پردہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔
کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: پردہ
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔
کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔
تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
- تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
- تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
- پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
- اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
- تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
- آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟
۳۔ تحفظات
یہ اسلامی نظامِ معاشرت کا پورا خاکہ تھا۔ اب آگے بڑھنے سے پہلے اس خاکہ کی اہم خصوصیات کو پھر ایک نظر دیکھ لیجیے:
۱۔ اس نظام کا منشا یہ ہے کہ اجتماعی ماحول کو حتی الامکان شہوانی ہیجانات اور تحریکات سے پاک رکھا جائے، تاکہ انسان کی جسمانی و ذہنی قوتوں کو ایک پاکیزہ اور پرسکون فضا میں نشو و ارتقا کا موقع ملے اور وہ اپنی محفوظ اور مجتمع قوت کے ساتھ تعمیرِ تمدن میں اپنے حصے کا کام انجام دے سکے۔
۲۔ صنفی تعلقات بالکل دائرۂ ازدواج میں محدود ہوں اور اس دائرے کے باہر نہ صرف انتشارِعمل کو روکا جائے بلکہ انتشارِ خیال کا بھی امکانی حد تک سدِّباب کر دیا جائے۔
۳۔ عورت کا دائرہ عمل مرد کے دائرے سے الگ ہو، دونوں کی فطرت اور ذہنی و جسمانی استعداد کے لحاظ سے تمدن کی الگ الگ خدمات ان کے سپرد کی جائیں، اور ان کے تعلقات کی تنظیم اس طورپر کی جائے کہ وہ جائز حدود کے اندر ایک دوسرے کے مددگار ہوں، مگر حدود سے تجاوزکرکے کوئی کسی کے کام میں خلل انداز نہ ہو سکے۔
۴۔ خاندان کے نظم میں مرد کی حیثیت قوام کی ہو اور گھر کے تمام افراد صاحبِ خانہ کے تابع رہیں۔
۵۔ عورت اور مرد دونوں کو پورے انسانی حقوق حاصل ہوں، اور دونوں کو ترقی کے بہتر سے بہتر مواقع بہم پہنچائے جائیں، مگر دونوں میں سے کوئی بھی ان حدود سے تجاوز نہ کر سکے جو معاشرت میں اس کے لیے مقرر کر دی گئی ہیں۔
اس نقشے پر جس نظامِ معاشرت کی تاسیس کی گئی ہے اسے چند ایسے تحفظات کی ضرورت ہے جن سے اس کا نظم اپنی جملہ خصوصیات کے ساتھ برقرار رہے۔ اسلام میں یہ تحفظات تین قسم کے ہیں:
۱۔ اصلاحِ باطن
۲۔تعزیری قوانین
۳۔انسدادی تدابیر
یہ تینوں تحفظات نظامِ معاشرت کے مزاج اور مقاصد کی ٹھیک مناسبت ملحوظ رکھ کر تجویز کیے گئے ہیں اور مل جل کر اس کی حفاظت کرتے ہیں۔
اصلاحِ باطن کے ذریعہ سے انسان کی تربیت اس طور پر کی جاتی ہے کہ وہ خود بخود اس نظامِ معاشرت کی اطاعت پر آمادہ ہو، عام اس سے کہ خارج میں کوئی طاقت اس کی اطاعت پر مجبور کرنے والی ہو یا نہ ہو۔
تعزیری قوانین کے ذریعہ سے ایسے جرائم کا سدِّباب کیا جاتا ہے جو اس نظام کو توڑنے اور اس کے ارکان کو منہدم کرنے والے ہیں۔
انسدادی تدابیر کے ذریعہ سے اجتماعی زندگی میں ایسے طریقے رائج کیے گئے ہیں جو سوسائٹی کے ماحول کو غیر طبعی ہیجانات اور مصنوعی تحریکات سے پاک کر دیتے ہیں اور صنفی انتشار کے امکانات کو کم از کم حد تک گھٹا دیتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم سے جن لوگوں کی اصلاحِ باطن مکمل نہ ہوئی ہو اور جنھیں تعزیری قوانین کا خوف بھی نہ ہو، ان کی راہ میں یہ طریقے ایسی رکاوٹیں ڈال دیتے ہیں کہ صنفی انتشار کی جانب میلان رکھنے کے باوجود ان کے لیے عملی اقدام بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ علاوہ بریں یہی وہ طریقے ہیں جو عورت اور مرد کے دائروں کو عملًا الگ کرتے ہیں، خاندان کے نظم کو اس کی صحیح اسلامی صورت پر قائم کرتے ہیں اور ان حدود کی حفاظت کرتے ہیں جو عورتوں اور مردوں کی زندگی میں امتیاز قائم رکھنے کے لیے اسلام نے مقرر کی ہیں۔
۱۔ اصلاحِ باطن
اسلام میں اطاعتِ امر کی بنیاد کلیۃً ایمان پر رکھی گئی ہے۔ جو شخص خدا اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو وہی شریعت کے اوامر و نواہی کا اصل مخاطب ہے اور اسے اوامر کا مطیع اورنواہی سے مجتنب بنانے کے لیے صرف یہ علم ہو جانا کافی ہے کہ فلاں امر خدا کا امر ہے اور فلاں نہی خدا کی نہی ہے۔ پس جب ایک مومن کو خدا کی کتاب سے یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ فحش اوربدکاری سے منع کرتا ہے تو اس کے ایمان کا اقتضا یہی ہے کہ وہ اس سے پرہیز کرے اور اپنے دل کو بھی اس کی طرف مائل ہونے سے پاک رکھے۔ اسی طرح جب ایک مومن عورت کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے معاشرت میں اس کے لیے کیا حیثیت مقرر کی ہے تو اس کے بھی ایمان کا اقتضا یہی ہے کہ وہ برضا و رغبت اس حیثیت کو قبول کرے اور اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔ اس لحاظ سے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح اخلاق اور معاشرت کے دائرے میں بھی اسلام کے صحیح اور کامل اتباع کا مدار ایمان پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اخلاق اور معاشرت کے متعلق ہدایات دینے سے پہلے ایمان کی طرف دعوت دی گئی ہے اور دلوں میں اسے راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ تو اصلاحِ باطن کا وہ اساسی نظریہ ہے جس کا تعلق صرف اخلاقیات ہی سے نہیں بلکہ پورے نظامِ اسلامی سے ہے۔ اس کے بعد خاص کر اَخلاق کے دائرے میں اسلام نے تعلیم و تریت کا ایک نہایت حکیمانہ طریقہ اختیار کیا ہے جسے مختصرًا ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔
(1)۔حیا:
پہلے اشارتًا یہ کہا جا چکا ہے کہ زِنا، چوری، جھوٹ اور تمام دوسرے معاصی، جن کا ارتکاب فطرتِ حیوانی کے غلبہ سے انسان کرتا ہے، سب کے سب فطرتِ انسانی کے خلاف ہیں۔ قرآن ایسے تمام افعال کو منکر کے جامع لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔ ’’منکر‘‘ کا لفظی ترجمہ ’’مجہول‘‘ یا ’’غیر معروف‘‘ ہے۔ ان افعال کو منکر کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایسے افعال ہیں جن سے فطرتِ انسانی آشنا نہیں ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جب انسان کی فطرت ان سے ناآشنا ہے اور حیوانی طبیعت اس پر زبردستی ہجوم کرکے اسے ان افعال کے ارتکاب پرمجبور کرتی ہے، تو خود انسان ہی کی فطرت میں کوئی ایسی چیز بھی ہونی چاہیے جو تمام منکرات سے نفرت کرنے والی ہو۔ شارع حکیم نے اس چیز کی نشان دہی کر دی ہے۔ وہ اسے ’’حیا‘‘ سے تعبیرکرتا ہے۔
حیا کے معنی شرم کے ہیں۔ اسلام کی مخصوص اصطلاح میں حیا سے مراد وہ ’’شرم‘‘ ہے جو کسی امرِ منکر کی جانب مائل ہونے والا انسان خود اپنی فطرت کے سامنے اور اپنے خدا کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ یہی حیا وہ قوت ہے جو انسان کو فحشا اور منکر کا اقدام کرنے سے روکتی ہے اور اگر وہ جبلتِ حیوانی کے غلبہ سے کوئی بُرا فعل کر گزرتا ہے تو یہی چیز اُس کے دل میں چٹکیاں لیتی ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیم و تربیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ حیا کے اسی چھپے ہوئے مادے کو فطرتِ انسانی کی گہرائیوں سے نکال کر علم و فہم اور شعور کی غذا سے اس کی پرورش کرتی ہے اور ایک مضبوط حاسہ اخلاقی بنا کر اس کو نفسِ انسانی میں ایک کوتوال کی حیثیت سے متعین کر دیتی ہے۔ یہ ٹھیک ٹھیک اس حدیث نبوی کی تفسیر ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ
<< اِنَّ لِکُلِّ دِیْنٍ خُلُقاً وَاِنَّ خُلُقَ الْاِسْلَامِ الْحیَائُ۔>> (سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحیائ، حدیث۴۱۷۲)
ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔
اور وہ حدیث بھی اسی مضمون پر روشنی ڈالتی ہے جس میں سرورِ کائنات رسالت مابﷺ نے فرمایا:
<<اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَاشِئْتَ۔>> (صحیح البخاری، کتاب أحادیث الانبیائ، جاب حدیث الغار، حدیث۳۲۲۴)
جب تجھ میں حیا نہیں تو جو تیرا جی چاہے کر۔
کیوں کہ جب حیا نہ ہو گی تو خواہشات جس کا مبدا جبلتِ حیوانی ہے، تجھ پر غالب آ جائے گی، اورکوئی منکر تیرے لیے منکر ہی نہ رہے گا۔
انسان کی فطری حیا ایک ایسے اَن گھڑ مادے کی حیثیت رکھتی ہے جس نے ابھی کوئی صورت اختیار نہ کی ہو۔ وہ تمام منکرات سے بالطبع نفرت تو کرتی ہے مگر اس میں سوجھ بوجھ نہیں ہے، اس وجہ سے وہ نہیں جانتی کہ کسی خاص فعل منکر سے اسے کس لیے نفرت ہے، یہی نادانستگی رفتہ رفتہ اس کے احساسِ نفرت کو کم زور کر دیتی ہے حتّٰی کہ حیوانیت کے غلبہ سے انسان منکرات کا ارتکاب کرنے لگتا ہے اور اس ارتکاب کی پیہم تکرار آخر کار حیا کے احساس کو بالکل باطل کر دیتی ہے۔ اسلام کی اَخلاقی تعلیم کا مقصد اسی نادانی کو دُور کرنا ہے۔ وہ اسے نہ صرف کھلے ہوئے منکرات سے روشناس کراتی ہے، بلکہ نفس کے چور خانوں تک میں نیتوں، ارادوں اور خواہشوں کی جو بُرائیاں چھپی ہوئی ہیں انھیں بھی اس کے سامنے نمایاں کر دیتی ہے اور ایک ایک چیز کے مفسدوں سے اسے خبردار کرتی ہے تاکہ علی وجہ البصیرت اس سے نفرت کرے۔ پھراخلاقی تربیت اس تعلیم یافتہ شرم و حیا کو اس قدر حساس بنا دیتی ہے کہ منکر کی جانب سے ادنیٰ سے ادنیٰ میلان بھی اس سے مخفی نہیں رہتا اور نیت و خیال کی ذرا سی لغزش کو بھی وہ تنبیہ کیے بغیر نہیں چھوڑتی۔
اسلامی اخلاقیات میں حیا کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس سے چھوٹا ہوا نہیں ہے۔ چنانچہ تمدن و معاشرت کا جو شعبہ انسان کی صنفی زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس میں بھی اسلام نے اصلاحِ اخلاق کے لیے اسی چیز سے کام لیا ہے۔ وہ صنفی معاملات میں نفسِ انسانی کی نازک سے نازک چوریوں کو پکڑ کر حیا کو ان سے خبردار کرتا ہے اور اس کی نگرانی پر مامور کر دیتا ہے یہاں تفصیل کا موقع نہیں اس لیے ہم صرف چند مثالوں پر اکتفا کریں گے۔
(2)۔دل کے چور:
قانون کی نظر میں زِنا کا اطلاق صرف جسمانی اِتصال پر ہوتا ہے۔ مگر اخلاق کی نظر میں دائرۂ ازدواج کے باہر صنف مقابل کی جانب ہر میلان، ارادے اور نیت کے اعتبار سے زنا ہے۔ اجنبی کے حسن سے آنکھ کا لطف لینا، اس کی آواز سے کانوں کا لذت یاب ہونا، اس سے گفتگو کرنے میں زبان کا لوچ کھانا، اس کے کوچے کی خاک چھاننے کے لیے قدموں کا بار بار اُٹھنا، یہ سب زنا کے مقدمات اورخود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔ قانون اس زنا کو نہیں پکڑتا۔ یہ دل کا چور ہے اور صرف دل ہی کا کوتوال اسے گرفتار کر سکتا ہے۔ حدیث نبوی اس کی مخبری اس طرح کرتی ہے:
<<اَلْعَیْنَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَا ھُمَا النَّظَرُ وَالْیَدَانِ تْزَنیَانِ وَزِنَاھُمَا اَلْبَطْشُ وَالرِّجْلَانِ تَزْنِیَانِ وَزِنَاھُمَا الْمَشْیُ۔>> (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب مایؤمر من غض البصر، حدیث: ۱۸۴۰)
<<وزِنَا اللّسَانِ النْطْقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنّیِ وَتَشْتَھِی وَالْفَرْجُ یُصَدِّقُ ذلِکَ وَیُکَذِّبُہُ۔ >> (شعب الایمان، الباب السابع و التلاثون، حدیث ۵۴۲۷)
آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا نظر ہے اور ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا دست درازی ہے اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا اس راہ میں چلنا ہے اور زبان کا زنا گفتگو ہے اور دل کا زنا تمنا اور خواہش ہے۔ آخر میں صنفی اعضا یا تو ان سب کی تصدیق کر دیتے ہیں یا تکذیب۔
(3)۔فتنۂ نظر:
نفس کا سب سے بڑا چور نگاہ ہے، اس لیے قرآن اور حدیث دونوں سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:
<<قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ۰ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَہُمْ۰ۭ اِنَّ اللہَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَo وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ>> (النور 30-31:24)
اے نبی مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظروں کو (غیر عورتوں کی دید سے) باز رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس سے اللہ باخبر ہے۔ اور اے نبی مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ اپنی نگاہوں کو (غیر مردوں کی دید سے) باز رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔
حدیث میں ہے:
<<اِبنَ آدَمَ لَکَ اَوَّلُ نَظْرَۃٍ وَاِیِاَّکَ وَالثَّانِیَۃَ۔>> (احکام القرآن للجصاص تفسیر سورۃ النور، ج۸، ص۱۶۳)
آدمی زادے! تیری پہلی نظر تو معاف ہے مگر خبردار دوسری نظر نہ ڈالنا۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا:
<<یَاعَلیِ لَاُ تَتْبِعِ النَظَرَۃَ النَظَرَۃَ فَاِنَّ لَکَ الاُولٰی وَ لَیْسَ لَکَ الآخِرَۃُ۔>> (سنن ابوداؤد،کتاب النکاح، باب مایومربہ من غض البصرحدیث ۱۸۳۷)
اے علیؓ! ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو۔ پہلی نظر تو معاف ہے مگر دوسری نہیں۔
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ’’اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: ’’تو فورًا نظر پھیر لو۔‘‘ (ایضاً، حدیث۱۸۳۶)
(4) ۔جذبۂ نمائشِ حُسن:
اسی فتنہ نظر کا ایک شاخسانہ وہ بھی ہے جو عورت کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ اس کا حسن دیکھا جائے۔ یہ خواہش ہمیشہ جلی اور نمایاں ہی نہیں ہوتی، دل کے پردوں میں کہیں نہ کہیں نمائشِ حسن کا جذبہ چھپا ہوا ہوتا ہے اور وہی لباس کی زینت میں، بالوں کی آرائش میں، باریک اور شوخ کپڑوں کے انتخاب میں اور ایسے ایسے خفیف جزئیات تک میں اپنا اثر ظاہر کرتا ہے۔ جن کا احاطہ ممکن نہیں۔ قرآن نے ان سب کے لیے ایک جامع اصطلاح ’’تبرج جاہلیۃ‘‘استعمال کیا ہے۔ ہر وہ زینت اور ہر وہ آرائش جس کا مقصد شوہر کے سوا دوسروں کے لیے لذتِ نظر بننا ہو، تبرجِ جاہلیت کی تعریف میں آ جاتی ہے۔ اگر برقع بھی اس غرض کے لیے خوب صورت اور خوش رنگ انتخاب کیا جائے کہ نگاہیں اس سے لذت یاب ہوں تو یہ بھی تبرج جاہلیت ہے۔ اس کے لیے کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کا تعلق عورت کے اپنے ضمیر سے ہے۔ اسے خود ہی اپنے دل کا حساب لینا چاہیے کہ اس میں کہیں یہ ناپاک جذبہ تو چھپا ہوا نہیں ہے۔ اگر ہے تو وہ اس حکمِ خداوندی کی مخالفت ہے کہ
<<وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّۃِ الْاُوْلٰى>> (الاحزاب 33:33)
اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں جس بناؤ سنگار کی نمائش کرتی پھرتی تھیں وہ اب نہ کرو۔
جو آرائش ہر بُری نیت سے پاک ہو، وہ اسلام کی آرائش ہے اور جس میں ذرہ برابر بھی بُری نیت شامل ہو وہ جاہلیت کی آرائش ہے۔
(5)۔ فتنۂ زبان:
شیطان نفس کا ایک دوسرا ایجنٹ زبان ہے۔ کتنے ہی فتنے ہیں جو زبان کے ذریعہ سے پیدا ہوتے اور پھیلتے ہیں۔ مرد اور عورت بات کر رہے ہیں۔ کوئی بُرا جذبہ نمایاں نہیں ہے۔ مگر دل کاچھپا ہوا چور آواز میں حلاوت، لہجے میں لگاوٹ، باتوں میں گھلاوٹ پیدا کیے جا رہا ہے۔ قرآن اس چور کو پکڑ لیتا ہے:
<<اِنِ اتَّــقَيْتُنَّ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo>> (الاحزاب 32:33)
اگر تمھارے دل میں خداکا خوف ہے تو دبی زبان سے بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں (بدنیتی کی بیماری ہو وہ تم سے کچھ امیدیں وابستہ کر لے گا۔ بات کرو تو سیدھے سادے طریقے سے کرو۔ جس طرح انسان انسان سے بات کرتا ہے۔
یہی دل کا چور ہے جو دوسروں کے جائز یا ناجائز صنفی تعلقات کا حال بیان کرنے میں بھی مزے لیتا ہے اور سننے میں بھی۔ اس لطف کی خاطر عاشقانہ غزلیں کہی جاتی ہیں اور عشق و محبت کے افسانے جھوٹ سچ ملا کر جگہ جگہ بیان کیے جاتے ہیں اور سوسائٹی میں ان کی اشاعت اس طرح ہوتی ہے جیسے پولے پولے آنچ لگتی چلی جائے۔ قرآن اس پر بھی تنبیہ کرتا ہے:
<<اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَۃُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۰ۭ>> ( النور 19:24)
جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے گروہ میں بے حیائی کی اشاعت ہو ان کے لیے دنیا میں بھی درد ناک عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔
فتنہ زبان کے اور بھی بہت سے شعبے ہیں اور ہر شعبے میں دل کا ایک نہ ایک چور اپنا کام کرتا ہے۔ اسلام نے ان سب کا سراغ لگایا ہے اور ان سے خبردار کیا ہے۔ عورت کو اجازت نہیں کہ اپنے شوہر سے دوسری عورتوں کی کیفیت بیان کرے۔
<<لَاتُبَاشِرِ الْمَرأَۃُ الْمَرأَۃَ فَتَنْعَتَھاَ لِزوْجِھَا کَأَنَّہُ یَنْظُرُ اِلَیْھَا۔>> (صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب لا تباشر المرأۃ المرأۃ، حدیث۴۸۳۹)
عورت عورت سے خلا ملا نہ کرے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی کیفیت اپنے شوہر سے اس طرح بیان کر دے کہ گویا وہ خود اسے دیکھ رہا ہے۔
عورت او ر مرد دونوں کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ اپنے پوشیدہ ازدواجی معاملات کا حال دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کریں کیوں کہ اس سے بھی فحش کی اشاعت ہوتی ہے اور دلوں میں شوق پیدا ہوتا ہے۔ (سنن ابوداؤد کتاب النکاح، باب مایکرہ من ذکر الرجل مایکون من اصابتہ اہلہ، حدیث:۱۸۵۹)
نمازِ باجماعت میں اگر امام غلطی کرے، یا اسے کسی حادثہ پر متنبہ کرنا ہو تو مردوں کو سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے، مگر عورتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صرف دستک دیں اور زبان سے کچھ نہ بولیں۔ (سنن ابوداؤد،کتاب الصلاۃ، باب التصفیق فی الصلوۃ، حدیث:۸۰۴)
(6)۔ فتنۂ آواز:
بسا اوقات زبان خاموش رہتی ہے مگر دوسری حرکات سے سامعہ کو متاثر کیا جاتا ہے۔ اس کا تعلق بھی نیت کی خرابی سے ہے اور اسلام اس کی بھی ممانعت کرتا ہے۔
<<وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِہِنَّ۰ۭ>> (النور 31:24)
اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انھوں نے چھپا رکھی ہے (یعنی جو زیور وہ اندر پہنے ہوئے ہیں) اس کا حال معلوم ہو (یعنی جھنکار سنائی دے)
(7)۔فتنۂ خوش بو:
خوش بو بھی ان قاصدوں میں سے ایک ہے جو ایک نفسِ شریر کا پیغام دوسرے نفسِ شریر تک پہنچاتے ہیں۔ یہ خبر رسانی کا سب سے زیادہ لطیف ذریعہ ہے جسے دوسرے تو خفیف ہی سمجھتے ہیں، مگر اسلامی حیااتنی حساس ہے کہ اس کی طبع نازک پر یہ لطیف تحریک بھی گراں ہے۔ وہ ایک مسلمان عورت کو اس کی اجازت نہیں دیتی کہ خوش بو میں بسے ہوئے کپڑے پہن کر راستوں سے گزرے یا محفلوں میں شرکت کرے۔ کیوں کہ اس کا حسن اور اس کی زینت پوشیدہ بھی رہی تو کیا فائدہ، اس کی عطریت تو فضا میں پھیل کر جذبات کو متحرک کر رہی ہے۔
<<قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اَلْمَرأَۃُ اِذَا اِسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَھِیَ کَذَا وَکَذَا یَعْنِی زَانِیَۃٌ۔>> (سنن ترمذی،کتاب الا ٔدب، باب ما جاء فی کراہیۃ خروج المرأۃ، حدیث۲۷۱۰)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت عطر لگا کر لوگوں کے درمیان سے گزرتی ہے، وہ آوارہ قسم کی عورت ہے۔
<<اِذَا شَھِدَتْ اِحْدَاکُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمَسَّ طِیْباً۔>> (صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب خروج النساء إلیٰ المساجد، حدیث ۶۷۴)
جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں جائے تو خوش بو نہ لگائے۔
<<طِیْبُ الرِّجَالِ مَا ظَھَرَ رِیْحُہُ وَخَفِیَ لَوْنُہُ وَطِیْبُ النِّسَائِ مَا ظَھَرَلَونُہُ وَخَفِیَ رِیْحُہُ۔>> (سنن ترمذی، باب ما جاء فی طیب الرجال والنسا، حدیث ۲۷۱۱)
مردوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کی خوش بو نمایاں اور رنگ مخفی ہو اور عورتوں کے لیے وہ عطر مناسب ہے جس کا رنگ نمایاں اور خوش بو مخفی ہو۔
(8)۔فتنۂ عریانی:
ستر کے باب میں اسلام نے انسانی شرم و حیا کی جس قدر صحیح اورمکمل نفسیاتی تعبیر کی ہے اس کا جواب دنیا کی کسی تہذیب میں نہیں پایا جاتا۔ آج دنیا کی مہذب ترین قوموں کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے مردوں اور ان کی عورتوں کو اپنے جسم کا کوئی حصہ کھول دینے میں باک نہیں۔ ان کے ہاں لباس محض زینت کے لیے ہے ستر کے لیے نہیں ہے۔ مگر اسلام کی نگاہ میں زینت سے زیادہ ستر کی اہمیت ہے۔ وہ عورت اور مرد دونوں کو جسم کے وہ تمام حصے چھپانے کا حکم دیتا ہے جن میں ایک دوسرے کے لیے صنفی کشش پائی جاتی ہے۔ عریانی ایک ایسی ناشائستگی ہے جسے اسلامی حیا کسی حال میں بھی برداشت نہیں کرتی۔ غیر تو غیر اسلام اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہوں۔
<<اِذَا أَتٰی أَحَدُکُمْ اَھْلَہُ فَلْیَسْتَتُرْ وَلَا یَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعِیْرَیْنِ۔>> (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب التسترعند الجماع، حدیث۱۹۱۱)
جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے تو اسے چاہیے کہ ستر کا لحاظ رکھے۔ بالکل گدھوں کی طرح دونوں ننگے نہ ہو جائیں۔
<<قالت عائشۃ مَا نَظَرْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔>> (سنن ابن ماجۃ، کتاب الطھارۃ و سننھا، باب النھی اُنْ یری عورۃ اخیہ، حدیث۶۵۴)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا۔
اس سے بڑھ کر شرم و حیا یہ ہے کہ تنہائی میں بھی عریاں رہنا اسلام کو گوارا نہیں اس لیے کہ
<<اَللہُ اَحَقُّ ان یُسْتَحْیَا مِنْہُ۔>> (سنن ترمذی،کتاب الا ٔدب، باب ماجاء فی حفظ العورۃحدیث ۲۶۹۳)
اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔
حدیث میں آتا ہے کہ
<<اِیَّاکُمْ وَالتَّعَرِی فَإِنَّ مَعَکُمْ مَنْ لَّا یُفَارِقُکُمْ اِلاَّ عِنْدَ الْغَائِطِ وَحِیْنَ یُفْضِی الرَّجُلُ اِلٰی أَھْلِہِ فَاسْتَحْیُوھُمْ وَاَکْرِمُوھُمْ۔>> (سنن الترمذی، کتاب الا ٔدب، باب ماجاء فی الاستتار عندالجماع، حدیث ۲۷۲۴)
خبردار کبھی برہنہ نہ رہو کیوں کہ تمھارے ساتھ خدا کے فرشتے لگے ہوئے ہیں جو تم سے جدا نہیں ہوتے بجز ان اوقات کے جن میں تم رفع حاجت کرتے ہو یا اپنی بیویوں کے پاس جاتے ہو لہٰذا تم ان سے شرم کرو اور ان کی عزت کا لحاظ رکھو۔
اسلام کی نگاہ میں وہ لباس درحقیقت لباس ہی نہیں ہے جس میں سے بدن جھلکے اور ستر نمایاں ہو۔
<<قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نِسَائٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ مُمِیلَاتٌ، مَائِلاتٌ رُٔوسُھُنَّ کَأَسْنِمَۃِ الْبُخْتِ الْمَائِلَۃِ لَایَدْخُلْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یَجِدْنَ رِیحَھَا۔>> (صحیح مسلم، کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھاو أھلھا، باب النار یدخلھا الجبارون، حدیث ۵۰۹۸)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی رہیں اور دوسروں کو رجھائیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور بختی اونت کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کرکے چلیں وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہوں گی اور نہ اس کی بو پائیں گی۔
یہاں استیعاب مقصود نہیں۔ ہم نے صرف چند مثالیں اس غرض سے پیش کی ہیں کہ ان سے اسلام کے معیارِ اخلاق اور اس کی اخلاقی اسپرٹ کا اندازہ ہو جائے۔ اسلام سوسائٹی کے ماحول اور اس کی فضا کو فحشا و منکر کی تمام تحریکات سے پاک کر دینا چاہتا ہے۔ ان تحریکات کا سرچشمہ انسان کے باطن میں ہے۔ فحشا و منکر کے جراثیم وہیں پرورش پاتے ہیں اور وہیں سے ان چھوٹی چھوٹی تحریکات کی ابتدا ہوتی ہے جو آگے چل کر فساد کا موجب بنتی ہیں۔ جاہل انسان انھیں خفیف سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے مگر حکیم کی نگاہ میں دراصل وہی اخلاق اور تمدن و معاشرت کو تباہ کر دینے والی خطرناک بیماریوں کی جڑ ہیں۔ لہٰذا اسلام کی تعلیم اخلاقِ باطن ہی میں حیا کا اتنا زبردست احساس پیدا کر دینا چاہتی ہے کہ انسان خود اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے اور بُرائی کی جانب ادنیٰ سے ادنیٰ میلان بھی اگر پایا جائے تو اسے محسوس کرکے وہ آپ ہی اپنی قوتِ ارادی سے اس کا استیصال کرے۔
۲۔ تعزیری قوانین
اسلام کے تعزیری قوانین کا اصل الاصول یہ ہے کہ انسان کو ریاست کے شکنجہ میں اس وقت تک نہ کسا جائے جب تک وہ نظامِ تمدن کو برباد کرنے والی کسی حرکت کا بالفعل مرتکب نہ ہو جائے۔ مگر جب وہ ایسا کر گزرے تو پھر اسے خفیف سزائیں دے دے کر گناہ کرنے اور سزا بھگتنے کا خوگر بنانا درست نہیں ہے۔ ثبوتِ جرم کی شرائط بہت سخت رکھو [ اسلامی قانون شریعت میں ثبوت جرم کی شرائط عموما نہایت سخت ہیں ، مگر جرم زنا کے ثبوت کی شرطیں سب سے زیادہ سخت رکھی گئی ہیں۔ عام طور پر تمام معاملات کے لیے اسلامی قانون صرف دو گواہوں کو کافی سمجھتا ہے مگر زنا کے لیے کم از کم چار گواہ ضروری قرار دیے گئے ہیں۔]۔ لوگوں کو حدود قانون کی زد میں آنے سے جہاں تک ممکن ہو بچاؤ [ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ادرواء الحدود عن المسلمین ما استعطم فأن كان له مخرج فخلوا سبيلهم فأن الامام يخطى فى العفو خير من ان يخطى فى العقوبة (ترمذی، ابواب الحدود) مسلمانوں کو سزا سے بچاؤں جہاں تک ممکن ہو۔ اگر مجرم کے لیے برات کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو۔ کیوں کہ امام کا معاف کرنے میں غلطی کرنا اس سے بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔] مگر جب کوئی شخص قانون کی زد میں آ جائے تو اسے ایسی سزا دو کہ نہ صرف وہ خود اس جرم کے اعادہ سے عاجز ہو جائے بلکہ دوسرے ہزاروں انسان بھی جو اس فعل کی جانب اقدام کرنے والے ہوں اس عبرت ناک سزا کو دیکھ کر خوف زدہ ہو جائیں ، کیوں کہ قانون کا مقصد سوسائٹی کو جرائم سے پاک کرنا ہے۔ نہ یہ کہ لوگ بار بار جرم کریں اور بار بار سزا بھگتیں۔
نظامِ معاشرت کی حفاظت کے لیے اسلامی تعزیرات نے جن افعال کو جرم مستلزم سزا قرار دیا ہے وہ صرف دو ہیں۔ ایک زنا، دوسرے قذف (یعنی کسی پر زِنا کی تہمت لگانا)۔
(1)۔حدِّ زِنا:
زِنا کے متعلق ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں کہ اخلاقی حیثیت سے یہ فعل انسان کی پستی کا نتیجہ ہے۔ جو شخص اس کا ارتکاب کرتا ہے وہ دراصل اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ اس کی انسانیت حیوانیت سے مغلوب ہو چکی ہے اور وہ انسانی سوسائٹی کا ایک صالح رکن بن کر نہیں رہ سکتا۔ اجتماعی نقطہ نظر سے یہ ان عظیم ترین جرائم میں سے ایک ہے جو انسانی تمدن کی عین بنیاد پر حملہ کرتے ہیں۔ ان وجوہ سے اسلام نے اسے بجائے خود ایک قابلِ تعزیر گناہ قرار دیا ہے، خواہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا جرم مثلاً جبر و اکراہ یا کسی شخص غیر کی حق تلفی شریک ہو یا نہ ہو، قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ:
<<اَلزَّانِيَۃُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ۰۠ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ بِہِمَا رَاْفَۃٌ فِيْ دِيْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۰ۚ وَلْيَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَاۗىِٕفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَo>> (النور 2:24)
زِنا کار عورت اور زنا کار مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور قانونِ الٰہی کے معاملہ میں تمھیں ان پر ہرگز رحم نہ کھانا چاہیے۔ اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور جب انھیں سزا دی جائے تو مسلمانوں میں سے ایک جماعت اسے دیکھنے کے لیے حاضر رہے۔
اس باب میں اسلامی قانون اور مغربی قانون میں بہت بڑا اختلاف ہے۔ مغربی قانون زِنا کو بجائے خود کوئی جرم نہیں سمجھتا۔ اس کی نگاہ میں یہ فعل صرف اس وقت جرم ہوتا ہے جب کہ اس کا اِرتکاب جبر و اکراہ کے ساتھ کیا جائے یا کسی ایسی عورت کے ساتھ کیا جائے جو دوسرے شخص کے نکاح میں ہو۔ بالفاظ دیگر اس قانون کے نزدیک زنا خود جرم نہیں ہے بلکہ جرم دراصل جبر یا حق تلفی ہے۔ بخلاف اس کے اسلامی قانون کی نظر میں یہ فعل خود ایک جرم ہے اور جبر و اکراہ یا حقِ غیر میں مداخلت سے اس پر ایک اور جرم کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس بنیادی اختلاف کی وجہ سے سزا کے باب میں بھی دونوں کے طریقے مختلف ہو جاتے ہیں۔ مغربی قانون زنا بالجبر میں صرف سزائے قید پر اکتفا کرتا ہے اور منکوحہ عورت کے ساتھ زنا کرنے پر عورت کے شوہر کو صرف تاوان کا مستحق قرار دیتا ہے۔ یہ سزا جرم کو روکنے والی نہیں بلکہ لوگوں کو اور جرأت دلانے والی ہے۔ اسی لیے ان ممالک میں جہاں یہ قانون رائج ہے، زنا کا ارتکاب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلامی قانون زنا پر ایسی سخت سزا دیتا ہے جو سوسائٹی کو اس جرم اور ایسے مجرموں سے ایک مدت کے لیے پاک کر دیتی ہے جن ممالک میں زنا پر یہ سزا دی گئی ہے وہاں اس فعل کا ارتکاب کبھی عام نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ حد شرعی جاری ہو جائے، پھر پورے ملک کی آبادی پر ایسی ہیبت چھا جاتی ہے کہ برسوں تک کوئی شخص اس کے ارتکاب کی جرأت نہیں کر سکتا۔ یہ مجرمانہ میلانات رکھنے والوں کے ذہن پر ایک طرح کا نفسیاتی اپریشن ہے۔ جس سے ان کے نفس کی خود بخود اصلاح ہو جاتی ہے۔
مغربی ضمیر سو کوڑوں کی سزا پر نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ انسان کو جسمانی تکلیف پہنچاناپسند نہیں کرتا بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کے اخلاقی شعور کی نشوونما ابھی تک ناقص ہے۔ وہ زنا کو پہلے صرف ایک عیب سمجھتا تھا اور اب اسے محض ایک کھیل، ایک تفریح سمجھتا ہے جس سے دو انسان تھوڑی دیر کے لیے اپنا دل بہلا لیتے ہیں اس لیے وہ چاہتا ہے کہ قانون اس فعل سے رواداری برتے اور اس وقت تک کوئی باز پرس نہ کرے جب تک کہ زانی دُوسرے شخص کی آزادی یا اس کے قانونی حقوق میں خلل انداز نہ ہو۔ پھر اس میں خلل اندازی کی صورت میں بھی وہ اسے ایسا جرم سمجھتا ہے جس سے بس ایک ہی شخص کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، اس لیے معمولی سزا یا تاوان اس کے نزدیک ایسے جرم کی کافی سزا ہے۔
ظاہر ہے کہ جو شخص زنا کا یہ تصور رکھتا ہو وہ اس فعل پر سو کوڑوں کی سزا کو ایک ظالمانہ سزا ہی سمجھے گا۔ مگر جب اس کا اخلاقی و اجتماعی شعور ترقی کرے گا اور اسے معلوم ہو گا کہ زنا خواہ بالرضا ہو یا بالجبر اور خواہ بیاہی ہوئی عورت کے ساتھ ہو یا بن بیاہی کے ساتھ، بہرحال وہ ایک اجتماعی جرم ہے اور پوری سوسائٹی پر اس کے نقصانات عائد ہوتے ہیں، تو سزا کے متعلق بھی اس کا نظریہ خود بخود بدل جائے گا۔ اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ سوسائٹی کو ان نقصانات سے بچانا ضروری ہے اور چوں کہ زِنا کی تحریک کرنے والے اسباب انسان کی حیوانی جبلت میں نہایت گہری جڑیں رکھتے ہیں اور ان جڑوں کو محض قید و بند اور مالی تاوان کے زور سے نہیں اکھاڑا جا سکتا، لہٰذا اس کا سدباب کرنے کے لیے شدید تدابیر استعمال کیے بغیر چارہ نہیں۔ ایک شخص یا دو شخصوں کو شدید جسمانی آزار پہنچا کر لاکھوں اشخاص کو بے شمار اخلاقی اور عمرانی مضرتوں سے بچا دینا اس سے بہتر ہے کہ مجرموں کو تکلیف سے بچا کر ان کی پوری قوم کو ایسے نقصانات میں مبتلا کیا جائے جو آنے والی بے گناہ نسلوں تک بھی متوارث ہونے والے ہوں۔
سو کوڑوں کی سزا کو ظالمانہ سزا قرار دینے کی ایک وجہ اور بھی ہے جو مغربی تہذیب کی بنیادوں پر غور کرنے سے بآسانی سمجھ میں آ سکتی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، اس تہذیب کی ابتدا ہی جماعت کے مقابلہ میں فرد کی حمایت کے جذبہ سے ہوئی ہے اور اس کا سارا خمیر انفرادی حقوق کے ایک مبالغہ آمیز تصور سے تیار ہوا ہے۔ اس لیے فرد خواہ جماعت پر کتنا ہی ظلم کرے، اہلِ مغرب کو کچھ زیادہ ناگوار نہیں ہوتا، بلکہ اکثر حالات میں وہ اسے بخوشی گوارا کر لیتے ہیں۔ البتہ جماعتی حقوق کی حفاظت کے لیے جب فرد پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو ان کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں اور ان کی ساری ہم دردیاں جماعت کی بجائے فرد کے ساتھ ہوتی ہیں۔ علاوہ بریں تمام اہلِ جاہلیت کی طرح جاہلیت مغرب کے پیروؤں کی بھی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ معقولات کی بجائے محسوسات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جو نقصان ایک فرد پرمترتب ہوتا ہے وہ چوں کہ محدود شکل میں محسوس طور پر ان کے سامنے آتا ہے اس لیے وہ اسے ایک امر عظیم سمجھتے ہیں۔ بخلاف اس کے وہ اس نقصان کی اہمیت کا ادراک نہیں کر سکتے۔ جو وسیع پیمانہ پر تمام سوسائٹی اور اس کی آیندہ نسلوں کو پہنچتا ہے، کیوں کہ وہ اپنی وسعت اور اپنی دور رسی کی بنا پر محسوس نہیں ہوتاے۔
(2)۔حدِ قذف:
زنا کے جونقصانات ہیں انھی سے ملتے جلتے نقصانات تہمتِ زنا (قذف) کے بھی ہیں کہ یہ شریف عورت پرزنا کی جھوٹی تہمت لگانا تنہا اسی کے لیے بدنامی کا موجب نہیں بلکہ اس سے خاندانوں میں دشمنی پھیلتی ہے، انساب مشتبہ ہوتے ہیں، ازدواجی تعلقات میں خرابی واقع ہوتی ہے اور ایک شخص محض ایک مرتبہ زبان ہلا کر بیسیوں انسانوں کو برسوں کے لیے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ قرآن نے اس جرم کے لیے بھی سخت سزا تجویز کی ہے:
<<وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَاۗءَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَۃً وَّلَا تَــقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا۰ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَo>> (النور 4:24)
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں پھر چار گواہ اس کے ثبوت میں پیش نہ کریں، انھیں اسّی (۸۰) کوڑے لگاؤ اور آیندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، ایسے لوگ خود ہی بدکار ہیں۔
۳۔ انسدادی تدابیر
اس طرح اسلام کا قانون فوج داری اپنی سیاسی طاقت سے ایک طرف تو بدکاری کو زبردستی روک دیتا ہے اور دوسری طرف سوسائٹی کے شریف ارکان کو بد نیت لوگوں کی بدزبانی سے بھی محفوظ کر دیتا ہے۔ اسلام کی اخلاقی تعلیم انسان کو اندر سے درست کرتی ہے تاکہ اس میں بدی اور گناہ کی طرف رجحان ہی پیدا نہ ہو اور اس کا تعزیری قانون اسے باہر سے دُرُست کرتا ہے تاکہ اَخلاقی تربیت کے ناقص رہ جانے سے اگر اس قسم کے رُجحانات پیدا ہو جائیں، اور قوت سے فعل میں آنے لگیں، تو انھیں بجبر روک دیا جائے۔ ان دونوں تدبیروں کے درمیان چند مزید تدبیریں اس غرض کے لیے اختیار کی گئی ہیں کہ اصلاحِ باطن کی اخلاقی تعلیم کے لیے مددگار ہوں۔ ان تدبیروں سے نظامِ معاشرت کو اس طرح درست کیا گیا ہے کہ اخلاقی تربیت کے نقائص سے جو کم زوریاں افراد جماعت میں باقی رہ جائیں انھیں ترقی کرنے اور قوت سے فعل میں آنے کا موقع ہی نہ مل سکے، سوسائٹی میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جائے جس میں بُرے میلانات کو نشوونما دینے والی آب و ہوا مفقود ہو، ہیجان انگیز تحریکات ناپید ہوں۔ صنفی انتشار کے اسباب انتہائی حد تک کم ہو جائیں اور ایسی تمام صورتوں کا سدِّباب ہو جائے جن سے نظامِ تمدن میں برہمی پیدا ہونے کا امکان ہو۔
اب ہم تفصیل کے ساتھ ان تدبیروں میں سے ایک ایک کو بیان کرتے ہیں۔
(1)۔لباس اور ستر کے احکام:
احکامِ معاشرت کے سلسلہ میں اسلام کا پہلا کام یہ ہے کہ اس نے برہنگی کا استیصال کیا اور مردوں اور عورتوں کے لیے ستر کے حدود مقرر کر دیے۔ اس معاملہ میں عرب جاہلیت کا جو حال تھا، آج کل کی مہذب ترین قوموں کا حال اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ وہ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف ننگے ہو جاتے تھے [حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مسئور بن محزمہ ایک پتھر اٹھائے آرہے تھے۔ راستہ میں تہ بند کھل کر گر پڑا اور وہ اسی حال میں پتھر اٹھائے چلے آئے ۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا کہ جاؤ پہلے اپنا جسم ڈھانکو اور ننگے نہ پھرا کرو۔
(مسلم، باب الاعتناء تحفظ العوره)]۔ غسل اور قضائے حاجت میں پردہ کرنا ان کے نزدیک غیرضروری تھا۔ کعبہ کا طواف بالکل برہنہ ہو کر کیا جاتا تھا اور اسے ایک اچھی عبادت سمجھا جاتا تھا [ابن عباس ، مجاہد، طاؤس اور زہری کی متفقہ روایت ہے کہ اہل مکہ کعبہ کا طواف برہنگی کی حالت میں کیا کرتے تے تھے ۔ ]۔ عورتیں تک طواف کے وقت برہنہ ہو جاتی تھیں [مسلم کتاب التفسیر میں عرب کی یہ رسم بیان کی گئی ہے کہ ایک عورت برہنہ ہو کر طواف کرتی ، پھر حاضرین سے کہتی کہ کون مجھے ایک کپڑا دیتا ہے کہ میں اس سے اپنا بدن ڈھانکوں ۔ اس طرح مانگنے والی کو کپڑا دینا ایک ثواب کا کام سمجھا جاتا تھا۔]۔ ان کی عورتوں کا لباس ایسا تھا جس میں سینے کا کچھ حصہ کھلا رہتا تھا اور بازو، کمر اور پنڈلیوں کے بعض حصے کھل جاتے تھے [تفسير كبير آية وليضربن بخمر هن على جيوبهن.]۔ بالکل یہی کیفیت آج یورپ، امریکا اور جاپان کی بھی ہے اور مشرقی ممالک میں بھی کوئی دوسرا نظامِ معاشرت ایسا نہیں ہے جس میں کشف و ستر کے حدود باقاعدہ مقرر کیے گئے ہوں۔
اسلام نے اس باب میں انسان کو تہذیب کا پہلا سبق سکھایا۔ اس نے بتایا کہ:
<<يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۰ۭ >> (الاعراف 26:7)
اے اولادِ آدم اللہ نے تم پر لباس اسی لیے اتارا ہے کہ تمھارے جسموں کو ڈھانکے اور تمھارے لیے موجبِ زینت ہو۔
اس آیت کی رو سے جسم ڈھانکنے کو ہر مرد و عورت کے لیے فرض کر دیا گیا۔ نبی اکرم ﷺ نے سخت احکام دیے کہ کوئی شخص کسی کے سامنے برہنہ نہ ہو۔
<<مَلْعُونٌ مَنْ نَظَرَ اِلٰی سَوْأَۃَ اَخِیْہِ ۔ >> (احکام القرآن للجصاص، سورۃ الاعراف)
ملعون ہے وہ جو اپنے بھائی کے ستر پر نظر ڈالے۔
<<لَایَنْظُر الرَّجُلُ اِلٰی عَورَۃِ الرَّجُلِ وَلَا الْمَرأَۃُ اِلٰی عَورَۃِ الْمَرأَۃِ۔>> (صحیح مسلم،کتاب الحیض، باب تحریم النظر الی العورات، حدیث:۵۱۲)
کوئی مرد کسی مرد اور کوئی عورت کسی عورت کو برہنہ نہ دیکھے۔
<<لَأَنْ اَخِرَّ مِنَ السَّمَائِ فَانْقَطَعَ نِصْفَینِ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ أَنظُرَ اِلٰی عَورَۃِ أَحدٍ أَوْیَنْظُرَ اَحَدٌ اِلٰی عَورَتِی۔>> (المبسوط، کتاب الاستحسان، باب النظر الی الا ٔجنبیات)
خدا کی قسم! مَیں آسمان سے پھینکا جاؤں اور میرے دو ٹکڑے ہو جائیں، یہ میرے لیے زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ میں کسی کے پوشیدہ مقام کو دیکھوں یا کوئی میرے پوشیدہ مقام کو دیکھے۔
<<اِیَّاکُمْ وَالتَّعْرِی فَاِنَّ مَعَکُمْ مَنْ لَا یُفَارِقُکُمْ اِلاَّ عِنْدَ الْغَائِطِ وَحِیْنَ یَفْضِی الرَّجُلُ اِلٰی اَھْلِہِ۔>> (سنن ترمذی،کتاب الا ٔدب، باب ما جاء فی الاستتارعند الجماع، حدیث۲۷۲۴)
خبردار کبھی برہنہ نہ رہو، کیوں کہ تمھارے ساتھ وہ ہے جو تم سے کبھی جدا نہیں ہوتا، سوائے قضائے حاجت اور مباشرت کے وقت کے۔
<<إِذَا أَتٰی اَحَدُکُمْ اَھْلَہُ فَلْیَسْتَتُرْ وَلَا یَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَیْرَینِ۔>> (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب التستر عند الجماع، حدیث ۱۹۱۱)
جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو اس وقت بھی ستر ڈھانکے اور بالکل گدھوں کی طرح ننگا نہ ہو جائے۔
ایک مرتبہ آں حضرت ﷺ زکوٰۃ کے اونٹوں کی چراگاہ میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ چرواہا جنگل میں ننگا لیٹا ہے۔ آپ نے اسی وقت اسے معزول کر دیا اور فرمایا:
<<لَایَعْمَلُ لَنَا مَنْ لَا حَیَاَئ لَہُ ۔ >> (المبسوط، کتاب الاستحسان، باب النظر إلی الا ٔجنبیات)
جو شخص بے شرم ہے وہ ہمارے کسی کام کا نہیں۔
(2)۔مردوں کے لیے ستر کے حدود:
ا ن احکام کے ساتھ عورتوں اور مردوں کے لیے جسم ڈھانکنے کے حدود بھی الگ الگ مقرر کیے گئے۔ اصطلاحِ شرعی میں جسم کے اُس حصہ کو ستر کہتے ہیں جس کا ڈھانکنا فرض ہے۔ مرد کے لیے ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ ’’ستر‘‘ قرار دیا گیا ہے اور حکم دیا گیا کہ اسے نہ کسی کے سامنے کھولیں اور نہ کسی دوسرے شخص کے اس حصہ پر نظر ڈالیں۔
<<عن ابی ایوب الانصاری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مَافَوْقَ الرُّکْبَتَینِ مِنَ الْعَوَرۃِ وَمَا اَسْفَلَ مِنَ السُّرَّۃِ مِنَ الْعَورَۃِ۔>>
(سنن الدارقطنی، کتاب الصلاۃ، باب الا ٔمر بتعلیم الصلوات، حدیث:۹۰۲)
حضرت ابو ایوب الانصاریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کچھ گھٹنے کے اوپر ہے وہ چھپانے کے لائق ہے اور جو کچھ ناف کے نیچے ہے وہ چھپانے کے لائق ہے۔
<<عَوْرَۃُ الرَّجُلِ مَابَیْنَ سُرَّتِہِ اِلِیٰ رُکْبَتِہِ ۔>> (المبسوط، ج۱۰، ص۲۵۱)
مرد کے لیے ناف سے گھٹنے تک کا حصہ چھپانے کے لائق ہے۔
<<عَنْ عَلِیّ ابْنِ اَبیِ طَالِبٍ عَنِ النَّبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاتَبْرُزْ فَخِذَکَ وَلَاتَنْظُرْ؟ اِلٰی فَخِذِ حَیّ وَلَامَیّتٍ۔>> ( سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز، باب فی ستر المیت عند غسلہ، حدیث۳۱۴۰)
حضرت علیؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی ران کو کسی کے سامنے نہ کھول اور نہ کسی زندہ شخص یا مردہ شخص کی ران پر نظر ڈال۔
<<اِحْفَظْ عَورَتَکَ اِلاَّ مِنْ زَوْجَتِکِ أَوْمَامَلَکَتْ یَمِیْنُکَ۔>> (سنن ابی داؤد، کتاب الحمام، باب ماجائ فی التعری، حدیث ۳۵۰۱)
اپنے ستر کی حفاظت کرو بجز اپنی بیویوں اور ان لونڈیوں کے جو تمھارے تصرف میں ہوں۔
(3)۔عورتوں کے لیے ستر کے حدود:
عورتوں کے لیے ستر کے حدود اس سے زیادہ وسیع رکھے گئے ہیں۔ انھیں حکم دیا گیا کہ اپنے چہرے اور ہاتھوں کے سوا تمام جسم کو تمام لوگوں سے چھپائیں۔ اس حکم میں باپ، بھائی اور تمام رشتہ دار مرد شامل ہیں اور شوہر کے سوا کوئی مرد اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔
<<لَا یَحِلُّ لِامْأَۃٍ تُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِر اَنْ تَخْرُجَ یَدَیْھَا اِلاَّ اِلٰی ھٰھُنَا وَقَبَضَ نِصْفَ الذِرَاعِ۔ >> (تفسیر ابن جریرتفسیر سورہ النور، آیت۳۱)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے: یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی کے نصف حصہ پر ہاتھ رکھا۔
<<اَلْجَارِیَۃُ اِذَا حَاضَتْ لَمْ یُصْلِحْ اَن یُّرٰی مِنْھَا اِلاَّ وَجْھَھَا وَیَدَھَا اِلَی الْمَفْصَلِ۔>> (فتح القدیر، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ التی تتقد مھا)
جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آنا چاہیے سوائے چہرہ ا ور کلائی کے جوڑ تک ہاتھ کے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن الطفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے ناپسند کیا۔
مَیں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ یہ تو میرا بھتیجا ہے۔ حضور اکرم ﷺنے فرمایا:
<<إِذَا عَرَقَتْ الْمَرْأۃُ لَمْ یَحِلُّ لَھَا اَنْ تُظْھِرَاِلاَّ وَجْھَھَا وَاِلاَّ مَادُونَ ھٰذَا وَقَبَضَ عَلٰی ذِرَاعِ نَفْسِہِ فَتَرَکَ بَیْنَ بَیْنَ قَبْضَتِہِ وَبَیْنَ الْکَفِّ مِثْلَ قَبْضَتِہِ اُخْرٰی۔>> (تفسیرابن جریرالنور: ۳۱)
جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے مقام کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔
حضرت اسما بنت ابی بکرؓ جو آں حضرت ﷺ کی سالی تھیں ، ایک مرتبہ آپ کے سامنے باریک لباس پہن کر حاضر ہوئیں اس حال میں کہ جسم اندر سے جھلک رہا تھا۔ حضوراکرم ﷺ نے فورًا نظر پھیر لی اور فرمایا:
<<یَااَسْمائُ اِنَّ الْمَرْأَۃَ اِذَا بَلَغَتْ الْمَحِیْضَ لَمْ یُصْلِحْ أَنْ یُریٰ مِنْھَا اِلاَّ ھٰذَا وَھٰذَا وَاَشَارَاِلٰی وَجْھِہِ وَکَفِّہِ۔>> ( فتح القدیر کتاب الکراھیۃ، فصل فی الوط ئ و النظر و اللمس)
اے اسما عورت جب سنِ بلوغ کو پہنچ جائے تو دُرُست نہیں کہ اس کے جسم میں سے کچھ دیکھا جائے بجز اس کے اور اس کے۔ یہ کہہ کر آپ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔
حفصہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ وہ ایک باریک دوپٹا اوڑھے ہوئے تھیں۔ حضرت عائشہؓ نے اسے پھاڑ دیا اور ایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈالی۔
(موطا امام مالک کتاب الجامع، باب مایکرہ اللنسائ لبسہ من الثیاب، حدیث۱۴۲۰)
نبی اکرم ﷺ کا اِرشاد ہے کہ
<<لَعَنَ اللہُ الْکَاسِیَاتِ الْعَارِیَاتِ۔>> (المبسوط، کتاب الاستحسان، باب النظرإ لیٰ الا ٔجنبیات)
اللہ کی لعنت ہے اُن عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی کی ننگی رہیں۔
حضرت عمرؓ کا ارشاد ہے کہ اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہو جائے۔ (المبسوط، کتاب الاستحسان‘ باب النظرإلیٰ الاجنبیات)
ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کے سوا عورت کا پورا جسم ستر میں داخل ہے جسے اپنے گھر میں اپنے قریب ترین عزیزوں سے بھی چھپانا اس پر واجب ہے۔ وہ شوہر کے سوا کسی کے سامنے اپنے ستر کو نہیں کھول سکتی، خواہ وہ اس کا باپ، بھائی یا بھتیجا ہی کیوں نہ ہو۔ حتّٰی کہ وہ ایسا باریک لباس بھی نہیں پہن سکتی جس میں ستر نمایاں ہوتا ہو۔
اس باب میں جتنے احکام ہیں وہ سب جوان عورت کے لیے ہیں۔ ستر کے احکام اس وقت سے عائد ہوتے ہیں جب سے عورت سنِ رشد کے قریب پہنچ جائے، اور اس وقت تک نافذ رہتے ہیں جب تک اس میں صنفی کشش باقی رہے۔ اس عمر سے گزر جانے کے بعد ان میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ہے:
<<وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَہُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍؚبِزِيْنَۃٍ۰ۭ وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّہُنَّ۰ۭ>> (النور 60:24)
اور بوڑھی عورتیں جو نکاح کی امید نہیں رکھتیں اگر اپنے دوپٹے اتار رکھا کریں تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی نمائش مقصود نہ ہو اور اگر وہ احتیاط رکھیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے۔
یہاں تخفیف کی علت صاف بیان کر دی گئی ہے۔ نکاح کی امید باقی نہ رہنے سے ایسی عمر مراد ہے جس میں صنفی خواہشات فنا ہو جاتی ہیں اور کوئی کشش بھی باقی نہیں رہتی۔ تاہم مزید احتیاط کے طورپر یہ شرط لگا دی گئی کہ زینت کی نمائش مقصود نہ ہو۔ یعنی اگر صنفی خواہشات کی ایک چنگاری بھی سینہ میں باقی ہو تو دوپٹا وغیرہ اُتار کر بیٹھنا دُرُست نہیں۔ تخفیف صرف ان بوڑھیوں کے لیے ہے جنھیں سن رسیدگی نے لباس کی قیود سے بے پروا کر دیا ہو اور جن کی طرف بجز احترام کی نظروں کے اور کسی قسم کی نظریں اٹھنے کا کوئی امکان نہ ہو۔ ایسی عورتیں گھر میں بغیر دوپٹے اور اوڑھنی کے بھی رہ سکتی ہیں۔
(4)۔استیذان:
اس کے بعد دوسری حد یہ قائم کی گئی کہ گھر کے آدمیوں کو بلا اطلاع اچانک گھروں میں داخل ہونے سے منع کر دیا تاکہ عورتوں کو کسی ایسے حال میں نہ دیکھیں جس میں مردوں کو نہیں دیکھنا چاہیے۔
<<وَاِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَاْذِنُوْا كَـمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۰ۭ>> ( النور 59:24)
اور جب تمھارے لڑکے سنِ بلوغ کو پہنچ جائیں تو چاہیے کہ وہ اسی طرح اجازت لے کر گھر میں آئیں جس طرح ان کے بڑے ان سے پہلے اجازت لے کر آتے تھے۔
یہاں بھی علتِ حکم پر روشنی ڈال دی گئی ہے۔ استیذان کی حد اسی وقت شروع ہوتی ہے جب کہ صنفی احساس پیدا ہو جائے۔ اس سے پہلے اجازت مانگنا ضروری نہیں۔
اس کے ساتھ غیر لوگوں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل نہ ہوں:
<<يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَاتَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَہْلِہَا۰ۭ>> (النور 27:24)
اے اہلِ ایمان! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک کہ اہلِ خانہ سے پوچھ نہ لو اور جب داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو۔
اصل مقصد اندرونِ خانہ اور بیرونِ خانہ کے درمیان حد بندی کرنا ہے تاکہ اپنی خانگی زندگی میں عورتیں اور مرد اجنبیوں کی نظروں سے محفوظ رہیں۔ اہلِ عرب ابتدا میں ان احکام کی علت کو نہ سمجھ سکے، اس لیے بسا اوقات وہ گھر کے باہر سے گھروں میں جھانک لیتے تھے۔ ایک مرتبہ خود آں حضرت ﷺ کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا۔ آپ اپنے حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ ایک شخص نے تاب دان میں سے جھانکا۔ اس پر آپ نے فرمایا: ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تُو جھانک رہا ہے تو مَیں تیری آنکھ میں کوئی چیز چبھو دیتا۔ استیذان کا حکم تو نظروں سے بچانے ہی کے لیے دیا گیا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری،کتاب الاستیذان ،باب الاستیذان من اجل البصر، حدیث:5772)
اس کے بعد آپ نے اعلان فرمایا کہ ’’اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں بِلا اجازت دیکھے تو گھر والوں کو حق ہے کہ اس کی آنکھ پھوڑ دیں۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الاداب ، باب تحریم النظر فی بیت غیرہ، حدیث:4013)
پھر اجنبی مردوں کو حکم دیا گیا کہ کسی دوسرے کے گھر سے کوئی چیز مانگنا ہو تو گھر میں نہ چلے جائیں بلکہ باہر پردے کی اوٹ سے مانگیں:
<<وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْـَٔــلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَاۗءِ حِجَابٍ۰ۭ ذٰلِكُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ۰ۭ>> (الاحزاب 53:33)
اور جب تم عورتوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو۔ اس میں تمھارے دلوں کے لیے بھی پاکیزگی ہے اور ان کے دلوں کے لیے بھی۔
یہاں بھی حد بندی کے مقصد پر <<ذٰلِكُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ۰ۭ>> (الاحزاب 53:33) سے پوری روشنی ڈال دی گئی ہے۔ عورتوں اور مردوں کو صنفی میلانات اور تحریکات سے بچانا ہی اصل مقصود ہے اور یہ حدبندیاں اسی لیے کی جا رہی ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان خلا ملا اور بے تکلفی نہ ہونے پائے۔
یہ احکام صرف اجانب ہی کے لیے نہیں بلکہ گھر کے خدام کے لیے بھی ہیں۔ چنانچہ روایت میں آیا ہے کہ حضرت بلال یا حضرت انسؓ نے سیّدہ فاطمہؓ سے آپ کے کسی بچے کو مانگا تو آپ نے پردے کے پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر دیا۔ حالانکہ یہ دونوں حضور نبی اکرم ﷺ کے خدامِ خاص تھے اور آپ کے پاس گھر والوں کی طرح رہتے تھے۔ (فتح القدیر)
(5)۔تخلیہ اور لمس کی ممانعت:
تیسری حد بندی یہ کی گئی کہ شوہر کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے پاس نہ تخلیہ میں رہے اور نہ اس کے جسم کو مس کرے، خواہ وہ قریب ترین عزیز ہی کیوں نہ ہو:
<<عن عقبۃ بن عامر اَنَّ رَسُولَ اللہِ قَالَ اِیَّاکُمْ وَالدُّخُولَ عَلٰی النِّسَائِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ یَارَسُولَ اللہِ اَفَرَأَیْتَ الْحَمْوَ قَالَ اَلْحَمْوُالْمَوتُ۔>>
(صحیح البخاری،کتاب النکاح، باب لا یدخلون رجل بامرائۃ الاذو محرم۔صحیح مسلم، باب تحریم الخلو بالاجنبیہ، حدیث: ۴۸۳۱)
عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: خبردار عورتوں کے پاس تنہائی میں نہ جاؤ۔ انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یارسول اللہ ؐ! دیور اور جیٹھ کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ فرمایا: ’’وہ موت ہے۔‘‘
<<لَاتَلِجُوْا عَلی الْمُغِیْبَاتِ فَإِنَّ الشَّیْطٰنَ یَجْرِی مِنْ اَحَدِکُمْ مَجْرَی الدَّمِ۔>>
(سنن الترمذی، کتاب الرضاع ، باب کراہیۃ الدخول علی المغیبات، حدیث ۱۰۹۲)
شوہروں کی غیر موجودگی میں عورتوں کے پاس نہ جاؤ کیوں کہ شیطان تم میں سے کسی کے اندر خون کی طرح گردش کر رہا ہے۔
<<عَنْ عَمْروا بْنِ عَاصٍ قَالَ نَھَانَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْخُلَ عَلٰی النِّسَائَ بِغَیرِ اِذْنِ اَزْوَاجِھِنَّ۔>>
(سنن ترمذی،کتاب الا ٔدب، باب فی النہی عن الدخول علی النساإلا باذن ازواجہن حدیث: ۲۷۰۳)
عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں عورتوں کے پاس ان کے شوہروں کی اجازت کے بغیر جانے سے منع فرما دیا۔
<<لَایَدْ خُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ یَومِی ھَذَا عَلٰی مُغِیْبَۃِ اِلَّامَعَہَ رَجُلٌ اَوْاِثْنَانِ۔>>
(صحیح مسلم،کتاب السلام، باب تحریم الخلوۃ الاجنبیۃ حدیث۴۰۳۹)
آج کے بعد سے کوئی شخص کسی عورت کے پاس اس کے شوہر کے غیاب میں نہ جائے تاوقتیکہ اس کے ساتھ ایک دو آدمی اور نہ ہوں۔ایسے ہی احکام لمس کے متعلق بھی ہیں:
<<قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم منَ مَسَّ کَفَّ اِمْرَأۃٍ لَیْسَ مِنْھَا بِسَبِیْلٍ وَضَعَ عَلٰی کَفَّہِ جَمْرَۃً یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ>> (نصب الرایۃ، ج۸،ص۱۰۹)
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی عورت کا ہاتھ چھوئے گا جس کے ساتھ اس کا جائز تعلق نہ ہو، اس ہتھیلی پر قیامت کے روز انگارا رکھا جائے گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ عورتوں سے صرف زبانی اقرار لے کر بیعت لیا کرتے تھے، ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں نہ لیتے تھے۔ آپ نے کبھی ایسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا جو آپ کے نکاح میں نہ ہو۔
(صحیح البخاری،کتاب الا ٔحکام، باب بیعۃ النسا۔صحیح مسلم،کتاب الامارۃ، باب کیفیۃ بیعۃ النسائ،حدیث:۶۶۷۴ )
امیمہ بن رقیقہ کا بیان ہے کہ میں چند عورتوں کے ساتھ حضور اکرم ﷺ سے بیعت کرنے حاضر ہوئی۔ آپ ؐ نے ہم سے اقرار لیا کہ شرک، چوری، زِنا، بہتان تراشی و افترا پردازی، اور نبی کی نافرمانی سے احتراز کرنا۔ جب اقرار ہو چکا تو ہم نے عرض کیا کہ تشریف لائیے تاکہ ہم آپ ؐ سے بیعت کریں۔ آپ ؐ نے فرمایا۔ میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، صرف زبانی اقرار کافی ہے۔ (سنن النسائی ،کتاب البیعۃ، باب بیعۃ النسا، حدیث۴۱۱۰)
یہ احکام بھی صرف جوان عورتوں کے لیے ہیں۔ سِن رسیدہ عورتوں کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا جائز ہے اور انھیں چھونا بھی ممنوع نہیں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر ؓ کے متعلق منقول ہے کہ وہ ایک قبیلہ میں جاتے تھے جہاں انھوں نے دودھ پیا تھا اور آپ اس قبیلہ کی بوڑھی عورتوں سے مصافحہ کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ کے متعلق یہ روایت ہے کہ وہ ایک بوڑھی عورت سے پاؤں اور سر دبوا لیا کرتے تھے۔ یہ امتیاز جو بوڑھی اور جوان عورتوں کے درمیان کیا گیا ہے، خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دراصل دونوں صنفوں کے درمیان ایسے اختلاط کو روکنا مقصود ہے جو فتنے کا سبب بن سکتا ہے۔
(6)۔محرموں اور غیر محرموں کے درمیان فرق:
یہ تو وہ احکام تھے جن میں شوہر کے سوا تمام مرد شامل ہیں خواہ وہ محرم ہوں یا غیر محرم۔ عورت ان میں سے کسی کے سامنے اپنا ستر، یعنی چہرے اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ نہیں کھول سکتی۔ بالکل اسی طرح جس طرح مرد کسی کے سامنے اپنا ستر یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا حصہ نہیں کھول سکتا۔ سب مردوں کو گھروں میں اجازت لے کر داخل ہونا چاہیے اور ان میں سے کسی کا عورت کے پاس خلوت میں بیٹھنا یا اس کے جسم کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔ [ جسم کو ہاتھ لگانے کے معاملہ میں محرموں اور غیر محرم مردوں کے درمیان کافی فرق ہے۔ بھائی اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر اسے سواری پر چڑھا یا اُتار سکتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ بات کسی غیر مرد کے لیے نہیں ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ سلم جب کبھی سفر سے واپس آتے تو حضرت فاطمہ کو گلے لگا کر ملکر کا بوسہ لیتے ۔ اسی طرح حضرت ابوبکر حضرت عائشہ کے سر کا بوسہ لیتے تھے۔]
اس کے بعد محرموں اور غیر محرموں کے درمیان تفریق کی جاتی ہے۔ قرآن اور حدیث میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ آزادی اور بے تکلفی کے کون سے مدارج ایسے ہیں جو صرف محرم مردوں کے سامنے برتے جا سکتے ہیں اور غیر محرم مردوں کے سامنے برتنے جائز نہیں ہیں۔ یہی چیز ہے جسے عرفِ عام میں پردہ یا حجاب سے تعبیرکیا جاتا ہے۔