پردہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔
کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: پردہ
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔
کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔
تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
- تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
- تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
- پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
- اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
- تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
- آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟
۴۔ انسدادِ فواحش کی تدابیر
تمدن کے لیے جو فعل نقصان دِہ ہو اسے روکنے کے لیے صر ف اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ اسے بس قانونًا جرم قرار دیاجائے اور اس کے لیے ایک سزا مقرر کر دی جائے، بلکہ اس کے ساتھ چار قسم کی تدبیریں اور بھی اختیار کرنا ضروری ہیں:
ایک یہ کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ سے افراد کی ذہنیت درست کی جائے اور ان کے نفس کی اس حد تک اصلاح کر دی جائے کہ وہ خود اس فعل سے نفرت کرنے لگیں، اسے گناہ سمجھیں اور ان کااپنا اخلاقی وجدان انھیں اس کے ارتکاب سے باز رکھے۔
دوسرے یہ کہ جماعتی اخلاق اور رائے عام کو اس گناہ یا جرم کے خلاف اس حد تک تیار کر دیا جائے کہ عام لوگ اسے عیب اور لائقِ شرم فعل سمجھنے اور اس کے مرتکب کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تاکہ جن افراد کی تربیت ناقص رہ گئی ہو، یا جن کا اخلاقی وجدان کم زور ہو انھیں رائے عام کی طاقت ارتکابِ جرم سے باز رکھے۔
تیسرے یہ کہ نظامِ تمدن میں ایسے تمام اسباب کا انسداد کر دیا جائے جو اس جرم کی تحریک کرنے والے اور اس کی طرف ترغیب وتحریص دلانے والے ہوں اور اس کے ساتھ ہی ان اسباب کو بھی حتی الامکان دور کیا جائے جو افراد کو اس فعل پر مجبور کرنے والے ہوں۔
چوتھے یہ کہ تمدنی زندگی میں ایسی رکاوٹیں اور مشکلات پیدا کر دی جائیں کہ اگر کوئی شخص اس جرم کا ارتکاب کرنا بھی چاہے تو آسانی سے نہ کر سکے۔
یہ چاروں تدبیریں ایسی ہیں جن کی صحت اور ضرورت پرعقل شہادت دیتی ہے۔ فطرت ان کا مطالبہ کرتی ہے اور بالفعل ساری دنیا کا تعامل بھی یہی ہے کہ سوسائٹی کا قانون جن جن چیزوں کو جرم قرار دیتا ہے ان سب کو روکنے کے لیے تعزیر کے علاوہ یہ چاروں تدبیریں بھی کم و بیش ضرور استعمال کی جاتی ہیں۔ اب اگر یہ مسلم ہے کہ صنفی تعلقات کا انتشار تمدن کے لیے مہلک ہے اور سوسائٹی کے خلاف ایک شدید جرم کی حیثیت رکھتا ہے تو لامحالہ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسے روکنے کے لیے تعزیر کے ساتھ ساتھ وہ سب اصلاحی و انسدادی تدابیر استعمال کرنا ضروری ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اس کے لیے افراد کی تربیت بھی ہونی چاہیے، رائے عام کو بھی اس کی مخالفت کے لیے تیار کرنا چاہیے۔ تمدن کے دائرے سے ان تمام چیزوں کو خارج بھی کرنا چاہیے جو افراد کے شہوانی جذبات کو مشتعل کرتی ہیں، نظامِ معاشرت سے ان رکاوٹوں کو بھی دور کرنا چاہیے جو نکاح کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں اور مردوں اور عورتوں کے تعلقات پر ایسی پابندیاں بھی عائد کرنی چاہییں کہ اگر وہ دائرہ ازدواج کے باہر صنفی تعلق قائم کرنے کی طرف مائل ہوں تو ان کی راہ میں بہت سے مضبوط حجابات حائل ہو جائیں۔ زنا کو جرم اور گناہ تسلیم کر لینے کے بعد کوئی صاحبِ عقل آدمی ان تدابیر کے خلاف ایک لفظ نہیں کہہ سکتا۔
بعض لوگ ان تمام اخلاقی و اجتماعی اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں جن کی بنیاد پر زنا کو گناہ قرار دیا گیا ہے، مگر ان کا اصرار یہ ہے کہ اس کے خلاف تعزیری اور انسدادی تدابیر اختیار کرنے کی بجائے صرف اصلاحی تدبیروں پر اکتفا کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’تعلیم اور تربیت کے ذریعہ سے لوگوں میں اتنا باطنی احساس، ان کے ضمیر کی آواز میں اتنی طاقت اور ان کے اَخلاقی وجدان میں اتنا زور پیدا کر دو کہ وہ خود اس گناہ سے رُک جائیں۔ ورنہ اصلاحِ نفس کی بجائے تعزیری اور انسدادی تدابیر اختیار کرنے کے معنی تو یہ ہوں گے کہ تم آدمیوں کے ساتھ بچوں کا سا سلوک کرتے ہو، بلکہ آدمیت کی توہین کرتے ہو۔‘‘ہم بھی ان کے ارشاد کو اس حد تک تسلیم کرتے ہیں کہ اصلاحِ آدمیت کا اعلیٰ اور اشرف طریقہ وہی ہے جو وہ بیان فرماتے ہیں۔ تہذیب کی غایت فی الحقیقت یہی ہے کہ افراد کے باطن میں ایسی قوت پیدا ہو جائے جس سے وہ خود بخود سوسائٹی کے قوانین کا احترام کرنے لگیں اور خود ان کا اپنا ضمیر انھیں اَخلاقی ضوابط کی خلاف ورزی سے روک دے۔ اسی غرض کے لیے افراد کی تعلیم و تربیت پر سارا زور صرف کیا جاتا ہے۔ مگر کیا فی الواقع تہذیب اپنی اس غایت کو پہنچ چکی ہے؟ کیا حقیقت میں تعلیم اور اَخلاقی تربیت کے ذرائع سے افراد انسانی کو اتنا مہذب بنایا جا چکا ہے کہ ان کے باطن پر کامل اعتماد کیا جا سکتا ہو اور جماعتی نظام کی حفاظت کے لیے خارج میں کسی انسدادی اورتعزیری تدبیرکی ضرورت باقی نہ رہی ہو؟ زمانہ قدیم کا ذکر چھوڑئیے کہ آپ کی زبان میں وہ ’’تاریک‘‘ دور تھا۔ یہ بیسویں صدی، یہ ’’قرنِ منور‘‘ آپ کے سامنے موجود ہے۔ اس زمانہ میں یورپ اور امریکا کے مہذب ترین ممالک کو دیکھ لیجیے جن کا ہر باشندہ تعلیم یافتہ ہے، جنھیں اپنے شہریوں کی اعلیٰ تربیت پر ناز ہے، کیا وہاں تعلیم اور اصلاح نفس نے جرائم اور قانون شکنی کو روک دیا ہے؟ کیا وہاں چوریاں نہیں ہوتیں؟ ڈاکے نہیں پڑتے؟ قتل نہیں ہوتے؟ جعل اور فریب اور ظلم اور فساد کے واقعات پیش نہیں آتے؟ کیا وہاں افراد کے اندر اَخلاقی ذمہ داری کا اتنا احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ ’’بچوں کا سا سلوک‘‘ نہیں کیا جاتا؟ اگر واقعہ یہ نہیں ہے، اگر اس روشن زمانہ میں بھی سوسائٹی کے نظم و آئین کو محض افراد کے اخلاقی وجدان پر نہیں چھوڑا جا سکا ہے، اگر اب بھی ہر جگہ ’’آدمیت کی یہ توہین‘‘ ہو رہی ہے کہ جرائم کے سدِّ باب کے لیے تعزیری اور انسدادی دونوں قسم کی تدبیریں استعمال کی جاتی ہیں، تو آخر کیا وجہ ہے کہ صرف صنفی تعلقات ہی کے معاملہ میں آپ کو یہ توہین ناگوار ہے؟ صرف اسی ایک معاملہ میں کیوں ان ’’بچوں‘‘ سے ’’بڑوں‘‘ کا سلوک کیے جانے پر آپ کو اصرار اور اتنا اصرار ہے؟ ذرا ٹٹول کر دیکھیے، کہیں دل میں کوئی چور تو چھپا ہوا نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جن چیزوں کو تم شہوانی محرکات قرار دے کر تمدن کے دائرے سے خارج کرنا چاہتے ہو وہ تو سب آرٹ اورذوقِ جمال کی جان ہیں، انھیں نکال دینے سے تو انسانی زندگی میں لطافت کا سرچشمہ ہی سوکھ کر رہ جائے گا، لہٰذا تمھیں تمدن کی حفاظت اور معاشرت کی اصلاح جو کچھ بھی کرنا ہے اس طرح کرو کہ فنونِ لطیفہ اور جمالیت کو ٹھیس نہ لگنے پائے۔ ہم بھی ان حضرات کے ساتھ اس حد تک متفق ہیں کہ آرٹ اور ذوقِ جمال فی الواقع قیمتی چیزیں ہیں جن کی حفاظت بلکہ ترقی ضرور ہونی چاہیے مگر سوسائٹی کی زندگی اور اجتماعی فلاح ان سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ اسے کسی آرٹ اورکسی ذوق پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹ اور جمالیت کو اگر پھلنا پھولنا ہے تو اپنے لیے نشوونما کا وہ راستہ ڈھونڈیں جس میں وہ اجتماعی زندگی اور فلاح کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ جو آرٹ اور ذوقِ جمال زندگی کی بجائے ہلاکت اور فلاح کی بجائے فساد کی طرف لے جانے والا ہو اسے جماعت کے دائرے میں ہرگز پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جا سکتا۔ یہ کوئی ہمارا انفرادی اور خانہ زاد نظریہ نہیں ہے بلکہ یہی عقل و فطرت کا مقتضا ہے، تمام دنیا اسے اصولًا تسلیم کرتی ہے اور اسی پر ہر جگہ عمل بھی ہو رہا ہے۔ جن چیزوں کو بھی دنیا میں جماعتی زندگی کے لیے مہلک اور موجبِ فساد سمجھا جاتا ہے انھیں کہیں آرٹ اورذوقِ جمال کی خاطر گوارا نہیں کیا جاتا، مثلاً جو لٹریچر فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری پر اُبھارتا ہو اسے کہیں بھی محض اس کی ادبی خوبیوں کی خاطر جائز نہیں رکھا جاتا۔ جس ادب میں طاعون یا ہیضہ پھیلانے کی ترغیب دی جائے اسے کہیں برداشت نہیں کیا جاتا۔ جو سینما یا تھیٹر امن شکنی اور بغاوت پر اکساتا ہو اسے دنیا کی کوئی حکومت منظرِ عام پر آنے کی اجازت نہیں دیتی۔ جو تصویریں ظلم اور فسادات اور شرارت کے جذبات کی مظہر ہوں یا جن میں اخلاق کے تسلیم شدہ اصول توڑے گئے ہوں اور خواہ کتنی ہی کمالِ فن کی حامل ہوں، کوئی قانون اور کسی سوسائٹی کا ضمیر انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جیب کترنے کا فن اگرچہ ایک لطیف ترین فن ہے اور ہاتھ کی صفائی کا اس سے بہتر کمال شاید ہی کہیں پایا جاتا ہو، مگر کوئی اس کے پھلنے پھولنے کا روادار نہیں ہوتا۔ جعلی نوٹ، چیک اور دستاویزیں تیار کرنے میں حیرت انگیز ذہانت اور مہارت صرف کی جاتی ہے، مگر کوئی اس آرٹ کی ترقی کو جائز نہیں رکھتا۔ ٹھگی میں انسانی دماغ نے اپنی قوتِ ایجاد کے کیسے کیسے کمالات کا اظہار کیا ہے مگر کوئی مہذب سوسائٹی ان کمالات کی قدر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ پس یہ اصول بجائے خود مسلم ہے کہ جماعت کی زندگی، اس کا امن، اس کی فلاح و بہبود، ہر فنِ لطیف اور ہر ذوقِ جمال و کمال سے زیادہ قیمتی ہے اور کسی آرٹ پر اسے قربان نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اختلاف جس امر میں ہے وہ صرف یہ ہے کہ ایک چیز کو ہم جماعتی زندگی اور فلاح کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور دوسرے ایسا نہیں سمجھتے۔ اگر اس امر میں ان کا نقطہ نظر بھی وہی ہوجائے جو ہمارا ہے تو انھیں بھی آرٹ اور ذوقِ جمال پر وہی پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگے گی جن کی ضرورت ہم محسوس کرتے ہیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ناجائز صنفی تعلقات کو روکنے کے لیے عورتوں اور مردوں کے درمیان حجابات حائل کرنا اور معاشرت میں ان کے آزادانہ اختلاط پر پابندیاں عائد کرنا دراصل ان کے اخلاق اور ان کی سیرت پر حملہ ہے۔ اس سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ گویا تمام افراد کو بدچلن فرض کر لیا گیا ہے اور یہ کہ ایسی پابندیاں لگانے والوں کو نہ ہی اپنی عورتوں پر اعتماد ہے نہ مردوں پر۔ بات بڑی معقول ہے۔ مگر اسی طرزِ استدلال کو ذرا آگے بڑھائیے۔ ہر قفل جو کسی دروازے پر لگایا جاتاہے گویا اس امرکا اعلان ہے کہ اس کے مالک نے تمام دنیا کو چور فرض کیا ہے۔ ہر پولیس مین کا وجود اس پر شاہد ہے کہ حکومت اپنی تمام رعایا کو بدمعاش سمجھتی ہے۔ پھر لین دین میں جو دستاویز لکھائی جاتی ہے وہ اس امر کی دلیل ہے کہ ایک فریق نے دوسرے فریق کو خائن قرار دیا ہے۔ ہر وہ انسدادی تدبیر جو ارتکاب جرائم کی روک تھام کے لیے اختیار کی جاتی ہے، اس کے عین وجود میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ان سب لوگوں کو امکانی مجرم فرض کیا گیا ہے جن پر اس تدبیر کا اثر پڑتا ہو۔ اس طرزِ استدلال کے لحاظ سے توآپ ہر آن چور، بدمعاش، خائن اور مشتبہ چال چلن کے آدمی قرار دیے جاتے ہیں۔ مگر آپ کی عزتِ نفس کو ذرا سی ٹھیس بھی نہیں لگتی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صرف اسی ایک معاملہ میں آپ کے احساسات اتنے نازک ہو گئے ہیں؟
اصل بات وہی ہے جس کی طرف ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں۔ جن لوگوں کے ذہن میں پرانے اَخلاقی تصورات کا بچا کھچا اثر ابھی باقی ہے وہ زنا اور صنفی انارکی کو بُرا تو سمجھتے ہیں، مگر ایسا زیادہ بُرا نہیں سمجھتے کہ اس کے قطعی انسداد کی ضرورت محسوس کریں۔ اسی وجہ سے اصلاح و انسداد کی تدابیر میں ہمارا اور ان کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ اگر فطرت کے حقائق ان پر پوری طرح منکشف ہو جائیں اور وہ اس معاملہ کی صحیح نوعیت سمجھ لیں تو انھیں ہمارے ساتھ اس امر میں اتفاق کرنا پڑے گا کہ انسان جب تک انسان ہے اور اس کے اندر جب تک حیوانیت کا عنصر موجود ہے اس وقت تک کوئی ایسا تمدن، جو اشخاص کی خواہشات اور ان کے لطف و لذت سے بڑھ کر جماعتی زندگی کی فلاح کو عزیز رکھتا ہو، ان تدابیر سے غافل نہیں ہو سکتا۔