پردہ
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔
کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔
کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: پردہ
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔
کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔
تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
- تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
- تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
- پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
- اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
- تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
- عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
- آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟
۲۔انیسویں صدی کے تغیرات
فرانس کا انقلاب اسی تصورِ آزادی کے زیر اثر رونما ہوا۔ اس انقلاب میں بہت سے پرانے اخلاقی نظریات [انفراد ی آزادی کے اس تخیل سے موجودہ نظام سرمایہ داری، جمہوری نظام تمدن، اور اخلاقی آوارگی (licentiousness) کی تخلیق ہوئی اور تقریباً ڈیڑھ صدی کے اندر اس نے یورپ اور امریکا میں اتنے ظلم ڈھائے کہ انسانیت اس کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور ہو گئی، کیوں کہ اس نظام نے فرد کو جماعتی مفاد کے خلاف خود غرضانہ عمل کرنے کا لائسنس دے کر اجتماعی فلاح و بہبود کوذبح کر ڈالا اور جماعتی زندگی کو پارہ پارہ کر دیا۔ سوشلزم اور فاشزم دونوں اس بغاوت کے مظاہر ہیں لیکن اس نئی تعمیر میں ابتدا ہی سے ایک خرابی کی صورت مضمر ہے۔ یہ دراصل ایک انتہا کا علاج دوسری انتہا سے ہے۔ اٹھارہویں صدی کے تصور حریت شخصی کا قصور یہ تھا کہ وہ جماعت کو فرد پر قربان کرتا تھا اور اس بیسویں صدی کے تصور اجتماع کا قصور یہ ہے کہ یہ فرد کو جماعت پر قربان کرنا چاہتا ہے۔ فلاح انسانیت کے لیے ایک متوازن نظریہ آج بھی ویسا ہی نا پید ہے جیسا اٹھارہویں صدی میں تھا۔ ] اور تمدنی و مذہبی ضابطوں کی دھجیاں اُڑا دی گئیں اور جب ان کا اڑنا ترقی کا ذریعہ ثابت ہوا تو انقلاب پسند دماغوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہر وہ نظریہ اور ہر وہ ضابطہ عمل جو پہلے سے چلا آ رہا ہے، ترقی کی راہ کا روڑا ہے، اسے ہٹائے بغیر قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ چنانچہ مسیحی اخلاقیات کے غلط اصولوں کو توڑنے کے بعد بہت جلدی ان کی مقراضِ تنقید انسانی اخلاقیات کے اساسی تصورات کی طرف متوجہ ہو گئی۔ یہ عصمت کیا بلا ہے؟ یہ جوانی پر تقوٰی کی مصیبت آخر کیوں ڈالی گئی ہے؟ نکاح کے بغیراگر کوئی کسی سے محبت کرلے تو کیا بگڑ جاتا ہے؟ اور نکاح کے بعد کیا دل آدمی کے سینے سے نکل جاتا ہے کہ اس سے محبت کرنے کا حق چھین لیا جائے؟ اس قسم کے سوالات نئی انقلابی سوسائٹی میں ہر طرف سے اُٹھنے لگے اور خصوصیت کے ساتھ افسانوی گروہ (romantic school) نے انھیں سب سے زیادہ زور کے ساتھ اُٹھایا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں ژور ژساں (George Sand) اس گروہ کی لیڈر تھی۔ اس عورت نے خود ان تمام اخلاقی اصولوں کو توڑا جن پر ہمیشہ سے انسانی شرافت اور خصوصًا عورت کی عزت کا مدار رہا ہے۔ اس نے ایک شوہر کی بیوی ہوتے ہوئے حصنِ نکاح سے باہر آزادانہ تعلقات قائم کیے۔ آخر کار شوہر سے مفارقت ہوئی۔ اس کے بعد یہ دوست پر دوست بدلتی چلی گئی اور کسی کے ساتھ دو برس سے زیادہ نباہ نہ کیا۔ اس کی سوانح حیات میں کم از کم چھے ایسے آدمیوں کے نام ملتے ہیں جن کے ساتھ اس کی علانیہ اور باقاعدہ آشنائی رہی ہے۔ اس کے انھی دوستوں میں سے ایک اس کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے:
ژور ژساں پہلے ایک پروانے کو پکڑتی ہے اور اسے پھولوں کے پنجرے میں قید کرتی ہے۔ یہ اس کی محبت کا دَور ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنی پِن سے اسے چبھونا شروع کرتی ہے اور اس کے پھڑپھڑانے سے لطف اٹھاتی ہے… یہ اس کی سرد مہری کا دَور ہوتا ہے اور دیر یا سویر یہ دور بھی ضرور آتا ہے… پھر وہ اس کے پر نوچ کر اس کا تجزیہ کرکے اسے ان پروانوں کے ذخیرے میں شامل کر لیتی ہے جن سے وہ اپنے ناولوں کے لیے ہیرو کا کام لیا کرتی ہے۔
فرانسیسی شاعر الفرے مسے (Alfred Musse) بھی اس کے عشاق میں سے تھا، اور آخرکار وہ اس کی بے وفائیوں سے اس قدر دل شکستہ ہوا کہ مرتے وقت اس نے وصیت کی کہ ژورژساں اس کے جنازے پر نہ آنے پائے۔ یہ تھا اس عورت کا ذاتی کیریکٹر جو کم و بیش تیس سال تک اپنی شاداب تحریروں سے فرانس کی نوخیز نسلوں پر گہرا اثر ڈالتی رہی۔
اپنے ناول لیلیا (Lelia)میں وہ لیلیا کی طرف سے استینو کو لکھتی ہے:
جس قدر زیادہ مجھے دنیا کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے، مَیں محسوس کرتی جاتی ہوں کہ محبت کے متعلق ہمارے نوجوانوں کے خیالات کتنے غلط ہیں۔ یہ خیال غلط ہے کہ محبت ایک ہی سے ہونی چاہیے اور اس کے دل پر پورا قبضہ ہونا چاہیے اور وہ ہمیشہ کے لیے ہونی چاہیے۔ بلاشبہ تمام مختلف خیالات کو گوارا کرنا چاہیے۔ مَیں یہ ماننے کے لیے تیار ہوں کہ بعض خاص روحوں کو ازدواجی زندگی میں وفادار رہنے کا حق ہے مگر اکثریت کچھ دوسری ضروریات اور کچھ دوسری قابلیتیں رکھتی ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ طرفین ایک دوسرے کو آزادی دیں، باہمی رواداری سے کام لیں، اور اس خود غرضی کو دل سے نکال دیں جس کی وجہ سے رشک و رقابت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ تمام محبتیں صحیح ہیں، خواہ وہ تیز و تند ہوں یا پُرسکون، شہوانی ہوں یا روحانی، پائدار ہوں یا تغیر پزیر، لوگوں کو خودکشی کی طرف لے جائیں یا لطف و مسرت کی طرف۔
اپنے ایک دوسرے ناول ’’ژاک‘‘ (Jaccuse)میں وہ اس شوہر کا کیریکٹر پیش کرتی ہے جو اس کے نزدیک شوہریت کا بہترین نمونہ ہو سکتا تھا۔ اس کے ہیرو ژاک کی بیوی اپنے آپ کو ایک غیر مرد کی آغوش میں ڈال دیتی ہے۔مگر فراخ دل شوہر اس سے نفرت نہیں کرتا اورنفرت نہ کرنے کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ جو پھول میری بجائے کسی اور کو خوش بو دینا چاہتا ہے، مجھے کیا حق ہے کہ اسے پاؤں تلے روند ڈالوں۔
آگے چل کر اسی ناول میں وہ ژاک کی زبان سے یہ خیالات ظاہر کراتی ہے:
مَیں نے اپنی رائے نہیں بدلی، مَیں نے سوسائٹی سے صلح نہیں کی، میری رائے میں نکاح تمام اجتماعی طریقوں میں وہ انتہائی وحشیانہ طریقہ ہے جس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آخر کار یہ طریقہ موقوف ہو جائے گا۔ اگر نسلِ انسانی نے انصاف اور عقل کی طرف کوئی واقعی ترقی کی۔ پھر اس کی جگہ ایک دوسرا طریقہ لے گا جو نکاح سے کم مقدس نہ ہو گا مگر اس سے زیادہ انسانی طریقہ ہو گا۔ اس وقت انسانی نسل ایسے مردوں اور عورتوں سے آگے چلے گی جو کبھی ایک دوسرے کی آزادی پر کوئی پابندی عائد نہ کریں گے۔ فی الحال تو مرد اتنے خود غرض اور عورتیں اتنی بزدل ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی موجودہ قانون سے زیادہ شریفانہ قانون کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ہاں! جن میں ضمیر اور نیکی کا فقدان ہے۔ انھیں تو بھاری زنجیروں میں جکڑا ہی جانا چاہیے۔
یہ وہ خیالات ہیں جو ۱۸۳۳ء اور اس کے لگ بھگ زمانہ میں ظاہر کیے گئے تھے۔ ژور ژساں صرف اسی حد تک جا سکی۔ اس تخیل کو آخری منطقی نتائج تک پہنچانے کی اسے بھی ہمت نہ ہوئی۔ بایں ہمہ آزاد خیالی، روشن دماغی اور پرانے روایتی اخلاق کی تاریکی پھر بھی کچھ نہ کچھ اس کے دماغ میں موجود تھی۔ اس کے تیس پینتیس سال بعد فرانس میں ڈراما نویسوں، ادیبوں اور اَخلاقی فلسفیوں کا ایک دوسرا لشکر نمودار ہوا جس کے سرخیل الکساندے دوما (Alexander Dumas) اور الفرے ناکے (Alfred Naquet) تھے۔ ان لوگوں نے سارا زور اس خیال کی اشاعت پر صَرف کیا کہ آزادی اور لطفِ زندگی بجائے خود انسان کا پیدائشی حق ہے اور اس حق پر ضوابطِ اخلاق و تمدن کی جکڑ بندیاں لگانا فرد پر سوسائٹی کا ظلم ہے۔ اس سے پہلے فرد کے لیے آزادی عمل کا مطالبہ محبت کے نام پر کیا جاتا تھا۔ بعد والوں کو یہ نری جذباتی بنیاد کم زور محسوس ہوئی۔ لہٰذا انھوں نے انفرادی خودسری، آوارگی اور بے قید آزادی کو عقل، فلسفہ اور حکمت کی مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ نوجوان مرد اور عورتیں جو کچھ بھی کریں قلب و ضمیر کے کامل اطمینان کے ساتھ کریں اور سوسائٹی صرف یہی نہیں کہ ان کی شورشِ شباب کو دیکھ کر دم نہ مار سکے، بلکہ اخلاقًا جائز و مستحسن سمجھے۔
انیسویں صدی کے آخری دور میں پال آدم (Paul Adam) ہنری بتائی (Henry Bataille) پیرلوئی (Pierne Louis) اور بہت سے دوسرے ادیبوں نے اپنا تمام زور نوجوانوں میں جرأتِ رندانہ پیدا کرنے پر صرف کیا تاکہ قدیم اَخلاقی تصورات کے بچے کھچے اثرات سے جو جھجک اور رکاوٹ طبیعتوں میں باقی ہے وہ نکل جائے چنانچہ پول اوان اپنی کتاب (La Morale De Lamour) میں نوجوانوں کو ان کی اس جہالت و حماقت پر دل کھول کر ملامت کرتا ہے کہ وہ جس (لڑکی یا لڑکے) سے محبت کے تعلقات قائم کرتے ہیں اسے جھوٹ موٹ یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اس پر مر مٹے ہیں اور اس سے حقیقی عشق رکھتے ہیں اور ہمیشہ اسی کے ہو کر رہیں گے۔ پھر کہتا ہے:
یہ سب باتیں اس لیے کی جاتی ہیں کہ جسمانی لذت کی اس صحیح خواہش کو، جو فطری طور پر ہر آدمی میں ہوتی ہے اور جس میں کوئی بات فی الحقیقت گناہ یا بُرائی کی نہیں ہے پُرانے خیالات کی بِنا پر معیوب سمجھا جاتا ہے، اور اس لیے آدمی خواہ مخواہ جھوٹے الفاظ کے پردے میں اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ لاطینی قوموں کی یہ کم زوری ہے کہ ان میں محبت کرنے والے جوڑے ایک دوسرے پر اس بات کا صاف صاف اظہار کرتے ہوئے جھجکتے ہیں کہ ملاقات سے ان کا مقصد محض ایک جسمانی خواہش کو پورا کرنا اور لطف اُٹھانا ہے۔
اور اس کے بعد نوجوانوں کو مشورہ دیتا ہے:
شائستہ اور معقول انسان بنو، اپنی خواہشات اور لذات کے خادموں[ اس کا مطلب سمجھنے میں غلطی نہ کیجیے۔ ان سے مراد وہ عورتیں یا مرد ہیں جنھیں ایک مرد یا عورت اپنی خواہشات نفسانی کی تسلی کے لیے استعمال کرے۔] کو اپنا معبود نہ بنا لو۔ نادان ہے وہ جو محبت کا مندر تعمیر کرکے اس میں ایک ہی بت کا پجاری بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ لطف کی ہر گھڑی میں ایک نئے مہمان کا انتخاب کرنا چاہیے۔
پیر لوئی نے ان سب سے چار قدم آگے بڑھ کر پورے زور کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا کہ اخلاق کی بندشیں دراصل انسانی ذہن اور دماغی قوتوں کی نشوونما میں حائل ہوتی ہیں، جب تک انھیں بالکل توڑ نہ دیا جائے اور انسان پوری آزادی کے ساتھ جسمانی لذات سے متمتع نہ ہو، کوئی عقلی و علمی اور مادی و روحانی ارتقا ممکن نہیں ہے۔ اپنی کتاب افرودیت (Afrodite)میں وہ نہایت شدو مد کے ساتھ یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ بابل، اسکندریہ، ایتھنز، روم، وینس اور تمدن و تہذیب کے تمام دوسرے مرکزوں کی بہار اور عروج و شباب کا زمانہ وہ تھا جب وہاں رندی، آوارگی اور نفس پرستی (licentiousness) پورے زور پر تھی۔ مگر جب وہاں اخلاقی اور قانونی بندشیں انسانی خواہشات پر عائد ہوئیں تو خواہشات کے ساتھ ساتھ آدمی کی روح بھی انھی بندشوں میں جکڑ گئی۔
یہ پیرلوئی وہ شخص ہے جو اپنے عہد میں فرانس کا نام وَر ادیب، صاحبِ طرز انشا پرداز، اور ادب کے ایک مستقل اسکول کا راہ نما تھا، اس کے جلو میں افسانہ نگاروں، ڈرامہ نویسوں اور اخلاقی مسائل پر لکھنے والوں کا ایک لشکر تھا جو اس کے خیالات کو پھیلانے میں لگا ہوا تھا۔ اس نے اپنے قلم کی پوری طاقت عریانی اور مرد و زن کی بے قیدی کو سراہنے میں صرف کر دی۔ اپنی اس کتاب ’’افرودیت‘‘ میں وہ یونان کے اس دور کی حمد و ثنا کرتا ہے:
جب کہ برہنہ انسانیت ۔۔۔مکمل ترین صورت جس کا ہم تصور کر سکتے ہیں اور جس کے متعلق اہلِ مذہب نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ خدا نے اسے خود اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔۔۔ ایک مقدس بیسوا کی شکل میں باہزاراں ناز و ادا اپنے آپ کو ۲۰ ہزار زائرین کے سامنے پیش کر سکتی تھی۔ جب کہ کمال درجہ کی شہوانی محبت ۔۔۔نہ گناہ تھی، نہ شرم کی چیز تھی، نہ گندی اور نجس تھی۔
حد یہ ہے کہ تمام شاعرانہ پردوں کو ہٹا کر اس نے صاف الفاظ میں یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں :
نہایت پُرزور اَخلاقی تعلیم کے ذریعہ سے اس مکروہ خیال کا استیصال کر دینا چاہیے کہ عورت کا ماں ہونا کسی حال میں شرم ناک ناجائز ذلیل اور پایہ شرف و عزت سے گرا ہوا بھی ہوتا ہے۔