مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پردہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔

کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔

کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: پردہ

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔

کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔

تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
  2. تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
  3. تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
  4. پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
  5. اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
  6. تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  7. عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
  8. آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟

۱۔ غضِ بصر

سب سے پہلا جو حکم مردوں اور عورتوں کو دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ غض بصر کرو۔ عمومًا اس لفظ کا ترجمہ ’’نظریں نیچی رکھو‘‘ یا ’’نگاہیں پست رکھو‘‘ کیا جاتا ہے مگر اس سے پورا مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ حکمِ الٰہی کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہیں اور کبھی اوپر نظر ہی نہ اٹھائیں۔ مدعا دراصل یہ ہے کہ اس چیز سے پرہیز کرو جسے حدیث میں آنکھوں کا زنا کہا گیا ہے۔ اجنبی عورتوں کے حسن اور ان کی زینت کی دید سے لذت اندوز ہونا مردوں کے لیے اور اجنبی مردوں کو مطمح نظر بنانا عورتوں کے لیے فتنے کا موجب ہے۔ فساد کی ابتدا طبعًا و عادتًا یہیں سے ہوتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اسی دروازے کو بند کیا گیا ہے اور یہی ’’غضِ بصر‘‘ کی مراد ہے۔ اردو زبان میں ہم اس لفظ کا مفہوم ’’نظر بچانے‘‘ سے بخوبی ادا کر سکتے ہیں۔

یہ ظاہر ہے کہ جب انسان آنکھیںکھول کر دنیا میں رہے گا تو سب ہی چیزوں پر اس کی نظر پڑے گی۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کو اور کوئی عورت کسی مرد کو کبھی دیکھے ہی نہیں۔ اس لیے شارع نے فرمایا کہ اچانک نظر پڑ جائے تو معاف ہے، البتہ جو چیز ممنوع ہے وہ یہ ہے کہ ایک نگاہ میں جہاں تمھیں حسن محسوس ہو وہاں دوبارہ نظر دوڑاؤ اور اسے گھورنے کی کوشش کرو۔

<<عَنْ جَرِیرٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَۃِ الْفُجْأَۃِ فَقَالَ اصْرِفْ بَصَرَکَ۔>> (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب مایومربہ من غض البصر، حدیث۱۸۳۶)

حضرت جریر ؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اچانک نظر پڑ جائے تو کیا کروں؟ آپؐ نے فرمایا کہ نظر پھیر لو۔

<<عَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہِ عَلَیہِ وَسَلَّمَ لِعَلّیٍ یَا عَلِیٌّ لَاتُتْبِعِ النَّظْرَۃَ النَّظْرَۃَ فَإِنَّ لَکَ الأُولٰی وَلَیْسَ لَکَ الآخِرَۃُ۔ >> (ایضاً، حدیث۱۸۳۷)

حضرت بریدہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے حضرت علیؓ سے فرمایا، اے علیؓ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالو۔ پہلی نظر تمھیں معاف ہے مگر دوسری نظر کی اجازت نہیں۔

<<عَنِ النَیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَظَرَ اِلٰی مَحَاسِنِ إِمْرأَۃٍ أَجْنَبِیَّۃٍ عَنْ شَھْوَۃٍ صُبَّ فِی عَیْنَیْہِ الْاٰنُکَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ >> (نصب الرایۃ، ج۸،ص۱۰۸)

نبی اکرمؐ نے فرمایا جو شخص کسی اجنبی عورت کے محاسن پر شہوت کی نظر ڈالے گا تو قیامت کے روز اس کی آنکھوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔

مگر بعض مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں اجنبیہ کو دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوئی مریضہ کسی طبیب کے زیرِ علاج ہو، یا کوئی عورت کسی مقدمہ میں قاضی کے سامنے بحیثیت گواہ یا بحیثیت فریق پیش ہو، یا کسی آتش زدہ مقام میں کوئی عورت گھر گئی ہو یا پانی میں ڈوب رہی ہو، یا اس کی جان یا آبرو کسی خطرے میں مبتلا ہو۔ ایسی صورتوں میں چہرہ تو درکنار حسبِ ضرورت ستر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جسم کو ہاتھ بھی لگایا جا سکتا ہے، بلکہ ڈوبتی ہوئی یا جلتی ہوئی عورت کو گود میں اٹھا کر لانا بھی صرف جائز ہی نہیں، فرض ہے۔ شارع کا حکم یہ ہے کہ ایسی صورتوں میں جہاں تک ممکن ہو اپنی نیت کو پاک رکھو۔ لیکن اقتضائے بشریت سے اگر جذبات میں کوئی خفیف سی تحریک پیدا ہو جائے تب بھی کوئی گناہ نہیں، کیوں کہ ایسی نظر اور ایسے لمس کے لیے ضرورت داعی ہوئی ہے کہ فطرت کے مقتضیات کو بالکل روک دینے پر انسان قادر نہیں ہے۔ [اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھیں تفسیر امام رازی، آیه قل للمومنین یغضوا من أبصارهم ( احكام القرآن للجصاص تفسیر آیه مذکوره فصل الوط والنظر والمس - المبسوط ، كتاب الاستحسان )]

اسی طرح اجنبی عورت کو نکاح کے لیے دیکھنا اور تفصیلی نظر کے ساتھ دیکھنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ احادیث میں اس کا حکم وارد ہوا ہے اور خود نبی اکرم ﷺ نے اس غرض کے لیے عورت کو دیکھا ہے۔

<<عَن الْمُغِیرَۃِ ابنِ شُعْبَۃَ اَنَّہُ خَطَبَ أِمْرَأَۃً فَقَالَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اُنْظُرْ إِلَیْھَا فَإِنَّہُ أَحْرٰی أَنْ یُؤْدَمَ بَیْنَکُمَا۔>> (سنن ترمذی،کتاب النکاح، باب ما جاء فی النظر الی المخطوبۃحدیث:۱۰۰۷)

مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا کہ اسے دیکھ لو، کیوں کہ یہ تم دونوں کے درمیان محبت و اتفاق پیدا کرنے کے لیے مناسب تر ہو گا۔

<<عَنْ سَھْلِ ابْنِ سَعْدٍ أَنَّ إِمْرأَۃً جَائَ تْ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ یَارَسُوْلَ اللہِ جِئْتُ لِأَھَبَ لَکَ نَفْسِی فَنَظَرَ إِلَیْھَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَیْھَا۔>> (صحیح البخاری،کتاب النکاح، باب النظر الی المراۃ قبل الترویج، حدیث ۴۷۳۱)

سہل ابن سعد سے روایت ہے کہ ایک عورت آں حضرت ﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور بولی کہ مَیں اپنے آپ کو حضور اکرم ﷺ کے نکاح میں دینے کے لیے آئی ہوں اس پر رسول اللہﷺ نے نظر اٹھائی اور اسے دیکھا۔

<<عَنْ اَبیِ ھُرَیْرَۃَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ تَزَوَّجَ إِمْرأَۃً مِنَ الْاَنْصَارِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ اَنَظَرْتَ إِلَیْھَا؟ قَالَ لَا۔ قَالَ فَاذْھَبْ فَانْظُرْ إِلَیْھَا فَإِنَّ فِی أَعْیُنِ الْاَنْصَارِ شَیْئًا۔>> (صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب ندب النظر إلی وجہ المرأۃ، حدیث۲۵۵۲)

حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ مَیں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا۔ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے انصار میں سے ایک عورت کے ساتھ نکاح کا ارادہ کیا ہے۔ حضوراکرمﷺ نے پوچھا کیا تو نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا جا اور اسے دیکھ لے، کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں عمومًا عیب ہوتا ہے۔

<<عَنْ جَابِرْ بنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ أَحَدُکُمْ الْمَرْأَۃَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یَنْظُرَ إِلٰی مَا یَدْعُوہُ إِلٰی نِکَاحِھَا فَلْیَفْعَلْ۔>> (سنن ابی داؤد، کتاب النکاح، باب فی الرجل، ینظر الی المراۃ و ہویرید تزویجہا، حدیث۱۷۸۳)

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو نکاح کا پیغام دے تو حتی الامکان اسے دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس میں کوئی چیز ہے جو اسے اس عورت کے ساتھ نکاح کی رغبت دلانے والی ہو۔

ان مستثنیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شارع کا مقصد دیکھنے کو کلیۃً روک دینا نہیں ہے بلکہ دراصل فتنے کا سدباب مقصود ہے اور اس غرض کے لیے صرف ایسے دیکھنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جس کی کوئی حاجت بھی نہ ہو۔ جس کا کوئی تمدنی فائدہ بھی نہ ہو اور جس میں جذباتِ شہوانی کو تحریک دینے کے اسباب بھی موجود ہوں۔

یہ حکم جس طرح مردوں کے لیے ہے اُسی طرح عورتوں کے لیے بھی ہے۔ چنانچہ حدیث میں حضرت اُمّ سلمہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ وہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا[دوسری روایت میں حضرت عائشہ کا ذکر ہے۔] آں حضرت کے پاس بیٹھی تھیں۔ اتنے میں حضرت ابن ام مکتوم آئے جو نابینا تھے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ان سے پردہ کرو۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا، کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھیں گے، نہ ہمیں پہچانیں گے۔ حضور اکرمﷺ نے جواب دیا، کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم انھیں نہیں دیکھتی ہو؟ [ترمذی، باب ما جاء في احتجاب النساء من الرجال]

مگر عورت کے مردوں کو دیکھنے اور مرد کے عورتوں کو دیکھنے میں نفسیات کے اعتبار سے ایک نازک فرق ہے۔ مرد کی فطرت میں اقدام ہے، کسی چیز کو پسند کرنے کے بعد وہ اس کے حصول کی سعی میں پیش قدمی کرتا ہے۔ مگر عورت کی فطرت میں تمانع اور فرار ہے، جب تک کہ اس کی فطرت بالکل ہی مسخ نہ ہو جائے۔ وہ کبھی اس قدر دراز دست، جری اور بے باک نہیں ہو سکتی کہ کسی کو پسند کرنے کے بعد اس کی طرف پیش قدمی کرے۔ شارع نے اس فرق کو ملحوظ رکھ کر عورتوں کے لیے غیر مردوں کو دیکھنے کے معاملہ میں وہ سختی نہیں کی ہے جو مردوں کے لیے غیر عورتوں کو دیکھنے کے معاملہ میں کی ہے۔ چنانچہ احادیث میں حضرت عائشہؓکی یہ روایت مشہور ہے کہ آں حضرت ﷺ نے عید کے موقع پر انھیں حبشیوں کا تماشا دکھایا تھا [یہ روایت بخاری ، مسلم ، نسائی اور مسند احمد وغیرہ میں کئی طریقوں سے آئی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ یہ واقعہ شاید اس وقت کا ہے جب حضرت عائشہ کم سن تھیں اور حجاب کے احکام نازل نہ ہوئے تھے۔ مگر ابن حیان میں تصریحہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب جبش کا ایک وفد مدینے آیا تھا اور تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ اس وفد کی آمدے میں ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے حضرت عائشہ کی عمر اس وقت پندرہ سولہ برس کی تھی۔ نیز بخاری کی روایت ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کو چادر سے ڈھانکتے جاتے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ احکام حجاب بھی اُس وقت نازل ہو چکے تھے۔]۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کا مردوں کو دیکھنا مطلقًا ممنوع نہیں ہے، بلکہ ایک مجلس میں مل کر بیٹھنا اور نظر جما کر دیکھنا مکروہ ہے اور ایسی نظر بھی جائز نہیں جس میں فتنے کا احتمال ہو۔ وہی نابینا صحابی، ابن مکتوم جن سے نبی اکرم ﷺ کو پردہ کرنے کا حکم دیا تھا، ایک دوسرے موقع پر حضور اکرمﷺ انھی کے گھر میں فاطمہ بن قیس کو عدت بسر کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے اپنی احکام القرآن میں اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے کہ فاطمہ بنت قیس ام شریک کے گھر میں عدت گزارنا چاہتی تھیں۔ حضوراکرمﷺ نے فرمایا کہ اس گھر میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن مکتوم کے ہاں رہو کیوں کہ وہ ایک اندھا آدمی ہے اور اس کے ہاں تم بے پردہ رہ سکتی ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل مقصد فتنے کے احتمالات کو کم کرنا ہے۔ جہاں فتنے کا احتمال زیادہ تھا وہاں رہنے سے منع فرما دیا۔ جہاں احتمال کم تھا وہاں رہنے کی اجازت دے دی، کیوں کہ بہرحال اس عورت کو کہیں رہنا ضرور تھا۔ لیکن جہاں کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی وہاں خواتین کو ایک غیر مرد کے ساتھ ایک مجلس میں جمع ہونے اور رُو برُو اسے دیکھنے سے روک دیا۔

یہ سب مراتب حکمت پر مبنی ہیں اور جو شخص مغزِ شریعت تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو وہ بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ غضِ بصر کے احکام کن مصالح پر مبنی ہیں اور ان مصالح کے لحاظ سے ان احکام میں شدت اور تخفیف کا مدار کن امور پر ہے۔ شارع کا اصل مقصد تمھیں نظر بازی سے روکنا ہے، ورنہ اسے تمھاری آنکھوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ یہ آنکھیں ابتدا میں بڑی معصوم نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔ نفس کا یہ شیطان ان کی تائید میں بڑے بڑے پرفریب دلائل پیش کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ یہ ذوقِ جمال ہے جو فطرت نے تم میں ودیعت کیا ہے۔ جمالِ فطرت کے دوسرے مظاہر و تجلیات کو جب تم دیکھتے ہو اور ان سے بہت ہی پاک لطف اٹھاتے ہو تو جمالِ انسانی کو بھی دیکھو اور روحانی لطف اٹھاؤ مگر اندر ہی اندر یہ شیطان لطف اندوزی کی لے کو بڑھاتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ذوق جمال ترقی کرکے شوق وصال بن جاتا ہے۔ کون ہے جو اس حقیقت سے انکار کی جرات رکھتا ہو کہ دنیا میں جس قدر بدکاری اب تک ہوئی ہے اور اب ہو رہی ہے اس کا پہلا اور سب سے بڑا محرک یہی آنکھوں کا فتنہ ہے؟ کون یہ دعوٰی کر سکتا ہے کہ اپنی صنف کے مقابل کے کسی حسین اور جوان فرد کو دیکھ کر اس میں وہی کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو ایک خوب صورت پھول کو دیکھ کر ہوتی ہیں؟ اگر دونوں قسم کی کیفیات میں فرق ہے اور ایک کے برخلاف دوسری کیفیت کم و بیش شہوانی کیفیت ہے تو پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ ایک ذوقِ جمال کے لیے بھی وہی آزادی ہونی چاہیے جو دوسرے ذوقِ جمال کے لیے ہے؟ شارع تمھارے ذوق جمال کو مٹانا تو نہیں چاہتا وہ کہتا ہے کہ تم اپنی پسند کے مطابق اپنا ایک جوڑا انتخاب کر لو۔ اور جمال کا جتنا ذوق تم میں ہے اس کا مرکز صرف اسی ایک کو بنا لو۔ پھر جتنا چاہو اس سے لطف اٹھاؤ۔ اس مرکز سے ہٹ کر دیدہ بازی کرو گے تو فواحش میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ اگر ضبطِ نفس یا دوسرے موانع کی بنا پر آوارگی عمل میں مبتلا نہ بھی ہوئے تو وہ آوارگی خیال سے کبھی نہ بچ سکو گے۔ تمھاری بہت سی قوت آنکھوں کے راستے ضائع ہو گی۔ بہت سے ناکردہ گناہوں کی حسرت تمھارے دل کوناپاک کرے گی۔ بار بار فریبِ محبت میں گرفتار ہو گے اور بہت سی راتیں بیداری کے خواب دیکھنے میں جاگ جاگ کر ضائع کرو گے۔ بہت سے حسین ناگوں اور ناگنوں سے ڈسے جاؤ گے۔ تمھاری بہت سی قوتِ حیات دل کی دھڑکن اور خون کے ہیجان میں ضائع ہو جائے گی۔ یہ نقصان کیا کچھ کم ہے؟ اور یہ سب اپنے مرکز دید سے ہٹ کر دیکھنے ہی کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا اپنی آنکھوں کو قابو میں رکھو۔ بغیر حاجت کے دیکھنا اور ایسا دیکھنا جو فتنے کا سبب بن سکتا ہو، قابلِ عذر ہے۔ اگر دیکھنے کی حقیقی ضرورت ہو یا اس کا کوئی تمدنی فائدہ ہو تو احتمالِ فتنہ کے باوجود دیکھنا جائز ہے اور اگر حاجت نہ ہو اور فتنے کا بھی احتمال نہ ہو تو عورت کے لیے مرد کو دیکھنا جائز ہے، مگر مرد کے لیے عورت کو دیکھنا جائز نہیں، الا یہ کہ اچانک نظر پڑ جائے۔