یکم جنوری 1801ء کو برطانیۂ عظمیٰ اور آئرلینڈ کے اتحاد سے بننے والی ریاست۔ 1922ء میں آئرلینڈ کا بیشتر حصہ آزاد ہوا اور 1927ء سے سرکاری نام «متحدہ مملکتِ برطانیۂ عظمیٰ و شمالی آئرلینڈ» ہے۔ انیسویں صدی میں یہ دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کا مرکز تھی۔
تاریخی تسلسل
- مملکتِ انگلستان 927ء–1707ء
- مملکتِ برطانیۂ عظمیٰ 1707ء–1800ء
- متحدہ مملکت (برطانیہ)
پیش رو (جن کی جگہ یہ آئی):
عروج کے اسباب
1798ء کی آئرش بغاوت کے بعد برطانوی حکومت نے قانونِ اتحاد 1800ء کے ذریعے آئرلینڈ کی پارلیمان ختم کر کے اسے برطانیہ میں ضم کر لیا۔
حکمران (5)
ملکہ وکٹوریہ
1837ء – 1901ءبرطانوی سلطنت کا عروج؛ 1877ء سے «قیصرۂ ہند» کہلائیں۔
ونسٹن چرچل (وزیرِ اعظم)
1940ء – 1945ءدوسری جنگِ عظیم کے دوران وزیرِ اعظم۔
کلیمنٹ ایٹلی (وزیرِ اعظم)
1945ء – 1951ءان کی حکومت نے 1947ء میں ہندوستان اور پاکستان کو آزادی دی۔
ملکہ الزبتھ دوم
1952ء – 2022ءطویل ترین دورِ حکومت؛ نوآبادیات کی آزادی اور دولتِ مشترکہ کا دور۔
بادشاہ چارلس سوم
2022ء – 2026ء2022ء سے بادشاہ (تاحال)۔
متعلقہ واقعات
- کمپنی کا خاتمہ اور تاجِ برطانیہ کا براہِ راست راج
- محمد علی جناح کی مسلم لیگ میں شمولیت
- خلافت وفود — وائسرائے اور لندن
- گول میز کانفرنسیں
- 'اب یا کبھی نہیں' — نامِ پاکستان
- گاندھی جناح مذاکرات
- کیبنٹ مشن پلان
- عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی شمولیت
- ایٹلی کا اعلان
- مسئلۂ کشمیر اور پہلی پاک بھارت جنگ
- نکبہ — فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیل کا قیام
- تنظیمِ آزادیِ فلسطین (PLO) کا قیام
- پاک بھارت جنگ 1965ء
- ریاستِ فلسطین کا اعلان
- اقوامِ متحدہ میں فلسطین کو مبصر ریاست کا درجہ
- 7 اکتوبر کا حملہ اور غزہ پر جنگ
- مغربی ممالک کی جانب سے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنا
ماخذ و وضاحت
آئرلینڈ کا بیشتر حصہ 1922ء میں آئرش فری اسٹیٹ کے طور پر الگ ہوا؛ شمالی آئرلینڈ متحدہ مملکت کا حصہ رہا۔ «برطانوی سلطنت» کی الگ پٹی اس ریاست کی سمندر پار نوآبادیات کو ظاہر کرتی ہے۔
تاریخیں عیسوی ہیں؛ ہجری سال تقریبی تبدیلی سے دیے گئے ہیں۔ مدت 2026ء تک شمار کی گئی ہے۔