مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پردہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔

کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔

کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: پردہ

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔

کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔

تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
  2. تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
  3. تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
  4. پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
  5. اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
  6. تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  7. عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
  8. آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟

۵۔ تعلقِ زَوجین کی صحیح صورت

خاندان کی تاسیس اور صنفی انتشار کا سدِّباب کرنے کے بعد ایک صالح تمدن کے لیے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نظامِ معاشرت میں مرد اور عورت کے تعلق کی صحیح نوعیت متعین کی جائے، ان کے حقوق ٹھیک ٹھیک عدل کے ساتھ مقررکیے جائیں، ان کے درمیان ذمہ داریاں پوری مناسبت کے ساتھ تقسیم کی جائیں اور خاندان میں ان کے مراتب اور وظائف کا تقرر اس طور پر ہو کہ اعتدال اور توازن میں فرق نہ آنے پائے۔ تمدن کے جملہ وسائل میں یہ مسئلہ سب سے زیادہ پیچیدہ ہے، مگر انسان کو اس گتھی کے سلجھانے میں اکثر ناکامی ہوئی ہے۔

بعض قومیں ایسی ہیں جن میں عورت کو مرد پر قوام بنایا گیا ہے۔ مگر ہمیں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ اس قسم کی قوموں سے کوئی قوم تہذیب و تمدن کے کسی اعلیٰ مرتبہ پرپہنچی ہو۔ کم از کم تاریخی معلومات کے ریکارڈ میں تو کسی ایسی قوم کا نشان پایا نہیں جاتا جس نے عورت کو حاکم بنایا ہو پھر دنیا میں عزت اور طاقت حاصل کی ہو یا کوئی کارِ نمایاں انجام دیا ہو۔

بیش تر اقوامِ عالم نے مرد کو عورت پر قوام بنایا، مگر اس ترجیح نے اکثر ظلم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ عورت کو لونڈی بنا کر رکھا گیا۔ اس کی تذلیل و تحقیر کی گئی۔ اسے کسی قسم کے معاشی اورتمدنی حقوق نہ دیے گئے۔ اسے خاندان میں ایک ادنیٰ خدمت گار اور مرد کے لیے آلۂ شہوت رانی بنا کر رکھا گیا اور خاندان سے باہر عورتوں کے ایک گروہ کو کسی حد تک علم اور تہذیب کے زیوروں سے آراستہ کیا بھی گیا تو صرف اس لیے کہ وہ مردوں کے صنفی مطالبات زیادہ دلاویز طریقے سے پورا کریں، ان کے لیے اپنی موسیقی سے لذتِ گوش اور اپنے رقص اور ناز و ادا سے لذتِ نظر اور اپنے صنفی کمالات سے لذتِ جسم بن جائیں۔ یہ عورت کی توہین و تذلیل کا سب سے زیادہ شرم ناک طریقہ تھا جو مرد کی نفس پرستی نے ایجاد کیا، اور جن قوموں نے یہ طریقہ اختیار کیا وہ خود بھی نقصان سے نہ بچ سکیں۔

جدید مغربی تمدن نے تیسرا طریقہ اختیارکیا ہے۔ یعنی یہ کہ مردوں اور عورتوں میں مساوات ہو، دونوں کی ذمہ داریاں یکساں اور قریب قریب ایک ہی طرح کی ہوں، دونوں ایک ہی حلقہ عمل میں مسابقت کریں، دونوں اپنی روزی آپ کمائیں اور اپنی ضروریات کے آپ کفیل ہوں۔ معاشرت کی تنظیم کا یہ قاعدہ ابھی تک پوری طرح تکمیل کو نہیں پہنچا ہے۔ کیوں کہ مرد کی فضیلت و برتری اب بھی نمایاں ہے، زندگی کے کسی شعبہ میں بھی عورت مرد کی ہم پلہ نہیں ہے اور اسے وہ تمام حقوق حاصل نہیں ہوئے ہیں جو کامل مساوات کی صورت میں اسے ملنے چاہییں۔ لیکن جس حد تک بھی مساوات قائم کی گئی ہے اس نے ابھی سے نظامِ تمدن میں فساد برپا کر دیا ہے۔ اس سے پہلے ہم تفصیل کے ساتھ اس کے نتائج بیان کر چکے ہیں لہٰذا یہاں اس پر مزید تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ تینوں قسم کے تمدن، عدل، توازُن اور تناسب سے خالی ہیں کیوں کہ انھوں نے فطرت کی راہ نمائی کو سمجھنے اور ٹھیک ٹھیک اس کے مطابق طریقہ اختیار کرنے میں کوتاہی کی ہے۔ اگر عقلِ سلیم سے کام لے کر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ فطرت خود ان مسائل کا صحیح حل بتا رہی ہے۔ بلکہ یہ بھی دراصل فطرت ہی کی زبردست طاقت ہے جس کے اثر سے عورت نہ تو اس حد تک گر سکی جس حد تک اسے گرانے کی کوشش کی گئی اور نہ اس حد تک بڑھ سکی جس حد تک اس نے بڑھنا چاہا یا مرد نے اسے بڑھانے کی کوشش کی۔ افراط اور تفریط کے دونوں پہلو انسان نے غلط اندیش عقل اور اپنے بہکے ہوئے تخیلات کے اثر سے اختیار کیے ہیں۔ مگر فطرتِ عدل اور تناسب چاہتی ہے اور خود اس کی صورت بناتی ہے۔

اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان ہونے میں مرد اور عورت دونوں مساوی ہیں۔ دونوں نوعِ انسانی کے دو مساوی حصے ہیں۔ تمدن کی تعمیر اور تہذیب کی تاسیس و تشکیل اور انسانیت کی خدمت میں دونو ںبرابر کے شریک ہیں۔ دل، دماغ، عقل، جذبات، خواہشات اور بشری ضروریات دونوں رکھتے ہیں۔ تمدن کی صلاح و فلاح کے لیے دونوں کی تہذیب نفس، دماغی تربیت اور عقلی و فکری نشوونما یکساں ضروری ہے تاکہ تمدن کی خدمت میں ہر ایک اپنا پورا پورا حصہ ادا کر سکے۔ اس اعتبار سے مساوات کا دعوٰی بالکل صحیح ہے اور ہر صالح تمدن کا فرض یہی ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی اپنی فطری استعداد اور صلاحیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ترقی کرنے کا موقع دے۔ انھیں علم اور اعلیٰ تربیت سے مزین کرے، انھیں بھی مردوں کی طرح تمدنی و معاشی حقوق عطا کرے اور انھیں معاشرت میں عزت کا مقام بخشے تاکہ ان میں عزتِ نفس کا احساس پیدا ہو اور ان کے اندر وہ بہترین بشری صفات پیدا ہو سکیں جو صرف عزتِ نفس کے احساس ہی سے پیدا ہو سکتی ہیں۔ جن قوموں نے اس قسم کی مساوات سے انکار کیا ہے، جنھوں نے اپنی عورتوں کو جاہل، ناتربیت یافتہ، ذلیل اور حقوقِ مدنیت سے محروم رکھا ہے، وہ خود پستی کے گڑھے میں گر گئی ہیں، کیوں کہ انسانیت کے پورے نصف حصہ کو گرا دینے کے معنی خود انسانیت کو گراں دینے کے ہیں۔ ذلیل ماؤں کی گودیوں سے عزت والے، اور ناتربیت یافتہ ماؤں کی آغوش سے اعلیٰ تربیت والے اور پست خیال ماؤں کے گہوارے سے اُونچے خیال والے انسان نہیں نکل سکتے۔

لیکن مساوات کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں کا حلقہ عمل ایک ہی ہو، دونوں ایک ہی طرح سے کام کریں، دونوں پر زندگی کے تمام شعبوں کی ذمہ داریاں یکساں عائد کر دی جائیں اور نظامِ تمدن میں دونوں کی حیثیتیں بالکل ایک سی ہوں۔ اس کی تائید میں سائنس کے مشاہدات اور تجربات سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ عورت اور مرد اپنی جسمانی استعداد اور قوت کے لحاظ سے مساوی (equipotential) ہیں مگر صرف یہ امر کہ ان دونوں میں اس قسم کی مساوات پائی جاتی ہے، اس امر کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ فطرت کا مقصود بھی دونوں سے ایک ہی طرح کے کام لینے ہیں۔ ایسی رائے قائم کرنا اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا۔ جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ دونوں کے نظامِ جسمانی بھی یکساں ہیں۔ دونوں پر فطرت نے ایک ہی جیسی خدمات کا بار بھی ڈالا ہے اور دونوں کی نفسی کیفیات بھی ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ انسان نے اب تک جتنی سائنٹیفک تحقیقات کی ہیں ان سے ان تینوں تنقیحات کا جواب نفی میں ملتا ہے۔

علم الحیات (biology) کی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ عورت اپنی شکل و صورت اور ظاہری اعضا سے لے کر جسم کے ذرات اور نسیجی خلا یا (protein molecules of tissue cells) تک ہر چیز میں مرد سے مختلف ہے۔ جس وقت رحم میں بچے کے اندر صنفی تشکیل (sex formation) واقع ہوتی ہے اسی وقت سے دونوں صنفوں کی جسمانی ساخت بالکل ایک دوسرے سے مختلف صورت میں ترقی کرتی ہے۔ عورت کا پورا نظام جسمانی اس طور پر بنایا جاتا ہے کہ وہ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کے لیے مستعد ہو۔ ابتدائی جنینی تشکیل سے لے کر سنِ بلوغ تک اس کے جسم کی پوری نشوونما اسی استعداد کی تکمیل کے لیے ہوتی ہے اور یہی چیز اس کی آیندہ زندگی کا راستہ متعین کرتی ہے۔

بالغ ہونے پر ایامِ ماہواری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے اثر سے اس کے جسم کے تمام اعضا کی فعلیت متاثر ہو جاتی ہے۔ اکابرِ فنِ حیاتیات و عضویات کے مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایامِ ماہواری میں عورت کے اندر حسبِ ذیل تغیرات ہوتے ہیں:

(۱) جسم میں حرارت کو روکنے کی قوت کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے حرارت زیادہ خارج ہوتی ہے اور درجہ حرارت گر جاتا ہے۔

(۲) نبض سست ہو جاتی ہے۔ خون کا دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ خلایائے دم [blood cells] کی تعداد میں فرق واقع ہو جاتا ہے۔

(۳) درُونِ افرازی غدد (endocrines)گلے کی گلٹیوں (tonsils) اور غدد لمفاوی (lymphatic glands)میں تغیر واقع ہو جاتا ہے۔

(۴) پروٹینی تحول (protein metabolism) میں کمی آ جاتی ہے۔

(۵) فاسفیٹس اور کلورائیڈس کے اخراج میں کمی اور ہوائی تحول (gaseous metabolism)میں انحطاط رونما ہوتا ہے۔

(۶) ہضم میں اختلاط واقع ہوتا ہے اور غذا کے پروٹینی اجزا اور چربی کے جزو بدن بننے میں کمی ہو جاتی ہے۔

(۷) تنفس کی قابلیت میں کمی اور گویائی کے اعضا میں خاص تغیرات واقع ہوتے ہیں۔

(۸) عضلات میں سستی اور احساسات میں بلادت آ جاتی ہے۔

(۹) ذہانت اور خیالات کو مرکوز کرنے کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔

یہ تغیرات ایک تن دُرُست عورت کو بیماری کی حالت سے اس قدر قریب کردیتے ہیں کہ درحقیقت اس وقت صحت اور مرض کے درمیان کوئی واضح خط کھینچنا مشکل ہوتا ہے۔ سو (۱۰۰) میں سے بمشکل تیئس عورتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں ایامِ ماہواری بغیر کسی درد اور تکلیف کے آتے ہوں۔ ایک مرتبہ ۱۰۲۰ عورتوں کو بلا انتخاب لے کر ان کے حالات کی تحقیق کی گئی تو ان میں ۸۴ فی صدی ایسی نکلیں جنھیں ایامِ ماہواری میں درد اور دوسری تکلیفوں سے سابقہ پیش آتا تھا۔

ڈاکٹر امیل نووک جو اس شعبہ علم کا بڑا محقق ہے، لکھتا ہے:

’’حائضہ عورتوں میں عموماً جو کیفیات پائی جاتی ہیں وہ یہ ہیں:

دَردِ سر، تکان، اعضا شکنی، اعصابی کم زوری، طبیعت کی پستی، مثانہ کی بے چینی، ہضم کی خرابی، بعض حالات میں قبض، کبھی کبھی متلی اور قے۔ اچھی خاصی تعداد ایسی عورتوں کی ہے جن کی چھاتیوں میں ہلکا سا درد ہوتا ہے اور کبھی کبھی وہ اتنا شدید ہو جاتا ہے کہ ٹیسیں سی اُٹھتی معلوم ہوتی ہیں۔ بعض عورتوں کا غدّہ ورقہ (تھائی رائڈ) اس زمانہ میں سوج جاتا ہے جس سے گلا بھاری ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات فتورِ ہضم کی شکایت ہوتی ہے اوراکثر سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کریگر نے جتنی عورتوں کا معاینہ کیا ہے ان میں سے آدھی ایسی تھیں جنھیں ایامِ ماہواری میں بدہضمی کی شکایت ہو جاتی تھی اور آخری دنوں میں قبض ہو جاتا تھا۔ ڈاکٹر گب ہارڈ کا بیان ہے کہ ایسی عورتیں بہت کم مشاہدہ میں آئی ہیں جنھیں زمانۂ حیض میں کوئی تکلیف نہ ہوتی ہو۔ بیش تر ایسی ہی دیکھی گئی ہیں جنھیں دردِ سر، تکان، زیر ناف درد اور تھوک کی کمی لاحق ہوتی ہے۔ طبیعت میں چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے اور رونے کو جی چاہتاہے۔‘‘

ان حالات کے اعتبار سے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ ایامِ ماہواری میں ایک عورت دراصل بیمار ہوتی ہے۔ یہ ایک بیماری ہی ہے جو اسے ہر مہینہ لاحق ہوتی رہتی ہے۔

ان جسمانی تغیرات کا اثر لامحالہ عورت کے ذہنی قوٰی اور اس کے افعال اعضا پر بھی پڑتا ہے۔ ۱۹۰۹ء میں ڈاکٹر (Voicechevsky) نے گہرے مشاہدہ کے بعد یہ نتیجہ ظاہر کیا تھا کہ اس زمانے میں عورت کے اندر مرکزیت خیال اور دماغی محنت کی طاقت کم ہو جاتی ہے پروفیسر (Krschiskersky)نفسیاتی مشاہدات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس زمانہ میں عورت کا نظامِ عصبی نہایت اشتعال پزیر ہو جاتا ہے۔ احساسات میں بلادت اور ناہمواری پیدا ہو جاتی ہے۔ مرتب انعکاسات کو قبول کرنے کی صلاحیت کم اور بسا اوقات باطل ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ پہلے سے حاصل شدہ مرتب انعکاسات میں بھی بد نظمی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے وہ افعال بھی درست نہیں رہتے جن کی وہ اپنی روز مرہ زندگی میں خوگر ہوتی ہے۔ ایک عورت جو ٹرام کی کنڈکٹر ہے اس زمانہ میں غلط ٹکٹ کاٹ دے گی اور ریز گاری گننے میں الجھے گی۔ ایک موٹر ڈرائیور عورت گاڑی آہستہ اورڈرتے ڈرتے چلائے گی اور ہر موڑ پر گھبرائے گی۔ ایک لیڈی ٹائپسٹ غلط ٹائپ کرے گی، دیرمیں کرے گی۔ کوشش کے باوجود الفاظ چھوڑ جائے گی، غلط جملے بنائے گی، کسی حرف پر انگلی مارنا چاہے گی اور ہاتھ کسی پر جا پڑے گا۔ ایک بیرسٹر عورت کی قوتِ استدلال درست نہ رہے گی اور اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں اس کا دماغ اور اس کی قوتِ بیان دونوں غلطی کریں گے۔ ایک مجسٹریٹ عورت کی قوتِ فہم اور قوتِ فیصلہ دونوں متاثر ہو جائیں گی۔ ایک دندان ساز عورت کو اپنا کام کرتے وقت مطلوبہ اوزار مشکل سے ملیں گے۔ ایک گانے والے عورت اپنے لہجہ اور آواز کی خوبی کو کھو دے گی حتّٰی کہ ایک ماہر نطقیات محض آواز سن کر بتا دے گا کہ گانے والی اس وقت حالتِ حیض میں ہے۔ غرض یہ کہ اس زمانہ میں عورت کے دماغ اور اعصاب کی مشین بڑی حد تک سست اور غیر مرتب ہو جاتی ہے، اس کے اعضا پوری طرح اس کے ارادے کے تحت عمل نہیں کر سکتے، بلکہ اندر سے ایک اضطراری حرکت اس کے ارادے پر غالب آ کر اس کی قوتِ ارادی اور قوتِ فیصلہ کو ماؤف کر دیتی ہے۔ اس سے مجبورانہ افعال سرزد ہونے لگتے ہیں۔ اس حالت میں اس کی آزادی عمل باقی نہیں رہتی اور وہ کوئی ذمہ دارانہ کام کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔

پروفیسر لاپنسکی (Lapinsky) اپنی کتاب (The Development of Personality in Woman) میں لکھتا ہے کہ زمانۂ حیض عورت کو اس کی آزادیٔ عمل سے محروم کر دیتا ہے۔ وہ اس وقت اضطراری حرکات کی غلام ہوتی ہے اور اس میں بالارادہ کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی قوت بہت کم ہو جاتی ہے۔

یہ سب تغیرات ایک تن دُرُست عورت میں ہوتے ہیں اور بآسانی ترقی کرکے مرض کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ریکارڈ پر ایسے واقعات بکثرت موجود ہیں کہ اس حالت میں عورت دیوانی سی ہو جاتی ہے۔ ذرا سے اشتعال پر غضب ناک ہو جانا، وحشیانہ اور احمقانہ حرکات کر بیٹھنا، حتّٰی کہ خود کشی تک کر گزرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ڈاکٹرکرافت ایبنگ (Kraft Ebing) لکھتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو عورتیں نرم مزاج، سلیقہ مند اور خوش خلق ہوتی ہیں ان کی حالت ایامِ ماہواری کے آتے ہی یکایک بدل جاتی ہے۔ یہ زمانہ ان کے اوپر گویا ایک طوفان کی طرح آتا ہے۔ وہ چڑچڑی، جھگڑالو اور کٹ کھنی ہو جاتی ہیں۔ نوکر، بچے اور شوہر سب ان سے نالاں ہوتے ہیں۔ حتّٰی کہ وہ اجنبی لوگوں سے بھی بُری طرح پیش آتی ہیں بعض دوسرے اہلِ فن گہرے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ عورتوں سے اکثر جرائم حالتِ حیض میں سرزد ہوتے ہیں کیوں کہ وہ اس وقت اپنے قابو میں نہیں ہوتیں۔ ایک اچھی خاصی نیک عورت اس زمانہ میں چوری کر گزرے گی اور بعد میں خود اسے اپنے فعل پر شرم آئے گی۔۔۔ وائن برگ (Weinberg) اپنے مشاہدات کی بنا پر لکھتا ہے کہ خود کشی کرنے والی عورتوں میں ۵۰ فی صدی ایسی پائی گئی ہیں جنھوں نے حالتِ حیض میں یہ فعل کیا ہے۔ اسی بِنا پر ڈاکٹر کرافت ایبنگ کی رائے یہ ہے کہ بالغ عورتوں پر جب کسی جرم کی پاداش میں مقدمہ چلایا جائے توعدالت کو اس امر کی تحقیق کر لینی چاہیے کہ جرم کہیں حالتِ حیض میں تو نہیں کیا گیا۔

ایامِ ماہواری سے بڑھ کر حمل کا زمانہ عورت پر سخت ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ریپریف (Reprev) لکھتا ہے کہ حمل کے زمانہ میں عورت کے جسم سے فضلات کا اخراج بسا اوقات فاقہ زدگی کی حالت سے بھی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں عورت کے قوٰی کسی طرح بھی جسمانی اور دماغی محنت کا وہ بار نہیں سنبھال سکتے جو حمل کے ماسوا دوسرے ایام میں سنبھال سکتے ہیں۔ جو حالات اس زمانہ میں عورت پر گزرتے ہیں وہ اگر مرد پر گزریں یا غیر زمانہ حمل میں خود عورت پر گزریں تو قطعی بیماری کا حکم لگا دیا جائے۔ اس زمانہ میں کئی مہینے تک اس کا نظامِ عصبی مختل رہتا ہے۔ اس کا دماغی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کے تمام عناصر روحی ایک مسلسل بدنظمی کی حالت میں ہوتے ہیں۔ وہ مرض اور صحت کے درمیان معلق رہتی ہے اور ایک ادنیٰ سی وجہ اسے بیماری کی سرحد میں پہنچا سکتی ہے۔ ڈاکٹر فشر کا بیان ہے کہ ایک تن درست عورت بھی حمل کے زمانہ میں سخت نفسی اضطراب میں مبتلا رہتی ہے۔ اس میں تلون پیدا ہو جاتا ہے، خیالات پریشان رہتے ہیں، ذہن پراگندہ ہوتا ہے۔ شعور، غور و فکر اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت بہت کم ہو جاتی ہے۔ ہیولاک ایلیس اور البرٹ مول اور بعض دوسرے ماہرین کی متفقہ رائے یہ ہے کہ زمانۂ حمل کا آخری ایک مہینا تو ہرگز اس قابل نہیں ہوتا کہ اس میں عورت سے کوئی جسمانی یا دماغی محنت لی جائے۔

وضع حمل کے بعد متعدد بیماریوں کے رونما ہونے اور ترقی کرنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ زچگی کے زخم زہریلے اثرات قبول کرنے کے لیے مستعد رہتے ہیں۔ قبلِ حمل کی حالت پر واپس جانے کے لیے اعضا میں ایک حرکت شروع ہوتی ہے جو سارے نظامِ جسمانی کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ اگر کوئی خطرہ بھی نہ پیش آئے تب بھی اسے اپنی اصلی حالت پر آنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ اس طرح استقرارِ حمل کے بعد سے پورے ایک سال تک عورت درحقیقت بیمار یا کم از کم نیم بیمار ہوتی ہے اور اس کی قوتِ کارکردگی عام حالات کی بہ نسبت آدھی بلکہ اس سے بھی کم رہ جاتی ہے۔

پھر رضاعت کا زمانہ ایسا ہوتا ہے جس میں درحقیقت وہ اپنے لیے نہیں جیتی بلکہ اُس امانت کے لیے جیتی ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کی ہے۔ اس کے جسم کا جوہر اس کے بچے کے لیے دودھ بنتا ہے۔ جو کچھ غذا وہ کھاتی ہے اس میں صرف اس قدر حصہ اس کے جسم کو ملتا ہے جس قدر اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے باقی سب کا سب دودھ کی پیدائش میں صرف ہوتا ہے۔

اس کے بعد ایک مدتِ دراز تک بچہ کی پرورش، نگاہ داشت اور تربیت پر اسے تمام تر توجہ صرف کرنا پڑتی ہے۔

موجودہ زمانہ میں مسئلہ رضاعت کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ بچوں کو خارجی غذاؤں پر رکھا جائے۔ لیکن یہ کوئی صحیح حل نہیں ہے اس لیے کہ فطرت نے بچہ کی پرورش کا جو سامان ماں کے سینے میں رکھ دیا ہے اس کا صحیح بدل اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ بچے کو اس سے محروم کرنا ظلم اور خود غرضی کے سوا کچھ نہیں۔ تمام ماہرینِ فن اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کی صحیح نشوونما کے لیے ماں کے دودھ سے بہتر کوئی غذا نہیں ہے۔

اسی طرح تربیتِ اطفال کے لیے نرسنگ ہوم اور تربیت گاہ اطفال کی تجویزیں نکالی گئی ہیں تاکہ مائیں اپنے بچوں سے بے فکر ہوکر بیرون خانہ کے مشاغل میں منہمک ہو سکیں۔ لیکن کسی نرسنگ ہوم اور کسی تربیت گاہ میں شفقتِ مادری فراہم نہیں کی جا سکتی۔ طفولیت کا ابتدائی زمانہ جس محبت اور جس دردمندی و خیر سگالی کا محتاج ہے وہ کرایہ کی پالنے پوسنے والیوں کے سینے میں کہاں سے آ سکتا ہے۔ تربیتِ اطفال کے یہ جدید طریقے ابھی تک آزمودہ نہیں ہیں۔ ابھی تک وہ نسلیں پھل پھول بھی نہیں لائیں جو بچے پالنے کے ان نئے کارخانوں میں تیار کی گئی ہیں۔ ابھی تک ان کی سیرت ان کے اخلاق، ان کے کارنامے دنیا کے سامنے نہیں آئے ہیں کہ اس تجربہ کی کام یابی و ناکامی کے متعلق کوئی رائے قائم کی جا سکے۔ لہٰذا اس طریقے کے متعلق یہ دعوٰی کرنا قبل از وقت ہے کہ دنیا نے ماں کی آغوش کا صحیح بدل پا لیا ہے۔ کم از کم اس وقت تو یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ بچہ کی فطری تربیت گاہ اس کی ماں کی آغوش ہی ہے۔

اب یہ بات ایک معمولی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر عورت اور مرد دونوں کی جسمانی اور دماغی قوت و استعداد بالکل مساوی بھی ہے۔ تب بھی فطرت نے دونوں پرمساوی بار نہیں ڈالا ہے۔ بقائے نوع کی خدمت میں تخم ریزی کے سوا اور کوئی کام مرد کے سپرد نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد وہ بالکل آزاد ہے۔ زندگی کے جس شعبہ میں چاہے کام کرے۔ بخلاف اس کے اس خدمت کا پورا بار عورت پر ڈال دیا گیا ہے۔ اسی بار کے سنبھالنے کے لیے اسے اس وقت سے مستعد کیا جاتا ہے جب کہ وہ ماں کے پیٹ میں محض ایک مضغۂ گوشت ہوتی ہے۔ اس کے لیے اس کے جسم کی ساری مشین موزوں کی جاتی ہے۔ اس کے لیے اس پر جوانی کے پورے زمانے میں ایامِ ماہواری کے دورے آتے ہیں جو ہر مہینے میں تین سے لے کر سات یا دس دن اسے کسی بڑی ذمہ داری کا بار سنبھالنے اور کوئی اہم جسمانی یا دماغی محنت کرنے کے قابل نہیں رکھتے۔ اسی کے لیے اس پر حمل اور مابعد حمل کا پورا ایک سال سختیاں جھیلتے گزرتا ہے جس میں وہ درحقیقت نیم جاں ہوتی ہے۔ اسی کے لیے اس پر رضاعت کے پورے دو سال اس طرح گزرتے ہیں کہ وہ اپنے خون سے انسانیت کی کھیتی کو سینچتی ہے اور اسے اپنے سینے کی نہروں سے سیراب کرتی ہے۔ اسی کے لیے اس پر بچے کی ابتدائی پرورش کے کئی سال اس محنت و مشقت میں گزرتے ہیں کہ اس پر رات کی نیند اور دن کی آسائش حرام ہوتی ہے اور وہ اپنی راحت، اپنے لطف، اپنی خوشی، اپنی خواہشات، غرض ہر چیز کو آنے والی نسل پر قربان کر دیتی ہے۔

جب حال یہ ہے تو غور کیجیے کہ عدل کا تقاضا کیا ہے؟ کیا عدل یہی ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجا آوری کا بھی مطالبہ کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے اور پھر ان تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اس پر مرد کے برابر ڈال دیا جائے جنھیں سنبھالنے کے لیے مرد فطرت کی تمام ذمہ داریوں سے آزاد رکھا گیا ہے؟ اس سے کہا جائے کہ تو وہ ساری مصیبتیں بھی برداشت کر جو فطرت نے تیرے اوپر ڈالی ہیں اور پھر ہمارے ساتھ آ کر روزی کمانے کی مشقتیں بھی اٹھا، سیاست، عدالت، صنعت و حرفت، تجارت و زراعت، قیامِ امن اور مدافعتِ وطن کی خدمتوں میں بھی برابرکا حصہ لے، ہماری سوسائٹی میں آ کر ہمارا دل بھی بہلا اور ہمارے لیے عیش و مسرت اور لطف و لذت کے سامان بھی فراہم کر؟ یہ عدل نہیں ظلم ہے، مساوات نہیں صریح نامساوات ہے۔ عدل کا تقاضا تو یہ ہونا چاہیے کہ جس پر فطرت نے بہت زیادہ بار ڈالا ہے اسے تمدن کے ہلکے اور سبک کام سپرد کیے جائیں اور جس پر فطرت نے کوئی با رنہیں ڈالا اس پر تمدن کی اہم اور زیادہ محنت طلب ذمہ داریوں کا بار ڈالا جائے اور اسی کے سپرد یہ خدمت بھی کی جائے کہ وہ خاندان کی پرورش اور اس کی حفاظت کرے۔

صرف یہی نہیں کہ عورت پر بیرون خانہ کی ذمہ داریاں ڈالنا ظلم ہے۔ بلکہ درحقیقت وہ ان مردانہ خدمات کو انجام دینے کی پوری طرح اہل بھی نہیں ہے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ ان کاموں کے لیے وہی کارکن موزوں ہو سکتے ہیں جن کی قوتِ کارکردگی پائدار ہو، جومسلسل اور علی الدوام اپنے فرائض کو یکساں اہلیت کے ساتھ انجام دے سکتے ہوں اور جن کی دماغی و جسمانی قوتوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہو۔ لیکن جن کارکنوں پر ہمیشہ ہر مہینا ایک کافی مدت کے لیے عدم اہلیت یا کمی اہلیت کے دورے پڑتے ہوں اور جن کی قوتِ کارکردگی بار بار معیارِ مطلوب سے گھٹ جایا کرتی ہو، وہ کس طرح ان ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں؟ اس فوج یا اس بحری بیڑے کی حالت کا اندازہ کیجیے جو عورتوں پرمشتمل ہو اور جس میں عین موقع کار زار پرکئی فی صدی ایام ماہواری کی وجہ سے نیم بے کار ہو رہی ہوں، ایک اچھی خاصی تعداد زچگی کی حالت میں بستروں پر پڑی ہو، اور ایک معتدبہ جماعت حاملہ ہونے کی وجہ سے ناقابلِ کار ہو رہی ہو۔ فوج کی مثال کو آپ کہہ دیں گے کہ یہ زیادہ سخت قسم کے فرائض سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر پولیس، عدالت، انتظامی محکمے، سفارتی خدمات، ریلوے، صنعت و حرفت اور تجارت کے کام، ان میں سے کس کی ذمہ داریاں ایسی ہیں جو مسلسل قابلِ اعتماد کارکردگی کی اہلیت نہ چاہتی ہوں، پس جو لوگ عورتوں سے مردانہ کام لینا چاہتے ہیں ان کا مطلب شاید یہ ہے کہ یا تو سب عورتوں کو ناعورت بنا کر نسلِ انسانی کا خاتمہ کر دیا جائے یا یہ کہ ان میں سے چند فی صدی لازمًا ناعورت بننے کی سزا کے لیے منتخب کی جاتی رہیں یا یہ کہ تمام معاملاتِ تمدن کے لیے اہلیت کا معیار بالعموم گھٹا دیا جائے۔

مگر خواہ آپ ان میں سے کوئی صورت بھی اختیار کریں، عورت کو مردانہ کاموں کے لیے تیار کرنا عین اقتضائے فطرت اور وضع فطرت کے خلاف ہے اور یہ چیز نہ انسانیت کے لیے مفید ہے نہ خود عورت کے لیے۔ چوں کہ علم الحیات کی رُو سے عورت کو بچہ کی پیدائش اور پرورش کے لیے بنایا گیا ہے، اس لیے نفسیات کے دائرے میں بھی اس کے اندر وہی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں جو اس کے فطری وظیفہ کے لیے موزوں ہیں۔ یعنی محبت، ہم دردی، رحم وشفقت، رقتِ قلب، ذکاوتِ حس اور لطافتِ جذبات اور چوں کہ صنفی زندگی میں مرد کو فعل کا اور عورت کو انفعال کا مقام دیا گیا ہے۔ اس لیے عورت کے اندر تمام وہی صفات پیدا کی گئی ہیں جو اسے زندگی کے صرف منفعلانہ پہلو میں کام کرنے کے لیے تیار کرتی ہیں۔ اس کے اندر سختی اور شدت کی بجائے نرمی، نزاکت اور لچک ہے۔ اس میں اثر اندازی کی بجائے اثر پزیری ہے، فعل کی بجائے انفعال ہے، جمنے اور ٹھہرنے کی بجائے جھکنے اور ڈھل جانے کی صلاحیت ہے، بے باکی اور جسارت کی بجائے منع، فرار اوررکاوٹ ہے، کیا ان خصوصیات کو لے کر وہ کبھی ان کاموں کے لیے موزوں ہو سکتی ہے اور ان دوائر حیات میں کام یاب ہو سکتی ہے جو شدت، تحکم، مزاحمت اور سرد مزاجی چاہتے ہیں، جن میں نرم جذبات کی بجائے مضبوط ارادے اور بے لاگ رائے کی ضرورت ہے؟ تمدن کے ان شعبوں میں عورت کو گھسیٹ لانا خود اسے بھی ضائع کرنا ہے اور ان شعبوں کو بھی۔

اس میں عورت کے لیے ارتقا نہیں بلکہ انحطاط ہے۔ ارتقا اسے نہیں کہتے کہ کسی کی قدرتی صلاحیتوں کو دبایا اور مٹایا جائے اور اس میں مصنوعی طور پر وہ صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو فطری طور پر اس کے اندر نہ ہوں، بلکہ ارتقا اس کا نام ہے کہ قدرتی صلاحیتوں کو نشوونما دی جائے، انھیں نکھارا اورچمکایا جائے اورا ن کے لیے بہتر سے بہتر عمل کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

اس میں عورت کے لیے کام یابی نہیں بلکہ ناکامی ہے۔ زندگی کے ایک پہلو میں عورتیں کم زور ہیں اور مرد بڑھے ہوئے ہیں۔ دوسرے پہلو میں مرد کم زور ہیں اور عورتیں بڑھی ہوئی ہیں۔ تم غریب عورتوں کو اس پہلو میں مرد کے مقابلہ پر لاتے ہو جس میں وہ کم زور ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہی ہو گا کہ عورتیں ہمیشہ مردوں سے کم تر رہیں گی۔ تم خواہ کتنی ہی تدبیریں کر لو، ممکن نہیں ہے کہ عورتوں کی صنف سے ارسطو، ابن سینا، کانٹ، ہیگل، خیام، شیکسپئر، سکندر، نپولین، صلاح الدین، نظام الملک طوسی، اور سمارک کی ٹکر کا ایک فرد بھی پیدا ہو سکے۔ البتہ تمام دنیا کے مرد چاہے کتنا ہی سرمار لیں، وہ اپنی پوری صنف میں سے ایک معمولی درجہ کی ماں بھی پیدا نہیں کر سکتے۔

اس میں خود تمدن کا بھی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے۔ انسانی زندگی اور تہذیب کو جتنی ضرورت غلظت، شدت اور صلابت کی ہے، اتنی ہی ضرورت رقت، نرمی اور لچک کی بھی ہے۔ جتنی ضرورت اچھے سپہ سالاروں، اچھے مدبروں اور اچھے منتظمین کی ہے، اتنی ہی ضرورت اچھی ماؤں، اچھی بیویوں اور اچھی خانہ داروں کی بھی ہے۔ دونوں عنصروں میں جسے بھی ساقط کیا جائے گا تمدن بہرحال نقصان اٹھائے گا۔

یہ وہ تقسیمِ عمل ہے جو خود فطرت نے انسان کی دونوں صنفوں کے درمیان کر دی ہے۔ حیاتیات، عضویات، نفسیات اورعمرانیات کے تمام علوم اس تقسیم کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ بچہ جننے اور پالنے کی خدمت کا عورت کے سپرد ہونا ایک ایسی فیصلہ کن حقیقت ہے جوخود بخود انسانی تمدن میں اس کے لیے ایک دائرہ عمل مخصوص کر دیتی ہے اور کسی مصنوعی تدبیر میں یہ طاقت نہیں ہے کہ فطرت کے اس فیصلہ کو بدل سکے۔ ایک صالح تمدن وہی ہو سکتا ہے جو اولًا اس فیصلہ کو جوں کا توں قبول کرے۔ پھر عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اسے معاشرت میں عزت کا مرتبہ دے۔ اس کے جائز تمدنی و معاشی حقوق تسلیم کرے، اس پر صرف گھر کی ذمہ داریوں کا بار ڈالے اور بیرون خانہ کی ذمہ داریاں اور خاندان کی قوامیت مرد کے سپرد کر دے۔ جو تمدن اس تقسیم کو مٹانے کی کوشش کرے گا وہ عارضی طور پر مادی حیثیت سے ترقی اور شان و شوکت کے کچھ مظاہر پیش کر سکتا ہے، لیکن بالاخر ایسے تمدن کی بربادی یقینی ہے کیوں کہ جب عورت پر مرد کے برابر معاشی و تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا جائے گا تو وہ اپنے اوپر سے فطری ذمہ داریوں کا بوجھ اتار پھینکے گی اور اس کا نتیجہ نہ صرف تمدن بلکہ خود انسانیت کی بربادی ہو گا۔ عورت اپنی افتاد طبع اور اپنی فطری ساخت کے خلاف اگر کوشش کرے تو کسی نہ کسی حد تک مرد کے سب کاموں کا بوجھ سنبھال لے جائے گی۔ لیکن مرد کسی طرح بھی اپنے آپ کو بچے جننے اور پالنے کے قابل نہیں بنا سکتا۔

فطرت کی اس تقسیمِ عمل کو ملحوظ رکھتے ہوئے خاندان کی جو تنظیم اور معاشرت میں مرد و عورت کے وظائف کی جو تعیین کی جائے گی اس کے ضروری ارکان لامحالہ حسب ذیل ہوں گے:

۱۔ خاندان کے لیے روزی کمانا، اس کی حمایت و حفاظت کرنا اور تمدن کی محنت طلب خدمات انجام دینا مرد کا کام ہو اور اس کی تعلیم و تربیت ایسی ہو کہ وہ ان اغراض کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بن سکے۔

۲۔ بچوں کی پرورش، خانہ داری کے فرائض اور گھر کی زندگی کو سکون و راحت کی جنت بنانا عورت کا کام ہو اور اسے بہتر سے بہتر تعلیم و تربیت دے کر انھی اغراض کے لیے تیار کیا جائے۔

۳۔ خاندان کے نظم کو برقرار رکھنے اور اسے طوائف الملوکی سے بچانے کے لیے ایک فرد کو قانونی حدود کے اندر ضروری حاکمانہ اختیارات حاصل ہوں تاکہ خاندان ایک بن سری فوج بن کر نہ رہ جائے۔ ایسا فرد صرف مرد ہی ہو سکتا ہے کیوں کہ جس رکنِ خاندان کی دماغی اور قلبی حالت باربار ایامِ ماہواری اور حمل کے زمانہ میں بگڑتی ہو وہ بہرحال ان اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے قابل نہیں ہو سکتا۔

۴۔ تمدن کے نظام میں اس تقسیم اور ترتیب و تنظیم کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تحفظات رکھے جائیں تاکہ بے عقل افراد اپنی حماقت سے مردوں اورعورتوں کے حلقہ ہائے عمل مخلوط کرکے اس صالح تمدنی نظام کو درہم برہم نہ کر سکیں۔

٭…٭…٭…٭…٭