مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پردہ

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب ’’پردہ‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حیات کے ایک اہم جزو—عورت اور مرد کے تعلق کے ضابطے—کو فلسفیانہ، تاریخی، معاشرتی اور شرعی تناظر میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب محض لباس یا ظاہری پردے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد اس موضوع کی گہرائیوں، اس کے فطری اور تمدنی پہلوؤں، اور اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس کی اہمیت کو واضح کرنا ہے۔ مولانا صراحت کرتے ہیں کہ یہ کتاب پردے کے مسئلے پر آخری کلام نہیں، بلکہ ایک ابتدائی اور مقدماتی کوشش ہے جس میں قاری کو اطمینان بخش دلائل اور مواد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا آغاز ’’دیباچہ طبع الاول‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مصنف اس کتاب کی تشکیل کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ مضامین ابتداءً ماہنامہ ’’ترجمان القرآن‘‘ کے لیے لکھے گئے تھے، لیکن بعد میں انہیں ایک منظم کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اس کے بعد ’’نوعیتِ مسئلہ‘‘ کے تحت مصنف انسانی تمدن کے دو بنیادی مسائل—مرد و عورت کا تعلق اور فرد و جماعت کا توازن—میں سے پہلے مسئلے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ انسانی عقل اس مسئلے کا صحیح حل تب تک نہیں نکال سکتی جب تک وہ تمام حقائق کو یکساں نگاہ سے نہ دیکھے، جو عام طور پر نفسانی میلانات کی وجہ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ میں دو انتہائیں سامنے آئی ہیں: ایک طرف عورت کو ذلیل اور گناہ گار سمجھا گیا، تو دوسری طرف اسے شہوانیت کا آلہ بنا دیا گیا۔

کتاب کا وسط حصہ تقابلی اور تاریخی مطالعہ پیش کرتا ہے: یونان، روم، مسیحی و جدید یورپ میں عورت کے مقام کا جائزہ، مغربی تہذیب کے زیرِ اثر مسلم معاشروں میں پیدا ہونے والی 'ذہنی غلامی' اور حجاب کے خلاف تحریک کے اصل محرکات، اور اٹھارویں سے بیسویں صدی تک آزادیِ نسواں کے نظریات کے ارتقا کا تجزیہ۔ اس کے بعد صنعتی انقلاب، سرمایہ دارانہ معاشرت اور جمہوری تمدن کے نتیجے میں مغربی معاشروں میں فحاشی، طلاق کی کثرت اور خاندانی نظام کے انہدام کے شواہد امریکہ اور انگلستان کی مثالوں سے پیش کیے گئے ہیں۔

کتاب کا اختتامی اور عملی حصہ 'اسلامی نظامِ معاشرت' کے اساسی نظریات و اصول بیان کرنے کے بعد پردے کے تفصیلی احکام کو موضوع بناتا ہے—غضِ بصر، اظہارِ زینت کی حدود، چہرے اور نقاب کا حکم—اور آخر میں عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے کے قوانین کو مسجد، حج، جمعہ و عیدین، زیارتِ قبور اور جنگ کی شرکت جیسے مخصوص مواقع کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: پردہ

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"پردہ" 1939ء میں شائع ہوئی، اور یہ صنف کے موضوع پر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا سب سے تفصیلی بیان ہے، اور آج ان کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ۔ یہ اپنے دور کے مباحث کے جواب میں لکھی گئی: اصلاح پسند مسلمان یہ دلیل دے رہے تھے کہ پردہ ایک ثقافتی اضافہ ہے، جبکہ مولانا کا موقف یہ تھا کہ عورت کا پردہ اسلامی معاشرتی نظام کا لازمی جزو اور اس کا تحفظ ہے، جبر نہیں۔

کتاب کے تیرہ حصے "مسئلے کی نوعیت" کو ایک تہذیبی انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہوئے شروع ہوتے ہیں؛ مختلف تہذیبوں میں عورت کے ساتھ سلوک کا جائزہ لیتے ہیں؛ "دورِ جدید کے مسلمان" اور معاصر مغربی معاشرے کی طرف مباحثانہ انداز میں رجوع کرتے ہیں، خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے حوالے سے شواہد پیش کرتے ہوئے؛ باہم متصادم "نظریات" اور ان کے "نتائج" کا جائزہ لیتے ہیں؛ "قوانینِ فطرت" سے دلیل لے کر مساوی نہیں بلکہ تکمیلی معاشرتی کرداروں کے نظریے تک پہنچتے ہیں؛ اور پردے کے مخصوص احکام پر ختم ہوتے ہیں۔

تنقیدی جائزہ۔ یہ مولانا مودودی کا وہ متن ہے جس پر صنف اور اسلام پسندی پر کام کرنے والے محققین نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے۔ عام تنقیدی نکات: حیاتیاتی فرق کا مقررہ کردار طے کرنے کا دعویٰ خودبخود ظاہر کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ 1930ء کی دہائی کے مغربی معاشرے کی تصویر کشی چشم کشا صحافت پر انحصار کرتی ہے؛ اور اس کی بیانیاتی چال — آئیڈیل اسلامی عمل کا منفی "مغرب" سے موازنہ — ایک ایسا انداز ہے جسے فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے بار بار آنے والی کمزوری قرار دیا ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. "قوانینِ فطرت" کی دلیل: مولانا مودودی صنفی کرداروں کی بنیاد دعویٰ کردہ حیاتیاتی فرق پر رکھتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کی بنیاد پر دلیل ہے؟
  2. تاریخی موازنے کا طریقہ: کتاب اسلامی عمل کی آئیڈیل تصویر کا مغرب کی منفی تصویر سے موازنہ کرتی ہے۔ اس کے کیا خطرات ہیں؟
  3. تحفظ یا پابندی: کن حالات میں ایک "حفاظتی" حکم عملاً ایک پابندی بن جاتا ہے؟
  4. پرانے ثبوت پر مبنی متن: کتاب کا 1930ء کی دہائی کے مغرب کا بیان آج چشم کشا سمجھا جاتا ہے۔ ایک قاری ایسی دلیل کو کیسے تولے؟
  5. اندرونی حقوقِ نسواں کی تنقید: فاطمہ مرنیسی جیسی محققات نے ایک مسلم نقطۂ نظر سے تنقید کی۔ یہ کیا اضافہ کرتی ہے؟
  6. تکمیلی بمقابلہ مساوی کردار: یہ "اسلامی ریاست" کے "بنیادی حقوق" کے فریم ورک سے کیسے موازنہ رکھتا ہے؟
  7. عملی قانونی احکام: کتاب کے پردے کے احکام کلاسیکی فقہی مکاتب کے متنوع مواقف سے کیسے موازنہ رکھتے ہیں؟
  8. آج اس کتاب کو پڑھنا: کیا اسے اب بھی مستند سمجھا جائے، یا ایک تاریخی طور پر محدود دلیل کے طور پر جسے بعد کی فکر نے پیچھے چھوڑ دیا؟

۳۔ زِنا اور اجتماعی مظالم

غور کیجیے، فعلِ زِنا کے ساتھ کتنے اجتماعی مظالم کا قریبی اور گہرا رشتہ ہے:

(۱) سب سے پہلے ایک زانی اپنے آپ کو امراضِ خبیثہ کے خطرہ میں ڈالتا ہے۔ اور اس طرح نہ صرف اپنی جسمانی قوتوں کی اجتماعی افادیت میں نقص پیدا کرتا ہے بلکہ جماعت اور نسل کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ سوزاک کے متعلق ہر طبیب آپ کو بتا دے گاکہ مجرائے بول کا یہ قرحہ شاذونادر ہی کامل طور پر مندمل ہوتا ہے۔ ایک بڑے ڈاکٹر کا قول ہے کہ ’’ایک دفعہ سوزاک ہمیشہ کے لیے سوزاک‘‘ اس سے جگر، مثانہ، انثیین وغیرہ اعضا بھی بسا اوقات آفت رسیدہ ہو جاتے ہیں۔ گنٹھیا اور بعض دوسرے امراض کا بھی یہ سبب بن جاتا ہے۔ اس سے مستقل بانجھ پن پیدا ہو جانے کا بھی امکان ہے۔ اور یہ دوسروں کی طرف متعدی بھی ہوتا ہے۔ رہا آتشک تو کسے معلوم نہیں کہ اس سے پورا نظامِ جسمانی مسموم ہو جاتا ہے۔ سر سے پاؤں تک کوئی عضو بلکہ جسم کا کوئی جزو ایسا نہیں جس میں اس کا زہر نفوذ نہ کر جاتا ہو۔ یہ نہ صرف خود مریض کی جسمانی قوتوں کو ضائع کرتا ہے بلکہ ایک شخص سے نہ معلوم کتنے اشخاص تک مختلف ذرائع سے پہنچ جاتا ہے۔ پھر اس کی بدولت مریض کی اولاد اور اولاد کی اولاد تک بے قصور سزا بھگتتی ہے۔ بچوں کا اندھا، گونگا، بہرا، فاتر العقل پیدا ہونا لطف کی ان چند گھڑیوں کا معمولی ثمرہ ہے جنھیں ظالم باپ نے اپنی زندگی میں متاعِ عزیز سمجھا تھا۔

(۲) امراضِ خبیثہ میں تو ہر زانی کا مبتلا ہو جانا یقینی نہیں ہے، مگر ان اخلاقی کم زوریوں سے کسی کا بچنا ممکن نہیں جو اس فعل سے لازمًا تعلق رکھتی ہیں۔ بے حیائی، فریب کاری، جھوٹ، بدنیتی، خود غرضی، خواہشات کی غلامی، ضبطِ نفس کی کمی، خیالات کی آوارگی، طبیعت میں ذواقی اور ہرجائی پن اور ناوفاداری۔ یہ سب زنا کے وہ اخلاقی اثرات ہیں جو خود زانی کے نفس پر مترتب ہوتے ہیں۔ جو شخص یہ خصوصیات اپنے اندر پرورش کرتا ہے اس کی کم زوریوں کا اثر محض صنفی معاملات ہی تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں اس کی طرف سے یہی ہدیہ جماعت کو پہنچتا ہے۔ اگر جماعت میں کثرت سے لوگوں کے اندر یہ اوصاف نشوونما پا گئے ہوں تو ان کی بدولت آرٹ اور ادب، تفریحات اور کھیل، عام اور فنون، صنعت اور حرفت، معاشرت اور معیشت، سیاست اور عدالت، فوجی خدمات اور انتظامِ ملکی، غرض ہر چیز کم و بیش ماؤف ہو کر رہے گی۔ خصوصًا جمہوری نظام میں تو افراد کی ایک ایک اخلاقی خصوصیت کا پوری قوم کی زندگی پر منعکس ہونا یقینی ہے۔ جس قوم کے بیش تر افراد کے مزاج میں کوئی قرار و ثبات نہ ہو اور جس قوم کے اکثر اجزائے ترکیبی وفا سے، ایثار سے اور خواہشات پر قابو رکھنے کی صفات سے عاری ہوں اس کی سیاست میں استحکام آخر آئے کہاں سے؟

(۳) زِنا کو جائز رکھنے کے ساتھ یہ بھی لازم ہو جاتا ہے کہ سوسائٹی میں فاحشہ گری کا کاروبار جاری رہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ایک جوان مرد کو ’’تفریح‘‘ کا حق حاصل ہے، وہ گویا ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں ایک معتدبہ طبقہ ایسی عورتوں کا موجود رہنا چاہیے جو ہر حیثیت سے انتہائی پستی و ذلت کی حالت میں ہوں۔ آخر یہ عورتیں آئیں گی کہاں سے؟ اس سوسائٹی ہی میں سے تو پیدا ہوں گی۔ بہرحال کسی کی بیٹی اور بہن ہی تو ہوں گی۔ وہ لاکھوں عورتیں جو ایک ایک گھر کی ملکہ، ایک ایک خاندان کی بانی، کئی کئی بچوں کی مربی بن سکتی تھیں، انھی کو لا کر تو بازار میں بٹھانا پڑے گا تاکہ میونسپلٹی کے پیشاب خانوں کی طرح وہ آوارہ مزاج مردوں کے لیے رفع حاجت کا محل بنیں۔ ان سے عورت کی تمام شریفانہ خصوصیات چھینی جائیں، انھیں ناز فروشی کی تربیت دی جائے، انھیں اس غرض کے لیے تیار کیا جائے کہ اپنی محبت، اپنے دل، اپنے جسم اور حسن اور اپنی اداؤں کو ہر ساعت ایک نئے خریدار کے ہاتھ بیچیں اور کوئی نتیجہ خیز و بار آور خدمت کی بجائے تمام عمر دوسروں کی نفس پرستی کے لیے کھلونا بنی رہیں۔

(۴) زنا کے جواز سے نکاح کے تمدنی ضابطہ کو لامحالہ نقصان پہنچتا ہے، بلکہ انجام کار نکاح ختم ہو کر صرف زِنا ہی زِنا رہ جاتا ہے۔ اول تو زنا کا میلان رکھنے والے مردوں اور عورتوں میں یہ صلاحیت ہی بہت کم باقی رہ جاتی ہے کہ صحیح ازدواجی زندگی بسر کر سکیں۔ کیوں کہ جو بد نیتی، بدنظری، ذواقی اور آوارہ مزاجی اس طریقِ کار سے پیدا ہوتی ہے اور ایسے لوگوں میں جذبات کی بے ثباتی اور خواہشاتِ نفس پر قابو نہ رکھنے کی جو کم زوری پرورش پاتی ہے، وہ ان صفات کے لیے سمِ قاتل ہے جو ایک کام یاب ازدواجی تعلق کے لیے ضروری ہیں۔ وہ اگر ازدواج کے رشتہ میں بندھیں گے بھی تو ان کے درمیان وہ حُسنِ سلوک، وہ سنجوگ، وہ باہمی اعتماد، اور وہ مہر و وفا کا رابطہ کبھی اُستوار نہ ہو گا جس سے اچھی نسل پیدا ہوتی ہے اور ایک مسرت بھرا گھر وجود میں آتا ہے۔ پھر جہاں زِنا کی آسانیاں ہوں وہاں عملًا یہ ناممکن ہے کہ نکاح کا تمدن پرور طریقہ قائم رہ سکے کیوں کہ جن لوگوں کو ذمہ داریاں قبول کیے بغیر خواہشاتِ نفس کی تسکین کے مواقع حاصل ہوں انھیں کیا ضرورت ہے کہ نکاح کرکے اپنے سر پر بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ لاد لیں؟

(۵) زِنا کے جواز اور رواج سے نہ صرف تمدن کی جڑ کٹتی ہے، بلکہ خود نسلِ انسانی کی جڑ بھی کٹتی ہے۔ جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے، آزادانہ صنفی تعلق میں مرد اور عورت دونوں میں سے کسی کی بھی یہ خواہش نہیں ہوتی اور نہیں ہو سکتی کہ بقائے نوع کی خدمت انجام دیں۔

(۶) زِنا سے نوع اور سوسائٹی کو اگر بچے ملتے ہیں تو حرامی بچے ہوتے ہیں۔ نسب میں حلال اور حرام کی تمیز محض ایک جذباتی چیز نہیں ہے جیسا کہ بعض نادان لوگ گمان کرتے ہیں۔ دراصل متعدد حیثیات سے حرام کا بچہ پیدا کرنا خود بچے پر اورپورے انسانی تمدن پر ایک ظلمِ عظیم ہے۔ اول تو ایسے بچہ کا نطفہ ہی اس حالت میں قرار پاتا ہے جب کہ ماں اور باپ دونوں پر خالص حیوانی جذبات کا تسلط ہوتا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑے میں صنفی عمل کے وقت جو پاک انسانی جذبات ہوتے ہیں وہ ناجائز تعلق رکھنے والے جوڑے کو کبھی میسر ہی نہیں آ سکتے۔ انھیں تو مجرد بہیمیت کا جوش ایک دوسرے سے ملاتا ہے اور اس وقت تمام انسانی خصوصیات برطرف ہوتی ہیں۔ لہٰذا ایک حرامی بچہ طبعًا اپنے والدین کی حیوانیت کا وارث ہوتا ہے۔ پھر وہ بچہ جس کا خیر مقدم کرنے کے لیے نہ ماں تیار ہو نہ باپ، جو کہ مطلوب چیز کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ناگہانی مصیبت کی حیثیت سے والدین کے درمیان آیا ہو، جسے باپ کی محبت اور اس کے وسائل بالعموم میسر نہ آئیں، جو صرف ماں کی یک طرفہ تربیت پائے اور وہ بھی ایسی جس میں بے دلی اور بے زاری شامل ہو، جسے دادا، دادی، چچا، ماموں اوردوسرے اہلِ خاندان کی سرپرستی حاصل نہ ہو، وہ بہرحال ایک ناقص ونامکمل انسان ہی بن کر اُٹھے گا۔ نہ اس کا صحیح کریکٹر بن سکے گا۔ نہ اس کی صلاحیتیں چمک سکیں گی۔ نہ اسے ترقی اور کار پردازی کے پورے وسائل بہم پہنچ سکیں گے۔ وہ خود بھی ناقص، بے وسیلہ، بے یار و مددگار اور مظلوم ہو گا اور تمدن کے لیے کسی طرح اتنا مفید نہ بن سکے گا جتنا وہ حلال ہونے کی صوت میں ہو سکتا تھا۔

آزاد شہوت رانی کے حامی کہتے ہیں کہ بچوں کی پرورش اور تعلیم کے لیے ایک قومی نظام ہونا چاہیے تاکہ بچوں کو ان کے والدین اپنے آزادانہ تعلق سے جنم دیں اور قوم انھیں پال پوس کر تمدن کی خدمت کے لیے تیار کرے۔ اس تجویز سے ان لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی آزادی اور ان کی انفرادیت محفوظ رہے اور ان کی نفسانی خواہشات کو نکاح کی پابندیوں میں جکڑے بغیر تولید نسل و تربیت اطفال کا مدعا حاصل ہو جائے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کو موجودہ نسل کی انفرادیت اتنی عزیز ہے وہ آیندہ نسل کے لیے قومی تعلیم یا سرکاری تربیت کا ایسا سسٹم تجویز کرتے ہیں جس میں انفرادیت کی نشوونما اور شخصیت کے ارتقا کی صورت نہیں ہے۔ اس قسم کے ایک سسٹم میں جہاں ہزاروں لاکھوں بچے بیک وقت ایک نقشے، ایک ضابطے اور ایک ہی ڈھنگ پر تیار کیے جائیں، بچوں کا انفرادی تشخص ابھر اور نکھر ہی نہیں سکتا۔ وہاں تو ان میں زیادہ سے زیادہ یکسانی اور مصنوعی ہمواری پیدا ہو گی۔ اس کارخانے سے بچے اُسی طرح ایک سی شخصیت لے کر نکلیں گے جس طرح کسی بڑی فیکٹری سے لوہے کے پرزے یکساں ڈھلے ہوئے نکلتے ہیں۔ غور تو کرو انسان کے متعلق ان کم عقل لوگوں کا تصور کتنا پست اور کتنا گھٹیا ہے۔ یہ باٹا کے جوتوں کی طرح انسانوں کو تیار کرنا چاہتے ہیں۔ انھیں معلوم نہیں کہ بچے کی شخصیت کو تیار کرنا ایک لطیف ترین آرٹ ہے۔ یہ آرٹ ایک چھوٹے نگار خانے ہی میں انجام پا سکتا ہے جہاں ہر مصور کی توجہ ایک ایک تصویر پر مرکوز ہو۔ ایک بڑی فیکٹری میں جہاں کرایہ کے مزدور ایک ہی طرز کی تصویریں لاکھوں کی تعداد میں تیار کرتے ہیں، یہ آرٹ غارت ہو گا نہ کہ ترقی کرے گا۔

پھر قومی تعلیم و تربیت کے اس سسٹم میں آپ کو بہرحال ایسے کارکنوں کی ضرورت ہو گی جو سوسائٹی کی طرف سے بچوں کی پرورش کا کام سنبھالیں۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس خدمت کو انجام دینے کے لیے ایسے ہی کارکن موزوں ہو سکتے ہیں جو اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھتے ہوں اور جن میں خود اخلاقی انضباط پایا جاتا ہو۔ ورنہ وہ بچوں میں اَخلاقی انضباط کیسے پیدا کر سکیں گے؟ اب سوال یہ ہے کہ ایسے آدمی آپ لائیں گے کہاں سے؟ آپ تو قومی تعلیم و تربیت کا سسٹم قائم ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کو اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے۔ اس طرح جب آپ نے سوسائٹی میں سے اخلاقی انضباط اور خواہشات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کا بیج ہی مار دیا تو اندھوں کی بستی میں آنکھوں والے دست یاب کہاں ہوں گے کہ وہ نئی نسلوں کو دیکھ کر چلنا سکھائیں؟

(۷) زِنا کے ذریعہ سے ایک خود غرض انسان جس عورت کو بچہ کی ماں بنا دیتا ہے اُس کی زندگی ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جاتی ہے اور اس پر ذلت اور نفرت عامہ اور مصائب کا ایسا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے کہ جیتے جی وہ اس کے بوجھ تلے سے نہیں نکل سکتی۔ نئے اخلاقی اصولوں نے اس مشکل کا حل یہ تجویز کیا ہے کہ ہر قسم کی مادریت کو مساوی حیثیت دے دی جائے، خواہ وہ قید نکاح کے اندر ہو یا باہر۔ کہا جاتا ہے کہ مادریت بہرحال قابلِ احترام ہے اور یہ کہ جس لڑکی نے اپنی سادگی سے یا بے احتیاطی سے ماں بننے کی ذمہ داری قبول کر لی اس پر یہ ظلم ہے کہ سوسائٹی میں اسے مطعون کیا جائے لیکن اول تو یہ حل ایسا ہے کہ اس میں ایسی فاحشہ عورتوں کے لیے چاہے کتنی ہی سہولت ہو، سوسائٹی کے لیے بحیثیت مجموعی سراسر مصیبت ہی مصیبت ہے۔ سوسائٹی فطرتًا حرامی بچہ کی ماں کو جس نفرت اور ذلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے وہ ایک طرف افراد کو گناہ اور بدکاری سے روکنے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے اور دوسری طرف وہ خود سوسائٹی میں بھی اخلاقی حس کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ اگر حرامی بچہ کی ماں اور حلالی بچہ کی ماں کو مساوی سمجھا جانے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جماعت سے خیر اور شر، بھلائی اور بُرائی، گناہ اور ثواب کی تمیز ہی رخصت ہو گئی۔ پھر بالفرض اگر یہ ہو بھی جائے تو کیا اس سے فی الواقع وہ مشکلات حل ہو جائیں گی جو حرامی بچہ کی ماں کو پیش آتی ہیں۔ تم اپنے نظریہ میں حرام اور حلال دونوں قسم کی مادریت کو مساوی قرار دے سکتے ہو، مگر فطرت ان دونوں کو مساوی نہیں کرتی اور حقیقت میں وہ کبھی مساوی ہو ہی نہیں سکتیں۔ ان کی مساوات عقل، منطق، انصاف، حقیقت، ہر چیز کے خلاف ہے۔ آخر وہ بے وقوف عورت جس نے شہوانی جذبات کے وقتی ہیجان سے مغلوب ہو کر اپنے آپ کو ایک ایسے خود غرض آدمی کے حوالہ کر دیا جو اس کی اور اس کے بچہ کی کفالت کا ذمہ لینے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس عقل مند عورت کے برابر کس طرح ہو سکتی ہے جس نے اپنے جذبات کو اس وقت تک قابو میں رکھا جب تک اسے ایک شریف ذمہ دار آدمی نہ مل گیا؟ کون سی عقل ان دونوں کو یکساں کہہ سکتی ہے؟ تم چاہو تو نمائشی طور پر انھیں برابر کر دو مگر تم اس بے وقوف عورت کو وہ کفالت و حفاظت، وہ ہم دردانہ رفاقت، وہ محبت آمیز نگاہ داشت، وہ خیر خواہانہ دیکھ بھال اور وہ سکینت وطمانیت کہاں سے دلواؤگے جو صرف ایک شوہر والی عورت ہی کو تو مل سکتی ہے؟ تم اس کے بچہ کو باپ کی شفقت اور پورے سلسلۂ پدری کی محبت و عنایت کس بازار سے لا دو گے؟ زیادہ سے زیادہ تم قانون کے زور سے اسے نفقہ دلوا سکتے ہو۔ مگر کیا ایک ماں اور ایک بچہ کو دنیا میں صرف نفقہ ہی کی ضرورت ہوا کرتی ہے؟ پس یہ حقیقت ہے کہ حرام اور حلال کی مادریت کو یکساں کر دینے سے گناہ کرنے والیوں کو خارجی تسلی چاہے کتنی ہی مل جائے، بہرحال یہ چیز انھیں ان کی حماقت کے طبعی نتائج سے ان کے بچوں کو اس طرح کی پیدائش کے حقیقی نقصانات سے نہیں بچا سکتی۔

ان وجوہ سے یہ بات جماعتی زندگی کے قیام اور صحیح نشوونما کے لیے اہم ضروریات میں سے ہے کہ جماعت میں صنفی عمل کے انتشار کو قطعی روک دیا جائے اور جذباتِ شہوانی کی تسکین کے لیے صرف ایک ہی دروازہ…… ازدواج کا دروازہ کھولا جائے۔ افراد کو زنا کی آزادی دینا ان کے ساتھ بے جا رعایت اور سوسائٹی پر ظلم، بلکہ سوسائٹی کا قتل ہے۔ جو سوسائٹی اس معاملہ کو حقیر سمجھتی ہے اور زنا کو محض افراد کی ’’خوش وقتی‘‘ (having a good time) سمجھ کر نظر انداز کر دینا چاہتی ہے۔ اور ’’آزادانہ تخم ریزی‘‘ (Sowing Wild Oats) کے ساتھ رواداری برتنے کے لیے تیار ہے، وہ دراصل ایک جاہل سوسائٹی ہے۔ اسے اپنے حقوق کا شعور نہیں ہے۔ وہ آپ اپنے ساتھ دُشمنی کرتی ہے۔ اگر اسے اپنے حقوق کا شعور ہو اور وہ جانے اور سمجھے کہ صنفی تعلقات کے معاملہ میں انفرادی آزادی کے اثرات جماعتی مفاد پر کیا مرتب ہوتے ہیں تو وہ اس فعل کو اسی نظر سے دیکھے جس سے چوری، ڈاکا اور قتل کو دیکھتی ہے بلکہ یہ چوری سے اشد ہے۔ چور، قاتل اور ڈاکو زیادہ سے زیادہ ایک فرد یا چند افراد کا نقصان کرتے ہیں۔ مگر زانی پوری سوسائٹی پر اور اس کی آیندہ نسلوں پر ڈاکا ڈالتا ہے۔ وہ بیک وقت لاکھوں کروڑوں انسانوں کی چوری کرتا ہے۔ اس کے جرم کے نتائج ان سب مجرموں سے زیادہ دُور رس اور زیادہ وسیع ہیں۔ جب یہ تسلیم ہے کہ افراد کی خود غرضانہ دست درازیوں کے مقابلہ میں سوسائٹی کی مدد پر قانون کی طاقت ہونی چاہیے اور جب اسی بنیاد پر چوری، قتل، لوٹ مار، جعل سازی اور غصبِ حقوق کی دوسری صورتوں کو جرم قراردے کر تعزیر کے زور سے ان کا سدِّ باب کیا جاتا ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ زِنا کے معاملہ میں قانون سوسائٹی کا محافظ نہ ہو اور اسے تعزیری جرم قرار نہ دیا جائے۔

اصولی حیثیت سے بھی یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ نکاح اور سفاح دونوں بیک وقت ایک نظامِ معاشرت کے جزو نہیں ہو سکتے۔ اگر ایک شخص کے لیے ذمہ داریاں قبول کیے بغیر خواہشاتِ نفس کی تسکین جائز رکھی جائے تو اسی کام کے لیے نکاح کا ضابطہ مقرر کرنا محض بے معنی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ریل میں بلا ٹکٹ سفر کرنے کو جائز بھی رکھا جائے اور پھر سفر کے لیے ٹکٹ کا قاعدہ بھی مقرر کیا جائے۔ کوئی صاحبِ عقل آدمی ان دونوں طریقوں کو بیک وقت اختیار نہیں کر سکتا۔ معقول صورت یہی ہے کہ یا تو ٹکٹ کا قاعدہ سرے سے اڑا دیا جائے یا اگر یہ قاعدہ مقرر کرنا ہے تو بلا ٹکٹ سفر کرنے کو جرم قرار دیا جائے۔ اسی طرح نکاح اور سفاح کے معاملہ میں بھی دو عملی ایک قطعی غیر معقول چیز ہے۔ اگر تمدن کے لیے نکاح کا ضابطہ ضروری ہے، جیسا کہ پہلے بدلائل ثابت کیا جا چکا ہے، تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ سفاح کو جرم قراردیا جائے۔ [ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ نکاح سے پہلے ایک جوان آدمی کو خواہشات نفس کی تسکین کا تھوڑا بہت موقع ضرور حاصل ہونا چاہیے کیوں کہ جوانی میں جذبات کے جوش کو روکنا مشکل ہے اور اگر روکا جائے تو صحت کو نقصان پہنچتا ہے لیکن اس نتیجہ کی بنا جن مقدمات پر قائم ہے وہ سب غلط ہیں۔ جذبات کا ایسا جوش جو روکا نہ جا سکے ایک غیر معمولی (abnormal) حالت ہے اور معمولی (normal) انسانوں میں یہ حالت صرف اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ ایک غلط نظام تمدن انھیں زبردستی مشتعل کرتا ہے۔ ہمارے سینما، ہمارا لٹریچر، ہماری تصویریں، ہماری موسیقی اور اس مخلوط سوسائٹی میں بنی نھنی عورتوں کا ہر جگہ مردوں سے متصادم ہونا ، یہی وہ اسباب ہیں جو خواہ مخواہ معمولی انسانوں کو شہوانی اعتبار سے غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔ ورنہ ایک پرسکون فضا میں عام مردوں اور عورتوں کو ایسا ہیجان کبھی لاحق نہیں ہو سکتا اور ہوسکتا کہ ذہن اور اخلاق کی تربیت سے اسے ضبط نہ کیا جا سکے اور یہ خیال کہ جوانی کے زمانہ میں صنفی عمل نہ کرنے سے صحت کو نقصان پہنچتا ہے، لہذا صحت برقرار رکھنے کے لیے زنا کرنا چاہیے، ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ دراصل صحت اور اخلاق دونوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ معاشرت کے اس غلط نظام اور خوش حال زندگی کے ان غلط معیارات کو بدلا جائے۔ جن کی وجہ سے نکاح مشکل اور سفاح آسان ہو کر رہ گیا ہے۔] جاہلیت کی خصوصیات میں سے یہ بھی ایک نمایاں خصوصیت ہے کہ جن چیزوں کے نتائج محدود ہوتے ہیں اور جلدی اور محسوس شکل میں سامنے آ جاتے ہیں ان کا تو ادراک کر لیا جاتا ہے مگر جن کے نتائج وسیع اور دور رس ہونے کی وجہ سے غیر محسوس رہتے ہیں اور دیر میں مرتب ہوا کرتے ہیں انھیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، بلکہ ناقابل اعتنا سمجھا جاتا ہے۔ چوری، قتل اور ڈکیتی جیسے معاملات کو اہم اور زنا کو غیر اہم سمجھنے کی وجہ یہی ہے۔ جو شخص اپنے گھر میں طاعون کے چوہے جمع کرتا ہے یا متعدی امراض پھیلاتا ہے۔ جاہلیت کا تمدن اسے تو معافی کے قابل نہیں سمجھتا کیوں کہ اس کا فعل صریح طور پر نقصان رساں نظر آتا ہے۔ مگر جو زنا کار اپنی خود غرضی سے تمدن کی جڑ کاٹتا ہے، اس کے نقصانات چوں کہ محسوس ہونے کی بجائے معقول ہیں اس لیے وہ جاہلوں کو ہر رعایت کا مستحق نظر آتا ہے بلکہ ان کی سمجھ میں یہ آتا ہی نہیں کہ اس کے فعل میں جرم کی آخر کون سی بات ہے۔ اگر تمدن کی بنیاد جاہلیت کی بجائے عقل اور علم فطرت پر ہو تو یہ طرزِ عمل کبھی اختیار نہ کیا جائے۔