مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مکاتیب مودودی حصہ اول

اشاعت: 1970ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "مکاتیب مودودی" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ان غیر شائع شدہ خطوط کا ایک جامع مجموعہ ہے جو مختلف افراد کے نام لکھے گئے اور جن کا تعلق دینی، فکری، سماجی، اخلاقی اور عملی زندگی کے پیچیدہ مسائل سے ہے۔ یہ خطوط محض ذاتی مراسلت تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع دائرۂ کار میں قارئین کی رہنمائی، بصیرت اور تربیت کا ذریعہ ہیں۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مولانا مودودی کے فکری و عملی رویّے کے وہ پہلو منظرِ عام پر آئیں جو ان کی تصنیفات میں ممکنہ طور پر چھپے رہ گئے ہوں، خصوصاً وہ جوابات جو ماہنامہ "ترجمان القرآن" میں شائع نہ ہو سکے تھے۔

کتاب کا آغاز تقریظ اور عرضِ مرتب سے ہوتا ہے، جو مجموعے کی اشاعت کے پس منظر، اہمیت اور ترتیب کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے بعد مولانا مودودی کے خطوط کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جس میں وہ قرآن مجید کے بارے میں ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہیں کہ قرآن نے کائناتی حقائق کو اپنے زمانے کے عام آدمی کی عقلی گرفت کے مطابق بیان کیا ہے، نہ کہ کسی خاص دور کے علمی نظریات کے قالب میں جمایا ہے۔ اسی تناظر میں وہ لفظ ’أیم‘ کی تحقیق کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ صرف عورت تک محدود نہیں بلکہ بغیر شادی کے مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو علمی تحقیق کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مولانا عمر کی مقررہ مقدار کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عمر کا تعین کرتا ہے اور انسان کو یہ معلوم نہیں، لہٰذا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے اپنی کوششوں سے عمر بڑھا لی ہے۔ خطوط کا یہ سلسلہ آگے چل کر کسی ایک موضوع تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کے کونے کونے سے اور بیرونِ ملک (برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، نائیجیریا اور سعودی عرب سمیت) سے موصول ہونے والے متنوع استفسارات کے جوابات پر مشتمل ہو جاتا ہے۔ ان میں تفسیری و فقہی سوالات، انفرادی رہنمائی اور روحانی مسائل کے علاوہ جماعتِ اسلامی سے متعلق سوالات اور اس دور کے سیاسی و سماجی معاملات پر مولانا کے تبصرے بھی شامل ہیں۔ ہر خط اپنے مکتوب الیہ کے مخصوص سوال کے تناظر میں لکھا گیا ہے، اس لیے کتاب کا امتیاز موضوعی وحدت میں نہیں بلکہ مولانا کے وسیع دائرہ کار اور ہر نوعیت کے استفسار پر تفصیلی، مدلل جواب دینے کے اسلوب میں مضمر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۸۰: بنام نور محمد صاحب، ڈھاکہ

محترمی و مکرمی، <<السلام علیکم ورحمۃ اللہ>>

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ آپ کے پیغام ہمدردی کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ ہم سب اللہ تعالیٰ ہی کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو ہم نے اسی کے حوالے کر دیا ہے۔ ہمیں ہر حال حق کے لیے کام کرنا ہے اور اس راہ میں جو کچھ بھی آئے اس کے لیے ہم تیار ہیں۔ جس مرحوم کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ہے وہ ہمارے لیے باعثِ رشک ہے۔ ہماری دلی تمنا ہے کہ اللہ ہم سب کو راہِ حق میں جان قربان کرنے کی توفیق دے [میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع منعقدہ بیرون بھاٹی دروازہ، لاہور میں جو غنڈہ گردی کرائی گئی تھی، اس میں پستول کی گولی لگنے سے ایک کارکن اللہ بخش شہید ہو گئے تھے۔ اس پر مکتوب الیہ نے اظہار ہمدردی اور مرحوم کی تعزیت کا خط مولانا محترم کو لکھا تھا۔ (مرتب)]۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

بنام نور محمد صاحب، ڈھاکا

مورخہ ۲، نومبر

81: بنام اے آر قیصر صاحب

محترمی و مکرمی، السلام علیکم و رحمتہ اللہ

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ میری وضاحت سے آپ کی غلط فہمیاں رفع ہو گئی ہیں۔ انشاء اللہ اس سے ہر اس شخص کی غلط فہمی رفع ہو جائے گی جو نیک نیتی کے ساتھ محض پروپیگنڈے نا واقفیت مجھ سے بدگمان تھا۔

کشمیر کے ساتھ میرا تعلق در حقیقت وہی ہے، جو میرے اپنے جسم کے کسی حصے کا تعلق میرے ساتھ ہے۔ جس طرح میں اپنے جسم کے کسی حصے کا قطع کیا جانا گوارا نہیں کر سکتا، اسی طرح کشمیر کی جدائی بھی گوارا نہیں کر سکتا۔ لیکن اپنے جسم کی حفاظت بھی میں شریعت و اخلاق کے حدود میں رہ کر ہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں، اور اسی طرح میں اس کی حفاظت کے لیے حکمت و دانائی سے ہی تدبیر کروں گا۔ نادانی کے ساتھ کوئی کام نہ کروں گا۔

جہاں تک سابق ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کا تعلق ہے (خواہ وہ اب آزاد کشمیر میں ہوں یا مقبوضہ کشمیر میں)، ان کا یہ حق شریعت اور اخلاق کے لحاظ سے بالکل ناقابل انکار ہے کہ وہ اپنے وطن کو ہندوستان کے غاصبانہ قبضے سے نکالنے کے لیے جہاد کریں۔ کوئی ان کا یہ حق ان سے سلب نہیں کر سکتا۔ اور وہ شرعاً و اخلاقاً ان معاہدات کے پابند نہیں ہیں جو پاکستان نے کسی سے کیے ہوں، نیز باشندگان پاکستان کے لیے بھی شریعت و اخلاق کے لحاظ سے یہ بالکل جائز ہے کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کو اس کام میں ہر طرح سے مدد دیں۔ البتہ بھلا جنگ کرنے یا نہ کرنے کے معاملہ میں پاکستان کے باشندے اپنی حکومت کے پابند ہیں۔ وہ جنگ کرے تو ہم جنگ کریں گے، اور اگر وہ جنگ سے باز رہے تو ہمیں بھی باز رہنا ہوگا۔ بین الاقوامی تعلقات میں اسلام ہمیں ان تمام معاہدات کا پابند کر دیتا ہے جو ہماری قوم نے اپنی حکومت کے توسط سے دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ کیے ہوں۔

خاکسار

ابوالاعلیٰ

بنام اے آر قیصر صاحب۔

چیف آرگنائزر ہائی کمان کشمیر جہاد کونسل، قصر المجاہدین، پشاور،

مورخہ ۳، نومبر ۶۳ء