پردہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔
کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: پردہ
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔
کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔
تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
- تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
- تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
- پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
- اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
- تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
- آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟
۲۔ اظہارِ زینت کی ممانعت اور اس کے حدود
غضِ بصر کا حکم عورت اور مرد دونوں کے لیے تھا۔ اس کے چند احکام خاص عورتوں کے لیے ہیں۔ ان میں سے پہلا حکم یہ ہے کہ ایک محدود دائرے کے باہر اپنی ’’زینت‘‘ کے اظہار سے پرہیز کرو۔
اس حکم کے مقاصد اور اس کی تفصیلات پر غور کرنے سے پہلے ان احکام کو پھر ایک مرتبہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جو اس سے پہلے لباس اور ستر کے باب میں بیان ہو چکے ہیں۔ چہرے اور ہاتھوں کے سوا عورت کا پورا جسم ستر ہے جسے باپ، چچا، بھائی اور بیٹے تک کے سامنے کھولنا جائز نہیں۔ حتّٰی کہ عورت پر بھی عورت کے ستر کا کھلنا مکروہ ہے [عورت کے لیے عورت کے جسم کا ناف سے گھٹنے تک حصہ کا دیکھنا اسی طرح حرام ہے جس طرح مرد کے لیے دوسرے مرد کا یہی حصہ جسم دیکھنا حرام ہے۔ اس کے سوا باقی حصہ جسم کو دیکھنا اس کے لیے مکروہ ہے۔ قطعی حرام نہیں ہے۔]۔ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھنے کے بعد اظہارِ زینت کے حدود ملاحظہ کیجیے:
۱۔ عورت کو اجازت دی گئی ہے کہ اپنی زینت کو ان رشتہ داروں کے سامنے ظاہر کرے: شوہر، باپ، خسر، بیٹے، سوتیلے بیٹے، بھائی، بھتیجے اور بھانجے۔
۲۔ اسے یہ بھی اجازت دی گئی ہے کہ اپنے غلاموں کے سامنے اظہارِ زینت کرے (نہ کہ دوسروں کے غلاموں کے سامنے)
۳۔ وہ ایسے مردوں کے سامنے بھی زینت کے ساتھ آ سکتی ہے جو تابع یعنی زیر دست اور ماتحت ہوں اور عورتوں کی طرف میلان و رغبت رکھنے والے مردوں میں سے نہ ہوں۔ [اس حکم کی تفسیر کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : او التابعین غیر اولى الاربعة من الرجال، اى الاجراء والاتباع الذين ليسوا بأكفاء وهو مع ذالك في عقولهم وله فلا هم لهم إلى النساء ولا يشتهونهن یعنی اس سے مراد مزدور، ملازم اور تابع فرمان مرد ہیں جو عورتوں کے ہم سر نہ ہوں۔ نیز چالاک اور تیز قسم کے لوگ نہ ہوں بلکہ سیدھے سادے لوگ ہوں جو عورتوں کی طرف شہوانی میلان نہ رکھتے ہوں ۔ ( تفسیر ابن کثیر ، جلد ۳، ص ۲۸۵) شہوانی میلان نہ رکھنے کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ ان میں سرے سے شہوت ہی مفقود ہو، جیسے بہت بوڑھے لوگ ، ناقص العقل، الہ یا پیدائشی محنت ۔ دوسرے یہ کہ ان میں مردانہ قوت اور عورتوں کی طرف طبعی میلان موجود تو ہو مگر اپنی ماتحتی وزیردستی کی وجہ سے وہ اس شخص کے گھر کی عورتوں کے ساتھ کسی قسم کے شہوانی جذبات وابستہ نہ کر سکتے ہوں جس کے ہاں مزدور یا ملازم کی حیثیت سے وہ کام کرتے ہوں، یا جس کے ہاں فقیر دمسکین کی حیثیت سے وہ خیرات طلب کرنے کے لیے جایا کرتے ہوں۔ اوِ التَّبِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجالِ کا اطلاق ان دونوں قسم کے آدمیوں پر ہو گا لیکن یہ خیال رہے کہ اس طرح کے تمام وہ مرد جن کے سامنے عورتوں کو زینت کے ساتھ آنے کی اجازت دی جائے ، ان میں لازما یہ دو صفتیں موجود ہونی چاہیں ۔ ایک یہ کہ وہ اس گھر کے تابع ہوں جس کی عورتیں ان کے سامنے آرہی ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ اس گھر کی عورتوں کے ساتھ شہوانی غرض وابستہ کرنے کا تصور بھی نہ کر سکتے ہوں اور یہ دیکھنا ہر خاندان کے قوام کا کام ہے کہ ایسے جین تابعین کو وہ گھر میں آنے کی اجازت دے رہا ہے۔ ان پر غیر الاولی الا ربہ ہونے کا جو گمان اس نے ابتدائی کیا تھا وہ صحیح ثابت ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر ابتدائی اجازت کے بعد آگے چل کر کسی وقت یہ شبہ کرنے کی گنجائش نکل آئے کہ وہ اولی الاربہ. میں سے ہیں تو اجازت منسوخ کر دینی چاہیے۔ اس معاملہ میں بہترین نظیر اس مخنث کی ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں آنے کی اجازت دے رکھی تھی، اور پھر ایک واقعہ کے بعد اسے نہ صرف گھروں میں آنے سے روک دیا بلکہ مدینہ ہی سے نکال دیا۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ مدینہ میں ایک مخنث جو ازواج مطہرات کے پاس آیا جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ حضرت ام سلمہ کے ہاں بیٹھا ہوا ان کے بھائی حضرت عبداللہ سے باتیں کر رہا تھا۔ اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور مکان میں داخل ہوتے ہوئے آپ نے سنا کہ وہ عبداللہ سے کہہ رہا تھا: "اگر کل طائف فتح ہو گیا تو میں بادیہ بنت غیلان ثقفی کو تمھیں دکھاؤں گا جس کا حال یہ ہے کہ جب سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار بل نظر آتے ہیں اور جب پیچھے پلٹتی ہے تو آٹھ بل“ اس کے بعد ایک شرم ناک فقرے میں اس نے اس عورت کے ستر کی تعریف کی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ باتیں سن کر فرمایا : لقد غلقت النظر اليها يا عدو الله ( اے دشمن خدا تو نے اسے خوب نظریں گاڑ کر دیکھا ہے) پھر ازدواج مطہرات سے فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ یہ عورتوں کے احوال سے واقف ہے، لہذا اب تمھارے پاس نہ آنے پائے۔ پھر آپ نے اس پر بھی بس نہ کیا بلکہ اسے مدینہ سے نکال کر بیدا میں رہنے کا حکم دیا کیوں کہ اس نے بنت غیلان کے ستر کا جو نقشہ کھینچا تھا اس سے آپ نے اندازہ فرمایا کہ اس شخص کے زنانہ پن کی وجہ سے عورتیں اس کے ساتھ اتنی بے تکلف ہو جاتی ہیں جتنی ہم جنس عورتوں سے ہو سکتی ہیں اور اس طرح یہ ان کے اندرونی احوال سے واقف ہو کر ان کی تعریفیں مردوں کے سامنے بیان کرتا ہے جس سے بڑے فتنے برپا ہو سکتے ہیں۔ (بذل المجہود، کتاب اللباس، باب ماجاء فی قوله تعلی غیر ولی الارب من الرجال )]
۴۔ عورت ایسے بچوں کے سامنے بھی اظہارِ زینت کر سکتی ہے جن میں ابھی صنفی احساسات پیدا نہ ہوئے ہوں۔ قرآن میں << اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْہَرُوْا عَلٰي عَوْرٰتِ النِّسَاۗءِ۰۠>> (النور 31:24 ) فرمایا گیا ہے جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ ’’ایسے بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے آگاہ نہ ہوئے ہوں۔
۵۔ اپنے میل جول کی عورتوں کے سامنے بھی عورت کا زینت کے ساتھ آنا جائز ہے۔ قرآن میں النسا (عورتوں) کے لیے الفاظ نہیں کہے گئے بلکہ نسائھن (اپنی عورتوں) کے الفاظ کہے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ شریف عورتیں، یا اپنے کنبے یا رشتے، یا اپنے طبقے کی عورتیں مراد ہیں۔ ان کے ماسوا غیر عورتیں، جن میں ہر قسم کی مجہو ل الحال، اور مشتبہ چال چلن والیاں، اور آوارہ و بدنام سب ہی شامل ہوتی ہیں، اس اجازت سے خارج ہیں کیوں کہ وہ بھی فتنہ کا سبب بن سکتی ہیں۔ اسی بنا پر جب شام کے علاقہ میں مسلمان گئے اور ان کی خواتین وہاں کی نصرانی اور یہودی عورتوں کے ساتھ بے تکلف ملنے لگیں تو حضرت عمرؓ نے امیرِ شام حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو لکھا کہ مسلمان عورتوں کو اہلِ کتاب کی عورتوں کے ساتھ حماموں میں جانے سے منع کر دو۔ (ابن جریر۔ تفسیر آیہ مذکورہ)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تصریح کی ہے کہ ’’مسلمان عورت کفار او ر اہل الذمہ کی عورتوں کے سامنے اس سے زیادہ ظاہر نہیں کر سکتی جو اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر کر سکتی ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر۔آیہ مذکورہ)
اس سے کوئی مذہبی امتیاز مقصود نہ تھا، بلکہ مسلمان عورتوں کو ایسی عورتوں کے اثرات سے بچانا مقصود تھا جن کے اخلاق اور تہذیب کا صحیح حال معلوم نہ ہو، یا جس حد تک معلوم ہو وہ اسلامی نقطہ نظر سے قابلِ اعتراض ہو۔ رہیں وہ غیر مسلم عورتیں جو شریف، باحیا اور نیک خصلت ہوں تو وہ نِسَآئِھِنَّ ہی میں شمار ہوں گی۔
ان حدود پر غور کرنے سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:
ایک یہ کہ جس زینت کے اظہار کی اجازت اس محدود حلقہ میں دی گئی ہے وہ ستر عورت کے ماسوا ہے۔ اس سے مراد زیور پہننا، اچھے ملبوسات سے آراستہ ہونا، سرمہ، حنا اوربالوں کی آرائش اوردوسری وہ آرائشیں ہیں جو عورتیں اپنی انوثت کے اقتضا سے اپنے گھر میں کرنے کی عادی ہوتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ اس قسم کی آرائشوں کے اظہار کی اجازت، یا تو ان مردوں کے سامنے دی گئی ہے جنھیں ابدی حرمت نے عورتوں کے لیے حرام کر دیا ہے۔ یا ان لوگوں کے سامنے جن کے اندر صنفی میلانات نہیں ہیں، یا ان کے سامنے جو فتنے کا سبب نہ بن سکتے ہوں۔ چنانچہ عورتوں کے لیے<< نِسَآئِھِنَّ>> کی قید ہے۔ تابعین نوکر وغیرہ کے لیے <<غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ کی ، اور بچوں کے لیے <<لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ>> کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ شارع کا منشا عورتوں کے اظہارِ زینت کو ایسے حلقے میں محدود کرنا ہے جس میں ان کے حسن اور ان کی آرائش سے کسی قسم کے ناجائز جذبات پیدا ہونے اور صنفی انتشار کے اسباب فراہم ہو جانے کا اندیشہ نہیں ہے۔
اس حلقے کے باہر جتنے مرد ہیں ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ ان کے سامنے اپنی زینت کا اظہار نہ کرو، بلکہ چلنے میں پاؤں بھی اس طرح نہ مارو کہ چھپی ہوئی زینت کا حال آواز سے ظاہر ہو اور اس ذریعہ سے توجہات تمھاری طرف منعطف ہوں۔ اس فرمان میں جس زینت کو اجانب سے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ وہی زینت ہے جسے ظاہر کرنے کی اجازت اوپر کے محدود حلقہ میں دی گئی ہے۔ مقصود بالکل واضح ہے۔ عورتیں اگر بن ٹھن کر ایسے لوگوں کے سامنے آئیں گی جو صنفی خواہشات رکھتے ہیں اور جن کے داعیات نفس کو ابدی حرمت نے پاکیزہ اور معصوم جذبات سے مبدل بھی نہیں کیا ہے، تو لامحالہ اس کے اثرات وہی ہوں گے جو مقتضائے بشریت ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہتا کہ ایسے اظہارِ زینت سے ہر عورت فاحشہ ہی ہو کر رہے گی اور ہر مرد بالفعل بدکار ہی بن کر رہے گا۔ مگر اس سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ زینت و آرائش کے ساتھ عورتوں کے علانیہ پھرنے اور محفلوں میں شریک ہونے سے بے شمار جلی اور خفی، نفسانی اور مادی نقصانات رونما ہوتے ہیں۔ آج یورپ اور امریکا کی عورتیں اپنی اور اپنے شوہروں کی آمدنی کا بیش تر حصہ اپنی آرائش پرخرچ کر رہی ہیں اور روز بروز ان کا یہ خرچ اتنا بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ ان کے معاشی وسائل اس کے تحمل کی قوت نہیں رکھتے [حال میں کیمیاوی سامان بنانے والوں کی نمائش ہوئی تھی جس میں ماہرین کے بیانات سے معلوم ہوا کہ انگلستان کی عورتیں اپنے سنگار پر دو کروڑ پونڈ اور امریکا کی عورتیں ساڑھے بارہ کروڑ پونڈ سالانہ خرچ کرتی ہیں اور قریب قریب ۹۰ فی صدی عورتیں کسی نہ کسی طریقہ کے make up کی خوگر ہیں۔]۔ کیا یہ جنون انھی پُرشوق نگاہوں نے پیدا نہیں کیا ہے جو بازاروں، دفتروں اور سوسائٹی کے اجتماعات میں آراستہ خواتین کا استقبال کرتی ہیں؟ پھر غور کیجیے کہ آخر عورتوں کی آرائش کا اس قدر شوق پیدا ہونے اور طوفان کی طرح بڑھنے کا سبب کیا ہے؟ یہی ناکہ وہ مردوں سے خراجِ تحسین وصول کرنا اور ان کی نظروں میں کھب جانا چاہتی ہیں [ خوب صورت بننے کا جنون عورتوں میں اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اس کی خاطر وہ اپنی جانیں تک دے رہی ہیں۔ ان کی انتہائی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہلکی پھلکی گڑیا سی بن کر رہیں اور ان کے جسم پر ایک اونس بھی ضرورت سے زیادہ گوشت نہ ہو۔ خوب صورتی کے لیے پنڈلی ، ران اور سینہ کے جو ناپ ماہرین نے مقرر کر دیے ہیں، ہر لڑکی اپنے آپ کو اس پیمانہ کے اندر رکھنا چاہتی ہے۔ گویا اس کم بخت کی زندگی کا کوئی مقصد دوسروں کی نگاہوں میں مرغوب بننے کے سوا نہ رہا۔ اس مقصد کے لیے یہ بے چاریاں فاقے کرتی ہیں ، جسم کو نشو و نما دینے والی غذاؤں سے قصدا اپنے آپ کو محروم رکھتی ہیں۔ لیموں کے اس تلخ قہوہ اور ایسی ہی ہلکی غذاؤں پر جیتی ہیں اور طبی مشورے کے بغیر ، بلکہ اس کے خلاف ایسی دوائیں استعمال کرتی ہیں جو انھیں ڈبلا کریں۔ اس جنون کی خاطر بہت سی عورتوں نے اپنی جانیں دی ہیں اور دے رہی ہیں ۔ ۱۹۳۷ ء میں بوڈا اپسٹ کی مشہور ایکٹریس جوسی لا باس ایکا ایک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مرگئی۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ کئی سال سے قصدا نیم فاقہ کشی کی زندگی بسر کر رہی تھی اور جسم گھٹانے کی پیٹینٹ دوائیں استعمال کیے جاتی تھی۔ آخر اس کی قوتوں نے یکا یک جواب دے دیا۔ اس کے بعد پے درپے بوڈا پسٹ ہی میں تین اور ایسے ہی حادثے پیش آئے ۔ ما گدا بر میلی جو اپنے حسن اور کمالات کے لیے تمام ہنگری میں مشہور تھی ، اس ملکے پن کے شوق کی نذر ہوئی۔ پھر ایک مغنیہ لوئیساز ابو جس کے گانوں کی ہر طرف دھوم تھی ، ایک رات عین اسٹیج پر اپنا کام کرتی ہوئی ہزار ہا ناظرین کے سامنے غش کھا کر گر پڑی۔ اسے یہ غم کھائے جاتا تھا کہ اس کا جسم موجودہ زمانے کے معیار حسن پر پورا نہیں اترتا۔ اس مصیبت کو دور کرنے کے لیے بے چاری نے مصنوعی تدبیریں اختیار کرنا شروع کیں اور دو مہینے میں ۶۰ پونڈ وزن کم کر ڈالا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دل حد سے زیادہ کم زور ہو گیا اور ایک دن وہ بھی خریداران حسن کی بھینٹ چڑھ کر رہی ۔ اس کے بعد ایمولا نامی ایک اور ایکٹریس کی باری آئی اور اس نے مصنوعی تدبیروں سے اپنے آپ کو اتنا ہلکا کیا کہ ایک مستقل دماغی مرض میں مبتلا ہوگئی ۔ اور اسٹیج کی بجائے اسے پاگل خانے کی راہ لینا پڑی۔ اس قسم کی مشہور شخصیتوں کے واقعات تو اخباروں میں آجاتے ہیں مگر کون جانتا ہے کہ یہ حسن اور معشوقیت کا کے واقعات تو میں ہیں مگرکون جانتاہے کہ حسن اور کا جنون جو گھر گھر پھیلا ہوا ہے، روزانہ کتنی صحتوں اور کتنی زندگیوں کو تباہ کرتا ہوگا؟ کوئی بتائے کہ یہ عورتوں کی آزادی ہے یا ان کی غلامی ؟ اس نام نہاد آزادی نے تو ان پر مردوں کی خواہشات کا استبداد اور زیادہ مسلط کر دیا ہے۔ اس نے تو انھیں ایسا غلام بنایا ہے کہ وہ کھانے پینے اور تن درست رہنے کی وجہ سے بھی محروم ہو گئیں۔ ان غریبوں کا تو جینا اور مرنا اب بس مردوں ہی کے لیے رہ گیا ہے۔]۔
یہ کس لیے؟ کیا یہ بالکل ہی معصوم جذبہ ہے؟ کیا اس کی تہ میں وہ صنفی خواہشات چھپی ہوئی نہیں ہیں جو اپنے فطری دائرے سے نکل کر پھیل جانا چاہتی ہیں اور جن کے مطالبات کا جواب دینے کے لیے دوسری جانب بھی ویسی خواہشات موجود ہیں؟ اگر آپ اس سے انکار کریں گے تو شاید کل آپ یہ دعوٰی کرنے میں بھی تامل نہ کریں کہ جوالا مکھی پہاڑ پر جو دھواں نظرآتا ہے اس کی تہ میں کوئی لاوا باہر نکلنے کے لیے بے تاب نہیں ہے۔ آپ اپنے عمل کے مختار ہیں جو چاہے کیجیے۔ مگر حقائق سے انکار نہ کیجیے۔ یہ حقیقتیں اب کچھ مستور بھی نہیں رہیں سامنے آ چکی ہیں اور اپنے آفتاب سے زیادہ روشن نتائج کے ساتھ آ چکی ہیں۔ آپ ان نتائج کو دانستہ یا نادانستہ قبول کرتے ہیں، مگر اسلام انھیں ٹھیک اسی مقام پر روک دینا چاہتا ہے جہاں سے ان کے ظہور کی ابتدا ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس کی نظرِ اظہار زینت کے بظاہر معصوم آغاز پر نہیں بلکہ اس نہایت غیر معصوم انجام پر ہے جو تمام سوسائٹی پر قیامت کی سی تاریکی لے کر پھیل جاتا ہے:
<<مَثَلُ الرَّافِلَۃِ فِی الزِّیْنَۃِ فِی غَیْرِ أَھْلِھَا کَمَثَلِ ظُلْمَۃِ یَومَ الْقِیٰمَۃِ لَانُوْرَلَھَا۔>> (سنن ترمذی،کتاب الرضاع، باب ما جاء فی کراہیۃ خروج النسا فی الزینتہ، حدیث۱۰۸۷)
اجنبیوں میں زینت کے ساتھ ناز و انداز سے چلنے والی عورت ایسی ہے جیسے روزِ قیامت کی تاریکی کہ اس میں کوئی نور نہیں۔
قرآن میں جہاں اجنبیوں کے سامنے زینت کا اظہار کرنے کی ممانعت ہے۔ وہاں ایک استثنا بھی ہے۔ الا ماظھر منھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی زینت کے ظاہر ہونے میں کوئی مضایقہ نہیں ہے جو خود ظاہر ہو جائے۔ لوگوں نے اس استثنا سے بہت کچھ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ان الفاظ میں کچھ زیادہ فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ شارع صرف یہ کہتا ہے کہ تم اپنے ارادہ سے غیروں کے سامنے اپنی زینت ظاہر نہ کرو، لیکن جو زینت خود ظاہر ہوجائے یا اضطرارًا ظاہر ہی رہنے والی ہو اس کی تم پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ مطلب صاف ہے تمھاری نیت اظہار زینت کی نہ ہونی چاہیے۔ تم میں یہ جذبہ، یہ ارادہ، ہرگز نہ ہونا چاہیے۔ کہ اپنی آرائش غیروں کو دکھاؤ اور کچھ نہیں تو چھپے ہوئے زیوروں کی جھنکار ہی سنا کر ان کی توجہ اپنی طرف مائل کرو۔ تمھیں اپنی طرف سے تو اخفائے زینت کی اختیاری کوشش کرنی چاہیے۔ پھر اگر کوئی چیز اضطرارًا کھل جائے تو اس پر خدا تم سے کوئی مواخذہ نہ کرے گا۔ تم جن کپڑوں میں زینت کو چھپاؤ گی وہ تو بہرحال ظاہر ہی ہوں گے۔ تمھارا قدوقامت، تناسب جسمانی، ڈیل ڈول تو ان میں محسوس ہو گا۔ کسی ضرورت یا کام کاج کے لیے کبھی ہاتھ یا چہرے کا کوئی حصہ تو کھولنا ہی پڑے گا۔ کوئی حرج نہیں اگر ایسا ہو۔ تمھاری نیت اس کے اظہار کی نہیں۔ تم اس کے اظہار پرمجبور ہو۔ اگر ان چیزوں سے بھی کوئی کمینہ لذت لیتا ہے تو لیا کرے۔ اپنی بدنیتی کی سزا خود بھگتے گا۔ جتنی ذمہ داری تمدن اور اخلاق کی خاطر تم پر ڈالی گئی تھی۔ اسے تم نے اپنی حد تک پورا کر دیا۔
یہ ہے صحیح مفہوم اس آیت کا۔ مفسرین کے درمیان اس کے مفہوم میں جتنے اختلافات ہیں، ان سب پر جب آپ غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ تمام اختلافات کے باوجود ان کے اقوال کا مدعا وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے
ابن مسعود، ابراہیم نخعی اور حسن بصری کے نزدیک زینت ظاہرہ سے مراد وہ کپڑے ہیں جن میں زینت باطنہ کو چھپایا جاتا ہے، مثلاً برقع یا چادر۔
ابن عباس، مجاہد، عطا ابن عمر، انس، ضحاک، سعید بن جبیر، اوزاعی اور عامہ حنفیہ کے نزدیک اس سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہیں اوروہ اسباب زینت بھی اس استثنا میں داخل ہیں جو چہرے اور ہاتھ میں عادتًا ہوتے ہیں، مثلاً ہاتھ کی حنا، انگوٹھی اور آنکھوں کا سرمہ وغیرہ۔
سعید بن المسیب کے نزدیک صرف چہرہ مستثنیٰ ہے اور ایک قول حسن بصری سے بھی ان کی تائید میں منقول ہے۔
حضرت عائشہؓ چہرہ چھپانے کی طرف مائل ہیں۔ ان کے نزدیک زینت ظاہرہ سے مراد ہاتھ اور چوڑیاں، کنگن اور انگوٹھیاں ہیں۔
مسور بن محزمہ اور قتادہ ہاتھوں کو ان کی زینت سمیت کھولنے کی اجازت دیتے ہیں مگر چہرے کے باب میں ان کے اقوال سے ایسا متبادر ہوتا ہے کہ پورے چہرے کی بجائے وہ صرف آنکھیں کھولنے کو جائز رکھتے ہیں۔ [یہ تمام اقوال تفسیر ابن جریر اور علامہ جصاص کی احکام القرآن سے ماخوذ ہیں۔]
ان اختلافات کے منشا پر غور کیجیے۔ ان سب مفسرین نے الا ماظھر منھا سے یہی سمجھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی زینت کو ظاہر کرنے کی اجازت دیتا ہے جو اضطرارًا ظاہر ہو جائے یا جسے ظاہر کرنے کی ضرورت پیش آ جائے۔ چہرے اور ہاتھوں کی نمائش کرنا یا انھیں مطمح انظار بنانا ان میں سے کسی کا بھی مقصود نہیں۔ ہر ایک نے اپنے فہم اور عورتوں کو ضروریات کے لحاظ سے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ضرورت کس حد تک کسی چیز کو بے حجاب کرنے کے لیے داعی ہوتی ہے، یا کیا چیز اضطرارًا کھل سکتی ہے، یا عادتًا کھلتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ اِلاَّ مَا ظَھَرَ مِنْھَاکو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی مقید نہ کیجیے۔ ایک مومن عورت جو خدا اور رسولؐ کے احکام کی سچے دل سے پابند رہنا چاہتی ہے، اور جسے فتنے میں مبتلا ہونا منظور نہیں ہے، وہ خود اپنے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے فیصلہ کر سکتی ہے کہ چہرہ اور ہاتھ کھولے یا نہیں، کب کھولے اور کب نہ کھولے، کس حد تک کھولے اور کس حد تک چھپائے۔ اس باب میں قطعی احکام نہ شارع نے دیے ہیں، نہ اختلاف احوال و ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ مقتضائے حکمت ہے کہ قطعی احکام وضع کیے جائیں۔ جو عورت اپنی حاجات کے لیے باہر جانے اور کام کاج کرنے پر مجبور ہے۔ اسے کسی وقت ہاتھ بھی کھولنے کی ضرورت پیش آ ئے گی اور چہرہ بھی۔ ایسی عورت کے لیے بلحاظ ضرورت اجازت ہے اور جس عورت کا حال یہ نہیں ہے اس کے لیے بلا ضرورت قصدًا کھولنا درست نہیں۔ پس شارع کا مقصد یہ ہے کہ اپنا حسن دکھانے کے لیے اگر کوئی چیز بے حجاب کی جائے تو یہ گناہ ہے۔ خود بخود اگر کچھ ظاہر ہو جائے تو کوئی گناہ نہیں۔ حقیقی ضرورت اگر کچھ کھولنے پر مجبور کرے تو اس کا کھولنا جائز ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ اختلاف احوال سے قطع نظر کرکے نفس چہرہ کا کیا حکم ہے؟ شارع اس کے کھولنے کو پسند کرتا ہے یا ناپسند؟ اس کے اظہار کی اجازت محض ناگزیر ضرورت کے طور پر دی گئی ہے یا اس کے نزدیک چہرہ غیروں سے چھپانے کی چیز ہی نہیں ہے؟ ان سوالات پر سورۂ احزاب والی آیت میں روشنی ڈالی گئی ہے۔