مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پردہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔

کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔

کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: پردہ

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔

کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔

تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
  2. تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
  3. تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
  4. پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
  5. اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
  6. تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  7. عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
  8. آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟

۲۔ اُصول و ارکان

تنظیم معاشرت کے سلسلہ میں سب سے اہم سوال، جیسا کہ ہم کسی دوسرے موقع پر بیان کر چکے ہیں، صنفی میلان کو انتشارِ عمل سے روک کر ایک ضابطہ میں لانے کا ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر تمدن کی شیرازہ بندی ہی نہیں ہو سکتی اور اگر ہو بھی جائے تو اس شیرازہ کو بکھرنے اور انسان کو شدید اخلاقی و ذہنی انحطاط سے بچانے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ اس غرض کے لیے اسلام نے عورت اور مرد کے تعلقات کو مختلف حدود کا پابند کرکے ایک مرکز پر سمیٹ دیا ہے۔

(۱)۔محرمات:

سب سے پہلے اسلامی قانون اُن تمام مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کے لیے حرام کرتا ہے جو باہم مل کر رہنے یا نہایت قریبی تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں۔ مثلاً ماں اور بیٹا، باپ اور بیٹی، بھائی اور بہن، پھوپھی اور بھتیجا، چچا اور بھتیجی، خالہ اور بھانجا، ماموں اور بھانجی، سوتیلا باپ اور بیٹی، سوتیلی ماں اور بیٹا، ساس اور داماد، خسر اور بہو، سالی اور بہنوئی (بہن کی زندگی میں) اور رضاعی رشتہ دار (سورہ نساء:۲۳۔۲۴) ان تعلقات کی حرمت قائم کرکے انھیں صنفی میلان سے اس قدر پاک کر دیا گیا ہے کہ ان رشتوں کے مرد اور عورت یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ ایک دوسرے کی جانب کوئی صنفی کشش رکھتے ہیں۔ (بجز ایسے خبیث بہائم کے جن کی بہیمیت کسی اخلاقی ضابطہ کی حد میں رہنا قبول نہیں کرتی)۔

(۲)۔حرمتِ زِنا:

اس حد بندی کے بعد دوسری قید یہ لگائی گئی کہ ایسی تمام عورتیں بھی حرام ہیں جو بالفعل کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں۔

<<وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ (النسا 24:4)

ان کے بعد جو عورتیں باقی بچتی ہیں ان کے ساتھ ہر قسم کے بے ضابطہ صنفی تعلق کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

<<وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّہٗ كَانَ فَاحِشَۃً۝۰ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًاo>> ( بنی اسرائیل 32:17)

زناکے پاس بھی نہ پھٹکو، کیوں کہ وہ بے حیائی ہے اور بہت بُرا راستہ ہے۔

(۳) ۔نکاح:

اس طرح حدود و قیود لگا کر صنفی انتشار کے تمام راستے بند کر دیے گئے مگر انسان کی حیوانی سرشت کے اقتضا اور کارخانہ قدرت کے مقررہ طریقہ کو جاری رکھنے کے لیے ایک دروازہ کھولنا بھی ضرور تھا۔ سو وہ دروازہ نکاح کی صورت میں کھولا گیا اور کہہ دیا گیا کہ اس ضرورت کو تم پورا کرو۔ مگر منتشر اور بے ضابطہ تعلقات میں نہیں، چوری چھپے بھی نہیں، کھلے بندوں بے حیائی کے طریقہ پر بھی نہیں، بلکہ باقاعدہ اعلان و اظہار کے ساتھ، تاکہ تمھاری سوسائٹی میں یہ بات معلوم اور مسلم ہو جائے کہ فلاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے ہو چکے ہیں۔

<<وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ۝۰ۭ o فَانْكِحُوْھُنَّ بِـاِذْنِ اَھْلِہِنَّ…….مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ۝۰ۚ>> (النساء 24-25:4)

ان عورتوں کے سوا جوعورتیں ہیں تمھارے لیے حلال کیا گیا کہ تم اپنے اموال کے بدلہ میں (مہر دے کر) ان سے احصان (نکاح) کا باضابطہ تعلق قائم کرو نہ کہ آزاد شہوت رانی کا… پس ان عورتوں کے متعلقین کی رضا مندی سے ان کے ساتھ نکاح کرو… اس طرح کہ وہ قیدِ نکاح میں ہوں نہ یہ کہ کھلے بندوں یا چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔‘‘

یہاں اسلام کی شانِ اعتدال دیکھیے کہ جو صنفی تعلق دائرہ ازدواج کے باہر حرام اور قابلِ نفرت تھا وہی دائرۂ ازدواج کے اندر نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے، کارِ ثواب ہے، اسے اختیارکرنے کا حکم دیا جاتا ہے، اس سے اجتناب کرنے کو ناپسند کیا جاتا ہے اور زوجین کا ایسا تعلق ایک عبادت بن جاتا ہے۔ حتّٰی کہ اگر عورت اپنے شوہر کی جائز خواہش سے بچنے کے لیے نفل روزہ رکھ لے یا نمازو تلاوت میں مشغول ہو جائے تو وہ الٹی گناہ گار ہو گی۔ اس باب میں نبی اکرم ﷺ کے چند حکیمانہ اقوال ملاحظہ ہوں:

<<عَلَیْکُمْ بِالْبَئَۃِ فَاِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَ أَحْصَنُ لِلْفَرَجِ فَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ الْبَائَۃَ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ وَإِنَّ الصَّوْمَ لَہُ وِجَائٌ>>

(سنن الترمذی، ابواب النکاح، باب ما جائ فی فضل الترویج، حدیث: ۱۰۰۱)

تمھیں نکاح کرنا چاہیے کیوں کہ وہ آنکھوں کو بد نظری سے روکنے اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے کی بہترین تدبیر ہے اور تم میں سے جو شخص نکاح کی قدرت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزہ شہوت کو دبانے والا ہے۔

<<وَاللّٰہِ اِنّیِ لَاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہُ لٰکِنّیِ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّی وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَائَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ>>

(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، حدیث ۴۶۷۵)

بخدا میں خدا سے ڈرنے اور اس کی ناراضی سے بچنے میں تم سب سے بڑھ کر ہوں، مگر مجھے دیکھو کہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور راتوں کو سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، یہ میرا طریقہ ہے اور جو میرے طریقہ سے اجتناب کرے اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔

<<لَاتَصُوْمُ الْمَرْأۃُ وَبَعْلُھَا شَاھِدٌ اِلاَّ بِاِذْنِہِ>>

(صحیح البخاری،کتاب النکاح، باب صوم المراۃ باذن زوجہا تطوعا، حدیث: ۴۷۹۳)

عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کے اذن کے بغیر نفل روزہ نہ رکھے۔

<<إِذَابَاتَتْ الْمَرْ أَۃُ مُھَاجِرَۃٌ فِرَاشَ زَوْجِھَا لَعَنتْھَا الْمَلَائِکۃُ حَتّٰی تَرْجِعَ>>

(صحیح بخاری، کتاب النکاح باب اذا باتت المرأۃ مھاجرۃ فراش زوجھا، حدیث: ۴۷۹۵)

جو عورت اپنے شوہر سے اجتناب کرکے اس سے الگ رات گزارے، اس پر ملائکہ لعنت بھیجتے ہیں جب تک کہ وہ رجوع نہ کرے۔

<<إِذَا رَأی اَحَدُکُمْ إِمْرَأۃً فَاَعْجَبَتْہُ فَلْیَأْتِ أَھْلَہُ فَإِنَّ مَعَھَا مِثْلَ الَّذِی مَعَھَا>>

(سنن ترمذی کتاب الرضاع، باب ماجاء الرجل یری المراۃ فتعجبہ، حدیث ۱۰۷۸)

جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھ لے اور اس کے حسن سے متاثر ہو تو اپنی بیوی کے پاس چلا جائے کیوں کہ اس کے پاس وہی ہے جو اس کے پاس تھا۔

ان تمام احکامات و ہدایات سے شریعت کا منشا یہ ہے کہ صنفی انتشار کے تمام دروازے مسدود کیے جائیں، زوجی تعلقات کو دائرہ ازدواج کے اندرمحدود کیا جائے، اس دائرہ کے باہر جس حد تک ممکن ہو کسی قسم کی صنفی تحریکات نہ ہوں اور جو تحریکات خود طبیعت کے اقتضا یا اتفاقی حوادث سے پیدا ہوں ان کی تسکین کے لیے ایک مرکز بنا دیا جائے۔ عورت کے لیے اس کا شوہر اور مرد کے لیے اس کی بیوی…… تاکہ انسان تمام غیر طبعی اور خود ساختہ ہیجانات اور انتشار عمل سے بچ کر اپنی مجتمع قوت (conservated energy) کے ساتھ نظامِ تمدن کی خدمت کرے اور وہ صنفی محبت اور کشش کا مادہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کارخانہ کو چلانے کے لیے ہر مرد و عورت میں پیدا کیا ہے، تمام تر ایک خاندان کی تخلیق اور اس کے استحکام میں صرف ہو۔ ازدواج ہر حیثیت سے پسندیدہ ہے، کیوں کہ وہ فطرتِ انسانی اور فطرتِ حیوانی دونوں کے منشا اور قانونِ الٰہی کے مقصد کو پورا کرتا ہے اور ترکِ ازدواج ہر حیثیت سے ناپسندیدہ، کیوں کہ وہ دو برائیوں میں سے ایک برائی کا حامل ضرور ہو گا یا تو انسان قانونِ فطرت کے منشا کو پورا ہی نہ کرے گا اور اپنی قوتوں کو فطرت سے لڑنے میں ضائع کر دے گا یا پھر وہ اقتضائے طبیعت سے مجبور ہو کر غلط اور ناجائز طریقوں سے اپنی خواہشات کو پورا کرے گا۔

(۴)۔خاندان کی تنظیم:

صنفی میلان کو خاندان کی تخلیق اور اس کے استحکام کا ذریعہ بنانے کے بعد اسلام خاندان کی تنظیم کرتا ہے اور یہا ں بھی وہ پورے توازن کے ساتھ قانونِ فطرت کے ان تمام پہلوؤں کی رعایت ملحوظ رکھتا ہے جس کا ذکر اس سے پہلے کیا جا چکا ہے۔ عورت اور مرد کے حقوق متعین کرنے میں جس درجہ عدل و انصاف اس نے ملحوظ رکھا ہے، اس کی تفصیلات مَیں نے ایک الگ کتاب میں بیان کی ہیں جو ’’حقوق الزوجین‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے اس کی طرف مراجعت کرنے سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں صنفوں میں جس حد تک مساوات قائم کی جا سکتی تھی وہ اسلام نے قائم کر دی ہے۔ لیکن اسلام اُس مساوات کا قائل نہیں ہے جو قانونِ فطرت کے خلاف ہو۔ انسان ہونے کی حیثیت سے جیسے حقوق مرد کے ہیں ویسے ہی عورت کے ہیں۔

<<لَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ ۔ >> (البقرہ۲: ۲۲۸)

لیکن زوج فاعل ہونے کی حیثیت سے ذاتی فضیلت (بمعنی عزت نہیں بلکہ بمعنی غلبہ تقدم) مرد کو حاصل ہے، وہ اس نے پورے انصاف کے ساتھ مرد کو عطا کی ہے۔

<<وَلِلرِّجَالِ عَلَيْہِنَّ دَرَجَۃٌ۝۰ۭ>> (البقرہ 228:2)

اس طرح عورت اور مرد میں فاضل اور مفضول کا فطری تعلق تسلیم کرکے اسلام نے خاندان کی تنظیم حسبِ ذیل قواعد پر کی ہے۔

(۵)۔مرد کی قوامیت:

خاندان میں مرد کی حیثیت قوام کی ہے، یعنی وہ خاندان کا حاکم ہے، محافظ ہے، اخلاق اور معاملات کا نگران ہے، اس کی بیوی اور بچوں پر اس کی اطاعت فرض ہے (بشرطیکہ وہ اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم نہ دے) اور اس پر خاندان کے لیے روزی کمانے اور ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔

<<اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ۝۰ۭ>> ( النساء 34:4)

مرد عورتوں پر قوام ہیں اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر عطا کی ہے اور اس بِنا پر کہ وہ ان پر (مہر و نفقہ کی صورت میں) اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔

<<اَلرَّجُلُ رَاعٍ عَلٰی اَھْلِہِ وَھُوَ مَسْئُولٌ ۔>>

(صحیح بخاری، کتاب النکاح باب قواانفسکم و اھلیکم ناراً، حدیث:۴۷۸۹)

مرد اپنے بیوی بچوں پر حکم ران ہے اور اپنی رعیت میں اپنے عمل پر وہ خدا کے سامنے جواب دِہ ہے۔

<<فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ۝۰ۭ>> (النساء 34:4)

صالح بیویاں شوہروں کی اطاعت گزار اور اللہ کی توفیق سے شوہروں کی غیر موجودگی میں ان کے ناموس کی محافظ ہیں۔

<<إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَیْتِھَا وَزَوْجُھَا کَارِۃٌ لِذَالِکَ لَعَنَھَا کُلُّ مَلَکٌ فِی السَّمَائِ وَکُلُّ شَی ئٍ تَمُرُّ عَلَیْہِ غَیَر الْجِنِّ وَالْاِنْسِ حَتّٰی تَرْجِعَ۔>>

(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث:۵۲۰)

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب عورت اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف گھر سے نکلتی ہے تو آسمان کا ہر فرشتہ اس پر لعنت بھیجتا ہے اور جن و انس کے سوا ہر وہ چیز جس پر سے وہ گزرتی ہے پھٹکار بھیجتی ہے، تاوقتیکہ وہ واپس نہ ہو۔

<<وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاہْجُرُوْھُنَّ فِي الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ۝۰ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْہِنَّ سَبِيْلًا۝۰ۭ>>(النساء 34:4)

اور جن بیویوں سے تمھیں سرکشی و نافرمانی کا خوف ہو انھیں نصیحت کرو، (نہ مانیں تو) خواب گاہوں میں ان سے ترکِ تعلق کرو، (پھر بھی باز نہ آئیں تو)مارو۔ پھر اگر وہ تمھاری اطاعت کریں تو ان پر زیادتی کرنے کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔

<<وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لَا طَاعَۃَ لِمَنْ لَمْ یُطِعِ اللّٰہَ عزوجل (مسنداحمد، حدیث: ۱۲۷۴۸) ولا طاعۃ فی معصیۃ اللّٰہ ۔>>

(صحیح البخاری، کتاب أخبار الآحاد، باب ماجائ فیإجازۃ خبر الواحد، حدیث: ۶۷۱۶)

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص خدا کی اطاعت نہ کرے اس کی اطاعت نہ کی جائے۔ اللہ کی نافرمانی میں کسی شخص کی فرماں برداری نہیں کی جا سکتی۔ فرماں برداری صرف معروف میں ہے۔ (یعنی ایسے حکم میں جو جائز اور معقول ہو)

<<وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ حُسْـنًا۝۰ۭ وَاِنْ جَاہَدٰكَ لِتُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْہُمَا۝۰ۭ>> ( العنکبوت8:29)

اور ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے لیکن اگر وہ تجھے حکم دیں کہ تو میرے ساتھ کوئی شریک ٹھہرائے جس کے لیے تیرے پاس کوئی دلیل ہی نہیں ہے تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کر۔

اس طرح خاندان کی تنظیم اس طور پر کی گئی ہے کہ اس کا ایک سر دھرا اور صاحبِ امر ہو۔ جو شخص اس نظم میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے اس کے حق میں نبی اکرم ﷺ کی یہ وعید ہے کہ:

<<مَنْ اَفْسَدَ إِ مْرأَۃً عَلٰی زَوْجِھَا فَلَیْسَ مِنَّا۔>>

(السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب عشرۃ النسائ، باب من أفسد امرأۃ علی زوجھا، حدیث: ۹۲۱۴)

جوکوئی کسی عورت کے تعلقات اس کے شوہر سے خراب کرنے کی کوشش کرے اس کا کچھ تعلق ہم سے نہیں۔

(۶)۔عورت کا دائرۂ عمل:

اس تنظیم میں عورت کو گھر کی ملکہ بنایا گیا ہے۔ کسب مال کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہے اور اس مال سے گھر کا انتظام کرنا اس کا کام ہے۔

<<اَلْمَرأَۃُ رَاعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِھَا وَھِیَ مَسْئُولَۃٌ۔>>

(صحیح البخاری،کتاب النکاح، باب قوا انفسکم واہلیکم نارا، حدیث: ۴۷۸۹)

عورت اپنے شوہر کے گھر کی حکم ران ہے اور وہ اپنی حکومت کے دائرہ میں اپنے عمل کے لیے جواب دہ ہے۔

اسے ایسے تمام فرائض سے سبک دوش کیا گیا ہے جو بیرونِ خانہ کے امور سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ مثلاً

٭ اس پر نمازِ جمعہ واجب نہیں۔

(سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ باب الجمعہ للملوک والمراۃ، حدیث:۹۰۱)

٭ اس پر جہاد بھی فرض نہیں، اگرچہ بوقتِ ضرورت وہ مجاہدین کی خدمت کے لیے جا سکتی ہے جیسا کہ آگے چل کر بہ تحقیق بیان ہو گا۔

٭ اس کے لیے جنازوں کی شرکت بھی ضروری نہیں، بلکہ اس سے روکا گیا ہے۔

(صحیح البخاری،کتاب الجنائزہ باب اتباع النساء الجنائز، حدیث: ۱۱۹۹)

٭ اس پر نماز باجماعت اور مسجدوں کی حاضری بھی لازم نہیں کی گئی۔ اگرچہ چند پابندیوں کے ساتھ مسجد میں آنے کی اجازت ضرور دی گئی ہے، لیکن اسے پسند نہیں کیا گیا۔

٭ اسے محرم کے بغیر سفر کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

(ترمذی،کتاب الرضاع، باب ماجاء فی کراہیۃ ان تسافر المراۃ وحدہا۔ ابوداؤد، باب فی المراۃ تحج بغیر محرم)

غرض ہر طریقہ سے عورت کے گھر سے نکلنے کو ناپسند کیا گیا ہے اور اس کے لیے قانونِ اسلامی میں پسندیدہ صورت یہی ہے کہ وہ گھر میں رہے، جیسا کہ آیت وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ [بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے لیے خاص ہے کیوں کہ آیت کی ابتدا یا نساء النبی سے کی گئی ہے۔ لیکن اس پوری آیت میں جو ہدایات دی گئی ہیں۔ ان میں سے کون کی ہدایت ایسی ہے جو کر امہات المومنین کے ساتھ خاص ہو؟ فرمایا گیا ہے: اگر تم پر ہیز گار ہو تو دبی زبان سے لگاوٹ کے انداز میں کسی سے بات نہ کرو تا کہ جس شخص کے دل میں کھوٹ ہو وہ تمھارے متعلق کچھ امید میں اپنے دل میں نہ پال لے۔ جو بات کرو سیدھے سادے انداز میں کرو۔ اپنے گھروں میں جھی بیٹھی رہو۔ جاہلیت کے بناؤ سنگار نہ کرتی پھرو۔ نماز پڑھو۔ زکوۃ دو، اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ چاہتا ہے کہ گندگی کو تم سے دور کر دے۔ان ہدایات پر غور کیجیے۔ ان میں سے کون سی چیز ہے جو عام مسلمان عورتوں کے لیے نہیں ہے؟ کیا مسلمان عورتیں پر ہیز گار نہ بنیں؟ کیا وہ غیر مردوں سے لگاوٹ کی باتیں کیا کریں؟ کیا وہ جاہلیت کے بناؤ سنگار کرتی پھریں؟ کیا وہ نماز و زکوۃ اور اطاعت خدا اور رسول سے انحراف کریں؟ کیا اللہ تعالیٰ انھیں گندگی میں رکھنا چاہتا ہے؟ اگر یہ سب ہدایات سب مسلمان عورتوں کے لیے عام ہیں تو صرف وقرن فی بیوتکن ہی کو ازواج نبی کے ساتھ خاص کرنے کی کیا وجہ ہے؟ در اصل نام نہی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ آیت کی ابتدا میں لوگوں کو یہ الفاظ نظر آئے کہ اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ لیکن انداز بیان بالکل اس طرح کا ہے جیسے کسی شریف بچہ سے کہا جائے کہ تم کوئی عام بچوں کی طرح تو ہو نہیں کہ بازاروں میں پھرو اور بے ہودہ حرکات کر وہ تمھیں تمیز سے رہنا چاہیے ۔ ایسا کہنے سے یہ مقصد نہیں ہوتا کہ دوسرے بچوں کے لیے بازاری پن اور بے ہودہ حرکات پسندیدہ ہیں اور خوش تمیزی ان کے حق میں مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ اس سے حسن اتفاق کا ایک معیار قائم کرنا مقصود ہوتا ہے تا کہ ہر وہ بچہ جو شریف بچوں کی طرح رہنا چاہتا ہو اس معیار پر پہنچنے کی کوشش کرے۔ قرآن میں عورتوں کے لیے نصیحت کا یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ عرب میں جاہلیت کی عورتوں میں ویسی ہی آزادی تھی جیسی اس وقت یورپ میں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے بتدریج انھیں اسلامی تہذیب کا خوگر بنایا جارہا تھا اور ان کے لیے اخلاقی حدود اور ضابطہ معاشرت کی قیود مقرر کی جا رہی تھیں ۔ اس حالت میں امہات المومنین کی زندگی کو خاص طور پر منضبط کیا گیا تا کہ وہ دوسری عورتوں کے لیے نمونہ بن جائیں اور عام مسلمانوں کے گھروں میں ان کے طریقوں کی تقلید کی جائے ۔ ٹھیک یہی رائے علامہ ابو بکر جصاص نے اپنی کتاب احکام القرآن میں ظاہر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :یہ حکم اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیویوں کے حق میں نازل ہوا ہے مگر اس کی مراد عام ہے، جس میں آپ اور دوسرے سن مسلمان شریک ہیں کیوں کہ ہم آپ کی پیروی پر مامور ہیں اوروہ سب احکام جو آپ کے لیے نازل ہوئے ہیں، ہمارے لیے بھی ہیں بجز ان امور کے جن کے متعلق تصریح ہے کہ وہ آپ کے لیے خاص ہیں۔ ( جلد سوم ص ۵۵ )](الاحزاب33:33 )کا صاف منشا ہے لیکن اس باب میں زیادہ سختی اس لیے نہیں کی گئی کہ بعض حالات میں عورتوں کے لیے گھر سے نکلنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک عورت کا کوئی سر دھرا نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے محافظِ خاندان کی مفلسی، قلتِ معاش، بیماری، معذوری یا اور ایسے ہی وجوہ سے عورت باہر کام کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ایسی تمام صورتوں کے لیے قانون میں کافی گنجائش رکھی گئی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے:

<<قَدْ اَذِنَ اللّٰہُ لَکُنَّ اَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوائِجِکُنَّ۔>>

(صحیح البخاری،کتاب النکاح باب خروج النساء لحوائجہن، صحیح مسلم، کتاب السلام، باب اباحۃ الخروج النساء لِقفائ حاجۃ الانسان)

اللہ تعالیٰ نے تمھیں اجازت دی ہے کہ تم اپنی ضروریات کے لیے گھر سے نکل سکتی ہو۔

مگر اس قسم کی اجازت جو محض حالات اور ضروریات کی رعایت سے دی گئی ہے، اسلامی نظامِ معاشرت کے اس قاعدے میں ترمیم نہیں کرتی کہ عورت کا دائرۂ عمل اس کا گھر ہے۔ یہ تو محض ایک وسعت اور رخصت ہے اور اسے اسی حیثیت میں رہنا چاہیے۔

(۷)۔ضروری پابندیاں:

بالغ عورت کو اپنے ذاتی معاملات میں کافی آزادی بخشی گئی ہے، مگر اسے اس حد تک خود اختیاری عطا نہیں کی گئی جس حد تک بالغ مرد کو عطا کی گئی ہے۔مثلاً:

مرد اپنے اختیار سے جہاں چاہے جا سکتا ہے لیکن عورت خواہ کنواری ہو یا شادی شدہ یا بیوہ، ہر حال میں ضروری ہے کہ سفر میں اس کے ساتھ ایک محرم ہو۔

<<لَا یَحِلُّ لاِ مْرأَۃٍ تُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَومِ الْآخِرِ اَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا یَکُونُ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ فَصَاعِدَا اِلاَّ وَمَعَھَا اَبُوھَا وَاَخُوھَا اَوزَوْجُھَا اَوْااِبْنُھَااَوذُومَحْرَمٍ مِنْھَا۔>>

(سنن ابی داؤد، کتاب المناسک، باب فی المرأۃ تحج بغیر محرم، حدیث: ۱۴۶۶)

کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتی ہو۔ یہ حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ سفر کرے بغیر اس کے کہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بھائی یا شوہر یا بیٹا یا کوئی محرم مرد ہو۔

<<وعن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم << اَنَّہُ قَالَ لَا تُسَافِرُ الْمَرأۃُ مَسِیْرۃَ یَومٍ وَلَیْلَۃٍ اِلاَّ مَعَ ذِی مَحَرمٍ۔ وَالْعَمَلُ عَلٰی ھٰذا عِنْدَاَھْلِ الْعِلْمِ۔>>

(سنن الترمذی، باب ما جاء فی کراھیۃ ان تسافر المراۃ وحدہا، حدیث:۱۰۸۹)

اور ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا عورت ایک دن رات کا سفر نہ کرے جب تک کہ اس کے ساتھ کوئی محرم مرد نہ ہو اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے۔

<<وعن ابی ھریرۃ ایضًا ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ لَا یَحِلُّ لاِمْرأۃٍ مُسْلِمَۃٍ تُسَافِرُ مَسِیرَۃَ لَیلَۃٍ اِلاَّ وَمَعھَا رَجُلٌ ذُوحُرْمَۃٍ مِنْھَا۔>>

(سنن ابو داؤد،کتاب المناسک، باب فی المراۃ تحج بغیر محرم حدیث:۱۴۶۵)

اور حضرت ابوہریرہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لیے حلال نہیں کہ ایک رات کا سفر کرے مگر یہ کہ اس کے ساتھ ایسا مرد ہو جو اس کا محرم ہو۔

ان روایات میں جو اختلاف مقدار سفر کی تعیین میں ہے وہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ دراصل ایک دن یا دو دن کا سوال اہمیت نہیں رکھتا، بلکہ اہمیت صرف اس امر کی ہے کہ عورت کو تنہا نقل و حرکت کرنے کی ایسی آزادی نہ دی جائے جو موجبِ فتنہ ہو۔ اسی لیے حضور اکرم ﷺ نے مقدارِ سفر معین کرنے میں زیادہ اہتمام نہ فرمایا اور مختلف حالات میں وقت اور موقع کی رعایت سے مختلف مقداریں اِرشادفرمائیں۔

مرد کو اپنے نکاح کے معاملہ میں پوری آزادی حاصل ہے۔ مسلمان یا کتابیہ عورتوں میں سے جس کے ساتھ چاہے وہ نکاح کر سکتا ہے اور لونڈی بھی رکھ سکتا ہے، لیکن عورت اس معاملہ میں کلیۃً خود مختار نہیں ہے۔ وہ کسی غیر قوم سے نکاح نہیں کر سکتی۔

<<لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ يَحِلُّوْنَ لَہُنَّ۝۰ۭ>> (الممتحنہ 10:60)

نہ یہ ان کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ ان کے لیے حلال۔

وہ اپنے غلام سے بھی تمتع نہیں کر سکتی۔ قرآن میں جس طرح مرد کو لونڈی سے تمتع کی اجازت دی گئی ہے اس طرح عورت کو نہیں دی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک عورت نے ماملکت ایمانکم… کی غلط تاویل کرکے اپنے غلام سے تمتع کیا تھا۔ آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے یہ معاملہ صحابہ کی مجلسِ شورٰی میں پیش کیا اور سب نے بالاتفاق فتویٰ دیا کہ

<<تَاَوَّلَتْ کِتَابَ اللّٰہِ تعالٰی عَلٰی غَیْرِ تَأوِئلہِ۔ >> (مصنف عبدالرزاق، ج۷، ص۲۰۹)

اس نے کتاب اللہ کو غلط معنی پہنائے۔

ایک اور عورت نے حضرت عمرؓ سے ایسے ہی ایک فعل کی اجازت مانگی تو آپ نے اسے سخت سزا دی اور فرمایا:

<<لَنْ تَزَالَ الْعَرَبُ بخَیْرِ مَا مَنَعَتْ نِسَاؤُ ھَا۔>> (جلال الدین السیوطی، جامع الاحادیث:۲۹۷۹۲)

یعنی عرب کی بھلائی اسی وقت تک ہے جب تک اس کی عورتیں محفوظ ہیں۔

غلام اور کافر کو چھوڑ کر آزاد مسلمان مردوں میں سے عورت اپنے لیے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے، لیکن اس معاملہ میں بھی اس کے لیے اپنے باپ، دادا، بھائی اور دوسرے اولیا کی رائے کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ اولیا کو یہ حق نہیں کہ عورت کی مرضی کے خلاف کسی سے اس کا نکاح کر دیں، کیوں کہ ارشادِ نبوی ہے:

<<اَلْاَیِّمُ اَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَلِّیِھَا۔>>

(صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب استیذان الثیب فی النکاح، حدیث ۲۵۴۵)

بیوہ اپنے معاملہ میں فیصلہ کرنے کا حق اپنے ولی سے زیادہ رکھتی ہے۔

اور

<<لَاتُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُستَاَذنَ۔>>

(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب لاینکح الا ٔب وغیرۃ البکر، حدیث:۴۷۴۱)

باکرہ لڑکی کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لی جائے۔

مگر عورت کے لیے بھی یہ مناسب نہیں کہ اپنے خاندان کے ذمہ دار مردوں کی رائے کے خلاف جس کے ساتھ چاہے نکاح کر لے۔ اسی لیے قرآن مجید میں جہاں مرد کے نکاح کا ذکر ہے وہاں نکح ینکح کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی خود نکاح کر لینے کے ہیں، مثلاً:

<<وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ >> ( البقرہ 221:2)

مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو۔

<<فَانْكِحُوْھُنَّ بِـاِذْنِ اَھْلِہِنَّ>> (النساء 25:4)

ان سے ان کے گھر والوں کی اجازت لے کر نکاح کر لو۔

مگر جہاں عورت کے نکاح کا ذکر آیا ہے وہاں عمومًا باب افعال سے انکاح کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی نکاح کر دینے کے ہیں۔ مثلاً:

<<وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ>> (النور 32:24)

اپنی بے شوہر عورتوں سے نکاح کرو۔

<<وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا۝۰ۭ>> (البقرہ 221:2)

اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح شادی شدہ عورت اپنے شوہر کی تابع ہے اسی طرح غیر شادی شدہ عورت اپنے خاندان کے ذمہ دار مردوں کی تابع ہے۔ مگر یہ تابعیت اس معنی میں نہیں ہے کہ اس کے لیے ارادہ و عمل کی کوئی آزادی نہیں یا اسے اپنے معاملہ میں کوئی اختیار نہیں۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ نظامِ معاشرت کو اختلال و برہمی سے محفوظ رکھنے اور خاندان کے اخلاق و معاملات کو اندرونی و بیرونی فتنوں سے بچانے کی ذمہ داری مرد پر ہے اور اس نظم کی خاطر عورت پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ جو شخص اس نظم کا ذمہ دار ہو اس کی اطاعت کرے، خواہ وہ اس کا شوہر ہو یا باپ یا بھائی۔

(۸)۔عورت کے حقوق:

اس طرح اسلام نے << بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ>> (النساء 34:4 )کو ایک فطری حقیقت تسلیم کرنے کے ساتھ ہی <<وَلِلرِّجَالِ عَلَيْہِنَّ دَرَجَۃٌ۝۰ۭ>> (البقرہ 228:2 ) کی بھی ٹھیک ٹھیک تعیین کر دی ہے۔ عورت اورمرد میں حیاتیات اور نفسیات کے اعتبار سے جو فرق ہے اسے وہ بعینہٖ قبول کرتا ہے، جتنا فرق ہے اسے جوں کا توں برقرار رکھتا ہے اورجیسا فرق ہے اس کے لحاظ سے ان کے مراتب اور وظائف مقرر کرتا ہے۔

اس کے بعد ایک اہم سوال عورت کے حقوق کا ہے۔ ان حقوق کی تعیین میں اسلام نے تین باتوں کو خاص طور پر ملحوظ رکھا ہے۔

٭ ایک یہ کہ مرد کو جو حاکمانہ اختیارات محض خاندان کے نظم کی خاطر دیے گئے ہیں ان سے ناجائز فائدہ اٹھا کر وہ ظلم نہ کر سکے اور ایسا نہ ہو کہ تابع و متبوع کا تعلق عمومًا لونڈی اور آقا کا تعلق بن جائے۔

٭ دوسرے یہ کہ عورت کو ایسے تمام مواقع بہم پہنچائے جائیں جن سے فائدہ اٹھا کر وہ نظامِ معاشرت کے حدود میں اپنی فطری صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ ترقی دے سکے اور تعمیرِ تمدن میں اپنے حصے کا کام بہتر سے بہتر انجام دے سکے۔

٭ تیسرے یہ کہ عورت کے لیے ترقی اور کام یابی کے بلند سے بلند درجوں تک پہنچنا ممکن ہو، مگر اس کی ترقی اور کام یابی جو کچھ بھی ہو عورت ہونے کی حیثیت سے ہو۔ مرد بننا تو اس کا حق ہے، نہ مردانہ زندگی کے لیے اسے تیار کرنا اس کے لیے اور تمدن کے لیے مفید ہے اور نہ مردانہ زندگی میں وہ کام یاب ہو سکتی ہے۔

مذکورہ بالا تینوں امور کی پوری پوری رعایت ملحوظ رکھ کر اسلام نے عورت کو جیسے وسیع تمدنی و معاشی حقوق دیے ہیں، اور عزت و شرف کے جو بلند مراتب عطا کیے ہیں، اور ان حقوق و مراتب کی حفاظت کے لیے اپنی اخلاقی اور قانونی ہدایات میں جیسی پائدار ضمانتیں مہیا کی ہیں، ان کی نظیر دنیا کے کسی قدیم و جدید نظامِ معاشرت میں نہیں ملتی۔

(۹)۔معاشی حقوق:

سب سے اہم اور ضروری چیز جس کی بدولت تمدن میں انسان کی منزلت قائم ہوتی ہے اور جس کے ذریعہ سے وہ اپنی منزلت کو برقرار رکھتا ہے، وہ اس کی معاشی حیثیت کی مضبوطی ہے۔ اسلام کے سوا تمام قوانین نے عورت کو معاشی حیثیت سے کم زور کیا ہے اور یہی معاشی بے بسی معاشرت میں عورت کی غلامی کا سب سے بڑا سبب بنی ہے۔ یورپ نے اس حالت کو بدلنا چاہا مگر اس طرح کہ عورت کو ایک کمانے والا فرد بنا دیا۔ یہ ایک دوسری عظیم تر خرابی کا باعث بن گیا۔ اسلام بیچ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ عورت کو وراثت کے نہایت وسیع حقوق دیتا ہے۔ باپ سے، شوہر سے، اولاد سے اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے اسے وراث [وراثت میں عورت کا حصہ مرد کے مقابلہ میں نصف رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کو نفقہ اور مہر کے حقوق حاصل ہیں جن سے مرد محروم ہے۔ عورت کا نفقہ صرف اس کے شوہر ہی پر واجب نہیں ہے بلکہ شوہر نہ ہونے کی صورت میں باپ، بھائی ، بیٹے یا دوسرے اولیا پر اس کی کفالت واجب ہوتی ہے۔ پس جب عورت پر وہ ذمہ داریاں نہیں ہیں جو مرد پر ہیں، تو وراثت میں اس کا حصہ بھی وہ نہ ہونا چاہیے جو مرد کا ہے۔] ملتی ہے۔ نیز شوہر سے اسے مہر بھی ملتا ہے اور ان تمام ذرائع سے جو کچھ مال اسے پہنچتا ہے اس میں ملکیت اور قبض و تصرف کے پورے حقوق اسے دیے گئے ہیں جن میں مداخلت کا اختیار نہ اس کے باپ کو حاصل ہے، نہ شوہر کو، نہ کسی اور کو۔ مزید برآں اگر وہ کسی تجارت میں روپیہ لگا کر، یا خود محنت کرکے کچھ کمائے تو اس کی مالک بھی کلیۃً وہی ہے اور ان سب کے باوجود اس کا نفقہ ہر حال میں اس کے شوہر پر واجب ہے۔ بیوی خواہ کتنی ہی مال دار ہو، اس کا شوہر اس کے نفقہ سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ اس طرح اسلام میں عورت کی معاشی حیثیت اتنی مستحکم ہو گئی ہے کہ بسا اوقات وہ مرد سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتی ہے۔

(۱۰)۔تمدنی حقوق:

۱۔ عورت کو شوہر کے انتخاب کا پورا حق دیا گیا ہے۔ اس کی مرضی کے خلاف یا اس کی رضا مندی کے بغیر کوئی شخص اس کا نکاح نہیں کر سکتا اور اگر وہ خود اپنی مرضی سے کسی مسلم کے ساتھ نکاح کر لے تو کوئی اُسے روک نہیں سکتا۔ البتہ اگر اس کی نظر ِ انتخاب کسی ایسے شخص پر پڑے جو اس کے خاندان کے مرتبے سے گرا ہوا ہو تو صرف اس صورت میں اس کے اولیا کو اعتراض کا حق حاصل ہے۔

۲۔ ایک ناپسندیدہ یا ظالم یا ناکارہ شوہر کے مقابلہ میں عورت کو خلع اور فسخ و تفریق کے وسیع حقوق دیے گئے ہیں۔

۳۔ شوہر کو بیوی پر جو اختیارات اسلام نے عطا کیے ہیں ان کے استعمال میں حسن سلوک اور فیاضانہ برتاؤ کی ہدایت کی گئی ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے:

<<وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۚ >> ( النساء 19:4)

عورتوں کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو۔

اور

<<تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ۝۰ۭ>> (البقرہ 237:2)

آپس کے تعلقات میں فیاضی کو نہ بھول جاؤ۔

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:

<<اِنَّ مِنْ اَکْمَلِ الْمُومِنِیْنَ اِیْمَاناً أَحْسَنُھُمْ خُلُقًا أَلْطَفَھُمْ بِأَھْلِہٖ۔>>

(سنن الترمذی، کتاب الایمان، باب ماجائ فی استکمال الایمان، حدیث۲۵۳۷)

اہل ایمان میں کامل تر وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں اور جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ لطف و مہربانی کا سلوک کرنے والا ہو۔

<<خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہِ وَأَناَ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِی۔>>

(سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب فضل أزواج النبیؐ، حدیث:۳۸۳۰)

تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔

یہ محض اخلاقی ہدایت ہی نہیں ہے۔ اگر شوہر اپنے اختیارات کے استعمال میں ظلم سے کام لے تو عورت کو قانون سے مدد لینے کا حق بھی حاصل ہے۔

۴۔ بیوی اور مطلقہ عورتوں اور ایسی تمام عورتوں کو جن کے نکاح ازروئے قانون فسخ کیے گئے ہوں یا جنھیں حکم تفریق کے ذریعہ سے شوہر سے جدا کیا گیا، نکاحِ ثانی کا غیر مشروط حق دیا گیا ہے اور اس امر کی تصریح کر دی گئی ہے کہ ان پر شوہر سابق یا اس کے کسی رشتہ دار کا کوئی حق باقی نہیں۔ یہ وہ حق ہے جو آج تک یورپ اور امریکا کے بیش تر ممالک میں بھی عورت کونہیں ملا ہے۔

۵۔ دیوانی اور فوج داری قوانین میں عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات قائم کی گئی ہے۔ جان و مال اور عزت کے تحفظ میں اسلامی قانون عورت اور مرد کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں رکھتا۔

(۱۱)۔عورتوں کی تعلیم:

عورتوں کو دینی اور دنیوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کو اُسی قدر ضروری قراردیا گیا ہے جس قدر مردوں کی تعلیم و تربیت ضروری ہے۔ نبی اکرمﷺ سے دین و اخلاق کی تعلیم جس طرح مرد حاصل کرتے تھے اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں۔ آپ نے ان کے لیے اوقات معین فرما دیے تھے جن میں وہ آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوتی تھیں۔ آپ کی ازواجِ مطہرات اور خصوصًا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نہ صرف عورتوں کی، بلکہ مردوں کی بھی معلمہ تھیں اور بڑے بڑے صحابہ و تابعین ان سے حدیث، تفسیر اور فقہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اشراف تو درکنار، نبی اکرم ﷺ نے لونڈیوں تک کو علم اور ادب سکھانے کا حکم دیاتھا۔ چنانچہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

<<اَیُّمَا رَجُلٍ کَانَتْ عِنْدَہُ وَلِیْدَۃٌ فَعَلَّمَھَا فَاَحْسَنَ تَعْلِیَمَھَا وَاَدَّبَھَا فَأ حَسَنَ تَادِیْبَھَا ثُمَّ اَعْتَقَھَا وَتَزَّوَجَھَا فَلَہُ اَجْرَانِ۔>>

(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب اتخاذ السراری و من اعتق جاریۃ، حدیث:۴۶۹۳)

جس شخص کے پاس کوئی لونڈی ہو اور وہ اسے خوب تعلیم دے اور عمدہ تہذیب و شائستگی سکھائے پھر اسے آزاد کرکے اس سے شادی کر لے اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔

پس جہاں تک نفس تعلیم و تربیت کا تعلق ہے۔ اسلام نے عورت اور مرد کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا ہے۔ البتہ نوعیت میں فرق ضرور ی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے عورت کی صحیح تعلیم و تربیت وہ ہے جو اسے ایک بہترین بیوی، بہترین ماں، اور بہترین گھر والی بنائے۔ اس کا دائرہ عمل گھر ہے۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ اسے ان علوم کی تعلیم دی جانی چاہیے جو اس دائرہ میں اسے زیادہ مفید بنا سکتے ہوں۔ مزید برآں وہ علوم بھی اس کے لیے ضروری ہیں جو انسان کو انسان بنانے والے، اس کے اخلاق کو سنوارنے والے اور اس کی نظر کو وسیع کرنے والے ہیں۔ ایسے علوم اور ایسی تربیت سے آراستہ ہونا ہر مسلمان عورت کے لیے لازم ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی عورت غیرمعمولی عقلی وہ ذہنی استعداد رکھتی ہو، اور ان علوم کے علاوہ دوسرے علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کرنا چاہ تو اسلام اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہے، بشرطیکہ وہ ان حدود سے تجاوز نہ کرے جو شریعت نے عورتوں کے لیے مقررکیے ہیں۔

(۱۲)۔عورت کی اصلی اٹھان (emancipation):

یہ تو صرف حقوق کا ذکر ہے۔ مگر اس سے اُس احسان عظیم کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا جو اسلام نے عورت پر کیا ہے۔ انسانی تمدن کی پوری تاریخ اس پر گواہ ہے کہ عورت کا وجود دنیا پر ذلت، شرم اور گناہ کا وجود تھا۔ بیٹی کی پیدائش باپ کے لیے سخت عیب اور موجبِ ننگ و عار تھی۔ سسرالی رشتے ذلیل سمجھے جاتے تھے حتّٰی کہ سسر اور سالے کے الفاظ اسی جاہلی تخیل کے تحت آج تک گالی کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ بہت سی قوموں میں اسی ذلت سے بچنے کے لیے لڑکیوں کو قتل کر دینے کا رواج ہو گیا تھا [ قرآن مجید اس جاہلی ذہنیت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتا ہے:وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْفِى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًا وَهُوَ كَظِيمٌ يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سَوَا أَيُمْسِكُمْ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي الغُرَابِ اقل 59:16-58 ، اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی اور وہ زہر کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ اس خبر سے جو شرم کا داغ اُسے کو لگ گیا ہے اس کے باعث لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیا ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہوں یا مٹی میں دبا دوں ۔]۔ جہلا تو درکنار علما اور پیشوایانِ مذہب تک میں مدتوں یہ سوال زیرِ بحث رہا کہ آیا عورت انسان بھی ہے یا نہیں؟ اور خدا نے اسے روح بخشی ہے یا نہیں؟ ہندو مذہب میں ویدوں کی تعلیم کا دروازہ عورت کے لیے بند تھا۔ بدھ مت میں عورت سے تعلق رکھنے والے کے لیے نروان کی کوئی صورت نہ تھی۔ مسیحیت اور یہودیت کی نگاہ میں عورت ہی انسانی گناہ کی بانی مبانی اور ذمہ دار تھی۔ یونان میں گھر والیوں کے لیے نہ علم تھا نہ تہذیب و ثقافت تھی اور نہ حقوقِ مدنیت۔ یہ چیزیں جس عورت کو ملتی تھیں وہ رنڈی ہوتی تھی۔ روم، ایران، چین، مصر اور تہذیبِ انسانی کے دوسرے مرکزوں کا حال بھی قریب قریب ایسا ہی تھا۔ صدیوں کی مظلومی و محکومی اور عالم گیر حقارت کے برتاؤ نے خود عورت کے ذہن سے بھی عزتِ نفس کا احساس مٹا دیا تھا۔ وہ خود بھی اس امر کو بھول گئی تھی کہ دنیا میں وہ کوئی حق لے کر پیدا ہوئی ہے یا اس کے لیے بھی عزت کا کوئی مقام ہے۔مرد اس پر ظلم و ستم کرنا اپنا حق سمجھتا تھا اور وہ اس کے ظلم کو سہنا اپنا فرض جانتی تھی۔ غلامانہ ذہنیت اس حد تک اس میں پیدا کر دی گئی تھی کہ وہ فخر کے ساتھ اپنے آپ کو شوہر کی ’’داسی‘‘ کہتی تھی۔ ’’پتی ورتا‘‘ اس کا دھرم تھا اور پتی ورتا کے معنی یہ تھے کہ شوہر اس کا معبود اور دیوتا ہے۔

اس ماحول میں جس نے نہ صرف قانونی اورعملی حیثیت سے بلکہ ذہنی حیثیت سے بھی ایک انقلاب عظیم برپا کیا وہ اسلام ہے۔ اسلام ہی نے عورت اور مرد دونوں کی ذہنیتوں کو بدلا ہے۔ عورت کی عزت اور اس کے حق کا تخیل بھی انسان کے دماغ میں اسلام کا پیدا کیا ہوا ہے۔ آج حقوقِ نسواں اور بیداری اناث کے جو الفاظ آپ سن رہے ہیں، یہ سب اسی انقلاب انگیز صدا کی باز گشت ہیں جو محمد ﷺ کی زبان سے بلند ہوئی تھی اور جس نے افکارِ انسانی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ وہ محمد ﷺ ہی ہیں جنھوں نے دنیا کو بتایا کہ عورت بھی ویسی ہی انسان ہے جیسا مرد ہے۔

<<خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا >> (النساء 1:4)

اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کے جوڑے کو پیدا کیا۔

خدا کی نگاہ میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

<<لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبُوْا۝۰ۭ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبْنَ۝۰ۭ>> ( النساء 32:4)

مرد جیسے عمل کریں ان کا پھل وہ پائیں گے اور عورتیں جیسے عمل کریں ان کا پھل وہ پائیں گی۔

ایمان اور عملِ صالح کے ساتھ روحانی ترقی کے جو درجات مرد کو مل سکتے ہیں وہی عورت کے لیے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ مرد اگر ابراہیم بن ادہم بن سکتا ہے تو عورت کو بھی رابعہ بصریہ بننے سے کوئی شے نہیں روک سکتی۔

<<فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّىْ لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى۝۰ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۝۰ۚ>> (آل عمران 195:3)

ان کے رب نے ان کی دعا کے جواب میں فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہ کروں گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت تم سب ایک دوسرے کی جنس سے ہو۔

<<وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَمُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًاo>> (النساء 124:4)

اور جو کوئی بھی نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، مگر ہو ایمان دار، تو ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر رتی برابر ظلم نہ ہو گا۔

پھر وہ محمد ﷺ ہی ہیں جنھوں نے مرد کو بھی خبردار کیا اور عورت میں بھی یہ احساس پیدا کیا کہ جیسے حقوق عورت پر مرد کے ہیں ویسے ہی مرد پر عورت کے ہیں۔

<<وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْہِنَّ >> (البقرہ 228:2)

عورت پر جیسے فرائض ہیں ویسے ہی اس کے حقوق بھی ہیں۔

پھر وہ محمد ﷺ ہی کی ذات ہے جس نے ذلت اور عار کے مقام سے اٹھا کر عورت کو عزت کے مقام پر پہنچایا۔ وہ حضور اکرم ﷺ ہی ہیں جنھوں نے باپ کو بتایا کہ بیٹی کا وجود تیرے لیے ننگ و عار نہیں ہے بلکہ اس کی پرورش اور اس کی حق رسانی تجھے جنت کا مستحق بناتی ہے۔

<<مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتّٰی تَبْلُغَا جَائَ یَومَ الْقِیَامَۃِ اَنَا وَھُوَ وَضَمَّ اَصَاَبِعَہُ۔>>

(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، باب فضل الاحسان إبی البنات، حدیث:۴۷۶۵)

جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز مَیں اور وہ اس طرح آئیں گے جیسے میرے ہاتھ کی دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں۔

<<مَنْ ابْتُلِیَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَی ئٍ فَأَحْسَنَ إ لَیْھِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ۔>> (ایضاً، حدیث:۴۷۶۳)

جس کے ہاں لڑکیاں پیدا ہوں اور وہ اچھی طرح ان کی پرورش کرے تو یہی لڑکیاں اس کے لیے دوزخ سے آڑ بن جائیں گی۔

حضور اکرم ﷺ ہی نے شوہر کو بتایا کہ نیک بیوی تیرے لیے دنیا میں سب سے بڑی نعمت ہے:

<<خَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا اَلْمَرأَۃُ الصَّالِحَہُ۔>>

(صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ، حدیث۲۶۶۸)

دُنیا کی نعمتوں میں بہترین نعمت نیک بیوی ہے۔

<<حُبِّبَ إلَّیَ مِنَ الدُّنْیَا اَلنِّسَائُ وَ الطّیْبُ، وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنیِ فِی الصَّلٰوۃ۔>>

(سنن النسائی، کتاب عشرۃ النسا، باب حب النسائ، حدیث ۳۸۷۸)

دُنیا کی چیزوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب عورت اور خوش بو ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔

<<لَیْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْیَا شَی ئٌ افْضَلَ مِنَ الْمَرْأَۃ الصَّالِحَۃِ۔>>

(سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب افضل النسائ، حدیث۱۸۴۵)

دنیا کی بہترین نعمتوں میں کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں ہے۔

حضور اکرم ﷺ ہی نے بیٹے کو بتایا کہ خدا اور رسول کے بعد سب سے زیادہ عزت اور قدر و منزلت اور حُسنِ سلوک کی مستحق تیری ماں ہے۔

<<سَألَ رَجُلٌ یَارَسُولَ اللہِ مَنْ أَحَقُ النَّاسِ بِحُسَنِ صَحَابَتِیْ قَالَ اُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنَ قَالَ اُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ اُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ اَبُوْکَ۔>>

(صحیح بخاری، کتاب الادب، باب من احق الناس بحسن صحابتی، حدیث۵۵۱۴)

ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ! مجھ پر حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ فرمایا تیری ماں، اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمای تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تیرا باپ۔‘‘

<<اِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الاُمَّھَاتِ۔>>

(صحیح بخاری، کتاب الادب، باب ما ینھی عن اضاعۃ المال،۲۲۳۱)

بے شک اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی اور حق تلفی حرام کر دی ہے۔

حضور اکرم ﷺ ہی نے انسان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ جذبات کی فراوانی، حسیات کی نزاکت اور انتہا پسندی کی جانب میل و انعطاف عورت کی فطرت میں ہے۔ اسی فطرت پر اللہ نے اسے پیدا کیا ہے اور یہ انوثت کے لیے عیب نہیں ہے۔ اس کا حسن ہے۔ تم اس سے جو کچھ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو اس فطرت پر قائم رکھ کر ہی اٹھا سکتے ہو۔ اگر اسے مردوں کی طرح سیدھا اور سخت بنانے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے۔

<<اَلْمَرْأَۃُ کَالضِّلْعِ اِنْ اَقَمْتَھَا کَسَرْ تَھَا وَاِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِھَا اسْتَمْتَعْتَ بِھَا وَفِیھَا عِوَجٌ۔>> (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب المداراۃ مع النسائ، حدیث ۴۷۸۶)

عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو ٹیڑھ پن کے باوجود اٹھاؤ۔

اسی طرح محمد ﷺ وہ پہلے اور درحقیقت وہ آخری شخص ہیں جنھوں نے عورت کی نسبت نہ صرف مرد کی، بلکہ خود عورت کی اپنی ذہنیت کو بھی بدل دیا اور جاہلی ذہنیت کی جگہ ایک نہایت صحیح ذہنیت پیدا کی، جس کی بنیاد جذبات پر نہیں بلکہ خالص عقل اور علم پر تھی۔ پھر آپ نے باطنی اصلاح ہی پر اکتفا نہ فرمایا بلکہ قانون کے ذریعہ سے عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور مردوں کے ظلم کی روک تھام کا بھی انتظام کیا اور عورتوں میں اتنی بیداری پیدا کی کہ وہ اپنے جائز حقوق کو سمجھیں اور ان کی حفاظت کے لیے قانون سے مدد لیں۔

سرکارِ رسالت ماب ﷺ کی ذات میں عورتوں کو ایک ایسا رحیم و شفیق حامی اور ایسا زبردست محافظ مل گیا تھا کہ اگر ان پر ذرا سی بھی زیادتی ہوتی تو وہ شکایت لے کر بے تکلف حضور اکرمﷺ کے پاس دوڑ جاتی تھیں اور مرد اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کی بیویوں کو آں حضرت ﷺ تک شکایت لے جانے کا موقع نہ مل جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب تک حضور اکرم ﷺ زندہ رہے ہم اپنی عورتوں سے بات کرنے میں احتیاط کرتے تھے کہ مبادا ہمارے حق میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ جب حضور اکرمﷺ نے وفات پائی تب ہم نے کھل کر بات کرنا شروع کی۔

(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الوصاۃ بالنساء، حدیث:۴۷۸۸)

ابنِ ماجہ میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے بیویوں پر دست درازی کرنے کی عام ممانعت فرما دی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شکایت کی کہ عورتیں بہت شوخ ہو گئی ہیں، انھیں مطیع کرنے کے لیے مارنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ آپ نے اجازت دے دی۔ لوگ نہ معلوم کب سے بھرے بیٹھے تھے۔ جس روز اجازت ملی اسی روز ستر عورتیں اپنے گھروں میں پیٹی گئیں۔ دوسرے دن نبی اکرم ﷺ کے مکان پر فریادی عورتوں کا ہجوم ہو گیا۔ سرکار نے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا، خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا:

<<لَقَدْ طَافَ اللَّیْلَۃَ بِاٰلِ مُحمَّدٍ سَبْعُونَ اِمْرأَۃٗ کُلُّ اِمْرأَۃٍ تَشْتَکِی زَوْجَھَا فَلَا تَجِدُونَ اُولٰئَکَ خِیَارَکُمْ۔>> (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب ضرب النسائ، حدیث۱۹۷۵)

آج محمد ﷺ کے گھر والوں کے پاس ستر عورتوں نے چکر لگایا ہے۔ ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی۔ جن لوگوں نے یہ حرکت کی ہے وہ تم میں ہرگز اچھے لوگ نہیں ہیں۔

اسی اخلاقی اور قانونی اصلاح کا نتیجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں عورت کو وہ بلند حیثیت حاصل ہوئی جس کی نظیر دنیا کی سوسائٹی میں نہیں پائی جاتی۔ مسلمان عورت دنیا اور دین میں مادی، عقلی اور روحانی حیثیات سے عزت اور ترقی کے ان بلند سے بلند مدارج تک پہنچ سکتی ہے جن تک مرد پہنچ سکتا ہے اور اس کا عورت ہونا کسی مرتبہ میں بھی اس کی راہ میں حائل نہیں ہے۔ آج اس بیسویں صدی میں بھی دنیا اسلام سے بہت پیچھے ہے۔ افکارِ انسانی کا ارتقا اب بھی اس مقام تک نہیں پہنچا ہے جس پر اسلام پہنچا ہے۔ مغرب نے عورت کو جو کچھ دیا ہے عورت کی حیثیت سے نہیں دیا ہے بلکہ مرد بنا کر دیا ہے۔ عورت درحقیقت اب بھی اس کی نگاہ میں ویسی ہی ذلیل ہے جیسی پرانے دورِ جاہلیت میں تھی۔ گھر کی ملکہ، شوہر کی بیوی، بچوں کی ماں، ایک اصلی اور حقیقی عورت کے لیے اب بھی کوئی عزت نہیں۔ عزت اگر ہے تو اس مردِ مونث یا زنِ مذکر کے لیے جو جسمانی حیثیت سے تو عورت مگر دماغی اور ذہنی حیثیت سے مرد ہو اور تمدن و معاشرت میں مرد ہی کے سے کام کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ انوثت کی عزت نہیں، رجولیت کی عزت ہے، پھر احساسِ پستی کی ذہنی اُلجھن (inferiority complex) کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ مغربی عورت مردانہ لباس فخر کے ساتھ پہنتی ہے، حالانکہ کوئی مرد زنانہ لباس پہن کر برسرِ عام آنے کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔ بیوی بننا لاکھوں مغربی عورتوں کے نزدیک موجبِ ذلت ہے، حالانکہ شوہر بننا کسی مرد کے نزدیک ذلت کا موجب نہیں۔ مردانہ کام کرنے میں عورتیں عزت محسوس کرتی ہیں، حالانکہ خانہ داری اورپرورشِ اطفال جیسے خالص زنانہ کاموں میں کوئی مرد عزت محسوس نہیں کرتا۔ پس بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ مغرب نے عورت کو بحیثیت عورت کے کوئی عزت نہیں دی ہے۔ یہ سارا کام اسلام اور صرف اسلام نے کیا ہے کہ عورت کو تمدن و معاشرت میں اس کے فطری مقام ہی پر رکھ کر عزت و شرف کا مرتبہ عطا کیا اور صحیح معنوں میں انوثت کے درجہ کو بلند کر دیا۔ اسلامی تمدن عورت کو عورت اور مرد کو مرد رکھ کر دونوں سے الگ الگ وہی کام لیتا ہے جس کے لیے فطرت نے انھیں بنایا ہے اور پھر ہر ایک کو اس کی جگہ ہی پر رکھتے ہوئے عزت، ترقی اور کام یابی کے یکساں مواقع بہم پہنچاتا ہے۔ اس کی نگاہ میں انوثت اور رجولیت دونوں انسانیت کے ضروری اجزا ہیں۔ تعمیرِ تمدن کے لیے دونوں کی اہمیت یکساں ہے۔ دونوں اپنے اپنے دائرے میں جو خدمات انجام دیتے ہیں وہ یکساں مفید اور یکساں قدر کی مستحق ہیں۔ نہ رجولیت میں کوئی شرف ہے نہ انوثت میں کوئی ذلت۔ جس طرح مرد کے لیے عزت، ترقی اور کام یابی اسی میں ہے کہ وہ مرد رہے اور مردانہ خدمات انجام دے۔ اسی طرح عورت کے لیے بھی عزت، ترقی اور کام یابی اسی میں ہے کہ وہ عورت رہے اور زنانہ خدمات انجام دے۔ ایک صالح تمدن کا کام یہی ہے کہ وہ عورت کو اس کے فطری دائرۂ عمل میں رکھ کر پورے انسانی حقوق دے، عزت اور شرف عطا کرے۔ تعلیم و تربیت سے اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو چمکائے اور اسی دائرے میں اس کے لیے ترقیوں اور کام یابیوں کی راہیں کھولے۔