پردہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔
کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: پردہ
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔
کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔
تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
- تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
- تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
- پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
- اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
- تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
- آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟
٧۔ انگلستان کی حالت
مَیں ان افسوس ناک تفصیلات کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتا۔ مگر نامناسب ہے کہ اس حصۂ بحث کو جارج رائیلی اسکاٹ کی تاریخ الفحشا”A history of prostitution” کے چند اقتباسات نقل کیے بغیر ختم کر دیا جائے۔ اس کتاب کا مصنف ایک انگریز ہے اور اس نے زیادہ تر اپنے ہی ملک کی اخلاقی حالت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:
جن عورتوں کی بسر اوقات کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ اپنے جسم کو کرایہ پر چلا کر روزی کمائیں۔ ان کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد ان عورتوں کی بھی ہے (اور وہ روز بروز زیادہ ہو رہی ہے) جو اپنی ضروریات زندگی حاصل کرنے کے لیے دوسرے ذرائع رکھتی ہیں اور ضمنی طور پر اس کے ساتھ فاحشہ گری بھی کرتی ہیں تاکہ آمدنی میں کچھ اور اضافہ ہو جائے۔ یہ پیشہ ور فاحشات سے کچھ بھی مختلف نہیں ہیں، مگر اس نام کا اطلاق ان پر نہیں کیا جاتا۔ ہم انھیں غیر پیشہ ور فاحشات (amateur prostitutes) کہہ سکتے ہیں۔
ان شوقین یا غیر پیشہ ور فاحشات کی کثرت آج کل جتنی ہے اتنی کبھی نہ تھی۔ سوسائٹی کے نیچے سے لے کر اوپر تک ہر طبقہ میں یہ پائی جاتی ہیں۔ اگر ان معزز خواتین کو کہیں اشارے کنایے میں بھی ’’فاحشہ‘‘ کہہ دیا جائے تو یہ آگ بگولا ہو جائیں گی۔ مگر ان کی ناراضی سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ ان میں اور پکاڈلی کی کسی بڑی سے بڑی بے شرم بیسوا میں بھی اَخلاقی حیثیت سے کوئی وجہ امتیاز نہیں ہے… اب جوان لڑکی کے لیے بد چلنی اور بے باکی، بلکہ سوقیانہ اطوار تک فیشن میں داخل ہو گئے ہیں اور سگریٹ پینا، تلخ شرابیں استعمال کرنا، ہونٹوں پر سرخی لگانا، صنفیات اور مانع حمل کے متعلق اپنی واقفیت کا اظہار کرنا، فحش لٹریچر پر گفتگو کرنا، یہ سب چیزیں بھی ان کے لیے فیشن بنی ہوئی ہیں … ایسی لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جو شادی سے پہلے صنفی تعلقات بلاتکلف قائم کر لیتی ہیں اور وہ لڑکیاں اب شاذ کے حکم میں ہیں جو کلیسا کی قربان گاہ کے سامنے نکاح کا پیمانِ وفا باندھتے وقت صحیح معنوں میں دوشیزہ ہوتی ہیں۔
آگے چل کر یہ مصنف ان اسباب کا تجزیہ کرتا ہے جو حالات کو اس حد تک پہنچا دینے کا موجب ہوئے ہیں اور مناسب تو یہ ہے کہ اس تجزیہ کو بھی اسی کے الفاظ میں نقل کیا جائے:
سب سے پہلے اس شوقِ آرائش کو لیجیے جس کی وجہ سے ہر لڑکی میں نئے فیشن کے قیمتی لباسوں اور حسن افزائی کے مختلف النوع سامانوں کی بے پناہ حرص پیدا ہو گئی ہے۔ یہ اس بے ضابطہ فاحشہ گری کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ہے۔ ہر شخص جو دیکھنے والی آنکھیں رکھتا ہے اس بات کو بآسانی دیکھ سکتا ہے کہ وہ سیکڑوں ہزاروں لڑکیاں جو اس کے سامنے روزانہ گزرتی ہیں عمومًا اتنے قیمتی کپڑے پہنے ہوئے ہوتی ہیں کہ ان کی جائز کمائی کسی طرح بھی ایسے لباسوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا آج بھی یہ کہنا اتنا ہی صحیح ہے جتنا نصف صدی پہلے صحیح تھا کہ مرد ہی ان کے لیے کپڑے خریدتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے جو مرد ان کے لیے کپڑے خریدتے تھے وہ ان کے شوہر یا باپ بھائی ہوتے تھے اور اب ان کی بجائے کچھ دوسرے لوگ ہوتے ہیں۔
عورتوں کی آزادی کا بھی ان حالات کی پیدائش میں بہت کچھ دخل ہے۔ گزشتہ چند سالوںمیں لڑکیوں پر سے والدین کی حفاظت و نگرانی اس حد تک کم ہو گئی ہے کہ تیس چالیس سال قبل لڑکوں کو بھی اتنی آزادی حاصل نہ تھی جتنی اب لڑکیوں کو حاصل ہے۔
ایک اور اہم سبب، جو سوسائٹی میں وسیع پیمانہ پر صنفی آوارگی پھیلنے کا موجب ہوا، یہ ہے کہ عورتیں روز افزوں تعداد میں تجارتی کاروبار، دفتری ملازمتوں اور مختلف پیشوں میں داخل ہو رہی ہیں جہاں شب و روز انھیں مردوں کے ساتھ خلط ملط ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس چیز نے عورتوں اور مردوں کے اَخلاقی معیار کو بہت گرا دیا ہے۔ مردانہ اقدامات کے مقابلہ میں عورتوں کی قوتِ مزاحمت کو بہت کم کر دیا ہے، اور دونوں صنفوں کے شہوانی تعلق کو تمام اخلاقی بندشوں سے آزاد کر کے رکھ دیا ہے۔ اب جوان لڑکیوں کے ذہن میں شادی اور باعصمت زندگی کا خیال آتا ہی نہیں۔ آزادانہ ’’خوش وقتی‘‘ جسے پہلے کبھی آوارہ قسم کے مرد ڈھونڈتے پھرتے تھے، آج ہر لڑکی اس کی جستجو کرتی پھرتی ہے۔ دوشیزگی اور بکارت کو ایک دقیانوسی چیز سمجھا جاتا ہے اور دورِ جدید کی لڑکی اسے ایک مصیبت خیال کرتی ہے۔ اس کے نزدیک زندگی کا لطف یہ ہے کہ عہدِ شباب میں لذاتِ نفس کا جام خوب جی بھر کے پیا جائے۔ اسی چیز کی تلاش میں وہ رقص خانوں، نائٹ کلبوں، ہوٹلوں اور قہوہ خانوں کے چکر لگاتی ہے اور اسی کی جستجو میں وہ بالکل اجنبی مردوں کے ساتھ موٹر کی سیر کے لیے بھی جانے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ جان بوجھ کر خود اپنی خواہش سے اپنے آپ کو ایسے ماحول میں اور ایسے حالات میں پہنچا دیتی ہے اورپہنچاتی رہتی ہے جو صنفی جذبات کو مشتعل کرنے والے ہیں اور پھر اس کے جو قدرتی نتائج ہیں ان سے وہ گھبراتی نہیں ہے بلکہ ان کا خیر مقدم کرتی ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭