مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پردہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔

کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔

کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: پردہ

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔

کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔

تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
  2. تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
  3. تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
  4. پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
  5. اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
  6. تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  7. عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
  8. آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟

۲۔ چند نمایاں مثالیں

معاشرت کے جس مسئلے سے اس وقت ہم بحث کر رہے ہیں، اس میں انسان کی یہی یک رُخی اپنی افراط و تفریط کی پوری شان کے ساتھ نمایاں ہوئی ہے۔

ایک گروہ اَخلاق اور روحانیت کے پہلو کی طرف جھکا اور اس میں یہاں تک غلو کر گیا کہ عورت اور مرد کے صنفی تعلق ہی کو سرے سے ایک قابل نفرت چیز قرار دے بیٹھا۔ یہ بے اعتدالی ہمیں بدھ مت، مسیحیت اور بعض ہندو مذاہب میں نظر آتی ہے۔ اور اسی کا اثر ہے کہ اب تک دنیا کے ایک بڑے حصہ میں صنفی تعلق کو بجائے خود ایک بدی سمجھا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ ازدواج کے دائرے میں ہو یا اس سے باہر۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ کہ رہبانیت کی غیر فطری اور غیر متمدن زندگی کو اخلاق اور طہارتِ نفس کا نصب العین سمجھا گیا۔ نوعِ انسانی کے بہت سے افراد نے، جن میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی، اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو فطرت سے انحراف بلکہ جنگ میں ضائع کر دیا اور جو لوگ فطرت کے اقتضا سے باہم ملے بھی تو اس طرح جیسے کوئی شخص مجبورًا اپنی کسی گندی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کا تعلق نہ تو زوجین کے درمیان محبت اور تعاون کا تعلق بن سکتا ہے اور نہ اس سے کوئی صالح اور ترقی پزیر تمدن وجود میں آ سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نظامِ معاشرت میں عورت کے مرتبہ کو گرانے کی ذمہ داری بھی بڑی حد تک اسی نظامِ معاشرت میں عورت کے مرتبہ کو گرانے کی ذمہ داری بھی بڑی حد تک اسی نام نہاد اخلاقی تصور پر ہے۔ رہبانیت کے پرستاروں نے صنفی کشش کو شیطانی وسوسہ اور کشش کی محرک، یعنی عورت کو شیطان کا ایجنٹ قرار دیا اور اسے ایک ناپاک وجود ٹھہرایا جس سے نفرت کرنا ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو طہارتِ نفس چاہتا ہے۔ مسیحی، بدھ اور ہندو لٹریچر میں عورت کا یہی تصور غالب ہے اور جو نظامِ معاشرت اس تصور کے ماتحت مرتب کیا گیا ہو اس میں عورت کا مرتبہ جیسا کچھ ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

اس کے برعکس دوسرے گروہ نے انسان کے داعیات جسمانی کی رعایت کی تو اس میں اتنا غلو کیا کہ فطرتِ انسانی تو درکنار، فطرتِ حیوانی کے مقتضیات کو بھی نظر انداز کر دیا۔ مغربی تمدن میں یہ کیفیت اس قدر نمایاں ہو چکی ہے کہ اب چھپائے نہیں چھپ سکتی۔ اس کے قانون میں زِنا کوئی جرم ہی نہیں ہے۔ جرم اگر ہے تو جبر و اکراہ ہے، یا کسی دوسرے کے قانونی حق میں مداخلت۔ان دونوں میں سے کسی جرم کی مشارکت نہ ہو تو زنا (یعنی صنفی تعلقات کا انتشار) بجائے خود کوئی قابلِ تعزیر جرم، حتّٰی کہ کوئی قابلِ شرم اخلاقی عیب بھی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ کم از کم حیوانی فطرت کی حد میں تھا۔ لیکن اس کے بعد وہ اس سے بھی آگے بڑھا۔ اس نے صنفی تعلق کے حیوانی مقصد یعنی تناسل اور بقائے نوع کو بھی نظر انداز کر دیا، اسے محض جسمانی لطف و لذت کا ذریعہ بنا لیا۔ یہاں پہنچ کر وہی انسان جو احسن تقویم پر پیدا کیا گیا تھا، اسفل سافلین میں پہنچ جاتا ہے۔ پہلے وہ اپنی انسانی فطرت سے انحراف کرکے حیوانات کا سا منتشر صنفی تعلق اختیار کرتا ہے جو کسی تمدن کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ پھر وہ اپنی حیوانی فطرت سے بھی انحراف کرتا ہے اور اس تعلق کے فطری نتیجہ یعنی اولاد کی پیدائش کو بھی روک دیتا ہے تاکہ دنیا میں اس کی نوع کو باقی رکھنے والی نسلیں وجود ہی میں نہ آنے پائیں۔

ایک جماعت نے خاندان کی اہمیت کو محسوس کیا تو اس کی تنظیم اس قدر بندشوں کے ساتھ کی کہ ایک فرد کو جکڑ کر رکھ دیا اور حقوق و فرائض میں کوئی توازن ہی باقی نہ رکھا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ہندوؤں کا خاندانی نظام ہے۔ اس میں عورت کے لیے ارادے اور عمل کی کوئی آزادی نہیں۔ تمدن اور معیشت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ وہ لڑکی ہے تو لونڈی ہے۔ بیوی ہے تو لونڈی ہے۔ ماں ہے تو لونڈی ہے۔ بیوہ ہے تو لونڈی سے بھی بد تر زندہ درگور ہے۔ اس کے حصہ میں صرف فرائض ہی فرائض ہیں، حقوق کے خانہ میں ایک عظیم الشان صفر کے سوا کچھ نہیں۔ اس نظامِ معاشرت میں عورت کو ابتدا ہی سے ایک بے زبان جانور بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ اس میں سرے سے اپنی خودی کا کوئی شعور پیدا ہی نہ ہو۔ بلاشبہ اس طریقہ سے خاندان کی بنیادوں کو بہت مضبوط کر دیا گیا اور عورت کی بغاوت کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔ لیکن جماعت کے پورے نصف حصہ کو ذلیل اور پست کرکے اس نظامِ معاشرت نے درحقیقت اپنی تعمیر میں خرابی کی ایک صورت اور بڑی ہی خطرناک صورت پیدا کر دی جس کے نتائج اب خود ہندو بھی محسوس کر رہے ہیں۔

ایک دوسری جماعت نے عورت کے مرتبے کو بلند کرنے کی کوشش کی اور اسے ارادہ و عمل کی آزادی بخشی تو اس میں اتنا غلو کیا کہ خاندان کا شیرازہ درہم برہم کر دیا۔ بیوی ہے تو آزاد، بیٹی ہے تو آزاد، بیٹا ہے تو آزاد، خاندان کا درحقیقت کوئی سر دھرا نہیں۔ کسی کو کسی پر اقتدار نہیں۔ بیوی سے شوہر نہیں پوچھ سکتا کہ تُو نے رات کہاں بسر کی۔ بیٹی سے باپ نہیں پوچھ سکتا کہ تو کس سے ملتی ہے اورکہاں جاتی ہے۔ زوجین درحقیقت دو برابر کے دوست ہیں جو مساوی شرائط کے ساتھ مل کر ایک گھر بناتے ہیں، اوراولاد کی حیثیت اس ایسوسی ایشن میں محض چھوٹے ارکان کی سی ہے۔ مزاج اور طبائع کی ایک ادنیٰ ناموافقت اس بنے ہوئے گھر کو ہر وقت بگاڑ سکتی ہے، کیوں کہ اطاعت کا ضروری عنصر، جو ہر نظم کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے، اس جماعت میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ یہ مغربی معاشرت ہے، وہی مغربی معاشرت جس کے علم برداروں کو اصول تمدن و عمران میں پیغمبری کا دعوٰی ہے۔ ان کی پیغمبری کا صحیح حال آپ کو دیکھنا ہو تو یورپ اور امریکا کی کسی عدالتِ نکاح و طلاق یا کسی عدالتِ جرائمِ اطفال (juvenile court)کی روداد اُٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ابھی حال میں انگلستان کے ہوم آفس سے جرائم کے جو اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سن لڑکوں اور لڑکیوں میں جرائم کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اس کی خاص وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ خاندان کا ڈسپلن بہت کم زور ہو گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو):

"Blue Book of Crime Statistics for 1934"

انسان اور خصوصًا عورت کی فطرت میں شرم و حیا کا جو مادہ رکھا گیا ہے اسے ٹھیک ٹھیک سمجھنے اور عملًا لباس اور طرزِ معاشرت کے اندر اس کی صحیح ترجمانی کرنے میں تو کسی انسانی تمدن کو کام یابی نہیں ہوئی۔ شرم و حیا کو انسان اور خاص کر عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے۔ مگر لباس و معاشرت میں اس کا ظہور کسی عقلی طریقے اور کسی ہموارضابطہ کی صورت میں نہیں ہوا۔ سترِ عورت کے صحیح حدود معین کرنے اور یکسانی کے ساتھ انھیں ملحوظ رکھنے کی کسی نے کوشش نہیں کی۔ مردوں اور عورتوں کے لباس اور ان کے آداب و اطوار میں حیاداری کی صورتیں کسی اصول کے تحت مقرر نہیں کی گئیں۔ معاشرت میں مرد اور مرد، عورت اور عورت، مرد اور عورت کے درمیان کشف و حجاب کی مناسب اور معقول حد بندی کی ہی نہیں گئی۔ تہذیب و شائستگی اور اخلاقِ عامہ کے نقطہ نظر سے یہ معاملہ جتنا اہم تھا، اتناہی اس کے ساتھ تغافل برتا گیا۔ اسے کچھ تو رسم و رواج پر چھوڑ دیا گیا، حالانکہ رسم و رواج اجتماعی حالات کے ساتھ بدل جانے والی چیز ہے اور کچھ افراد کے ذاتی رجحان اور انتخاب پر منحصر کر دیا، حالانکہ نہ جذبہ شرم و حیا کے اعتبار سے تمام اشخاص یکساں ہیں اور نہ ہر شخص اتنی سلامت ذوق اور صحیح قوتِ انتخاب رکھتا ہے کہ اپنے اس جذبہ کے لحاظ سے خود کوئی مناسب طریقہ اختیار کر سکے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ مختلف جماعتوں کے لباس اور معاشرت میں حیاداری اور بے حیائی کی عجیب آمیزش نظر آتی ہے جس میں کوئی عقلی مناسبت، کوئی یکسانی، کوئی ہمواری، کسی اصول کی پابندی نہیں پائی جاتی۔ مشرقی ممالک میں تو یہ چیز صرف بے ڈھنگے پن ہی تک محدود رہی، لیکن مغربی قوموں کے لباس اور معاشرت میں جب بے حیائی کا عنصر حد سے زیادہ بڑھا تو انھوں نے سرے سے شرم و حیا کی جڑ ہی کاٹ دی۔ ان کا جدید نظریہ یہ ہے کہ ’’شرم و حیا دراصل کوئی فطری جذبہ ہی نہیں ہے بلکہ محض لباس پہننے کی عادت نے اسے پیدا کر دیا ہے۔ سترِ عورت اور حیا داری کا کوئی تعلق اخلاق اور شائستگی سے نہیں ہے بلکہ وہ تو درحقیقت انسان کے داعیاتِ صنفی کو تحریک دینے والے اسباب میں سے ایک سبب [ یہ لفظ بہ لفظ وہی خیال ہے جو ویسٹر مارک نے نے اپنی کتاب The History of Human Marriage میں ظاہر کیا ہے ۔] ہے۔‘‘اسی فلسفہ بے حیائی کی عملی تفسیریں ہیں وہ نیم عریاں لباس، وہ جسمانی حسن کے مقابلے، وہ برہنہ ناچ، وہ ننگی تصویریں، وہ اسٹیج پر فاحشانہ مظاہرے، وہ برہنگی (nudism) کی روز افزوں تحریک، وہ حیوانیتِ محضہ کی طرف انسان کی واپسی۔

یہی بے اعتدالی اس مسئلہ کی دُوسری اطراف میں بھی نظر آتی ہے۔ جن لوگوں نے اَخلاق اور عصمت کو اہمیت دی انھوں نے عورت کی حفاظت ایک جان دار، ذی عقل، ذی رُوح وجود کی حیثیت سے نہیں کی، بلکہ ایک بے جان زیور، ایک قیمتی پتھر کی طرح کی اس کی تعلیم و تربیت کے سوال کو نظر انداز کر دیا۔ حالانکہ تہذیب وتمدن کی بہتری کے لیے یہ سوال عورت کے حق میں بھی اتنا ہی اہم تھا جتنا مرد کے لیے تھا۔ بخلاف اس کے جنھوں نے تعلیم و تربیت کی اہمیت کو محسوس کیا انھوں نے اَخلاق اورعصمت کی اہمیت کو نظر انداز کرکے ایک دوسری حیثیت و تہذیب کی تباہی کا سامان مہیا کر دیا۔

جن لوگوں نے فطرت کی تقسیمِ عمل کا لحاظ کیا انھوں نے تمدن و معاشرت کی خدمات میں سے صرف خانہ داری اور تربیتِ اطفال کی ذمہ داریاں عورت پر عائد کیں اور مرد پررزق مہیا کرنے کا بار ڈالا۔ لیکن اس تقسیم میں وہ توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ انھوں نے عورت سے تمام معاشی حقوق سلب کر لیے۔ وراثت میں اسے کسی قسم کا حق نہ دیا۔ ملکیت کے تمام حقوق مرد کی طرف منتقل کر دیے اور اس طرح معاشی حیثیت سے عورت کو بالکل بے دست و پا کرکے عورت اورمرد کے درمیان درحقیقت لونڈی اور آقا کا تعلق قائم کر دیا۔ اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا گروہ اُٹھا جس نے اس بے انصافی کی تلافی کرنا چاہی اور عورت کو اس کے معاشی و تمدنی حقوق دلانے کا ارادہ کیا۔ مگر یہ لوگ ایک دوسری غلطی کے مرتکب ہو گئے۔ ان کے دماغوں پرمادیت کا غلبہ تھا۔ اس لیے انھوں نے عورت کو معاشی و تمدنی غلامی سے نجات دلانے کے معنی یہ سمجھے کہ اسے بھی مرد کی طرح خاندان کا کمانے والا فرد بنا دیا جائے اورتمدن کی ساری ذمہ داریوں کے سنبھالنے میں اس کے ساتھ برابر کا شریک کیا جائے۔ مادیت کے نقطہ نظر سے اس طریقہ میں بڑی جاذبیت تھی، کیوں کہ اس سے نہ صرف مرد کا بار ہلکا ہو گیا بلکہ کسبِ معیشت میں عورت کے ساتھ شریک ہو جانے سے دولت کے حصول اور اسبابِ عیش کی فراہمی میں قریب قریب دو چند کا اضافہ بھی ہو گیا۔ مزید برآں قوم کی معاشی اور عمرانی کو چلانے کے لیے پہلے کے مقابلے میں دوگنے ہاتھ اور دوگنے دماغ مہیا ہو گئے۔ جس سے یکایک تمدن کے ارتقا کی رفتار تیز ہو گئی لیکن مادی اور معاشی پہلو کی طرف اس قدر حد سے زیادہ مائل ہو جانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے پہلو جو درحقیقت اپنی اہمیت میں اس ایک پہلو سے کچھ کم نہ تھے، ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے اور بہت سے پہلوؤں کو انھوں نے جانتے بوجھتے نظر انداز کر دیا۔ انھوں نے قانونِ فطرت کو جاننے کے باوجود قصدًا اس کی خلاف ورزی کی جس پر خود ان کی اپنی سائنٹیفک تحقیقات شہادت دے رہی ہیں۔ انھوں نے عورت کے ساتھ انصاف کرنے کا دعوٰی کیا مگر درحقیقت بے انصافی کے مرتکب ہوئے جس پر خود ان کے اپنے مشاہدات اور تجربات گواہ ہیں۔ انھوں نے عورت کو مساوات دینے کا ارادہ کیا مگردرحقیقت نامساوات قائم کربیٹھے جس کا ثبوت خود ان کے اپنے علوم و فنون فراہم کر رہے ہیں۔ انھوں نے تمدن و تہذیب کی اصلاح کرنا چاہی، مگر درحقیقت اس کی تخریب کے نہایت خوف ناک اسباب پیدا کر دیے جن کی تفصیلات خود انھی کے بیان کردہ واقعات اور خود ان کے اپنے فراہم کردہ اعداد و شمار سے ہمیں معلوم ہوئی ہیں۔ ظاہرہے کہ وہ ان حقائق سے بے خبر نہیں ہیں۔ مگر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں، یہ انسان کی کم زوری ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کے لیے قانون بنانے میں تمام مصلحتوں کی معتدل اور متناسب رعایت ملحوظ نہیں رکھ سکتا۔ ہوائے نفس اسے افراط کے کسی ایک رُخ پر بہا لے جاتی ہے اور جب وہ بہہ جاتا ہے تو بہت سی مصلحتیں اس کی نظر سے چھپ جاتی ہیں اور بہت سی مصلحتوں اور حقیقتوں کو دیکھنے اور جاننے کے باوجود وہ ان کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتا ہے، اس قصدی و ارادی اندھے پن کا ثبوت ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتے کہ خود ایک ایسے اندھے ہی کی شہادت پیش کر دیں۔ روس کا ایک ممتاز سائنس دان انتون نیملاف (Anton Nemilov)جو سو فی صدی کمیونسٹ ہے اپنی کتاب

''The Biological Tragedy of Woman'' میں سائنس کے تجربات اورمشاہدات سے خود ہی عورت اورمرد کی فطری نامساوات ثابت کرنے پر تقریباً دو سو صفحے سیاہ کرتا ہے مگر پھر خود ہی اس تمام سائنٹیفک تحقیق کے بعد لکھتا ہے:

آج کل اگر یہ کہا جائے کہ عورت کو نظامِ تمدن میں محدود حقوق دیے جائیں تو کم از کم آدمی اس کی تائید کریں گے۔ ہم خود اس تجویز کے سخت مخالف ہیں۔ مگر ہمیں اپنے نفس کو یہ دھوکا نہ دینا چاہیے کہ مساواتِ مرد و زن کو عملی زندگی میںقائم کرنا کوئی سادہ اور آسان کام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی عورت اور مرد کو برابر کر دینے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی جتنی سوویت روس میں کی گئی ہے ۔ کسی جگہ اس باب میں اس قدر غیر متعصبانہ اور فیاضانہ قوانین نہیں بنائے گئے۔ مگر اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ عورت کی پوزیشن خاندان میں بہت کم بدل سکی ہے۔‘‘ (صفحہ :۷۲)

نہ صرف خاندان بلکہ سوسائٹی میں بھی:

اب تک عورت اور مرد کی نامساوات کا تخیل، نہایت گہرا تخیل، نہ صرف ان طبقوں میں جو ذہنی حیثیت سے ادنیٰ درجہ کے ہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ سوویت طبقوں میں بھی جما ہوا ہے اور خود عورتوں میں اس تخیل کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر ان کے ساتھ ٹھیٹھ مساوات کا سلوک کیا جائے تو وہ اسے مرد کے مرتبہ سے گرا ہوا سمجھیں گی، بلکہ اسے مرد کی کم زوری اور نامردی پر محمول کریں گی۔ اگر ہم اس معاملہ میں کسی سائنٹسٹ، کسی مصنف، کسی طالب علم، کسی تاجر، یا کسی سو فی صدی کمیونسٹ کے خیالات کا تجسس کریں تو بہت جلدی یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ عورت کو وہ اپنے برابر کا نہیں سمجھتا۔ اگر ہم زمانہ حال کے کسی ناول کو پڑھیں، خواہ وہ کیسے آزاد خیال مصنف کا لکھا ہوا ہو، یقینا اس میں ہمیں کہیں نہ کہیں ایسی عبارتیں ملیں گی جو عورت کے متعلق اس تخیل کی چغلی کھا جائیں گی۔ (صفحہ ۱۹۵۔۱۹۴)

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انقلابی اصول ایک نہایت اہم صورت واقعی سے ٹکرا جاتے ہیں، یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات (biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں ہے اور دونوں پر مساوی بار نہیں ڈالا گیا ہے۔ (صفحہ:۷۷)

ایک اقتباس اور دیکھ لیجیے، پھر نتیجہ آپ خود نکال لیں گے:

سچی بات تو یہ ہے کہ تمام عمال (workers) میں صنفی انتشار (sexual anarchv) کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں، یہ ایک نہایت پر خطر حالت ہے جو سوشلسٹ نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہے، ہر ممکن طریقے سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے، کیوں کہ اس محاذ پر جنگ کرنے میں بڑی مشکلات ہیں۔ مَیں ہزارہا ایسے واقعات کا حوالہ دے سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہوانی بے قیدی (sexual licentiousness) نہ صرف ناواقف لوگوں میں بلکہ طبقہ عمال کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عقلی حیثیت سے ترقی یافتہ افراد میں پھیل گئی ہے۔(صفحہ ۲۰۳۔۲۰۲)

ان عبارتوں کی شہادت کیسی کھلی ہوئی شہادت ہے۔ ایک طرف یہ اعتراف ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان فطرت نے خود ہی مساوات نہیں رکھی، عملی زندگی میں بھی مساوات قائم کرنے کی کوششیں کام یاب نہیں ہوئیں، اور جس حد تک فطرت سے لڑ کر اس قسم کی مساوات قائم کی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فواحش کا ایک سیلاب امنڈ آیا جس سے سوسائٹی کا سارا نظام خطرہ میں پڑ گیا۔ دوسری طرف یہ دعوٰی ہے کہ نظامِ اجتماعی میں عورت کے حقوق پر کسی قسم کی حد بندیاں نہ ہونی چاہییں اور اگر ایسا کیا جائے گا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت اس امر کا ہو گا کہ انسان۔۔۔ جاہل نہیں بلکہ عالم، عاقل، نہایت باخبر انسان بھی۔۔۔ اپنے نفس کے رجحانات کا کیسا غلام ہوتا ہے کہ خود اپنی تحقیق کو جھٹلاتا ہے، اپنے مشاہدات کی نفی کرتا ہے اور ہر طرف سے آنکھیں بند کرکے ہوائے نفس کے پیچھے ایک ہی رخ پر انتہا کو پہنچ جاتا ہے، خواہ اس افراط کے خلاف اس کے اپنے علوم کتنی ہی محکم دلیلیں پیش کریں، اس کے کان کتنے ہی واقعات سن لیں اور اس کی آنکھیں کتنے ہی بُرے نتائج کا مشاہدہ کر لیں۔

<<اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــہَہٗ ہَوٰىہُ وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰي عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰي سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰي بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً۝۰ۭ فَمَنْ يَّہْدِيْہِ مِنْۢ بَعْدِ اللہِ۝۰ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَo>> الجاثیہ 23:45

"پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اسے گم راہی میں پھینک دیا اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟"