مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مکاتیب مودودی حصہ اول

اشاعت: 1970ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "مکاتیب مودودی" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ان غیر شائع شدہ خطوط کا ایک جامع مجموعہ ہے جو مختلف افراد کے نام لکھے گئے اور جن کا تعلق دینی، فکری، سماجی، اخلاقی اور عملی زندگی کے پیچیدہ مسائل سے ہے۔ یہ خطوط محض ذاتی مراسلت تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع دائرۂ کار میں قارئین کی رہنمائی، بصیرت اور تربیت کا ذریعہ ہیں۔ کتاب کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مولانا مودودی کے فکری و عملی رویّے کے وہ پہلو منظرِ عام پر آئیں جو ان کی تصنیفات میں ممکنہ طور پر چھپے رہ گئے ہوں، خصوصاً وہ جوابات جو ماہنامہ "ترجمان القرآن" میں شائع نہ ہو سکے تھے۔

کتاب کا آغاز تقریظ اور عرضِ مرتب سے ہوتا ہے، جو مجموعے کی اشاعت کے پس منظر، اہمیت اور ترتیب کے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے بعد مولانا مودودی کے خطوط کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جس میں وہ قرآن مجید کے بارے میں ایک اہم نکتہ واضح کرتے ہیں کہ قرآن نے کائناتی حقائق کو اپنے زمانے کے عام آدمی کی عقلی گرفت کے مطابق بیان کیا ہے، نہ کہ کسی خاص دور کے علمی نظریات کے قالب میں جمایا ہے۔ اسی تناظر میں وہ لفظ ’أیم‘ کی تحقیق کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ صرف عورت تک محدود نہیں بلکہ بغیر شادی کے مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے، جو علمی تحقیق کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مولانا عمر کی مقررہ مقدار کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عمر کا تعین کرتا ہے اور انسان کو یہ معلوم نہیں، لہٰذا کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے اپنی کوششوں سے عمر بڑھا لی ہے۔ خطوط کا یہ سلسلہ آگے چل کر کسی ایک موضوع تک محدود نہیں رہتا بلکہ ملک کے کونے کونے سے اور بیرونِ ملک (برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، جرمنی، نائیجیریا اور سعودی عرب سمیت) سے موصول ہونے والے متنوع استفسارات کے جوابات پر مشتمل ہو جاتا ہے۔ ان میں تفسیری و فقہی سوالات، انفرادی رہنمائی اور روحانی مسائل کے علاوہ جماعتِ اسلامی سے متعلق سوالات اور اس دور کے سیاسی و سماجی معاملات پر مولانا کے تبصرے بھی شامل ہیں۔ ہر خط اپنے مکتوب الیہ کے مخصوص سوال کے تناظر میں لکھا گیا ہے، اس لیے کتاب کا امتیاز موضوعی وحدت میں نہیں بلکہ مولانا کے وسیع دائرہ کار اور ہر نوعیت کے استفسار پر تفصیلی، مدلل جواب دینے کے اسلوب میں مضمر ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

101: بنام شفیق بریلوی، ایڈیٹر 'خاتونِ پاکستان، کراچی

محترمی و مکرمی، <<السلام علیکم و رحمۃ اللہ>>

آپ کا عنایت نامہ ملا۔ اس حقیقت کو نہایت وضاحت کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کر دیا گیا ہے کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس موضوع سے متعلق بیشتر آیاتِ قرآنی ہیں جہاں فقط اسی اعلان پر اکتفا کیا گیا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے۔ لیکن بعض آیات ایسے داخلی شواہد و دلائل پر بھی مشتمل ہیں جن سے قرآن کا کلام الہی ہونا قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے۔

ان دلائل میں سرفہرست قرآن مجید کا وہ چیلنج ہے جو محترمین و منکرین کو دیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ اگر تم اس قرآن کو کسی انسان کی تصنیف سمجھتے ہو تو اس کے مانند کوئی کلام تصنیف کرکے دکھا ؤ۔ یہ چیلنج سب سے پہلے سورۂ ہود آیت نمبر ۱۲ میں دیا گیا تھا اور فرمایا گیا تھا، کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تمہارے نزدیک یہ انسانی کلام ہے تو انسان کو ایسے کلام پر قادر ہونا چاہیے۔ لہذا تمہارا یہ دعویٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود تصنیف کیا ہے صرف اسی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے کہ تم ایک ایسی کتاب تصنیف کر کے دکھا دو۔ لیکن اگر اس تحدی کے باوجود تم سب مل کر اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتے تو پھر یہ کتاب یقیناً اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ کفار جب اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے تو پھر سورۂ یونس آیت ۳۸ میں دوبارہ اسے دُہرایا گیا اور فرمایا: کیا یہ لوگ کہتے ہیں پیغمبر نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے۔ کہو، اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو ایک ہی سورت اس جیسی تصنیف کر لاؤ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بلا سکتے ہو مدد کے لیے بلا لو۔ اس کے بعد سورہ طٰہٰ آیت ۳۳-۳۴ میں فرمایا گیا: ”کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے، بلکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ پس وہ اس جیسا کلام لے آئیں اگر وہ سچے ہیں۔“

قرآن مجید کو آسمانی کتاب ماننے والوں کو یہ تحدی مکی دور میں نہیں کی گئی، بلکہ ہجرت کے بعد اسے مدینے میں بھی اسی زور کے ساتھ دہرایا گیا۔ مشرکین مکہ کی کتاب کو مخاطب کر کے سورہ بقرہ آیت ۲۳ میں پھر اعلان کیا گیا: ”اور اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ، اپنے سارے ہمنواؤں کو بلا لو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو مدد لے لو اگر تم سچے ہو۔ تاریخ گواہ ہے اور خود قرآن کا بار بار چیلنج اس امر کی بین شہادت ہے کہ فریق مخالف کی جانب سے جواب میں کامل خاموشی اختیار کی گئی اور اس کے عاجزانہ سکوت نے قرآن کا آسمانی کتاب ہونا بالکل ثابت اور مبرہن کر دیا۔

قرآن مجید نے اپنے کلام الٰہی ہونے کے حق میں دلیل ثانی کے طور پر منکرین کے سامنے جو چیز پیش کی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کی زندگی ہے۔ چنانچہ سورۂ یونس آیت ۱۶ میں آنحضور سے مخاطب ہوکر فرمایا گیا، کہو اگر اللہ کی مشیت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تم کو کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ یہ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ۔“ یہ ایک ایک اور زبردست دلیل ہے اس خیال کی تردید میں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو خود اپنے دل سے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوے کی تائید میں کہ وہ خود اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے بذریعہ وحی ان پر نازل ہوا ہے۔ دیکھیے تمام دلائل تو پھر نسبتاً دور کی چیز تھے، مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو ان لوگوں کے سامنے کی چیز تھی۔ آپ نے نبوت سے پہلے پورے چالیس سال ان کے درمیان گزارے تھے۔ ان کے شہر میں پیدا ہوئے، ان کی آنکھوں کے سامنے بچپن گزارا، جوان ہوئے، آدھی عمر کو پہنچے، رہنا سہنا، ملنا جلنا، لین دین، شادی بیاہ، غرض ہر قسم کا معاشرتی تعلق انہی کے ساتھ تھا اور آپ کی زندگی کا کوئی پہلو اُن سے چھپا ہوا نہ تھا۔ ایسی جانی بوجھی اور دیکھی بھالی چیز سے زیادہ کھلی شہادت اور کیا ہو سکتی تھی۔

آپ کی اس زندگی میں دو باتیں بالکل عیاں تھیں جنھیں مکہ کے لوگوں میں سے ایک ایک شخص جانتا تھا:

ایک یہ کہ نبوت سے پہلے کی پوری چالیس سالہ زندگی میں آپ نے کوئی ایسی تعلیم، تربیت اور صحبت نہیں پائی جس سے آپ کو وہ معلومات حاصل ہوتیں جن کے چشمے یکا یک دعوائے نبوت کے ساتھ ہی آپ کی زبان سے پھوٹنے شروع ہو گئے ۔ اس سے پہلے کبھی آپ ان مسائل سے دلچسپی لیتے ہوئے ، ان مباحث پر گفتگو کرتے ہوئے ، اور ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھے گئے جو آپ قرآن کی ان پے در پے سورتوں میں زیر بحث آ رہے تھے۔ حد یہ ہے کہ اس پورے چالیس سال کے دوران میں کبھی آپ کے کسی گہرے دوست اور کسی قریب ترین رشتہ دار نے بھی آپ کی باتوں اور آپ کی حرکات و سکنات میں کوئی ایسی چیز محسوس نہیں کی جسے اس عظیم الشان دعوت کی تمہید کہا جا سکتا ہو جو آپ نے اچانک عمر کے چالیسویں سال کو پہنچے کر دینی شروع کر دی۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت تھا کہ قرآن آپ کے اپنے دماغ کی پیدا وار نہیں ہے، بلکہ خارج سے آپ کے اندر آئی ہوئی چیز ہے، اس لیے کہ انسانی دماغ اپنی عمر کے کسی مرحلے میں بھی ایسی کوئی چیز پیش نہیں کر سکتا جس کے نشو و نما اور ارتقا کے واضح نشانات اس سے پہلے کے مرحلوں میں نہ پائے جاتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے بعض چالاک لوگوں نے جب خود محسوس کر لیا کہ قرآن کو آپ کے دماغ کی پیداوار قرار دینا صریح طور پر ایک لغو الزام ہے تو آخر کار انھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ کوئی شخص ہے جو محمدؐ کو یہ باتیں سکھا دیتا ہے ۔ لیکن یہ دوسری بات پہلی بات سے بھی زیادہ لغو تھی۔ کیونکہ مکہ تو درکنار، پورے عرب میں کوئی اس قابلیت کا آدمی نہ تھا جس پر انگلی رکھ کر کہہ دیا جاتا کہ یہ اس کلام کا مصنف ہے یا ہو سکتا ہے۔ ایسی قابلیت کا آدمی کسی سوسائٹی میں چھپا کیسے رہ سکتا ہے۔

دوسری بات جو آپ کی سابقہ زندگی میں بالکل نمایاں تھی، وہ یہ تھی کہ جھوٹ، فریب جعل، مکاری، عیاری اور اس قبیل کے دوسرے اوصاف میں سے کسی کا ادنیٰ شائبہ تک آپ کی سیرت میں نہ پایا جاتا تھا۔ پوری سوسائٹی میں کوئی ایسا نہ تھا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس چالیس سال کی یکجائی معاشرت میں آپ سے کسی ایسی صفت کا تجربہ اسے ہوا ہے۔ برعکس اس کے جن لوگوں کو کبھی آپ سے سابقہ پیش آیا تھا وہ آپ کو ایک نہایت سچے، بے داغ، اور قابل اعتماد (امین) انسان کی حیثیت ہی سے جانتے تھے۔ نبوت سے پانچ ہی سال پہلے تعمیر کعبہ کے سلسلہ میں وہ مشہور واقعہ پیش آچکا تھا جس میں حجر اسود کو نصب کرنے کے معاملہ پر قریش کے مختلف خاندان جھگڑ پڑے تھے اور آپس میں یہ ہوا تھا کہ کل صبح پہلا شخص جو حرم میں داخل ہوگا اسی کو پنچ مان لیا جائے گا۔ دوسرے روز وہ شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو وہاں داخل ہوئے۔ آپ کو دیکھتے ہی سب لوگ پکار اُٹھے۔ <<هذا الأمين رضيناه هذا محمد>> ہم اس پر راضی ہیں، یہ تو محمد ہے۔ اس طرح آپ کو نبی مقرر کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ پورے قبیلہ قریش سے بھرے مجمع میں آپ کے ”امین“ ہونے کی شہادت لے چکا تھا۔ اب یہ گمان کرنے کی کیا گنجائش تھی کہ جس شخص نے تمام عمر کبھی اپنی زندگی کے کسی چھوٹے سے چھوٹے معاملہ میں بھی جھوٹ، جعل اور فریب سے کام نہ لیا تھا وہ یکا یک اتنا بڑا جھوٹ اور ایسا عظیم الشان جعل و فریب لے کر اٹھ کھڑا ہوا کہ اپنے ذہن سے کچھ باتیں تصنیف کیں اور ان کو بڑے زور اور تحدّی کے ساتھ خدا کی طرف منسوب کرنے لگا۔

اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان کے اس بیہودہ الزام کے جواب میں ان سے کہو کہ اللہ کے بندو! کچھ عقل سے تو کام لو۔ میں کوئی باہر سے آیا ہوا اجنبی آدمی نہیں ہوں تمہارے درمیان اس سے پہلے ایک عمر گزار چکا ہوں، میری سابق زندگی کو دیکھتے ہوئے تم کیسے یہ توقع مجھ سے کر سکتے ہو کہ میں خدا کی تعلیم اور اس کے حکم کے بغیر یہ قرآن تمہارے سامنے پیش کر سکتا تھا۔

اس مضمون کو قرآن مجید کے بعض دوسرے مقامات پر بھی دُہرایا گیا ہے اور جو لوگ قرآن مجید کے وحی الٰہی ہونے میں شک رکھتے تھے انھیں سمجھایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کہیں باہر سے یکایک تمہارے درمیان نمودار نہیں ہو گئے ہیں، بلکہ اس قرآن کے نزول سے پہلے بھی چالیس سال تمہارے درمیان رہ چکے ہیں۔ کیا دعوائے نبوت سے ایک دن پہلے بھی کبھی تم نے اُن کی زبان سے اس طرز کا کلام اور ان مسائل اور مضامین پر مشتمل کلام سُنا تھا ؟ اگر نہیں سُنا تھا اور یقیناً نہیں سُنا تھا تو کیا یہ بات تمہاری سمجھ میں آتی ہے کہ کسی شخص کی زبان، خیالات، معلومات اور طرزِ فکر و بیان میں یکایک ایسا تغیر واقع ہو سکتا ہے ؟

محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں قرآن سُنا کر کہیں غائب نہیں ہو جاتے بلکہ تمہارے درمیان ہی رہتے بستے ہیں۔ تم ان کی زبان سے قرآن بھی سنتے ہو اور دوسری گفتگوئیں اور تقریریں بھی سنا کرتے ہو۔ قرآن کے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے کلام میں زبان اور اُسلوب کا اتنا نمایاں فرق ہے کہ کسی ایک انسان کے دو اس قدر مختلف اسالیب کبھی ہو نہیں سکتے۔ یہ فرق صرف اُسی زمانے میں واضح نہیں تھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک کے لوگوں میں رہتے بستے تھے بلکہ آج بھی حدیث کی کتابوں میں آپ کے سینکڑوں اقوال اور خطبے موجود ہیں۔ ان کی زبان اور اُسلوب قرآن کی زبان اور اسلوب سے اس قدر مختلف ہیں کہ زبان و ادب کا کوئی رمزشناس نقاد یہ کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا کہ یہ دونوں ایک ہی شخص کے کلام ہو سکتے ہیں۔

سورۂ قصص آیت ۸۶ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں خطاب فرمایا گیا ہے: ”تم اس بات کے ہرگز امید وار نہ تھے کہ تم پر یہ کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمھارے رب کی مہربانی سے تم پر نازل ہوئی ہے“۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ترین ربط ضبط رکھنے والوں میں، آپ کے رشتہ داروں اور ہمسایوں اور دوستوں میں کوئی شخص یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپ پہلے سے نبی بننے کی تیاری کر رہے تھے۔ کسی نے ان مضامین اور مسائل اور موضوعات کے متعلق کبھی ایک لفظ تک آپ کی زبان سے نہ سنا تھا جو غارِ حرا کی اس انقلابی ساعت کے بعد یکایک آپ کی زبان پر جاری ہونے شروع ہو گئے۔ کسی نے آپ کو وہ مخصوص زبان اور وہ الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرتے نہ سنا تھا جو اچانک قرآن کی صورت میں لوگ آپ سے سننے لگے۔ کبھی آپ وعظ کہتے کھڑے نہ ہوئے تھے۔ کبھی کوئی دعوت اور تحریک لے کر نہ اٹھے تھے۔ بلکہ کبھی آپ کی کسی سرگرمی سے یہ گمان تک نہ ہو سکتا تھا کہ آپ اجتماعی مسائل کے حل، یا مذہبی اصلاح یا اخلاقی اصلاح کے لیے کوئی کام شروع کرنے کی فکر میں ہیں۔ اس انقلابی ساعت سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی ایک ایسے تاجر کی زندگی نظر آتی تھی جو سیدھے سادھے جائز طریقوں سے اپنی روزی کماتا ہے، اپنے بال بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہتا ہے، مہمانوں کی تواضع، غریبوں کی مدد اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہے، اور کبھی کبھی عبادت کرنے کے لیے خلوت میں جا بیٹھتا ہے۔ ایسے شخص کا یکا یک ایک عالمگیر لرزہ ڈال دینے والی دعوت کے ساتھ اٹھنا، ایک انقلاب انگیز دعوت شروع کر دینا، ایک مستقل فلسفۂ حیات اور نظام فکر و اخلاق و تمدن لے کر سامنے آجانا، اتنا بڑا لٹریچر ہے جو انسانی نفسیات کے لحاظ سے کسی بناوٹ اور تیاری اور ارادی کوشش کے نتیجے میں قطعاً رونما نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ ایسی ہر کوشش اور تیاری بہرحال تدریجی ارتقاء کے مراحل سے گزرتی ہے اور یہ مراحل اُن لوگوں سے کبھی مخفی نہیں رہ سکتے جن کے درمیان آدمی شب و روز زندگی گزارتا ہو۔

اس کے بعد سورۂ عنکبوت آیت ۴۸ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں مخاطب کیا گیا: تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے۔ اس آیت میں استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پڑھ تھے۔ آپ کے اہل وطن اور رشتہ و برادری کے لوگ جن کے درمیان روز پیدائش سے سن کہولت کو پہنچے، تک آپ کی ساری زندگی بسر ہوئی تھی، اس بات سے خوب واقف تھے کہ آپ نے عمر بھر نہ کبھی کوئی کتاب پڑھی نہ کبھی قلم ہاتھ میں لیا۔ اس امر واقعہ کو پیش کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ کتب آسمانی کی تعلیمات، انبیاء سابقین کے حالات، مذاہب و ادیان کے عقائد، قدیم قوموں کی تاریخ، اور تمدن و اخلاق و معیشت کے اہم مسائل پر جن وسیع اور گہرے علم کا اظہار اس اُمّی کی زبان سے ہو رہا ہے یہ اس کو وحی کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر اس کو نوشت و خواند کا علم ہوتا اور لوگوں نے کبھی اسے کتب میں پڑھتے اور مطالعہ و تحقیق کرتے دیکھا ہوتا تو باطل پرستوں کے لیے یہ شک کرنے کی کچھ بنیاد بھی ہو سکتی تھی کہ یہ علم وحی سے نہیں بلکہ اخذ و اکتساب سے حاصل کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی امیّت نے تو ایسے کسی شک کے لیے برائے نام بھی کوئی بنیاد باقی نہیں چھوڑی ہے۔

سورہ الفرقان میں منکرین کا ایک اور اعتراض نقل کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ”جن لوگوں نے انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن ایک من گھڑت چیز ہے جسے اس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔“ بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اُتر آئے ہیں۔ کہتے ہیں یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنھیں یہ شخص نقل کر لاتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں۔ ان سے کہو، اسے نازل کیا ہے اس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھید جانتا ہے؟“

یہ وہی اعتراض ہے جو اس زمانے کے مستشرقین مغرب قرآن مجید کے خلاف پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمعصر دشمنوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ تم بچپن میں سیکوڑا را پسب سے جب ملے تھے اس وقت یہ سارے مضامین تم نے سیکھ لیے تھے۔ اور نہ یہ کہا کہ جوانی میں جب تجارتی سفروں کے سلسلے میں تم باہر جایا کرتے تھے اس زمانے میں تم نے عیسائی راہبوں اور یہودی ربیوں سے یہ معلومات حاصل کی تھیں۔ اس لیے کہ ان سارے سفروں کا حال اُن لوگوں کو معلوم تھا۔ یہ سفر اکیلے نہیں ہوئے تھے، اُن کے قافلوں کے ساتھ ہوئے تھے اور وہ جانتے تھے کہ ان پر کچھ سیکھ آئے کا الزام ہم لگائیں گے تو ہمارے اپنے ہی شہر میں سینکڑوں زبانیں ہم کو جھٹلا دیں گی۔ اس کے علاوہ مکے کا ہر عام آدمی ہم سے پوچھے گا کہ اگر یہ معلومات اس شخص کو بارہ تیرہ برس کی عمر ہی میں بخیر اسے حاصل ہو گئی تھیں، یا ۲۵ برس کی عمر سے ، جب کہ اس نے تجارتی سفر شروع کیے تھے ، حاصل ہوئی شروع ہو گئی تھیں تو آخر یہ شخص کہیں باہر تو نہیں رہتا تھا ہمارے ہی درمیان رہتا بستا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ چالیس برس کی عمر تک اس کا یہ سارا علم چھپا رہا اور کبھی ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ایسا نہ نکلا جو اس علم کی غمازی کرتا؟ یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ نے اتنے سفید جھوٹ کی جرأت نہ کی اور اسے بعد کے زیادہ بے حیا لوگوں کے لیے چھوڑ دیا۔ وہ جو جرات کرتے تھے وہ نبوت سے پہلے کے متعلق نہیں بلکہ دعوائے نبوت کے زمانے کے متعلق تھی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ شخص ان پڑھ ہے۔ خود مطالعہ کر کے نئی معلومات حاصل نہیں کرسکتا ۔ پہلے اس نے کچھ سیکھا نہ تھا ۔ چالیس برس کی عمر تک ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہ جانتا تھا جو آج اس کی زبان سے نکل رہی ہیں۔ اب آخر یہ معلومات کہاں سے آ رہی ہیں؟ ان کا سر چشمہ لا محالہ کچھ اگلے لوگوں کی کتابیں ہیں جن کے اقتباسات راتوں کو چپکے چپکے ترجمہ اور نقل کرائے جاتے ہیں، انہیں کسی سے یہ شخص پڑھوا کر سنتا ہے اور پھر انہیں یاد کر کے ہمیں دن کو سناتا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں وہ چند آدمیوں کے نام بھی لیتے تھے جو اہل کتاب میں سے پڑھے لکھے تھے اور مکہ میں رہتے تھے ، یعنی عداس (خُوطِيب بن عبد العزی کا آزاد کردہ غلام)، یسار (علاء بن حضرمی کا آزاد کردہ غلام)، اور جَبر (عامر بن ربیعہ کا آزاد کردہ غلام)۔

بظاہر بڑا وزنی اعتراض معلوم ہوتا ہے۔ وحی کے دعوے کو رَد کرنے کے لیے نبی کے ماخذ علم کی نشانہ دہی کر دینے سے بڑھ کر اور کونسا اعتراض وزنی ہو سکتا ہے۔ مگر آدمی پہلی ہی نظر میں یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ جواب میں سرے سے کوئی دلیل نہیں پیش کی گئی، بلکہ صرف یہ کہ کر بات ختم کر دی گئی کہ ”تم صداقت پر ظلم کر رہے ہو“۔ صریح بے انصافی کی بات کہہ رہے ہو، سخت جھوٹ کا طوفان اٹھا رہے ہو“۔ یہ تو اس خدا کا کلام ہے جو ہر آسمانوں اور زمین کا بھید جانتا ہے۔“ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ سخت مخالفت کے ماحول میں ایسا زور دار اعتراض کیا جائے اور اس کو یوں حقارت سے رد کر دیا جائے؟ کیا واقعی یہ ایسا پوچ اور بے وزن اعتراض تھا کہ اس کے جواب میں بس ”جھوٹ اور ظلم“ کہہ دینا کافی تھا؟ آخر وجہ کیا ہے کہ اس مختصر سے جواب کے بعد نہ عوام نے کبھی تفصیلی اور واضح جواب کا مطالبہ کیا، نہ نئے نئے ایمان لانے والوں کے دلوں میں کوئی شک پیدا ہوا، اور نہ مخالفین ہی میں سے کسی کو یہ کہنے کی ہمت ہوئی کہ دیکھو ہمارے اس وزنی اعتراض کا جواب بن نہیں پڑ رہا ہے اور محض جھوٹ اور ظلم کہہ کر بات ٹالی جا رہی ہے؟

اس گتھی کا حل ہمیں اسی ماحول سے مل جاتا ہے جس میں مخالفین اسلام نے یہ اعتراض کیا تھا: پہلی بات یہ تھی کہ مکہ کے وہ ظالم سردار جو ایک ایک مسلمان کو مارتے کوٹتے اور تنگ کرتے پھر رہے تھے، ان کے لیے یہ بات کچھ مشکل نہ تھی کہ جن جن لوگوں کے متعلق وہ کہتے تھے کہ یہ پرانی پرانی کتابوں کے ترجمے کر کر کے محمد کو یاد کرایا کرتے ہیں، ان کے گھروں پر اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر چھاپے مارتے اور وہ سارا ذخیرہ برآمد کر کے پبلک کے سامنے لا رکھتے جو ان کے زعم میں اس کام کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔ وہ عین اس وقت چھاپہ مار سکتے تھے جب کہ یہ کام کیا جا رہا ہو اور ایک مجمع کو دکھا سکتے کہ لو دیکھو یہ نبوت کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ بلال کو پیٹتی ہوئی ریت پر گھسیٹنے والوں کے لیے ایسا کرنے میں کوئی آئین و ضابطہ مانع نہ تھا اور ایسا کر کے وہ ہمیشہ کے لیے نبوتِ محمدی کے خطرے کو مٹا سکتے تھے۔ مگر وہ بس زبانی اعتراض ہی کرتے رہے اور ایک دن بھی یہ فیصلہ کن قدم اٹھا کر انھوں نے نہ دکھایا۔

دوسری بات یہ تھی کہ جن لوگوں کے وہ اس سلسلے میں نام لیتے تھے وہ کہیں باہر کے لوگ نہ تھے، اسی شہر مکہ کے رہنے والے تھے۔ ان کی قابلیتیں کسی سے چھپی ہوئی نہ تھیں۔ ہر شخص جو تھوڑی سی عقل بھی رکھتا تھا، یہ دیکھ سکتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ کس پائے کی ہے، کس شان کی زبان ہے، کس مرتبے کا ادب ہے۔ کیا پُر زور کلام ہے، کیسے بلند خیالات اور مضامین ہیں، اور وہ کس درجہ کے لوگ ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ محمد اُن سے یہ سب کچھ حاصل کر کے لا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے کسی نے بھی اس اعتراض کو کوئی وزن نہ دیا۔ ہر شخص سمجھتا تھا کہ ان باتوں سے بس دل کے جلے پھپھولے پھوڑے جا رہے ہیں، ورنہ اس قول میں کسی شبہ کے قابل بھی جان نہیں ہے۔ جو لوگ ان اشخاص سے واقف نہ تھے وہ بھی آخر اتنی ذرا سی بات تو سوچ سکتے تھے کہ اگر یہ لوگ ایسی ہی قابلیت رکھتے تھے تو آخر انھوں نے خود اپنا چراغ کیوں نہ جلایا، ایک دوسرے شخص کے چراغ کو تیل مہیا کرنے کی انھیں ضرورت کیا پڑی تھی؟ اور وہ بھی چھپکے چھپکے کہ اس کام کی شہرت کا ذرا سا حصہ بھی اُن کو نہ ملے؟

تیسری بات یہ تھی کہ وہ سب اشخاص جن کا اس سلسلے میں نام لیا جا رہا تھا، بیرونی ممالک سے آئے ہوئے غلام تھے جن کو ان کے مالکوں نے آزاد کر دیا تھا۔ عرب کی قبائلی زندگی میں کوئی شخص بھی کسی طاقت اور قبیلے کی حمایت کے بغیر نہ جی سکتا تھا۔ آزاد ہو جانے پر بھی غلام اپنے سابق مالکوں کے ولاء (سرپرستی) میں رہتے تھے اور ان کی حمایت ہی معاشرے میں ان کے لیے زندگی کا سہارا ہوتی تھی۔ اب یہ ظاہر بات تھی کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کی بدولت، معاذاللہ، ایک جھوٹی نبوت کی دکان چلا رہے تھے تو یہ لوگ کسی خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ تو اس سازش میں آپ کے شریک نہ ہو سکتے تھے۔ آخر ایسے شخص کے وہ مخلص رفیق کار اور سچے عقیدت مند کیسے ہو سکتے تھے جو رات کو اُنہی سے کچھ باتیں سیکھتا ہو اور دن کو دنیا بھر کے سامنے یہ کہہ کر پیش کرتا ہو کہ یہ خدا کی طرف سے مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی شرکت کسی لالچ اور کسی غرض ہی کی بنا پر ہو سکتی تھی۔ مگر کون صاحب عقل و ہوش آدمی یہ باور کر سکتا تھا کہ یہ لوگ خود اپنے سرپرستوں کو ناراض کر کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سازش میں شریک ہو گئے ہوں گے؟ آخر کیا لالچ ہو سکتا تھا جس کی بنا پر وہ ساری قوم کے مغضوب و مطعون اور ساری قوم کی دشمنی کے ہدف آدمی کے ساتھ مل جاتے اور اپنے سرپرستوں سے کٹ جانے کے نقصان کو ایسے مصیبت زدہ آدمی سے حاصل ہونے والے کسی فائدے کی امید پر گوارا کر لیتے؟ پھر یہ بھی سوچنے کی بات تھی کہ ان کے سرپرستوں کو یہ موقع تو آخر حاصل ہی تھا کہ مارکوٹ کر ان سے سازش کا اقبال کرا لیں۔ اس موقع سے اُنھوں نے کیوں نہ فائدہ اٹھایا اور کیوں نہ ساری قوم کے سامنے خود انہی سے یہ اعتراف کروا لیا کہ ہم سے سیکھ سیکھ کر یہ نبوت کی دکان چمکائی جا رہی ہے؟

سب سے زیادہ عجیب بات یہ تھی کہ وہ سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور اس مزعومہ البشیل عقیدت میں شامل ہوئے جو صحابہ کرام آنحضور کی ذاتِ مقدس سے رکھتے تھے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ بناوٹی اور سازشی نبوت پر خود وہی لوگ ایمان لائیں اور گہری عقیدت کے ساتھ ایمان لائیں جنہوں نے اس کے بنانے کی سازش میں خود حصہ لیا ہو؟ اور بالفرض اگر یہ ممکن بھی تھا تو ان لوگوں کو اہلِ ایمان کی جماعت میں کوئی مرتبہ تو ملا ہوتا۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ نبوت کا کاروبار تو چلے عداس اور یسار اور بجیر کے بل بوتے پر، اور نبی کے دست راست بنیں ابو بحیرہ رض اور شمر اور ابو عبیدہ رض۔

یہ وہ وجوہ تھے جن کی بنا پر ہر سننے والے کی نگاہ میں یہ اعتراض آپ ہی بے وزن تھا۔ اس لیے قرآن میں اس کو وزنی اعتراض کی حیثیت سے جواب دینے کی خاطر نقل نہیں کیا گیا ہے، بلکہ یہ بتانے کی خاطر اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ دیکھو حق کی دشمنی میں یہ لوگ کیسے اندھے ہو گئے ہیں اور کس قدر صریح جھوٹ اور بے انصافی پر اتر آئے ہیں۔

خاکسار

ابوالا علیٰ

بنام شفیق بریلوی، ایڈیٹر، خاتونِ پاکستان، کراچی

مورخہ ۱۱ فروری ۶۵ھ