مرکزی مواد پر جائیں
سلطنتیں و ریاستیں · جدید عالمی طاقتیں (تقابلی حوالہ)

مملکتِ انگلستان

927ء (315ھ) – 1707ء (1119ھ)780 برس

غیر اسلامی سلطنت · تقابلی حوالہ
آغاز927ء (315ھ)
اختتام1707ء (1119ھ)
مدت780 برس
خطہجدید عالمی طاقتیں (تقابلی حوالہ)
بانیاتھلستان
دارالحکومتونچسٹر، بعد میں لندن

اینگلو سیکسن ریاستوں کے اتحاد سے 927ء میں قائم ہونے والی بادشاہت۔ 1066ء کی نارمن فتح کے بعد یہ یورپ کی مضبوط ریاستوں میں شمار ہونے لگی؛ ویلز اس کا حصہ بنا، اور ملکہ الزبتھ اول کے دور میں 1600ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو منشور ملا، جس سے برطانوی سلطنت کی بنیاد پڑی۔

تاریخی تسلسل

  1. مملکتِ انگلستان

عروج کے اسباب

ویسیکس کے بادشاہوں نے وائکنگ حملوں کے مقابلے میں دیگر اینگلو سیکسن ریاستوں کو اپنے ساتھ ملایا؛ 927ء میں اتھلستان پورے انگلستان کے پہلے بادشاہ بنے۔

زوال کے اسباب

ختم نہیں ہوئی: 1603ء میں اسکاٹ لینڈ کے بادشاہ جیمز ششم انگلستان کے بادشاہ بھی بنے، اور 1707ء کے قوانینِ اتحاد سے دونوں ملک مل کر مملکتِ برطانیۂ عظمیٰ بن گئے۔

حکمران (4)

  1. اتھلستان

    927ء – 939ء

    پورے انگلستان کے پہلے بادشاہ۔

  2. ولیم فاتح

    1066ء – 1087ء

    1066ء میں نارمن فتح کے ذریعے بادشاہ بنے۔

  3. ہنری ہشتم

    1509ء – 1547ء

    روم سے علیحدگی اختیار کر کے چرچ آف انگلینڈ قائم کیا۔

  4. ملکہ الزبتھ اول

    1558ء – 1603ء

    ہسپانوی آرمیڈا کو شکست دی؛ 1600ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو منشور دیا۔

متعلقہ واقعات

ماخذ و وضاحت

ویلز 1283ء میں فتح ہوا اور 1535ء–1542ء کے قوانین سے باضابطہ طور پر انگلستان میں شامل ہوا۔