مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پردہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔

کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔

کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: پردہ

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔

کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔

تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
  2. تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
  3. تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
  4. پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
  5. اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
  6. تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  7. عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
  8. آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟

۱۔ اساسی نظریات

یہ بات اسلام کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ اپنے قانون کی حکمت پر بھی خود ہی روشنی ڈالتا ہے۔ معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلقات کو منضبط کرنے کے لیے جو قانون اسلام میں پایا جاتا ہے اس کے متعلق خود اسلام ہی نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اس قانون کی بنیاد کن اصولِ حکمت اور کن حقائقِ فطرت پر ہے۔

(۱)- زوجیت کا اساسی مفہوم:

اس سلسلہ میں سب سے پہلی حقیقت جس کی پردہ کشائی کی گئی ہے، یہ ہے:

<<وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ>> ( الذٰریٰت49:51)

اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے۔

اس آیت میں قانون زوجی (law sex) کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کارگاہِ عالَم کا انجینئر خود اپنی انجینئری کا یہ راز کھول رہا ہے کہ ُاس نے کائنات کی یہ ساری مشین قاعدۂ زوجیت پر بنائی ہے۔ یعنی اس مشین کے تمام کَل پرزے جوڑوں (pairs) کی شکل میں بنائے گئے ہیں اور اس جہانِ خلق میں جتنی کاری گری تم دیکھتے ہو، وہ سب جوڑوں کی تزویج کا کرشمہ ہے۔

اب اس پر غور کیجیے کہ زوجیت کیا شے ہے۔ زوجیت میں اصل یہ ہے کہ ایک شے میں فعل ہو اور دوسری شے میں قبول و انفعال۔ ایک شے میں تاثیر ہو اور دوسری شے میں تاثر۔ ایک شے میں عاقدیت ہو اور دوسری شے میں منعقدیت۔ یہی عقد و انعقاد، فعل و انفعال، تاثیر و تاثر اور فاعلیت و قابلیت کا تعلق دوچیزوں کے درمیان زوجیت کا تعلق ہے۔ اسی تعلق سے تمام ترکیبات واقع ہوتی ہیں۔ اور انھی ترکیبات سے عالمِ خلق کا سارا کارخانہ چلتا ہے۔ کائنات میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب اپنے اپنے طبقہ میں زوج زوج اورجوڑ جوڑ پیدا ہوئی ہیں، اور ہر دو زوجین کے درمیان اصلی و اساسی حیثیت سے زوجیت کا یہی تعلق پایا جاتا ہے کہ ایک فعال ہے اور دوسرا قابل و منفعل۔ اگرچہ مخلوقات کے ہر طبقے میں اس تعلق کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ مثلًا ایک تزویج وہ ہے جو بسائط اور عناصرمیں ہوتی ہے، ایک وہ جو مرکباتِ غیر نامیہ میں ہوتی ہے، ایک وہ جو اجسامِ نامیہ میں ہوتی ہے۔ ایک وہ جو انواع حیوانی میں ہوتی ہے۔ یہ سب تزویجیں اپنی نوعیت، کیفیت اور فطری مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہیں لیکن اصل زوجیت ان سب میں وہی ایک ہے۔ ہر نوع میں، خواہ وہ کسی طبقہ کی ہو، فطرت کے اصل مقصد، یعنی وقوعِ ترکیب اور حصولِ ہیئت ترکیبی کے لیے ناگزیر ہے کہ زوجین میں سے ایک میں قوتِ فعل ہو اوردوسرے میں قوتِ انفعال۔

آیت مذکورہ بالا کا یہ مفہوم متعین ہوجانے کے بعد اس سے قانونِ زوجیت کے تین ابتدائی اصول مستنبط ہوتے ہیں:

۱۔ اللہ تعالیٰ نے جس فارمولے پر تمام کائنات کی تخلیق کی ہے اور جس طریقے کو اپنے کارخانے کے چلنے کا ذریعہ بنایا ہے وہ ہرگز ناپاک اورذلیل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اپنی اصل کے اعتبار سے وہ پاک اور محترم ہی ہے اور ہونا چاہیے۔ کارخانہ کے مخالف اسے گندہ اور قابلِ نفرت قرار دے کر اس سے اجتناب کر سکتے ہیں، مگر خود کارخانہ کا صانع اور مالک تو یہ کبھی نہ چاہے گا کہ اس کا کارخانہ بند ہو جائے۔ اس کا منشا تو یہی ہے کہ اس کی مشین کے تمام پرزے چلتے رہیں اور اپنے اپنے حصے کا کام پورا کریں۔

۲۔ فعل اور انفعال دونوں اس کارخانے کو چلانے کے لیے یکساں ضرور ہیں۔ فاعل اور منفعل دونوں کا وجود اس کارگاہ میں یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ نہ فاعل کی حیثیت فعلی میں کوئی عزت ہے اور نہ منفعل کی حیثیتِ انفعالی میں کوئی ذلت۔ فاعل کا کمال یہی ہے کہ اس میں قوتِ فعل اور کیفیاتِ فاعلیہ پائی جائیں تاکہ وہ زوجیت کے فعلی پہلو کا کام بخوبی ادا کر سکے اور منفعل کا کمال یہی ہے کہ اس میں انفعال اور کیفیتِ انفعالیہ بدرجہ اتم موجود ہوں تاکہ وہ زوجیت کے انفعالی اور قبولی پہلو کی خدمت باحسن وجوہ بجا لا سکے۔ ایک معمولی مشین کے پرزے کو بھی اگرکوئی شخص اس کے اصلی مقام سے ہٹا دے اور اس سے وہ کام لینا چاہے جس کے لیے وہ دراصل بنایا ہی نہیں گیا ہے، تو و ہ احمق اور اناڑی سمجھا جائے گا۔ اول تو اپنی اس کوشش میں اسے کام یابی ہی نہ ہو گی، اور اگر وہ بہت زور لگائے تو بس اتنا کر سکے گا کہ مشین کو توڑ دے۔ ایسا ہی حال اس کائنات کی عظیم الشان مشین کا بھی ہے۔ جو احمق اور اناڑی ہیں وہ اس کے زوج فاعل کو زوج منفعل کی جگہ یا زوج منفعل کو زوج فاعل کی جگہ رکھنے کا خیال کر سکتے ہیں اور اس کی کوشش کرکے اور اس میں کام یابی کی امید رکھ کر مزید حماقت کا ثبوت بھی دے سکتے ہیں مگر اس مشین کا صانع تو ہرگز ایسا نہ کرے گا۔ وہ تو فاعل پرزے کو فعل ہی کی جگہ رکھے گا اور اسی حیثیت سے اس کی تربیت کرے گا اور منفعل پرزے کو انفعال ہی کی جگہ رکھے گا اور اس میں انفعالی استعداد ہی پرورش کرنے کا انتظام کرے گا۔

۳۔ فعل اپنی ذات میں قبول و انفعال پر بہرحال ایک طرح کی فضیلت رکھتا ہے۔ یہ فضیلت اس معنی میں نہیں ہے کہ فعل میں عزت ہو اور انفعال اس کے مقابلے میں ذلیل ہو بلکہ فضیلت دراصل غلبہ، قوت اور اثر کے معنی میں ہے جو شے کسی دوسری شے پر فعل کرتی ہے وہ اسی وجہ سے تو کرتی ہے کہ وہ اس پر غالب ہے، اس کے مقابلے میں طاقت وَر ہے، اور اس پر اثر کرنے کی قوت رکھتی ہے اور جو شے اس کے فعل کو قبول کرتی ہے اور اس سے منفعل ہوتی ہے اس کے قبول و انفعال کی وجہ یہی تو ہے کہ وہ مغلوب ہے، اس کے مقابلے میں کم زور ہے اورمتاثر ہونے کی استعداد رکھتی ہے۔ جس طرح وقوع فعل کے لیے فاعل اور منفعل دونوں کا وجود یکساں ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ فاعل میں غلبہ اور قوتِ تاثیر ہو اور منفعل میں مغلوبیت اور قبولِ اثر کی استعداد۔ کیوں کہ اگر دونوں قوت میں یکساں ہوں اور کسی کو کسی پر غلبہ حاصل نہ ہو تو ان میں کوئی کسی کا اثر قبول نہ کرے گا اور سرے سے فعل واقع ہی نہ ہو گا۔ اگر کپڑے میں بھی وہی سختی ہو جو سوئی میں ہے تو سینے کا فعل پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر زمین میں نرمی نہ ہو جس کی وجہ سے کدال اور ہل کا غلبہ قبول کرتی ہے تو زراعت اور تعمیر ناممکن ہو جائے، غرض دنیا میں جتنے افعال واقع ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی واقع نہیں ہو سکتا اگر ایک فاعل کے مقابلہ میں ایک منفعل نہ ہو اور منفعل میں فاعل کے اثر سے مغلوب ہونے کی صلاحیت نہ ہو۔ پس زوجین میں سے زوجِ فاعل کی طبیعت کا اقتضا یہی ہے کہ اس میں غلبہ، شدت اور تحکم ہو جسے مردانگی اور رجولیت سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیوں کہ فعلی پرزے کی حیثیت سے اپنی خدمت بجا لانے کے لیے اس کا ایسا ہی ہونا ضروری ہے۔ اس کے برعکس زوج منفعل کی فطرتِ انفعالیہ کا یہی تقاضا ہے کہ اس میں نرمی ونزاکت، لطافت اور تاثر ہو جسے انوثت یا نسائیت کہا جاتا ہے، کیوں کہ زوجیت کے انفعالی پہلو میں یہی صفات اسے کام یاب بنا سکتی ہیں۔ جو لوگ اس رازکو نہیں جانتے وہ یا تو فاعل کی ذاتی فضیلت کو عزت کا ہم معنی سمجھ کر منفعل کو بالذات ذلیل قرار دے بیٹھے ہیں، یا پھر سرے سے اس فضیلت کا انکار کرکے منفعل میں بھی وہی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو فاعل میں ہونا چاہییں۔ لیکن جس انجینئر نے ان دونوں پرزوں کو بنایا ہے وہ انھیں مشین میں اس طور پر نصب کرتا ہے کہ عزت میں دونوں یکساں، اور تربیت و غایت میں دونوں برابر، مگر فعل و انفعال کی طبیعت جس غالبیت اور مغلوبیت کی مقتضی ہے وہی ان میں پیدا ہو، تاکہ وہ تزویج کے منشا کو پورا کر سکیں، نہ کہ یہ دونوں ایسے پتھر بن جائیں جو ٹکرا تو سکتے ہیں مگر آپس میں کوئی امتزاج اور کوئی ترکیب قبول نہیں کر سکتے۔

یہ وہ اصول ہیں جو زوجیت کے ابتدائی مفہوم ہی سے حاصل ہوتے ہیں۔ محض ایک مادی وجود ہونے کی حیثیت سے عورت اور مرد کا زوج زوج ہونا ہی اس کا مقتضی ہے کہ ان کے تعلقات میں یہ اصولِ مرعی رکھے جائیں۔ چنانچہ آگے چل کر آپ کو معلوم ہو گا کہ فاطر السموات والارض نے جو قانون معاشرت بنایا ہے اس میں ان تینوں کی پوری رعایت کی گئی ہے۔

(۲)۔ انسان کی حیوانی فطرت اور اس کے مقتضیات:

اب ایک قدم اور آگے بڑھیے، عورت اور مردکا وجود محض ایک مادی وجود ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک حیوانی وجود بھی ہے۔ اس حیثیت سے ان کا زوج ہونا کس چیز کا مقتضی ہے؟ قرآن کہتا ہے۔

<<جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّمِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا۝۰ۚ يَذْرَؤُكُمْ فِيْہِ۝۰ۭ>> (الشوریٰ 11:42)

اللہ نے تمھارے لیے خود تمھی میں سے جوڑے بنائے اور جانوروں میں سے بھی جوڑے بنائے۔ اس طریقہ سے وہ تمھیں روئے زمین پر پھیلاتا ہے۔

<<نِسَاۗؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۝۰۠>> (البقرہ 223:2)

تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں۔

پہلی آیت میں انسان اور حیوان دونوں کے جوڑے بنانے کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور اس کا مشترک مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے زوجی تعلق سے تناسل کا سلسلہ جاری ہو۔

دوسری آیت میں انسان کو عام حیوانات سے الگ کرکے یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انواعِ حیوانات میں سے اس خاص نوع کے زوجین میں کھیتی اور کسان کا سا تعلق ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی حقیقت (biological fact) ہے۔ حیاتیات کے نقطہ نظر سے بہترین تشبیہ جو عورت اور مرد کو دی جا سکتی ہے ۔ وہ یہی ہے۔

ان دونوں آیتوں سے تین مزید اُصول حاصل ہوتے ہیں:

(۱) اللہ تعالیٰ نے تمام حیوانات کی طرح انسان کے جوڑے بھی اس مقصد کے لیے بنائے کہ ان کے صنفی تعلق سے انسانی نسل جاری ہو۔ یہ انسان کی حیوانی فطرت کا مقتضا ہے جس کی رعایت ضروری ہے۔ خدا نے نوعِ انسانی کو اس لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ اس کے چند افراد زمین پر اپنے نفس کی پرورش کریں اور بس ختم ہو جائیں۔ بلکہ اس کا ارادہ ایک اجل معین تک اس نوع کو باقی رکھنے کا ہے، اور اس نے انسان کی حیوانی فطرت میں صنفی میلان اسی لیے رکھا ہے کہ اس کے زوجین باہم ملیں اور خدا کی زمین کو آباد رکھنے کے لیے اپنی نسل جاری کریں۔ پس جو قانون خدا کی طرف سے ہو گا وہ کبھی صنفی میلان کو کچلنے اور فنا کرنے والا نہیں ہو سکتا۔ اس سے نفرت اور کلی اجتناب کی تعلیم دینے والا نہیں ہو سکتا، بلکہ اس میں لازمًا ایسی گنجائش رکھی جائے گی کہ انسان اپنی فطرت کے اس اقتضا کو پورا کر سکے۔

(۲) عورت اور مرد کو کھیتی اور کسان سے تشبیہ دے کر بتایا گیا ہے کہ انسانی زوجین کا تعلق دوسرے حیوانات کے زوجین سے مختلف ہے۔ انسانی حیثیت سے قطع نظر، حیوانی اعتبار سے بھی ان دونوں کی ترکیبِ جسمانی اس طور پر رکھی گئی ہے کہ ان کے تعلق میں وہ پائداری ہونی چاہیے جو کسان اور اس کے کھیت میں ہوتی ہے۔ جس طرح کھیتی میں کسان کا کام محض بیج پھینک دینا ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ اسے پانی دے، کھاد مہیا کرے اور اس کی حفاظت کرتا رہے، اسی طرح عورت بھی وہ زمین نہیں ہے جس میں ایک جانور چلتے پھرتے کوئی بیج پھینک جائے اور وہ ایک خود رو درخت اُگا دے، بلکہ جب وہ بارآورہوتی ہے تو درحقیقت اس کی محتاج ہوتی ہے کہ اس کا کسان اس کی پرورش اور اس کی رکھوالی کا پورا بار سنبھالے۔

(۳) انسان کے زوجین میں جو صنفی کشش ہے وہ حیاتیاتی حیثیت سے (biologically) اسی نوعیت کی ہے جو دوسری انواعِ حیوانی میں پائی جاتی ہے۔ ایک صنف کا ہر فرد صنف مقابل کے ہر فرد کی طرف حیوانی میلان رکھتا ہے اور تناسل کا زبردست داعیہ، جو ان کی سرشت میں رکھا گیا ہے، دونوں صنفوں کے ان تمام افراد کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتا ہے، جن میں تناسل کی حیثیت بالفعل موجود ہو۔ پس فاطر کائنات کا بنایا ہوا قانون انسان کی حیوانی فطرت کے اس کم زور پہلو سے بے پروا نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس میں صنفی انتشار (sexul anarchy) کی طرف … شدید میلان چھپا ہوا ہے جو تحفظ کی خاص تدابیر کے بغیر قابو میںنہیں رکھا جا سکتا، اور ایک مرتبہ اگر وہ بے قابو ہو جائے تو انسان کو پورا حیوان بلکہ حیوانات میں بھی سب سے ارذل بن جانے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔

<<لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍo ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَo>> (التین95:5- 4)

ہم نے انسان کو بہت ہی اچھی صورت میں پیدا کیا۔ پھر (رفتہ رفتہ) اس (کی حالت) کو (بدل کر) پست سے پست کر دیا مگر جو لوگ ایمان لائے اورنیک عمل کرتے رہے۔

(۳)۔ فطرتِ انسانی اور اس کے مقتضیات:

جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں، طبیعتِ حیوانیہ، خلقت انسانی کی تہ میں زمین اور بنیاد کے طور پر ہے، اور اسی زمین پر انسانیت کی عمارت قائم کی گئی ہے۔ انسان کے انفرادی وجود اور اس کی نوعی ہستی، دونوں کو باقی رکھنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے ان میں سے ہر ایک کی خواہش اور ہر ایک کے حصول کی استعداد اللہ تعالیٰ نے اس کی حیوانی سرشت میں رکھ دی ہے اور فطرتِ الٰہی کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ان خواہشات میں سے کسی خواہش کو پورا نہ ہونے دیا جائے یا ان استعدادات میں سے کسی استعداد کو فنا کر دیا جائے، کیوں کہ یہ سب چیزیں بھی بہرحال ضروری ہیں اور ان کے بغیر انسان اور اس کی نوع زندہ نہیں رہ سکتی۔ البتہ فطرتِ حق یہ چاہتی ہے کہ انسان اپنی ان خواہشات کو پورا کرنے اور ان استعدادات سے کام لینے میں نرا حیوانی طریقہ اختیار نہ کرے بلکہ اس کی انسانی سرشت جن امور کی مقتضی ہے اور اس میں جن فوق الحیوانی امور کی طلب رکھی ہے، ان کے لحاظ سے اس کا طریقہ انسانی ہونا چاہیے۔ اسی غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے حدودِ شرعی مقرر فرمائی ہیں تاکہ انسان کے افعال کو ایک ضابطہ کا پابند بنایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ تنبیہ بھی کر دی گئی ہے کہ اگر افراط یا تفریط کا طریقہ اختیار کرکے ان حدود سے تجاوز کرو گے تو اپنے آپ کو خود تباہ کر لو گے۔

<<وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ۝۰ۭ>> (الطلاق 1:65)

جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا پس اس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا۔

اب دیکھیے کہ صنفی معاملات میں قرآن مجید انسانی فطرت کی کن خصوصیات اور کن مقتضیات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

۱۔ دونوں صنفوں کے درمیان جس قسم کا تعلق انسانی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے، اس کی تشریح یہ ہے:

<<خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً۝۰ۭ >> (الروم 21:30)

اللہ نے تمھارے لیے خود تمھی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمھارے درمیان مودّت اور رحمت رکھ دی ہے۔

<<ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ۝۰ۭ>> (البقرہ 187:2)

وہ تمھارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔

اس سے پہلے جس آیت میں انسان اور حیوان دونوں کے جوڑے بنانے کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا وہاں تخلیقِ زوجین کا مقصد صرف بقائے نسل بتایا گیا تھا۔ اب حیوان سے الگ کرکے انسان کی یہ خصوصیت بتائی گئی ہے کہ اس میں زوجیت کا ایک بالاتر مقصد بھی ہے اور وہ یہ کہ ان کا تعلق محض شہوانی تعلق نہ ہو بلکہ محبت اور انس کا تعلق ہو، دل کے لگاؤ اور روحوں کے اتصال کا تعلق ہو، وہ ایک دوسرے کے راز دار اور شریکِ رنج و راحت ہوں، ان کے درمیان ایسی معیت اور دائمی وابستگی ہو جیسی لباس اور جسم میں ہوتی ہے۔ دونوں صنفوں کا یہی تعلق انسانی تمدن کی عمارت کا سنگِ بنیاد ہے جیسا کہ ہم بتفصیل بیان کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ<< لِتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا>> سے اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا کہ عورت کی ذات میں مرد کے لیے سرمایۂ سکون و راحت ہے، اور عورت کی فطری خدمت یہی ہے کہ وہ اس جدوجہد اور ہنگامہ عمل کی مشقتوں بھری دنیا میں سکون و راحت کا ایک گوشتہ مہیا کرے۔ یہ انسان کی خانگی زندگی ہے، جس کی اہمیت کو مادی منفعتوں کی خاطر اہلِ مغرب نے نظر انداز کر دیا ہے۔ حالانکہ تمدن و عمران کے شعبوں میں جو اہمیت دوسرے شعبوں کی ہے وہی اس شعبے کی بھی ہے اور تمدنی زندگی کے لیے یہ بھی اتنا ضروری ہے جتنے دوسرے شعبے ضروری ہیں۔

۲۔ یہ صنفی تعلق صرف زوجین کی باہمی محبت ہی کا مقتضی نہیں ہے بلکہ اس امر کا بھی مقتضی ہے کہ اس تعلق سے جو اولاد پیدا ہو اس کے ساتھ بھی ایک گہرا روحانی تعلق ہو۔ فطرتِ الٰہی نے اس کے لیے انسان کی اور خصوصًا عورت کی جسمانی ساخت اور حمل و رضاعت کی طبعی صورت ہی میں ایسا انتظام کر دیا ہے کہ اس کی رگ رگ اور ریشے ریشے میں اولاد کی محبت پیوست ہو جاتی ہے، چنانچہ قرآن مجید کہتا ہے:

<<حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَہْنًا عَلٰي وَہْنٍ وَّفِصٰلُہٗ فِيْ عَامَيْنِ>> (لقمان 14:31)

اس کی ماں نے اسے جھٹکے پر جھٹکے اٹھا کر پیٹ میں رکھا۔ پھر وہ دو سال کے بعد ماں کی چھاتی سے جدا ہوا۔

<<حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ كُرْہًا وَّوَضَعَتْہُ كُرْہًا۝۰ۭ وَحَمْلُہٗ وَفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَہْرًا۝۰ۭ>> (الاحقاف 15:46)

اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ پیٹ میں رکھا، تکلیف کے ساتھ جنا اور اس کے حمل اور دودھ چھٹائی میں تیس مہینے صرف ہوئے۔

ایسا ہی حال مرد کا ہے، اگرچہ اولاد کی محبت میں وہ عورت سے کم تر ہے:

<<زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَاۗءِ وَالْبَنِيْنَ>> (آل عمران 14:3)

لوگوں کے لیے خوش آیند ہے۔ مرغوب چیزوں کی محبت، جیسے عورتیں، اولاد اور…

یہی فطری محبت انسان اور انسا ن کے درمیان نسبی اور صِہری رشتے قائم کرتی ہے، پھر ان رشتوں سے خاندان اور خاندانوں سے قبائل اور قومیں بنتی ہیں، اور ان کے تعلقات سے تمدن وجود میں آتا ہے۔

<<وَہُوَالَّذِيْ خَلَقَ مِنَ الْمَاۗءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّصِہْرًا۝۰ۭ>> ( الفرقان 54:25)

اور وہ خدا ہی ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا پھر اسے نسب اور شادی بیاہ کا رشتہ بنایا۔

<<يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا۝۰ۭ>> ( الحجرات 13:49)

لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، پھر تمھاری، قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔

پس اَرحام، اَنساب اور مصاہرت کے رشتے دراصل انسانی تمدن کے ابتدائی اور طبعی موسسات ہیں اور ان کے قیام کا انحصار اس پر ہے کہ اولاد اپنے معلوم و معروف ماں باپ سے ہو اور انساب محفوظ ہوں۔

۳۔ انسانی فطرت کا اقتضا یہ بھی ہے کہ وہ اپنی محنتوں کے نتائج اور اپنی گاڑھی کمائی میں سے اگر کچھ چھوڑے تو اپنی اولاد اور اپنے عزیزوں کے لیے چھوڑے جن کے ساتھ وہ تمام عمر خونی اور رحمی رشتوں میں بندھا رہا ہے۔

<<وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللہِ۝۰ۭ >> (الانفال 75:8)

اور اللہ کے قانون میں رشتہ دار ایک دوسرے کی وراثت کے زیادہ حق دار ہیں۔

<<وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاۗءَكُمْ اَبْنَاۗءَكُمْ۝۰ۭ>> ( الاحزاب 4:33)

جنھیں تم منہ بولا بیٹا بنا لیتے ہو، انھیں خدا نے تمھارا بیٹا نہیں بنایا ہے۔

پس تقسیمِ میراث کے لیے بھی تحفظِ انساب کی ضرورت ہے۔

۴۔ انسان کی فطرت میں حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اس کے جسم کے بعض حصے ایسے بھی ہیں جن کے چھپانے کی خواہش خدا نے اس کی جبلت میں پیدا کی ہے۔ یہی جبلی خواہش ہے جس نے ابتدا سے انسان کو کسی نہ کسی نوع کا لباس اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس باب میں قرآن قطعیت کے ساتھ جدید نظریہ کی تردید کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسانی جسم کے جن حصوں میں مرد اور عورت کے لیے صنفی جاذبیت ہے۔ ان کے اظہار میں شرم کرنا اور انھیں چھپانے کی کوشش کرنا انسانی فطرت کا اقتضا ہے۔ البتہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ وہ انھیں کھول دے۔

<<فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّيْطٰنُ لِيُبْدِيَ لَہُمَا مَا وٗرِيَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا>> (الاعراف 20:7)

پھر شیطان نے آدم اور ان کی بیوی کو بہکایا تاکہ ان کے جسم میں سے جو ان سے چھپایا گیا تھا اسے ان پر ظاہر کر دے۔

<<فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْاٰتُہُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفٰنِ عَلَيْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ۝۰ۭ>> ( الاعراف 22:7)

پس جب انھوں نے اس شجر کو چکھا تو ان پر ان کے جسم کے پوشیدہ حصے کھل گئے اور وہ انھیں جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے۔

پھر قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے لباس اسی لیے اتارا ہے کہ وہ تمھارے لیے ستر پوشی کا ذریعہ بھی ہو اور زینت کا ذریعہ بھی۔ مگر محض ستر چھپا لینا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ تمھارے دلوں میں تقوٰی بھی ہو۔

<<يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا۝۰ۭ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى۝۰ۙ ذٰلِكَ خَيْرٌ۝۰ۭ>> ( الاعراف 26:7)

اے اولادِ آدمؑ! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمھارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمھارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے۔

یہ اسلامی نظامِ معاشرت کے اساسی تصورات ہیں۔ ان تصورات کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب اس نظامِ معاشرت کی تفصیلی صورت ملاحظہ کیجیے جو ان تصورات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ اب مطالعہ کے دوران میں آپ کو گہری نظر سے اس امرکا تجسس کرنا چاہیے کہ اسلام جن نظریات کو اپنے قانون کی اساس قرار دیتا ہے انھیں عملی جزئیات و تفصیلات میں نافذ کرتے ہوئے کہاں تک یکسانی و ہمواری اور منطقی ربط و مطابقت قائم رکھتا ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے جتنے قوانین ہم نے دیکھے ہیں ان سب کی یہ مشترک اور نمایاں کم زوری ہے کہ ان کے اساسی نظریات اور عملی تفصیلات کے درمیان پورا منطقی ربط قائم نہیں رہتا۔ اصول اور فروغ میں صریح تناقض پایا جاتا ہے۔ کلیات جو بیان کیے جاتے ہیں ان کا مزاج کچھ اور ہوتا ہے اور عمل درآمد کے لیے جو جزئیات مقرر کیے جاتے ہیں ان کا مزاج کوئی اور صورت اختیار کر لیتا ہے۔ فکر و تعقل کے آسمانوں پر چڑھ کر ایک نظریہ پیش کر دیا جاتا ہے، مگر جب عالمِ بالا سے اُتر کر واقعات اور عمل کی دنیا میں آدمی اپنے نظریہ عمل کو جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے تو یہاں عملی مسائل میں وہ کچھ ایسا کھویا جاتا ہے کہ اسے خود اپنا نظریہ یاد نہیں رہتا۔ انسانی ساخت کے قوانین میں سے کوئی ایک قانون بھی اس کم زوری سے خالی نہیں پایا گیا۔ اب آپ دیکھیں، اور خردبین لگا کر انتہائی نکتہ چینی کی نگاہ سے دیکھیں کہ یہ قانون جو ریگستان عرب کے ایک ان پڑھ انسان نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، جس کے مرتب کرنے میں اس نے کسی مجلسِ قانون ساز اور کسی سلکٹ کمیٹی سے مشورہ تک نہیں لیا، اس میں بھی کہیں کوئی منطقی بے ربطی اور کسی تناقص کی جھلک پائی جاتی ہے؟