے باوجود ماں باپ کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار رکھے۔ مگر صرف یہی چیزیں ایسی نہیں ہیں کہ بجائے خود ان کا زور انسان کو اپنے اَخلاقی، فطری، تمدنی فرائض ادا کرنے کے لیے برسوں نقصان، اذیت، قربانی کرنے پر مجبورکر سکے۔ آخر انسان کے ساتھ اس کا وہ ازلی دشمن بھی تو لگا ہوا ہے جو اسے فطرت کے راستے سے منحرف کرنے کی ہر وقت کوشش کرتا رہتا ہے جس کی زنبیلِ عیاری میں ہر زمانے اور ہر نسل کے لوگوں کو بہکانے کے لیے طرح طرح کی دلیلوں اور ترغیبات کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ بھرا ہوا ہے۔
یہ مذہب کا معجزہ ہے کہ وہ انسان کو۔۔۔ مرد اور عورت دونوں کو ۔۔۔ نوع اور تمدن کے لیے قربانی پر آمادہ کرتا ہے اور اس خود غرض جانور کو آدمی بنا کر ایثار کے لیے تیار کر دیتا ہے۔ وہ خدا کے بھیجے ہوئے انبیا ہی تھے جنھوں نے فطرت کے منشا کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر عورت اور مرد کے درمیان صنفی تعلق اور تمدنی تعاون کی صحیح صورت، نکاح تجویز کی۔ انھی کی تعلیم و ہدایت سے دنیا کی ہر قوم اور روئے زمین کے ہر گوشے میں نکاح کا طریقہ جاری ہوا۔ انھی کے پھیلائے ہوئے اخلاقی اصولوں سے انسان کے اندر اتنی روحانی صلاحیت پیدا ہوئی کہ وہ اس خدمت کی تکلیفیں اور نقصانات برداشت کرے، ورنہ حق یہ ہے کہ ماں اور باپ سے زیادہ بچے کا دشمن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا، انھی کے قائم کیے ہوئے ضوابطِ معاشرت سے خاندانی نظام کی بِنا پڑی جس کی مضبوط گرفت لڑکیوں اور لڑکوں کو اس ذمہ دارانہ تعلق اور اس اشتراکِ عمل پر مجبور کرتی ہے، ورنہ شباب کے حیوانی تقاضوں کا زور اتنا سخت ہوتا ہے کہ محض اخلاقی ذمہ داری کا احساس کسی خارجی ڈسپلن کے بغیر انھیں آزاد شہوت رانی سے نہ روک سکتا تھا۔ شہوت کا جذبہ بجائے خود اجتماعیت کا دشمن (anti social)ہے۔ یہ خود غرضی، انفرادیت اور انارکی کا میلان رکھنے والا جذبہ ہے۔ اس میں پائداری نہیں۔ اس میں احساسِ ذمہ داری نہیں۔ یہ محض وقتی لطف اندوزی کے لیے تحریک کرتا ہے۔ اس دیو کو مسخر کرکے اس سے اجتماعی زندگی کی۔۔۔ اس زندگی کی جو صبر و ثبات، محنت، قربانی، ذمہ داری اور پیہم جفاکشی چاہتی ہے۔۔۔خدمت لیناکوئی آسان کام نہیں۔ وہ نکاح کا قانون اور خاندان کا نظام ہی ہے جو اس دیو کو شیشے میں اُتار کر اس سے شرارت اور بدنظمی کی ایجنسی چھین لیتا ہے اور اسے مرد و عورت کے اس لگاتار تعاون و اشتراکِ عمل کا ایجنٹ بنا دیتا ہے جو اجتماعی زندگی کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی تمدنی زندگی ختم ہو جائے، انسان حیوان کی طرح رہنے لگیں اور بالآخر نوعِ انسانی صفحہ ہستی سے ناپید ہو جائے۔
پس صنفی میلان کو انارکی اور بے اعتدالی سے روک کر اس کے فطری مطالبات کی تشفی و تسکین کے لیے جو راستہ خود فطرت چاہتی ہے کہ کھولا جائے وہ صرف یہی ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان نکاح کی صورت میں مستقل وابستگی ہو، اور اس وابستگی سے خاندانی نظام کی بِنا پڑے۔ تمدن کے وسیع کارخانے کو چلانے کے لیے جن پُرزوں کی ضرورت ہے وہ خاندان کی اسی چھوٹی کارگاہ میں تیار کیے جاتے ہیں۔ یہاں لڑکیوں اور لڑکوں کے جوان ہوتے ہی کارگاہ کے منتظمین کو خود بخود یہ فکر لگ جاتی ہے کہ حتی الامکان ان کے ایسے جوڑ لگائیں جوایک دوسرے کے لیے زیادہ مناسب ہوں تاکہ ان کے ملاپ سے زیادہ سے زیادہ بہتر نسل پیدا ہو سکے۔ پھر ان سے جو نسل نکلتی ہے، اس کارگاہ کا ہر کارکن اپنے دل کے سچے جذبہ سے کوشش کرتا ہے کہ اسے جتنا بہتر بنا سکتا ہے بنائے۔ زمین پرا پنی زندگی کا پہلا لمحہ شروع کرتے ہی بچے کو خاندان کے دائرہ میں محبت، خبر گیری، حفاظت اور تربیت کا وہ ماحول ملتا ہے جو اس کی نشوونما کے لیے آبِ حیات کا حکم رکھتا ہے۔ درحقیقت خاندان ہی میں بچے کو وہ لوگ مل سکتے ہیں جو اس سے نہ صرف محبت کرنے والے ہوں، بلکہ جو اپنے دل کی امنگ سے یہ چاہتے ہوں کہ بچہ جس مرتبہ پر پیدا ہوا ہے اس سے اونچے مرتبے پر پہنچے۔ دنیا میں صرف ماں اور باپ ہی کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو ہر لحاظ سے خود اپنے سے بہتر حالت میں اور خود اپنے سے بڑھا ہوا دیکھیں۔ اس طرح وہ بِلا ارادہ، غیر شعوری طور پر آیندہ نسل کو موجودہ نسل سے بہتر بنانے اور انسانی ترقی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی اس کوشش میں خود غرضی کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ وہ اپنے لیے کچھ نہیں چاہتے۔ وہ بس اپنے بچے کی فلاح چاہتے ہیں اور اس کے ایک کام یاب اور عمدہ انسان بن کر اٹھنے ہی کو اپنی محنت کا کافی صلہ سمجھتے ہیں۔ ایسے مخلص کارکن (labourers) اور ایسے بے غرض خادم (workers) تمھیں خاندان کی اس کارگاہ کے باہر کہاں ملیں گے جو نوعِ انسانی کی بہتری کے لیے نہ صرف بِلامعاوضہ محنت صرف کریں، بلکہ اپنا وقت، اپنی آسائش، اپنی قوت و قابلیت اور اپنی محنت کا سب کچھ اس خدمت میں صَرف کر دیں؟ جو اس چیز پر اپنی ہر قیمتی شے قربان کرنے کے لیے تیار ہوں جس کا پھل دوسرے کھانے والے ہوں؟ جو اپنی محنتوں کا صلہ بس اسے سمجھیں کہ دوسرے کے لیے انھوں نے بہتر کارکن اور خادم فراہم کر دیے۔ کیا اس سے زیادہ پاکیزہ اور بلند ترین ادارہ انسانیت میں کوئی دوسرا بھی ہے؟
ہر سال نسلِ انسانی کو اپنی بقا کے لیے اور تمدن انسانی کو اپنے تسلسل و ارتقا کے لیے ایسے لاکھوں اور کروڑوں جوڑوں کی ضرورت ہے جو بخوشی و رضا اپنے آپ کو اس خدمت اور اس کی ذمہ داریوں کے لیے پیش کریں، اور نکاح کرکے اس نوعیت کی مزید کارگاہوں کی بِنا ڈالیں۔ یہ عظیم الشان کارخانہ جو دنیا میں چل رہا ہے، یہ اسی طرح چل اور بڑھ سکتا ہے کہ اس قسم کے رضا کار پیہم خدمت کے لیے اٹھتے رہیں اور اس کارخانہ کے لیے کام کے آدمی فراہم کرتے رہیں۔ اگر نئی بھرتی نہ ہو اور قدرتی اسباب سے پُرانے کارکن بے کار ہو کر ہٹتے جائیں تو کام کے آدمی کم اور کم تر ہوتے چلے جائیں گے اور ایک دن یہ ساز ہستی بالکل بے نوا ہو کر رہ جائے گا۔ ہر آدمی جو اس تمدن کی مشین کو چلا رہا ہے، اس کا فرض صرف یہی نہیں ہے کہ اپنے جیتے جی اسے چلائے جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ اپنی جگہ لینے کے لیے اپنے ہی جیسے اشخاص مہیا کرنے کی کوشش کرے۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نکاح کی حیثیت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ صنفی جذبات کی تسکین و تشفی کے لیے ہی ایک جائز صورت ہے۔ بلکہ دراصل یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے، یہ فرد پر جماعت کا فطری حق ہے اور فرد کو اس بات کا اختیار ہرگز نہیں دیا جا سکتا کہ وہ نکاح کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خود اپنے لیے محفوظ رکھے۔ جو لوگ بغیر کسی معقول وجہ کے نکاح سے انکار کرتے ہیں وہ جماعت کے نکھٹو افراد (parasites)بلکہ غدار اور لٹیرے ہیں۔ ہر فرد جو زمین پر پیدا ہوا ہے اس نے زندگی کا پہلا سانس لینے کے بعد جوانی کی عمر کو پہنچنے تک اس بے حد و حساب سرمایہ سے استفادہ کیا ہے جو پچھلی نسلوں نے فراہم کیا تھا۔ ان کے قائم کیے ہوئے ادارات ہی کی بدولت اسے زندہ رہنے، بڑھنے، پھولنے اور آدمیت میں نشوونما پانے کا موقع ملا۔ اس دوران میں وہ لیتا ہی رہا۔ اس نے دیا کچھ نہیں۔ جماعت نے اس امید پر اس کی ناقص قوتوں کی تکمیل کی طرف لے جانے میں اپنا سرمایہ اور اپنی قوت صرف کی کہ جب وہ کچھ دینے کے قابل ہو گا تو دے گا۔ اب اگر وہ بڑا ہو کر اپنے لیے شخصی آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مَیں صرف اپنی خواہشات پوری کروں گا۔ مگر ان ذمہ داریوں کا بوجھ نہ اٹھاؤں گا جو ان خواہشات کے ساتھ وابستہ ہیں، تو دراصل وہ اس جماعت کے ساتھ غداری اور دھوکا بازی کرتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہر لمحہ ایک ظلم اور بے انصافی ہے۔ جماعت میں اگر شعور موجود ہو تو وہ اس مجرم کو جنٹلمین، یا معزز لیڈی، یا مقدس بزرگ سمجھنے کی بجائے اُس نظر سے دیکھے، جس سے وہ چوروں، ڈاکوؤں اور جعل سازوں کو دیکھتی ہے۔ ہم نے خواہ چاہا ہو یا نہ چاہا ہوبہرطور ہم اس تمام سرمایہ اور ذخیرہ کے وارث ہوئے ہیں جو ہم سے پہلے کی نسلوں نے چھوڑا ہے۔ اب ہم اس فیصلہ میں آزاد کیسے ہو سکتے ہیں کہ جس فطری قانون کے مطابق یہ ورثہ ہم تک پہنچا ہے اس کے منشا کو پورا کریں یا نہ کریں؟ ایسی نسل تیار کریں یا نہ کریں جو نوعِ انسانی کے اس سرمایہ اور ذخیرہ کی وارث ہو؟ اسے سنبھالنے کے لیے دوسرے آدمی اسی طرح تیار کریں یا نہ کریں جس طرح ہم خود تیارکیے گئے ہیں؟
(۳)۔ صنفی آوارگی کا سدِّباب:
نکاح اور تاسیسِ خاندان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حصنِ نکاح سے باہر خواہشاتِ صنفی کی تسکین کا دروازہ سختی کے ساتھ بند کیا جائے کیوں کہ اس کے بغیر فطرت کا وہ منشا پورا نہیں ہو سکتا جس کے لیے وہ نکاح اور تاسیسِ خاندان کا تقاضا کرتی ہے۔
پُرانی جاہلیت کی طرح اس نئی جاہلیت کے دَور میں بھی اکثر لوگ زنا کو ایک فطری فعل سمجھتے ہیں اور نکاح ان کے نزدیک محض تمدن کی ایجاد کردہ مصنوعات یا زوائد میں سے ایک چیز ہے۔ ان کا خیال ہے کہ فطرت نے جس طرح ہر بکری کو ہر بکرے کے لیے اور ہر کتیا کو ہر کتے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اسی طرح ہر عورت کو بھی ہر مرد کے لیے پیدا کیا ہے اور فطری طریقہ یہی ہے کہ جب خواہش ہو، جب موقع بہم پہنچ جائے، اور جب دونوں صنفوں کے کوئی سے دو فرد باہم راضی ہوں، تو ان کے درمیان اسی طرح صنفی عمل واقع ہو جائے جس طرح جانوروں میں ہو جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرتِ انسانی کی بالکل غلط تعبیر ہے۔ ان لوگوں نے انسان کو محض ایک حیوان سمجھ لیا ہے لہٰذا جب کبھی یہ فطرت کے لفظ بولتے ہیں تو اس سے ان کی مراد حیوانی فطرت ہوتی ہے نہ کہ انسانی فطرت۔ جس منتشر تعلق کو یہ فطری کہتے ہیں وہ حیوانات کے لیے تو ضرور فطری ہے مگر انسان کے لیے ہرگز فطری نہیں۔ وہ نہ صرف انسانی فطرت کے خلاف ہے، بلکہ اپنے آخری نتائج کے اعتبار سے اس حیوانی فطرت کے بھی خلاف واقع ہو جاتا ہے جو انسان کے اندرموجود ہے۔ اس لیے کہ انسان کے اندر انسانیت اور حیوانیت دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ دراصل ایک وجود کے اندر دونوں مل کر ایک ہی شخصیت بناتی ہیں اور دونوں کے مقتضیات باہم ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو جاتے ہیں کہ جہاں تک ایک منشا سے منہ موڑا گیا دوسری کا منشا بھی خودبخود فوت ہو کر رہ جاتا ہے۔
زِنا میں بظاہر آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کم از کم فطرتِ حیوانی کے اقتضا کو تو پورا کر دیتا ہے کیوں کہ تناسل اور بقائے نوع کا مقصد مجرد صنفی عمل سے پورا ہو جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ نکاح کے اندر ہو یا باہر۔ لیکن اس سے پہلے جو کچھ ہم بیان کر چکے ہیں اس پر پھر ایک نگاہ ڈال کر دیکھ لیجیے۔ آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ فعل جس طرح فطرتِ انسانی کے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے اسی طرح فطرتِ حیوانی کے مقصد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ فطرتِ انسانی چاہتی ہے کہ صنفی تعلق میں استحکام اور استقلال ہو تاکہ بچہ کو ماں اور باپ مل کر پرورش کریں اور ایک کافی مدت تک مرد نہ صرف بچہ کا بلکہ بچہ کی ماں کا بھی کفیل رہے۔ اگر مرد کو یقین نہ ہو کہ بچہ اسی کا ہے تو وہ اس کی پرورش کے لیے قربانی اور تکلیفیں برداشت ہی نہ کرے گا اور نہ یہی گوارا کرے گا کہ وہ اس کے بعد اس کے ترکہ کا وارث ہو۔ اسی طرح اگر عورت کو یقین نہ ہو کہ جو مرد اسے بارآور کر رہا ہے وہ اس کی اور اس کے بچے کی کفالت کے لیے تیار ہے تو وہ حمل کی مصیبت اٹھانے کے لیے تیار ہی نہ ہو گی۔ اگر بچہ کی پرورش میں ماں اور باپ تعاون نہ کریں تو اس کی تعلیم و تربیت اور اس کی اَخلاقی، ذہنی اور معاشی حیثیت کبھی اس معیار پر نہ پہنچ سکے گی جس سے وہ انسانی تمدن کے لیے کوئی مفید کارکن بن سکے۔ یہ سب فطرتِ انسانی کے مقتضیات ہیں اور جب ان مقتضیات سے منہ موڑ کر محض حیوانوں کی طرح مرد اور عورت عارضی تعلق قائم کرتے ہیں تو وہ خود فطرتِ حیوانی کے اقتضا (یعنی توالد و تناسل) سے بھی منہ موڑ جاتے ہیں، کیوں کہ اس وقت توالدو تناسل ان کے پیشِ نظر نہیں ہوتا اور نہیں ہو سکتا۔ اس وقت ان کے درمیان صنفی تعلق صرف خواہشاتِ نفس کی تسکین اور صرف لذت طلبی و لطف اندوزی کے لیے ہوتا ہے جو سرے سے منشائے فطرت ہی کے خلاف ہے۔
جاہلیتِ جدیدہ کے علَم بردار اس پہلو کو خود بھی کم زور پاتے ہیں۔ اس لیے وہ اس پر ایک اور استدلال کا اضافہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر جماعت کے دو فرد آپس میں مل کر چند ساعتیں لطف اور تفریح میں گزار دیں تو اس میں آخر سوسائٹی کا بگڑتا کیا ہے کہ وہ اس میں مداخلت کرے؟ سوسائٹی اس صورت میں تو ضرور مداخلت کا حق رکھتی ہے جب کہ ایک فریق دوسرے پرجبر کرے، یا دھوکے اور فریب سے کام لے، یا کسی جماعتی قضیہ کا سبب بنے لیکن جہاں ان میں سے کوئی بات بھی نہ ہو، اور صرف دو اشخاص کے درمیان لذت اندوزی ہی کا معاملہ ہو تو سوسائٹی کو ان کے بیچ میں حائل ہونے کا کیا حق ہے؟ لوگوں کے ایسے پرائیویٹ معاملات میں بھی اگر دخل دیا جائے تو شخصی آزادی محض ایک لفظ بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔
شخصی آزادی کا یہ تصور اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ان جہالتوں میں سے ایک ہے جن کی تاریکی، علم اور تحقیق کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی کافور ہو جاتی ہے۔ تھوڑے سے غور و خوض کے بعد ہی آدمی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جس آزادی کا مطالبہ افراد کے لیے کیا جا رہا ہے اس کے لیے کوئی گنجائش جماعتی زندگی میں نہیں ہے۔ جسے ایسی آزادی مطلوب ہو اسے جنگل میں جا کر حیوانوں کی طرح رہنا چاہیے۔ انسانی اجتماع تو دراصل علائق اور روابط کے ایسے جال کا نام ہے جس میں ہر فرد کی زندگی دوسرے بے شمار افراد کے ساتھ وابستہ ہے، ان پر اثر ڈالتی ہے اور ان سے اثر قبول کرتی ہے۔ اس تعلق باہمی میں انسان کے کسی فعل کو بھی خالص شخصی اور بالکل انفرادی نہیں کہا جا سکتا کسی ایسے شخصی فعل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جس کا اثر بحیثیتِ مجموعی پوری جماعت پر نہ پڑتا ہو۔ افعالِ جوارح تو درکنار، دل میں چھپا ہوا کوئی خیال بھی ایسا نہیں جو ہمارے وجود پر اور اس سے منعکس ہو کر دوسروں پراثر انداز نہ ہوتا ہو۔ ہمارے قلب وجسم کی ایک ایک حرکت کے نتائج ہم سے منتقل ہو کر اتنی دور تک پہنچتے ہیں کہ ہمارا علم کسی طرح ان کا احاطہ کر ہی نہیں سکتا۔ ایسی حالت میں یہ کیوں کر کہا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کا اپنی کسی قوت کا استعمال کرنا اس کی اپنی ذات کے سوا کسی پر اثر نہیں ڈالتا، لہٰذا کسی کو اس سے کوئی سروکار نہیں اور اسے اپنے معاملہ میں پوری آزادی حاصل ہونی چاہیے؟ اگر مجھے یہ آزادی نہیں دی جا سکتی کہ ہاتھ میں لکڑی لے کر جہاں چاہوں گھماؤں، اپنے پاؤں کو حرکت دے کر جہاں چاہوں گھس جاؤں۔ اپنی گاڑی کو جس طرح چاہوں چلاؤں، اپنے گھر میں جتنی غلاظت چاہوں جمع کر لوں، اگر یہ اور ایسے ہی بے شمار شخصی معاملات اجتماعی ضوابط کے پابند ہونے ضروری ہیں، تو آخر میری قوتِ شہوانی ہی تنہا اس شرف کی حق دار کیوں ہو کہ اسے کسی اجتماعی ضابطہ کا پابند نہ بنایا جائے اورمجھے بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے کہ اسے جس طرح چاہوں صرف کروں؟
یہ کہنا کہ ایک مرد اور ایک عورت باہم مل کر ایک پوشیدہ مقام پر سب سے الگ جو لطف اُٹھاتے ہیں اس کا کوئی اثر اجتماعی زندگی پر نہیں پڑتا، محض بچوں کی سی بات ہے۔ دراصل اس کا اثر صرف اس سوسائٹی پر ہی نہیں پڑتھا، جس سے وہ براہِ راست متعلق ہیں، بلکہ پوری انسانیت پر پڑتا ہے اور اس کے اثرات صرف حال کے لوگوں ہی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آیندہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ جس اجتماعی و عمرانی رابطہ میں پوری انسانیت بندھی ہوئی ہے اس سے کوئی فرد کسی حال میں کسی محفوظ مقام پر بھی الگ نہیں ہے۔ بند کمروں میں، دیواروں کی حفاظت میں بھی وہ اسی طرح جماعت کی زندگی سے مربوط ہے جس طرح بازار یا محفل میں ہے، جس وقت وہ خلوت میں اپنی تولیدی طاقت کو ایک عارضی اور غیر نتیجہ خیز لطف اندوزی پر ضائع کر رہا ہوتا ہے تو اس وقت دراصل وہ اجتماعی زندگی میں بد نظمی پھیلانے اور نوع کی حق تلفی اور جماعت کو بے شمار اَخلاقی، مادّی، تمدنی نقصانات پہنچانے میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ اپنی خود غرضی سے ان تمام اجتماعی ادارت پر ضرب لگاتا ہے جن سے اس نے جماعت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے فائدہ تو اٹھایا مگر ان کے قیام و بقا میں اپنا حصہ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ جماعت نے میونسپلٹی سے لے کر اسٹیٹ تک، مدرسہ سے لے کر فوج تک، کارخانوں سے لے کر علمی تحقیقات کی مجلسوں تک جتنے بھی ادارے قائم کر رکھے ہیں، سب اسی اعتماد پر قائم کیے ہیں کہ ہر وہ فرد جو ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے، ان کے قیام اور ان کی ترقی میں اپنا واجبی حصہ ادا کرے گا لیکن جب اس بے ایمان نے اپنی قوتِ شہوانی کو اس طرح استعمال کیا کہ اس میں توالد و تناسل اور تربیتِ اطفال کے فرائض انجام دینے کی سرے سے نیت ہی نہ تھی تو اس نے ایک ہی ضرب میں اپنی حد تک اس پورے نظام کی جڑ کاٹ دی۔ اس نے اس اجتماعی معاہدہ کو توڑ ڈالا جس میں وہ عین اپنے انسان ہونے ہی کی حیثیت سے شریک تھا۔ اس نے اپنے ذمہ کا بار خود اٹھانے کی بجائے دوسروں پر سارا بار ڈالنے کی کوشش کی۔ وہ کوئی شریف آدمی نہیں ہے بلکہ ایک چور، خائن اور لٹیرا ہے۔ اس سے رعایت کرنا پوری انسانیت پر ظلم کرنا ہے۔
اجتماعی زندگی میں فرد کا مقام کیا ہے، اس چیز کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہ سکتا کہ ایک ایک قوت جو ہمارے نفس اور جسم میں ودیعت کی گئی ہے محض ہماری ذات کے لیے نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہمارے پاس امانت ہے اور ہم ان میں سے ہر ایک کے لیے پوری انسانیت کے حق میں جواب دہ ہیں۔ اگر ہم خود اپنی جان کو یا اپنی قوتوںمیں سے کسی کو ضائع کرتے ہیں یا اپنی غلط کاری سے اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ہمارے اس فعل کی اصلی حیثیت یہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہمارا تھا اسے ہم نے ضائع کیا یا نقصان پہنچا دیا۔ بلکہ دراصل اس کی حیثیت یہ ہے کہ تمام عالمِ انسانی کے لیے جو امانت ہمارے پاس تھی، اس میں ہم نے خیانت کی اور اپنی اس حرکت سے پوری نوع کو نقصان پہنچایا۔ ہمارا دنیا میں موجود ہونا خود اس بات پر شاہد ہے کہ دوسرے نے ذمہ داریوں اور تکلیفوں کا بوجھ اٹھا کر زندگی کا نور ہماری طرف منتقل کیا تب ہی ہم اس عالم میں آئے۔ پھر اسٹیٹ کی تنظیم نے ہماری جان کی حفاظت کی۔ حفظانِ صحت کے محکمے ہماری زندگی کے تحفظ میں لگے رہے۔ لاکھوں کروڑوں انسانوں نے مل کر ہماری ضروریات فراہم کیں۔ تمام اجتماعی اداروں نے مل کر ہماری قوتوں کو سنوارنے اور تربیت دینے کی کوشش کی اور ہمیں وہ کچھ بنایا جو ہم ہیں۔ کیا ان سب کا یہ جائز بدلہ ہو گا، کیا یہ انصاف ہو گا کہ جس جان اور جن قوتوں کے وجود، بقا، نشوونما میں دوسروں کا اتنا حصہ ہے اسے ہم ضائع کر دیں یا مفید بنانے کی بجائے مضر بنائیں؟ خودکشی اس بِنا پر حرام ہے۔ ہاتھ سے شہوت رانی کرنے والے کو اسی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑے حکیم نے ملعون کہا ہے۔ <<ناکح الید ملعون>> عملِ قومِ لوط کو اسی بنیاد پر بدترین جرم قرار دیا گیا ہے اور زنا بھی اسی وجہ سے انفرادی تفریح اور خوش وقتی نہیں ہے بلکہ پوری انسانی جماعت پر ظلم ہے۔